یوم دفاع

پاک فوج کی محبت 

 کیپٹن اسفند یار بخاری ۔ شہید کے والد گرامی ڈاکٹر سیّد فیاض حسین بخاری کے قلم سے

اپنے تعارف میں صرف اتنا کہوں گا کہ میرا نام ''ڈاکٹر سیّد فیاض بخاری'' ہے۔ پیشے کے اعتبار سے میڈیکل ڈاکٹر ہوں۔ چند سال قبل محکمہ صحت پنجاب سے ریٹائر ہوا تھا۔ معرکۂ بڈھ بیر کا ہیرو شہید کیپٹن ا سفند میرا فرزند ہے۔ اگرچہ18 ستمبر 2015ء کو اسفند کی ڈیوٹی ''معرکۂ بڈھ بیر'' میں نہ تھی مگر اُس نے فرض سے بڑھ کر فرض شناسی کا ثبوت دیتے ہوئے آپریشن میں مصروف دستوں کی کمانڈ رضا کارانہ طور پر حاصل کی۔ اس کی دلیرانہ کمانڈ میں کوئی شہادت نہ ہوئی۔ فقط دو جوان زخمی ہوئے۔ آخری دہشت گرد کو جہنم کا راستہ دکھاتے ہوئے اسفند نے جامِ شہادت نوش کیا۔ اُس کی کمانڈ میں تمام 14 دہشت گرد اپنے انجام کو پہنچے ۔



افواجِ پاکستان سے محبت ہمیشہ میری شریانوں میں خون کی طرح دوڑتی رہی ہے۔ آج پاک فوج کی عظمت کے حوالے سے اپنے بچپن اور لڑکپن کی چند خوب صورت یادیں آپ سے شیئر کرنے لگا ہوں۔ 1965 کی جنگ ہوئی تو ان دنوں میں ایم سی پرائمری سکول نمبر2  لیّہ میں درجہ سوم کا طالب علم تھا۔ ان دنوں روزنامہ نوائے وقت 15پیسے کا آتا تھا۔ میری والدہ محترمہ ہم بھائیوں کو جنگی حالات سے باخبر رکھنے کے لیے روزانہ مجھے اخبار لانے کو کہتیں۔ پھر اخبار پڑھ کر ہم سب کو جنگی صورتحال سے آگاہ کرتیں۔ اگلے دن میں وہ تمام خبریں ایک مختصر تقریر کی صورت سکول کی اسمبلی میں سناتا۔ سکول کے طلباء پاک فوج کی کامیابیوں پر خوش ہوتے۔ 
میری والدہ نے مجھے ایک نظم ''چونڈہ کا جنگی میدان'' ازبر کرا دی تھی۔ ہمارے سکول کے ہیڈ ماسٹر جناب قاضی عبداللہ صاحب پاک فوج کے سچے عاشق تھے۔ انہیں یہ نظم بہت پسند آئی اور میں جنگ ستمبر کے ختم ہونے کے کئی ماہ بعد تک روزانہ یہ نظم اسمبلی میں لہک لہک کر پڑھتا رہا۔ اُس نظم کے کچھ اشعار اب بھی مجھے یاد ہیں۔ 
چونڈہ شہر میں جو اک میدان ہے
بھارتی ٹینکوں کا قبرستان ہے 
چودھری کہتا ہے چل سوئے وزیر آباد چل 
ٹینک کہتا ہے کہ متھرا کو دلِ ناشاد چل 
چودھری کہتا ہے چل اگلا مورچہ سر کیجئے
دل یہ کہتا ہے نئی دلی پہ منتر کیجئے
جنگ میں لالہ دھنی پرشاد کام آتا نہیں    دل اگر کمزور ہو فولاد کام آتا نہیں 
(نوٹ:  چودھری سے مراد انڈین کمانڈر اِن چیف جنرل چودھری ہے۔ )
1965ء کی جنگ کے دنوں میں صدرِ پاکستان فیلڈمارشل ایوب خان نے قوم کے نام اپنے پیغام میں کہا کہ اگر ہر پاکستانی روزانہ ایک پیسہ دفاعی فنڈ میں جمع کرائے تو ہم ہر روز پاکستان کے دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے ایک ٹینک خرید سکتے ہیں۔ میں روزانہ اپنا جیب خرچ مبلغ5 پیسے (5پیسے کا سکہ) محبوب بیکری میں رکھے ہوئے دفاعی فنڈ کے بکس میں ڈال دیتا۔ یوں میرا سینہ فخر سے چوڑا ہو جاتا کہ میں نے اپنے وطن کیلئے 5 ٹینک خرید لیے ہیں۔ 


اپریل1968ء میں لیّہ ریلوے سٹیشن پر آرمی کی ایک سپیشل ٹرین آکر رُکی۔ اس گاڑی نے تقریباً 6 گھنٹے لیّہ سٹیشن پرقیام کیا۔  اس گاڑی کی آمد کی اطلاع جنگل کی آگ کی طرح لیّہ شہر میں پھیل گئی۔ لوگ جوق در جوق پاک فوج کی محبت میں سٹیشن کی طرف آنے لگے۔ لوگوں نے پاک فوج کے جوانوں کے لیے پھول، تحائف اور اشیائے خوردو نوش اٹھا رکھی تھیں۔ عجیب منظر تھا، لوگ فوجیوں پر پھول نچھاور کر رہے تھے اور فوجی جوان مسکرا رہے تھے۔ لوگ انہیں گفٹ پیش کر رہے تھے جن کو لینے سے وہ گریزاں تھے۔ وہاں بہت سارے سکول کے بچے بھی تھے۔ میں بھی ان میں شامل تھا۔ فوجی جوان  بسکٹ کے ڈبے ہماری طرف پھینک رہے تھے۔ کیا خوب خوشگوار ماحول تھا ۔اپنی فوج سے شاید ہی کوئی قوم ایسی محبت کرتی ہو۔ 


1965 کی جنگ کو ختم ہوئے ایک سال سے زیادہ عرصہ بیت چکا تھا۔ میں کچھ سودا سلف لینے کے لیے صدر بازار لیّہ میں ابراہیم کریانہ شاپ پر گیا۔ وہاں دو فوجی جوان آگئے۔ انہوں نے دوکاندار سے کہا کہ ایک درجن انڈے دے دیں۔ دوکاندار نے انڈوں سے بھری ہوئی پوری ٹوکری ان کے حوالے کی تو وہ گویا ہوئے کہ بھائی! ہم نے تو صرف ایک درجن انڈے خریدنے ہیں۔ دوکاندار نے نمناک آنکھوں سے کہا کہ آپ تو ہماری خاطر اپنی جانیں دیتے ہو۔ یہ انڈوں کی ٹوکری تو میری طرف سے ایک حقیر سا نذرانہ ہے ۔جب گھر آکر یہ واقعہ میں نے اپنی والدہ کو سنایا تو ان کی آنکھیں بھی چھلک پڑیں۔ 



اپریل1968ء میں لیّہ ریلوے سٹیشن پر آرمی کی ایک سپیشل ٹرین آکر رُکی۔ اس گاڑی نے تقریباً 6 گھنٹے لیّہ سٹیشن پرقیام کیا۔  اس گاڑی کی آمد کی اطلاع جنگل کی آگ کی طرح لیّہ شہر میں پھیل گئی۔ لوگ جوق در جوق پاک فوج کی محبت میں سٹیشن کی طرف آنے لگے۔ لوگوں نے پاک فوج کے جوانوں کے لیے پھول، تحائف اور اشیائے خوردو نوش اٹھا رکھی تھیں۔ عجیب منظر تھا، لوگ فوجیوں پر پھول نچھاور کر رہے تھے اور فوجی جوان مسکرا رہے تھے۔ لوگ انہیں گفٹ پیش کر رہے تھے جن کو لینے سے وہ گریزاں تھے۔ وہاں بہت سارے سکول کے بچے بھی تھے۔ میں بھی ان میں شامل تھا۔ فوجی جوان  بسکٹ کے ڈبے ہماری طرف پھینک رہے تھے۔ کیا خوب خوشگوار ماحول تھا ۔اپنی فوج سے شاید ہی کوئی قوم ایسی محبت کرتی ہو۔ 
محض اللہ خان حجام کی دوکان چوبارہ روڈ لیّہ پر کوہاٹی ہوٹل کے سامنے واقع تھی۔ محض اللہ نے ریاض پینٹر سے ایک بورڈ لکھوا کر دوکان میں لگا رکھا تھا جس پر جلی حروف میں لکھا تھا ''پاک فوج کے جوانوں  کے لیے کٹنگ بالکل فری ہے''۔ اُس نے اپنی دوکان میں میجر عزیز بھٹی شہید کی فریم شدہ خوبصورت تصویر بھی آویزاں کی ہوئی تھی جوبھی کالج کاطالب علم اس کے پاس حجامت کے لیے جاتا، وہ اُسے نصیحت کرتا کہ خوب دِل لگا کر پڑھو اور پھر پاک فوج میںب ھرتی ہوجائو۔
دسمبر 1971 ء کی جنگ میں شکست کے بعد نوجوانوں میں بہت غصہ تھا۔ ہم سب چاہتے تھے کہ پاک فوج جوائن کریں۔ ہم غازی ہوں یا شہید مگر انڈیا سے شکست کا بدلہ ضرور لینا ہے۔ میں نے بھی عزم صمیم کیا کہ پاک فوج کو ہی جوائن کرنا ہے۔ شومئی قسمت سے ایک فٹ بال میچ کے دوران میں میری دائیں کلائی کی بیرونی ہڈی ٹوٹ گئی۔ سو میں PMA لانگ کورس میں اپلائی ہی نہ کر سکا۔ نتیجتاً مجھے میڈیکل کالج جوائن کرنا پڑا۔ آرمی میں جانے کی خواہش تشنہ رہ گئی۔ 
1975 میں کالج کے ایام میں صوبیدار شیریں گل ہمیں N.C.C کی ٹریننگ کراتے تھے۔ موصوف 1965 اور1971ء کی جنگوں میں حصہ لے چکے تھے۔ وہ ہمیں پاک فوج کی جرأت اور بہادری کی داستانیں سناتے تو ہمارا خون جوش مارنے لگتا۔ یہی وجہ تھی کہ ہمارے کئی دوستوں نے آرمی میں اپلائی کیا۔ مشتاق اعوان اور عبدالعزیز  سلیکٹ ہوئے۔ مشتاق اعوان کرنل کے عہدے سے ریٹائرڈ ہوئے جبکہ عبدالعزیز میجر جنرل کے عہدے تک جا پہنچے۔ 
ایک دفعہ میرے بیٹے کیپٹن اسفند یار نے مجھ سے کہا کہ ''ابو جان! اگر آپ پاک آرمی میں جاتے تو جنرل ہوتے''۔ میں نے جواب میں کہا کہ ''پسر عزیز! اگر میں پاک فوج میں جاتا اور کوئی جنگ ہوتی تو آپ آج لوگوں کو فخر سے بتاتے کہ میں شہید کا بیٹا ہوں''۔ قسمت کے رنگ  دیکھیں کہ کیپٹن اسفند یار بخاری تو شہید کا بیٹا نہ بن سکا مگر مجھے ایک بہادر اور جرأت مند شہید کا باپ ضرور بنا گیا۔ شاید یہ فخر میرے نصیب میں ہی لکھا تھا۔ 


 

یہ تحریر 165مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP