تحفظ، امن اور ترقی کا سفر

پاک فوج ،ملکی سلامتی اور قربانیاں 

پاکستان کا قیام کسی طور بھی معجزے سے کم نہیں تھا اور اس کی حفاظت بھی کرامت ہے۔ جب کہاجاتا ہے کہ افواجِ پاکستان وطن کے چپے چپے کی حفاظت کریں گی تو وہ ایسا کرتی بھی ہیں، پھر اس کے ثبوت بھی موجود ہیں۔ درجن بھر نشانِ حیدر، سیکڑوں جرأت کے ستارے اور سینوں پر لش پش کرتے سجے تمغے ویسے ہی نہیں مل جاتے، جان دینی پڑتی ہے، معذوریاں مقدر کرنی پڑتی ہیں، عیدیں اور شب راتیں گھر سے دُور بارڈر ایریے میں گزارنی ہوتی ہیں۔ دانہ خاک میں ملتا ہے تو گلزار کھلتا ہے۔ محافظ جاگتا ہے تو مکین سوتے ہیں۔ گرم خواب گاہوں میں زندگی بسر کرنے والے کیا جانیں سیاچن پر دسمبر کی راتیں کیسے گزاری جاتی ہیں۔
7 اپریل2012کی صبح6 بجے کا وہ دلخراش واقعہ کسے یاد نہیں۔ جب 6 ناردرن لائٹ انفنٹری بٹالین کے150 جاں نثار سیاچن کے گیاری سیکٹر میں ایک برفانی تودے کی زد میں آکے شہادت سے سرفراز ہوئے۔ وہ وطن کی حفاظت کی قسم کی بجاآوری میں دنیا کے بلند ترین محاذ جو سطح سمندر سے4000 میٹر بلند ہے، جہاں گھاس نہیں اُگتی۔ درجہ حرارت50 درجے منفی رہتا ہے، وہاں پہرے پر تھے جن کی روحیں آج بھی کہہ رہی ہیں  
ہم چھوڑ گئے، دم توڑ گئے
ہم برف کی چادر اوڑھ گئے
ان 150 شہداء میں چکوال کے کرنل تنویر الحسن ، کوٹ ادو کے میجر ذکاء الحسن اورپشاور کے کیپٹن ڈاکٹر حلیم اﷲ خان شامل تھے۔ مائوں سے بچوں کے ان سوالوں کے جواب نہ بن پائے کہ جب وہ پوچھتے تھے ہمارے ابو کب آئیں گے۔5جون 2019 کو عید الفطر کی نماز جنرل قمر جاوید باجوہ چیف آف آرمی سٹاف نے بارڈر ایریا میں ان جاں نثاروں کے ساتھ پڑھی جو وطن کی سرحدوں پر پہرہ دے رہے ہیں۔
افواجِ پاکستان کو کئی ایک محاذوں پر برسرِ پیکار رہناپڑتا ہے۔ عام تاثر یہ ہے کہ پاکستان کو جتنا بیرونی دشمن سے خطرہ لاحق ہے اسی قدر اندرونی دشمن کی طرف سے بھی مشکلات کا سامنا ہے۔بیرونی کے بجائے اندرونی دشمن زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ بیرونی دشمن اپنی دشمنی میں واضح ہوتا ہے مگر اندرونی دشمن پوشیدہ ہوتا ہے۔ اس کی شناخت چنداں آسان نہیں مگر افواجِ پاکستان نے اس مشکل اور چھپے ہوئے دشمن پر بھی قابو پاکر ملک میں امن بحال کرنے میں انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے اور کر بھی رہی ہیں۔
7جون 2019 کو شمالی وزیرستان خرقمر میں بارودی سرنگ کے دھماکے میں چار فوجی، لیفٹیننٹ کرنل راشد کریم بیگ، میجر معیز، کیپٹن عارف اﷲ اور لانس حوالدار ظہیر احمدشہید ہوئے اور چار جوان زخمی ہوئے۔ یہ وہ جگہ تھی جہاں فورسز نے سرچ آپریشن کے دوران چند سہولت کاروں کو گرفتار کیا تھا چونکہ شرپسند عناصر قبائلی علاقوں میں امن بحالی کے دشمن ہیں اس لئے وہ بے چہرہ دشمن ایسی مذموم حرکتوں کا ارتکاب کرتا رہتا ہے۔ اس میں کسی قسم کا کوئی دوسرا تبصرہ نہیں کرسکتا کہ پاک فوج کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربانیاں قابلِ تحسین ہیں۔ پاک فوج کے شہداء قوم کا مان ہیں۔ بے چہرہ ملک دشمن عناصر گاہے گاہے ، دو بدو جنگ پر اُتر آتاہے۔7جون کو ہی بلوچستان کے علاقے ہرنائی میں دہشت گردوں کی فائرنگ سے 2 ایف سی اہلکاروں، سبی کے یار محمد اور لکی مروت کے مہتاب خان، کی شہادت اس بات کا بیّن ثبوت ہے۔ اس سے پہلے بلوچستان میں ہی سکیورٹی ایجنسیوںنے کلبھوشن نیٹ ورک کا خاتمہ کیا، اس باوردی جاسوس کو میڈیا کے سامنے لا کر اور اقبالِ جرم کے مرحلے سے گزار کے بھارتی گھنائونے چہرے کو بے نقاب کرنے میں کردار ادا کیا۔ افواجِ پاکستان نے ہمیشہ اپنے حلف سے وفاداری کی اوربحری ہو یابَری ہر جگہ کے حالات میں وطن ، ملت اور اسلام کے مفادات کو مقدم رکھا۔ شمالی وزیرستان کے علاقے خرقمر میںجہاں 7جون کو دھماکہ ہوا وہاں گزشتہ ڈیڑھ دو ماہ کے دوران 10 سے زائد سکیورٹی اہلکار شہید اور35 کے قریب زخمی ہو چکے ہیں۔
دہشت گردی کے حوالے سے فوجی آپریشن کی تاریخ بہت طویل ہے۔ ماضی قریب میں ''آپریشن ضربِ عضب'' شمالی وزیرستان کی وادی شوال کی پُرپیچ گھاٹیوں، کھائیوں اور دتہ خیل کے سنگلاخ پہاڑوں میں15 جون 2014 سے شروع کیا گیا تھا جس کے بارے میں دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ آپریشن ضربِ عضب سے پاکستان میں دہشت گردحملوں میں70فیصد کمی ہوئی ہے۔ یاد رہے کہ شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کی نوبت تب آئی جب دہشت گردوں نے8 جون2014 کو کراچی انٹر نیشنل ایئر پورٹ کے پرانے ٹرمینل پر بھاری اسلحے سے لیس ہو کر حملہ کیا تھا۔اُن دس دہشت گردوں میں آٹھ غیر ملکی اور2 مقامی ماجد اور احتشام کراچی کے تھے جو اورنگی ٹائون میں اہلِ خانہ کے ساتھ مقیم تھے۔ فوج کے جوانوں نے موقع پر پہنچ کر سارے دہشت گرد ہلاک کر دیئے تھے مگر دہشت گردوں کی فائرنگ اور ہینڈگرینیڈ دھماکوں کی وجہ سے21 کے قریب ایئرپورٹ انتظامیہ کے اہلکاراور شہری جاں بحق ہوئے تھے،18 زخمی بھی ہوئے۔ اس سانحے کی ذمہ داری جب تحریکِ طالبان پاکستان نے قبول کی تو حکومت نے امن کی راہ اختیار کرتے ہوئے مذاکرات کا ڈول ڈالا لیکن جب بات کسی نتیجے پر نہ پہنچی تو پھر آپریشن ضرب عضب کا آغازکیاگیا جس کی کامیابی کے لئے شمالی وزیرستان کے بہادر عوام پاکستان کو امن کا گہوارہ بنانے کے لئے گھر میں بے گھر کہلائے دربدر ہوئے لیکن آفرین ہے بنوں اور مضافات کے غیور پٹھانوں پر جنہوںنے اپنے دل اور گھر کے دروازے شمالی وزیرستان کے IDPs کے لئے واکردیئے تھے۔ ایک اندازے کے مطابق 20 لاکھ افراد نے ہجرت کی بے گھر ہوئے اور خود کو آزمائش میں ڈال کر افواجِ پاکستان کا دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کامیاب بنایا۔
آپریشن ضربِ عضب جاری تھا کہ بزدل دشمن نے 16 دسمبر2014 کو پشاور کے آرمی پبلک سکول پر حملہ کرکے پرنسپل سمیت کم و بیش150افراد بشمول بچوں کو شہید کردیا اس کی ذمہ داری بھی تحریکِ طالبان پاکستان نے قبول کرلی تھی۔ جس کے شرپسند کارکن ایف سی(فرنٹیئرکور) کی وردی میں ملبوس آرمی پبلک سکول کی بلڈنگ میں عقبی دیوار پھلانگ کر داخل ہوئے اور ہال میں جا کر اندھا دھند فائرنگ شروع کردی تھی۔ اس سانحہ کی جتنی بھی مذمت کی جائے، کم ہے۔ یہ کیسی مردانگی ہے جس پر انسانیت کا سرشرم سے جھک گیا۔ نہتے معصوم بچوں پر بزدلانہ حملہ کیسی دشمنی ہے۔ کوئی بھی دین دھرم عورتوں اور بچوں پر حملے کی اجازت نہیں دیتا ہے۔
بڑا دشمن بنا پھرتا ہے جو بچوں سے لڑتا ہے
مرحلہ وار جائزہ لیا جائے تو دہشت گردوں نے پاکستان کے داخلی اور خارجی امن کو تہہ و بالا کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا، مگر ہر بار افواج ِ پاکستان کے آہنی عزم ، ثابت قدمی اورجرأت کے سامنے وہ چاروں شانے چت ہوتے گئے۔ اگست2016 میں عسکریت پسندوں کے خلاف ایک آپریشن راجگل بھی ہوا جسے خیبر ون ، ٹو اور تھری بھی کہا گیا۔ راجگل خیبر ایجنسی کی ایک چھوٹی سی وادی ہے جو افغانستان سے متصل ہے۔ جہاں آپریشن ضربِ عضب سے بھاگے ہوئے دہشت گردوںنے پناہ لے رکھی تھی یہاںداعش ، لشکرِ اسلامی اور تحریکِ طالبان نے ٹھکانے بنا لئے تھے۔ وادیٔ راجگل کے علاقے دامو درب میں سرچ آپریشن کے دوران 40 سے زیادہ دہشت گردہ ہلاک ہوئے اور بھاری مقدار میں گولہ بارود برآمد ہوا تھا۔ اسی طرح بابر کوچاک، نرے نائواور نوسپار میں بھی بیسیوں دہشت گرد ہلاک کئے گئے تھے۔ بظاہر آپریشن راجگل بڑا، اور آخری آپریشن سمجھا جاتا رہا ہے، وہ مشکل آپریشن بھی تھا مگر امن کے لئے جُوں جُوں افواجِ پاکستان وطن ِ عزیزکی کامیابی کے راستے صاف کرتی گئیں تُوںتُوں خفیہ اور کھلادشمن اپنی کارروائیاں دھوکہ دہی سے مختلف مذموم حربوں سے کرتا چلا گیا۔ پھر ایک وقت ایسا آیا کہ وہ بے چہرہ دشمن پاکستان کے مختلف شہروں تک پھیل گیا، وہ جنگلوں اور پہاڑوں سے نکل کر آبادیوںکو نشانہ بنانے لگ گیا۔
 پاکستان میں فوج کے کردار پر عمیق نگاہ ڈالی جائے تو اس کی تاریخ جہاں محاذِ جنگ پر انہیں تابناکی سے سرفراز کرتی ہے وہاں اندرونی طور پر مسلسل آپریشن سے دوچار دکھائی دے رہی ہے۔ آپریشن دیر، آپریشن بونیراور آپریشن بلیک تھنڈر جو زیریں سوات بونیر میں ہوا تھا۔ آپریشن راہِ راست، آپریشن راہِ نجات اور آپریشن راہِ حق بھی پاک فوج کی جرأت کی طویل کہانی بیان کرتے ہیں جس کی وجہ سے ملکِ عزیز پاکستان دھیرے دھیرے دہشت گردوں اور عسکریت پسندوں سے پاک ہوتا چلا گیا۔ یہ باتیں لکھنے اور پڑھنے میں دیو مالائی اور دلچسپ لگتی ہیں مگر اس میں ہزاروں فوجیوں کی جانوں کے نذرانے اور بے شمار قبائلیوں کے جان ومال کی قربانیاں بھی شامل ہیں، حالیہ آپریشن میں آپریشن ردالفساد دشمن کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہو رہا ہے۔ ملک بھر کے شہروں شہروں اور گائوں گائوں سے افواجِ پاکستان نے دہشت گردوں اور خود کش بمباروں کی ایک کثیر تعداد حراست میں لی گئی۔ صرف اسلام آباد سے 200 کے قریب دہشت گرد گرفتار کئے گئے۔  آپریشن رد الفساد اس لئے بھی خاصا مشکل ثابت تھا کہ شہری آبادی میں چھپا دشمن تلاش کرنا اس لئے آسان نہیں ہوتا کہ انسانی زندگی کے آداب آڑے آتے ہیں۔ گنجان آبادیوں کی شہری زندگی متاثر ہوتی ہے۔2017 میں شروع کئے گئے آپریشن ردالفساد میں چاروں صوبوں میں چھاپہ مار مہم شروع کی گئی۔ سیکڑوں دہشت گرد اور ان کے سہولت کار پکڑے گئے۔ پاک فوج نے ملکی سلامتی کو یقینی بنانے کے لئے اسلحہ اور گولہ بارود سے وطنِ عزیز کو پاک کرنے کی خاطر بلاامتیاز آپریشن کرکے امن بحال کرنے میں مقدور بھر اور جان لیوا کوششیں کی ہیں۔ مانسہرہ ، اسلام آباد جھنگ، سرگودھا،رحیم یار خان، بلوچستان ، خیبر پختونخوا، کراچی، فیصل آباد، راولپنڈی اور کئی دیگر شہروں سے سیکڑوں دہشت گروں کو زندہ یامردہ گرفتار کرکے پاکستان میں امن قائم کیا ہے۔ مگر فوج نے کس قدر قربانیاں دے کرامن کی منزل کو قریب تر کیا۔تاریخ میں یہ قربانیاں سنہری حروف سے لکھی جاچکی ہیں۔


مضمون نگارایک معروف صحافی اور مصنف ہیں۔ ایک قومی اخبار کے لئے کالم بھی لکھتے ہیں۔
[email protected]
 

یہ تحریر 196مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP