متفرقات

پاک فوج اور عوام کا انمول رشتہ

افواج پاکستان وطن عزیز کی سرحدوں کے دفاع کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ اندرونی سطح پر ملک اور عوام کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لئے بھی ہمیشہ پیش پیش رہتی ہیں۔ سیلاب ہو یا طوفان، زلزلہ ہو یا کوئی اور قدرتی آفت، افواج پاکستان تن من دھن کے ساتھ ان مشکلات سے نکالنے کے لئے اپنے ہم وطنوں کی معاونت کرتی ہیں۔ افواج پاکستان صرف قومی سطح پر ہی نہیں بلکہ انفرادی طور پربھی مشکل سے دوچار شہریوں کی مدد کرنا اپنا مقدس فریضہ گردانتی ہے۔ ایسی ہی ایک مثال صادق آباد کے ایک رہائشی نورالحسن کے حوالے سے بھی سامنے آئی۔ 



نورالحسن موٹاپے کی بیماری کا شکار تھے۔ وہ طویل عرصے تک اس سے لڑتے رہے۔ لاکھ کوشش کے باوجودوہ تندرست نہ ہو پائے اور یوں یہ بیماری ان کی لئے بوجھ بنتی چلی گئی۔حتی کہ اُن کا چلنا پھرنا محال ہوگیا۔ اس کے اپنے بوجھ نے، جو تقریبا 320 کلوگرام تھا، انہیں ایک طرح کا اسیر بنا لیا تھا۔ اس عالم میں سوشل میڈیا اُن کے کام آیا۔ اُن کی آواز لاہور کے ایک ڈاکٹر تک پہنچی جس نے اُنہیں اس بوجھ سے نجات دلانے کی آس دلائی۔ مگر اب ایک اور مسئلہ زندگی کی طرف ان کے سفر میں رکاوٹ بن گیا تھا۔ ڈاکٹران کی حالت کو دیکھتے ہوئے عام ایمبولینس میں انہیں لاہور منتقل کرنے کا رسک نہیں لینا چاہتے تھے۔ ان کے مطابق صادق آباد سے لاہور تک کا بذریعہ سڑک فاصلہ نو سے دس گھنٹے کا ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق ایک عام ایمبولینس میں اتنا طویل سفر ان کے خون کو منجمد کرسکتا تھا جو ان کی زندگی کو بھی خطرے میں ڈال سکتا تھا۔
نورالحسن نے ایک ویڈیو کے ذریعے اپنی اس مشکل کا اظہار کیا جس پر چیف آف آرمی سٹاف نے فوج کو نور الحسن کی مدد کرنے کی ہدایت کی۔یوں پاک فوج کی ایئرایمبولینس ان کے گھر پہنچی۔پاک فوج کے طبی عملے نے انہیں بڑی احتیاط سے ہیلی کاپٹر میں سوار کیا۔ اس دوران ان کے اہل محلہ نے ان پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں۔ یہ مناظر انتہائی جذباتی تھے۔ ہر کوئی نورالحسن کی صحت یاب ہو کر جلد لوٹ آنے کے لئے دعا کے ساتھ ساتھ پاک فوج کے جذبہ ایثار اور سپہ سالار کے جذبہ ہمدردی کو بھی خراج تحسین پیش کررہا تھا۔
ایئر ایمبولینس لاہور پہنچی۔ نورالحسن کو انتہائی احتیاط کے ساتھ ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کا آپریشن کیا گیا۔ ڈاکٹروں کے مطابق ان کے تمام ٹیسٹ کامیاب تھے اور وہ تیزی سے صحت یاب ہورہے تھے کہ اُنہیں دل کا دورہ پڑا اور اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ اللہ ان کی مغفرت کرے۔ جنرل قمر جاوید باجودہ نے ان کی وفات پر دکھ ااور رنج کا اظہار کرتے ہوئے اپنے پیغام میں کہا کہ انسان کوشش کرسکتا ہے، باقی اللہ کی مرضی۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے۔
پاک فوج نے بلاشبہ نورالحسن کی زندگی کے لئے اس کی تگ و دو میں اس کا بھرپور ساتھ دیا۔ مایوسی کے عالم میں انہوں نے اس کے لئے امید کی کرن بن کرثابت کردیا کہ ایک فرد ہو یا پوری قوم پاک فوج کا جذبہ خدمت اور جذبہ ایثار سب کے لئے ہے۔ کہنے کو ایک واقعہ ہے، انفرادی داستان ہے مگردراصل یہ ایک عظیم رشتے، بھروسے اور یقین کا اظہار ہے جو پاک فوج اور عوام کو یک جان دوقالب بناتا ہے۔ پاکستان کے عوام مشکل گھڑی میں افواج ِپاکستان سے بے پناہ توقعات رکھتے ہیں اور الحمدﷲ افواج بھی ہمیشہ عوام کی توقعات پر پورا اُترتی ہیں۔ یہ واقعہ اس بات کی بھی غمازی کرتا ہے کہ افواج سرحدوں کے دفاع کے ساتھ ساتھ ، دُکھ اور سُکھ کی ہر گھڑی میں ہرایک پاکستانی کے ساتھ ہیں۔


 

یہ تحریر 93مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP