متفرقات

پاک فضائیہ کا پٹھانکو ٹ کا یادگارمعرکہ

6ستمبر1965کی دوپہر بارہ بجے تک پاک فضائیہ کا پشاور سٹیشن (بیس) پر تعینات سکواڈرن 19، پاکستان کے دل لاہور کے تحفظ کا فضائی تاریخی معرکہ سر کرکے ابھی واپس ہی پلٹا تھا کہ اُسے اگلے حملے کی تیاری کا حکم مل گیا۔ سکواڈرن کمانڈر، سید سجاد حیدر نوزی، ریٹائرڈ ایئر کموڈور جو1965 میں سکواڈرن لیڈر تھے، کو اپنی انفرادی کارکردگی سے زیادہ ہمیشہ اپنے سکواڈرن کے ہوابازوں کی مجموعی کارکردگی بہتر سے بہتر دکھانے کی لگن رہتی تھی، اس لئے ان کی عملی تربیت پر بہت زور دیتے رہے۔ پشاور کے پاس کل 18 جہاز تھے اور وہ دوپہر سوا بارہ بجے تک 18 مشنزیعنی 18 اڑانیں بھر چکے تھے۔ مگر جیسے ہی انہیں پٹھانکوٹ پر حملے کا حکم ملا، 10 جہاز اُس کے لئے مخصوص کردیئے گئے اور 6 جہاز اے ڈے اے(ADA)ڈیوٹی کرتے رہے یعنی6 ستمبر کو90 فی صد جہازوں نے اڑانیں بھریں اور سترہ دنوں میں مجموعی طور500 اڑانیں بھریں جو کہ ایک قابلِ فخر کارنامہ ہے۔



پاک فضائیہ کی پٹھانکوٹ پر یادگار سٹرائیک
پاک فضائیہ کے اس حملے نے بھارتی فضائیہ کی کمر توڑ کر رکھ دی اور اُن کے حوصلے انتہائی پست کردیئے۔ اس منصوبے سے پاک فضائیہ کی کامیاب حکمتِ عملی کا پتہ چلتا ہے کہ اگر جنگ ناگزیر ہو جائے تو کس طرح انتہائی قلیل وقت میں بھارتی فضائیہ کو زیر کیا جائے گا۔ اس منصوبہ بندی کے تین اہم ترین پہلو درج ذیل تھے۔
1۔    فارورڈ بیسز یعنی آدم پور، ہلواڑہ ، پٹھانکوٹ، جام نگر، کلائی کنُڈہ اور بھگودرا پر موجود بھارتی فضائیہ کے فائٹر طیاروں کو جنگ کے شروع میں زمین پر تباہ کردیا جائے۔
2۔    شمال اور جنوب میں لگائے گئے ریڈارز یعنی امرتسر، فیروز پور اور پوربندر ریڈارز کو تباہ کردیا جائے۔    
3۔رات بھر بمباری کرکے فارورڈ بیسز کے رن ویز یعنی جام نگر ، آدم پور اور ہلواڑہ کو تباہ کردیا جائے اور اگلے روز اس مشق کو ایک مرتبہ پھر دہرایا جائے۔
6 جون1965 کو زمانہ امن کے تیار کردہ پلان اور6ستمبر کے پلان میں ایک تبدیلی لائی گئی اور وہ یہ تھی کہ پشاور میں تعینات سکواڈرن نمبر19 کے ٹارگٹ کو اچانک تبدیل کرکے انبالہ سے پٹھانکوٹ کردیاگیا تھا۔6 ستمبر1965 کی صبح سٹیشن کمانڈر نے ساڑھے بارہ بجے دوپہر کے وقت سید سجاد حیدر کے حوالے ایک فلیش سگنل کیا، جس کے مطابق سکواڈرن نمبر19 کو حکم دیاگیا کہ آٹھF-86سیبر طیارے، دو اسکارٹ جہازوں کے ساتھ پٹھانکوٹ پر حملے کے لئے روانہ کئے جائیں جو وہاں کھڑے طیاروں کو تباہ کردیں۔ اینٹی ایئر کرافٹ گنز بیس کی حفاظت کے لئے نصب ہیں اور ٹارگٹ پر پہنچنے کا وقت شام 17:05 بجے ہوگا۔ کیونکہ سکواڈرن کا پہلے ٹارگٹ انبالہ تھا جسے اب تبدیل کرکے پٹھانکوٹ کردیاگیا تھا اور اُس کے بارے میں پشاور کے ہوا بازوں کے پاس معلومات نہ ہونے کے برابر تھیں اور اب ہوا باز آگے پیچھے بھاگ دوڑ کر یہ معلومات اکٹھی کررہے تھے کہ پٹھانکوٹ کا رن وے کِن زاویوں پر بناہوا ہے۔ جہازوں کے شیلٹرکس نوعیت کے اور کہاں کہاں ہیں اور ان تمام چیزوں کا جاننا  اس لئے بھی اشد ضروری تھا کہ پٹھانکوٹ فیول کے لحاظ سے پشاور کے آخری ریڈ یس(Radius) آف آپریشن پر آتا ہے اور ذرا بھی گنجائش نہ تھی کہ ہوا باز ٹارگٹ پر کچھ دیر اڑ کر یہ تمام ڈیٹا اکٹھا کریں۔ ہوا بازاپنے لیڈر کے ساتھ اس امر کا بھی جائزہ لے رہے تھے کہ وہاں انہیں کس قسم کے بھارتی جہازں کا مقابلہ کرنا پڑسکتا ہے۔ ان تمام درپیش مسائل کے باوجود وہ اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھ رہے تھے کہ سکواڈرن نمبر19 کے ہوا بازوں کو یہ اہم ذمہ داری سونپی جا چکی ہے۔ لیڈر  نے سوچا کہ بہتر ہوگا اگر اُس کے ساتھی ہوا باز اس اہم معرکے پر جانے سے پہلے کچھ دیر آرام کرلیں تاکہ تازہ دم ہو کر دشمن پر وار کریں اور یقینی کامیابی حاصل کریں۔ لیڈر نے اپنے دوست سکواڈرن لیڈر اقبال (بالا) جو الیکٹرانک انٹیلی جینس یونٹ 2 کے آفیسر کمانڈنگ تھے، سے کہا کہ آج میرے ہوا بازتمہارے سینٹرلی ایئر کنڈیشن روم جسے'' ڈروپی ہینگر''کہا جاتا تھا ،کو استعمال کریں گے جہاں انتہائی نفیس چمڑے سے تیار شدہ آرام دہ کرسیاں لگی ہوئی تھیں اور وہ بوقت ضرورت بیڈ میں تبدیل ہو جاتی تھیں۔  وہاں پہنچ کر لیڈر نے فلائٹ لیفٹیننٹ اکبر مو(مو،نک نیم ) سے کہا آئو مل کر ہم اپنے اس خطرناک مشن کے ساتھیوں کا انتخاب کرلیں۔ اس مشن میں قوی امکان تھاکہ ہم میں سے چند منصبِ شہادت پر فائز ہو جائیں اور واپس نہ آسکیں ۔ آخر جب سات خوش نصیبوں کا فیصلہ کر لیاگیاجن کو چن لیاگیااُن کی باچھیں کھِل گئیں اور باقیوں کے چہرے لٹک گئے۔ وہ دو جو نہایت اداس نظر آرہے تھے  اُن میں ایک عباس خٹک  اور دوسرے ارشد سمیع تھے۔ لیڈر کا کہنا ہے کہ اُس کے دل میں ان دونوں ابھرتے ہوئے ہوا بازوں کے لئے انتہائی قابلِ قدر جذبات تھے اور یقین تھا کہ وہ دونوں بہت جلد پاک فضائیہ کے درخشاں ستارے بن کر چمکیں گے۔ اس لئے ان کالیڈر ہر گز نہیں چاہتا تھا کہ اس جوانی میں اُن کے ماں باپ کو اُن کی جدائی کا صدمہ سہنا پڑے، یہ دونوں ہوا باز، ایئر ڈیفنس الرٹ(ADA) ڈیوٹی پر تھے اورانہوں نے ابھی ابھی اپنی پرواز مکمل کرکے لینڈکیا تھا لہٰذا لیڈر نے ان کے' اے ڈی اے' مشن کو مناسب وجہ جانتے ہوئے اُن دونوں کو پٹھانکوٹ سٹرائیک میں شامل نہیں کیا تھا، لیکن عباس خٹک اور ارشد سمیع ابھی تک افسر وہ نظر آرہے تھے اور ہر کوئی محسوس کررہا تھا کہ وہ دونوں اپنے آنسوئوں پرضبط کا بندھن باندھے کھڑے ہیں۔ آخر اُن کی حالت کو دیکھتے ہوئے لیڈر نے کہاکہ فلائیٹ لیفٹیننٹ اکبرمو، ٹیم سے نمبر7 کو نکال کر عباس خٹک کا نام شامل کردو اور ارشد سمیع کو بحیثیت اسکارٹ کے سٹرائیک میں شامل کرلو۔ اس فیصلے سے دونوں کے چہرے شاداں و فرحاں ہو گئے۔ حتمی ٹیم یہ تھی، لیڈر سکواڈرن لیڈر سجاد حیدر ، فلائٹ لیفٹیننٹ اکبر مو، مظہر عباس ، دلاور، غنی اکبر ، فلائنگ آفیسر ارشد چوہدری، خالد لطیف اور عباس خٹک جبکہ ٹائڈ اسکارٹس(Tied Escorts)کے طورپر ونگ کمانڈرتوّاب اور فلائٹ لیفٹیننٹ ارشد سمیع کو رکھا گیا تاکہ اگر کوئی بھارتی جہاز مقابلے پر آئے تو اُسے انٹر سیپٹ(intercept) کریں اور سٹرائیک حتی الامکان کوشش کرکے اپنا پرائمری مشن مکمل کرلے یہ سب کچھ بیان کرنے کا مقصد  یہ ہے کہ اہلِ وطن کو اندازہ ہوسکے کہ پاک فضائیہ کے تمام ہوا باز حرمتِ وطن کی خاطر جان قربان کرنے کا کیسا والہانہ جذبہ رکھتے ہیں۔ یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ شام کی سٹرائیک  پر جانے کے لئے ہر کسی کا جذبہ دیدنی تھا اور وہ دشمن کو اُس کی جسارت کی کڑی سزا دینا چاہتے تھے اور اُن ہوا بازوں میں سے کچھ اب تیسرے مشن پر روانہ ہونے والے تھے ۔
 ڈروپی ہینگر میں مشن کی تیاری اور بریف بھی اُن کے آرام کا ہی حصہ تھا۔ لیڈر نے بتانا شروع کیا کہ ہم پہلی اڑان 25ہزار فٹ کی بلندی پر کریں گے تاکہ دشمن کا ریڈار ہمیں اپنی سکرین پردیکھ سکے، مگر ہم سیدھے پٹھانکوٹ نہیں جائیں گے بلکہ دشمن کو چکمہ دینے کے لئے پہلے گوجرانوالہ تک پہنچیں گے ، جہاں پہنچ کر ہم اپنی اونچائی کو انتہائی کم کردیں گے تاکہ دشمن کی ریڈار سکرین سے غائب ہو جائیں۔اور اب ہم تیزی سے پٹھانکوٹ کی جانب پرواز کریں گے۔کہاں سے کہاں تک کیا اونچائی اور رفتار رکھی جائے گی تمام حساب کتاب بڑی باریکی سے طے کیاگیا اور ریڈیوکے استعمال کو کم سے کم رکھنے کے لئے اشارے مقرر کئے گئے۔ پروگرام یہ تھا کہ 25 ہزارفٹ کی بلندی پر پہلے پشاور سے گوجرانوالہ پہنچیں گے تاکہ امرتسر ریڈار دیکھ لے اور سمجھے کہ ہم ہلواڑہ کی جانب جارہے ہیں لیکن اب ہم تیزی سے اونچائی کو کم کرتے ہوئے  اپنے' آئی پی' (initial point) پسرور ایئر سٹرپ(strip) پر پہنچیں گے، اب امرتسر ریڈار کی سکرین سے ہم غائب ہو چکے ہوں گے۔ پرانے ٹریک  کے مطابق وہ ہمیں ہلواڑہ کی جانب بڑھتا ہو دیکھ رہا ہوگا، مگر ہم اب پسرور سے پٹھانکوٹ پر حملہ آور ہوکر درپیش صورت حال کا مقابلہ کریں گے اور ہم سب خدا سے مسلسل دعا کررہے تھے کہ ہمارا حملہ دشمن کے لئے اچھنبے کا باعث ہو۔ اچانک لیڈر کو ایک اور منفرد خیال آیا۔ اُس نے ایک ہواباز سے کہا کہEaudeCologne کی شیشی لے آئے اوراُسے ٹھنڈے پانی میں حل کردے  اور پھر شام چار بجے تک کے لئے ایک بالٹی میں یہ خوشبو اور دس ہاتھ کے تولیے ڈال دیئے گئے اس طرح وہ خوشبو دس تولیوں میں جذب ہو گئی ۔ٹیم کے دوسرے ہوا بازلیڈر کو سوالیہ نظروں سے دیکھ رہے تھے کہ اس نے کہا '' اس پیاری خوشبو کو سونگھتے ہوئے مشن سے پہلے کچھ دیر آرام کرلو اور پھر اُس کے بعد مشن پر جاتے وقت ایک ایک تولیہ اپنے ہمراہ رکھنا، نجانے ہم میں سے کون خوش قسمت شہادت کے اعلیٰ درجے پر فائز ہو کر جنت پہنچ جائے۔ لہٰذا ہمارے فلائنگ سوٹس سے جو پسینے اور نمکیات کی بو آرہی ہے اُس کی جگہ یہ کافور کی سی بھینی بھینی  خوشبو آرہی ہو۔'' سب ممبران نے لیڈر کے اس خیال کو بہت سراہا ۔ کچھ ہی دیر میں تھکے ہوئے ہوا باز آرام دہ کرسیوں میں ایسے سو رہے تھے جیسے چھوٹے بچے ماں کی آغوش میں میٹھی نیند کے مزے لے رہے ہوں۔ اسی دوران لیڈر کی بیگم صاحبہ کا کئی مرتبہ فون آچکا تھا، لہٰذا  لیڈر نے ضروری بات چیت کرکے خدا حافظ کہا اور تقریباً100 منٹ کے بعد ایک ایک کرکے تمام ہوا باز گہری نیند سے بیدار ہوگئے اور ابھی تک تولیوں سے آتی ہوئی مسحور کن مہک ہر کسی کے مزاج کو خوشگوار سے خوشگوار تر بنا رہی تھی اور اب بڑے جوش و خروش اور عزم و حوصلے کے ساتھ ہوا باز اپنے پیراشوٹ باندھتے ہوئے ، تیز تیز قدموں سے اپنے اپنے جہازوں کی طرف بڑھ رہے تھے۔
اب ذرا سرحد پار کی بھی سُن لیجئے۔ انڈین فضائیہ کے ایئر مارشل ایس رغوندراں اپنے ایک آرٹیکل میں لکھتے ہیں کہ میں جی نیٹ کا سکواڈرن کمانڈرتھا جو پٹھانکوٹ پر تعینات تھا ، میری چھٹی حِس بیدار تھی اور میں بیس کمانڈر گروپ کیپٹن سوری سے درخواست کررہا تھا کہ سورج غروب ہونے سے پہلے مجھے کیپ'کمبیٹ ایئر پیٹرول، (CAP)  مشن کی اجازت دی جائے، اس مشن میں دو جہاز محوِ پرواز رہتے ہیں اور دشمن کی طرف سے متوقع حملے کی صورت میں مقابلے کے لئے تیار رہتے ہیں لیکن بیس کمانڈر نے اُس مشن کی اجازت نہ دی اور یہ کہہ کر منع کردیا کہ ہمیں برے وقتوں کے لئے اپنے جہازوں اور ہوا بازوں کو بچا کر رکھنا چاہئے۔ یہ غلط فیصلہ بتا رہا تھا کہ خدائی غیبی امداد زینبوز فارمیشن کے لئے پہنچ چکی ہے۔
اس طرف زینبو لیڈر بتا رہے تھے کہ میں ٹارگٹ پرپہنچ کر اُبھروں گا اور باری باری سب کو بتائوں گا کہ کس نے کس طرف سے اور کس انداز سے حملہ کرنا ہے کیوں کہ یہ لیڈر ہی کی ذمہ داری تھی کہ وہ یقین دہانی کرے کہ انتہائی قلیل وقت میں مختصر سی جگہ پر اُڑتے ہوئے بے شمار جہاز آپس میں بھی نہ ٹکرا ئیں اور حملہ بھی کامیاب رہے، اوروہ سب کے سب اینٹی ایئر کرافٹ گنوں کے فائر سے بھی محفوظ رہیں اور ایسے میں اگر کسی بھی طرف سے دشمن کے جہاز آجائیں تو دو جہاز اُن سے نبرد آزما ہوں اور لیڈر نے اسکارٹ فارمیشن کے ونگ کمانڈر توّاب اور فلائٹ لیفٹیننٹ ارشد سمیع کو ہدایات دیں کہ وہ جب ٹارگٹ سے صرف 14 میل کے فاصلے پر ہوں اور اشارہ کریں تو وہ دونوں 7000 فٹ کی بلندی پر چڑھ جائیں تاکہ آرٹلری گنز سے محفوظ رہیں اور کسی بھی طرف سے مشن کی راہ میں رکاوٹ بننے والے طیاروں سے لڑیں اور صورتِ حال سے ہمیں بھی آگاہ رکھیں۔ اگر چار سے زیادہ بھارتی طیارے آگئے تو وہ سیبر طیاروں کا جوڑا جس پر وہ حملہ آور ہوں گے۔صرف وہ اپنے ڈراپ ٹینکس پھینک دے گا اور مقابلہ کرے گا جبکہ باقی پھر بھی اپنے پرائمری مشن کے مقصد کو حاصل کریں گے۔ شام چار بج کر پندرہ منٹ پر تمام ہوا باز خاموشی سے مگر پُرجوش انداز میں اپنے اپنے جہازوں پر جابیٹھے اور ریڈیو چیک مکمل کیا۔ چند ہی سیکنڈوں میں دس جہاز،سو فیصد انجن پاور کے ساتھ کسی سرکش طوفان کی طرح فضائوں کو تہہ و بالا کررہے تھے، جیسے ہی دسویں ہواباز نے کہا ''تیار '' لیڈر نے بآوازِ بلند''بسم اللہ'' پڑھ کر اپنی 'Hi- Lo- Hi' پروفائل کے مطابق پرواز کا آغاز کردیا۔ لیڈر کے پیچھے سات F-86 اور اُن سب کی حفاظت کے لئے دیگر دو طیارے، 'آئی پی' (initial Point)کی جانب بڑھ رہے تھے۔ یہاں تک کہ لیڈر نے اپنے جہاز کے پروں کو ہلا کر اونچائی کم کرنے کا اشارہ کیا، جہازوں نے بلندی سے زمین کی طرف آنا شروع کردیا۔ لیڈر کا بیان ہے کہ اس موقع پر اُس نے محسوس کیا کسی نے ریڈیو کا بٹن پریس کیا مگر کسی بھی قسم کی آواز نہیں آئی۔ دس منٹ کے بعد لیڈر کو محسوس ہوا کہ اُس کا کمپس صحیح طرح کام نہیں کررہا اور وہ اپنے ٹارگٹ سے3-4 میل دُور جاچکاہے اس موقع پر لیڈر نے پھر اپنے پروں کو ہلایا، جس پر نمبر3دلاور حسین بالکل قریب آگیا اور ہاتھ کے اشارے سے دلاور حسین نے لیڈر کو 6 ڈگری کی تصحیح کروائی، جو بعد میں بالکل صحیح ثابت ہوئی۔ دلاور حسین کی اُس وقت کی تصحیح کی جتنی بھی تعریف کی جائے وہ کم ہوگی۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ ٹیم کا ہر ممبر بڑی اہمیت رکھتا ہے اور اُسے موقع پر اُبھرکر اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ اب تمام جہاز اپنے 'آئی پی' (IP) پسرور ایئر سٹرپ پر پہنچ چکے تھے اور اب انہیں فیصلہ کن وار کے لئے اپنے ٹارگٹ کی طرف بڑھنا تھا۔ لہٰذا لیڈر نے پروں کو ہلا کر نمبر 3 سے تصدیق چاہی کہ کیا ہم ٹارگٹ کی جانب صحیح سمت بڑھ رہے ہیں جس پر دلاور حسین نے ایک مرتبہ پھر دو ڈگری کی اچھی تصحیح کا کہا۔ اب لیڈر نے ٹارگٹ پر پہنچنے کے لئے کلاک کو پنچ کردیا اور صرف نوے سیکنڈ پہلے لیڈر نے حملہ کرنے کے لئے اپنے جہاز کو ابھارنا شروع کیا۔ اتنے میں لیڈر  نے ٹو'o'کلاک کے زاویے پر دو بھارتی لڑاکا طیاروں کو 4 میل کے فاصلے پردائیں سے بائیں جانب مڑتے دیکھا اور اس نازک موقع پر حقیقتاً اپنی سانس روک کر گڑ گڑا کر خدا سے دعا کی کہ خدایا ان بھارتی طیاروں کے ہوابازوں کی نظر ہم پر نہ پڑے تاکہ ہم کامیابی سے اپنا حملہ پورا کرسکیں اور لیڈرجان بوجھ کر خاموش رہا۔ خدا کا شکر کہ ہمارے اسکارٹ طیاروں کے ہوابازوں نے بھی کسی جلد بازی کا مظاہرہ نہیں کیا اور اپنے حواس پر قابو رکھتے ہوئے خاموش رہے، یہ بھارتی جہاز ہم سے پانچ ہزار فٹ زیادہ بلندی پراُڑ رہے تھے۔ ایسے لگ رہا تھا جیسے  یہ تمام قیمتی لمحات قبولیتِ دعا کے ہوں۔ اﷲ کا کرم  اور مائوں بہنوں کی دعائوں کاحصار ہم سب کے مسلسل تحفظ کا ضامن بنا ہوا تھا جس کا جس قدر بھی شکر ادا کیا جائے کم ہے۔میدانِ کار زار میں یہ تبدیلیاں اور سرگرمیاں بڑی برق رفتاری سے وقوع پذیر ہو رہی تھیں کہ اچانک لیڈر کی آواز گونجی '' ون منٹ ٹو اٹیک'' تاکہ سب فارمیشن ممبران سرعت و چابکدستی کے ساتھ اپنے آخری چیکس مکمل کرلیں۔ 30 سیکنڈ کے بعد لیڈر کی پھر آواز آئی''زینبوز ری چیک سرکٹ بریکرز ان گنز ہاٹ'' ٹھیک تیس سیکنڈ کے بعد لیڈر نے اپنے جہاز کو حملہ کرنے کے لئے ذرا اوپر کی طرف اٹھا کر نعرہ لگایا ''اﷲ ُ اکبر'' ٹو"O" کلاک 2میل لیڈر کو بائیں جانب پٹھانکوٹ ایئر فیلڈ صاف نظر آرہا تھا۔ لیڈر نے فوراً اندازہ لگایا کہ رن وے کے شمالی حصہ میں کئی مسٹیئرMusteres اورMIG21 2قریب قریب کھڑے ہوئے ہیں۔ اب لیڈر نے خوشی سے چلاتے ہوئے کہا کہ وہ دیکھو تمہارے سامنے بے شمار جہاز کھڑے ہوئے ہیں، انہیں فوراً نیست و نابود کردو۔ لیڈر نے فلائٹ لیفٹیننٹ مو سے کہا جو چارF-86طیاروں کی قیادت کر رہے تھے کہ وہ دائیں جانب سے دو حملے کرے گا تاکہ انتہائی قریب اُڑتے ہوئے جہازوں کے بیچ مناسب حفاظتی فاصلہ ہو اور خود لیڈر نے اتنے میں پہلےMIG21 کو تباہ کر دیا۔ دوسرے حملے کے بعد لیڈر نے کہا کہ یہ اُس کا آخری حملہ ہے اور فلائٹ لیفٹیننٹ مو سے کہا کہ اب وہ حملے شروع کردے۔ اس موقع پر ''مو'' نے کہا سر یہ انصاف نہیں ہے۔ آپ ہمیں آزاد چھوڑدیں اور حملے کرنے کے مواقع دیں مگر لیڈر نے ہنستے ہوئے تیسرا حملہ بھی کردیا اور کہا 'مو' تمہاری ٹیم کے لئے اب بھی کئی شکار موجود ہیں لہٰذا سب ممبران باری باری اپنا شوق پورا کرلیں۔ یہاں یہ بتانا بھی دلچسپی سے خالی نہ ہوگا کہ ہمارے جہاز 90 ڈگری کی قوس بنائے ہوئے،G,s3-4 کے ساتھ بڑے طوفانی انداز میں پے در پے حملے کرتے ہوئے، سب ایسے محسوس کررہے تھے جیسے جمرود رینج پر نشانے بازی کی پریکٹس کررہے ہوں، لیڈرجب صرف پچاس فٹ کی بلندی پر ایگزٹ (Exit)کررہا تھا تو اس کی نظر سامنے کھڑے ہوئے ٹرانسپورٹ جہازC-119 پر پڑی، مگر اس سے پہلے کہ وہ اِسے ہدف بناتا ونگ مین ارشدچوہدری کی آواز آئی،'Sir'  ٹرانسپورٹ طیارہ میری بھی ناک کے سامنے ہے مجھے اسے تباہ کرنے کا موقع دیاجائے لیڈر نے کہا اس قیمتی ٹارگٹ کو ہرگز مس نہ کرنا اور ساتھ ساتھ مجھ سے بھی مناسب فاصلہ رکھنا کیونکہ ہم دونوں بہت قریب اُڑ رہے ہیں۔ اگلے لمحے ونگ مین ارشد چوہدری نے ایسا تاک کر نشانہ مارا کہC-119 کے پرخچے اُڑ گئے۔ جب نمبر6 اپنے آخری حملے شروع کر چکا تھا تو لیڈر نے اعلان کیا کہ شاباش میرے جوانوں تم نے توقع کے مطابق کمال کردکھایا اور اب واپسی کے لئے اکٹھے ہونا شروع ہو جائو۔ اتنے میں اسکارٹ لیڈر ونگ کمانڈر توّ اب نے جو پندرہ ہزار فٹ کی بلندی پر پرواز بھی کررہا تھا جبکہ لیڈر نے اُسے 7000 فٹ پر اُڑنے کے لئے کہا تھا اور ساتھ ہی گردو نواح کے ماحول کا بھی باریکی سے جائزہ لے رہا تھا، تصدیق کی کہ لیڈرسُبحان اﷲ، تم نے اور تمہاری ٹیم نے مثالی حملے کئے، مجھے 14 مختلف مقامات پر شعلے بھڑکتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ اسکارٹ جہازوں کا 7000 فٹ کے بجائے 15000 فٹ پر اُڑنا ایک بڑی غلطی تھی لیکن خدا کا شکر کہ رب کی کریم و رحیم ذات نے پوری فارمیشن کو اُس کے بُرے اثرات سے محفوظ رکھا۔ پٹھانکوٹ بیس پر ہر طرف شعلے اور دھواں بھارتی طیاروں کے شمشان گھاٹ کا منظر پیش کررہے تھے۔ اس حال میں کہ نمبر8 اپنے دوسرے حملے سے فراغت حاصل کر رہا تھا، اینٹی ایئر کرافٹ توپیں پٹھانکوٹ' رن وے' پر شعلوں کی چھتری تانے ہوئے تھیں مگر پاک فضائیہ کے ہوا باز اپنے سرپر کفن باندھے جان ہتھیلی پرر کھے جہاد میں مشغول تھے کہ لیڈر نے سب سے فیول چیک کرنے کے لئے کہا اور ساتھ ہی حکم دیا کہ وہ زمین سے قریب ترین اُڑتے ہوئے اوراپنے جہازوں کو درختوں ، بجلی کے کھمبوں اور ہائی ٹیشن وائیرز سے بچاتے ہوئے 7-8 منٹ تک پر واز کرتے رہیں۔ یہاں تک کہ وہ بحفاظت پاکستان پہنچ گئے۔ صرف دو جہازوں کو اینٹی ایئر کرافٹ گنوں کے فائر سے معمولی خراشیں آئی تھیں۔ اکثر جہازوں کا فیول 1400 پونڈز کی حد تک کم ہو چکا تھا لہٰذا لیڈر نے پھر اعلان کیا کہ جس جس طیارے کا فیول1500 سے کم ہے وہ سرگودھا لینڈ کرے۔ جب ہوابازوں کی اس گفتگو کو ایئر ڈیفنس کمانڈ میں بیٹھے ہوئے، ایئر کموڈور مسرور حسین نے سنا تو اُن کی جان میں جان آئی اور انہوںنے ریڈیو پر آکر کہا 'ہمارے خیال کے مطابق 11 منٹ قبل تمہیں ریڈار سکوپ پر نظر آجانا چاہئے تھا  اس دوران ہمارے دل اُچھل کر حلق میں آپھنسے تھے۔ خدا کا شکر ہے کہ سجاد تمہاری آواز سنائی دی۔ بتائو سب خیریت ہے؟'  لیڈر نے مختصر سا جواب دیا ہاں تمام دس جہاز خیریت سے پاکستان کی حدود میں داخل ہوگئے ہیں لہٰذا سکیسر ریڈار سے رابطہ رکھتے ہوئے کم فیول والے طیارے سرگودھا اور باقی پشاور پر لینڈ کر گئے۔ لینڈ کرتے ہی لیڈر کو فوراً ایئر مارشل نورخان اور ایئر کموڈور اختر کی کال آگئی وہ بھی یہی گمان کررہے تھے کہ اتنی تاخیر ہوچکی ہے اور جہاز ریڈار سکوپ پر نظر نہیں آرہے شاید اُن کے ساتھ کوئی اندوہ ناک واقعہ پیش آچکا ہے۔ لیکن جب لیڈر نے بتایا کہ پٹھانکوٹ پر دشمن کے بے شمار جہاز مختلف جگہوں پر کھڑے ہوئے تھے، لہٰذا  مناسب نہ تھا کہ صرف ایک حملہ کرکے باقیوں کو چھوڑ کر واپس آجاتے لہٰذا ہم بار بار حملے کرتے رہے جب تک کہ آخری جہازکو بھی تباہ نہیں کردیاگیا۔ یہ سُن کر ایئر مارشل نور خان نے مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ '' میرے جری ہوا بازو' آج تم نے پاک فضائیہ کی تاریخ میں ایک درخشاں باب کا اضافہ کردیا ہے۔ ''
چالیس سال کے بعد بھارتی فضائیہ کے ایئر مارشل ایس رغوندراں جنہیں 65 کی جنگ میں پٹھانکوٹ پر ایک جی نیٹ سکواڈرن کو کمانڈ کرنے کا موقع ملا تھا، بیان کرتے ہیں کہ :''پاک فضائیہ کے کئی سیبر جہازوں نے اچانک پٹھانکوٹ پر حملہ شروع کردیا۔ طیارے آزادی کے ساتھ ہر طرف گولیاں برساتے پھر رہے تھے۔ بدحواسی کے عالم میں ہم نے قریب ترین خندق میں چھلانگ لگا دی لیکن ہم خندق میں بیٹھنے کا طریقہ بھول چکے تھے، پریشانی کے عالم میں جو بھی خندق میں چھلانگ لگاتاوہ وہاں پہلے سے موجودآدمی کے کندھے پر سوار ہوجاتا اور پھر بعد میں اُسےAdjust کیا جاتا۔ سیبرز ایسے آزادانہ حملے کررہے تھے جیسے کسی رینج پر پریکٹس کررہے ہوں۔ انہیں جہاںجو جہاز نظر آیا تباہ کردیا۔ اگرچہ اینٹی ایئر کرافٹ گنز شعلے اُگل رہی تھیں اور ہمیں ہر طرف سیبر ہی سیبر طیارے بھارتی جہازوں کا چن چُن کر شکارکرتے ہوئے نظر آرہے تھے۔'' اس حملے میں بھارتی فضائیہ کے 13 جہاز، جس میں 6 مسٹیئرز (Mysteres) 2MIg21  ایک جی ایٹ اور ایک ٹرانسپورٹ طیارہ C-119 شامل تھا مکمل تباہ کردیئے گئے۔ تین جہاز جنہیں ری فیول کیا جانا تھا کو بری طرح نقصان پہنچا کر ناکارہ بنادیاگیا۔ یعنی اس حملے نے بھارتی فضائیہ کی کمر توڑ کر رکھ دی اور اُن کے پائلٹس کے حوصلے بھی انتہائی پست کرد یئے۔ سکواڈرن19 کو چھ ستمبر کے دن دو اہم کامیابیاں نصیب ہوئیں جس کے لئے وہ گزشتہ تین ماہ سے مسلسل محنت کررہے تھے۔ اگر 6 ستمبر کو ہی باقی دشمن کے چار اہداف جن میں3 سینٹرل پنجاب اور ایک جنوب جام نگر والے حملے بھی کامیاب ہو جاتے تو ایئر مارشل اصغر خان کے جون پلان کے مطابق جس کے لئے ہواباز اور طیارے موجود تھے، دشمن کے مزید50-60 جہاز 6ستمبر کو ہی تباہ کردیئے جاتے لیکن جنگ کے دبائو کی وجہ سے اس بڑے مقصد کو حاصل نہ کیا جاسکا جس کے لئے ضرورت ہے کہ 1965 اور 1971 کی ہوائی جنگوں کا باریکی سے تجزیہ کیا جائے اور جنگ میں عملی طور پر حصہ لینے والے  ہوا بازوں کے علم وہنر اور تجربات سے فائدہ اٹھایا جائے۔
پشاور پہنچنے پر سٹیشن پر موجود آفیسرز، ایئر مین اور سویلینز نے والہانہ انداز میں تالیاں بجا کر اور نعرہ ہائے تحسین بلندکرتے ہوئے اپنے ہوابازوں کا شاندار طریقے سے استقبال کیا اور شکرانے کے نوافل ادا کئے۔ المختصر آٹھ میں سے سات ہوابازوں کا شوٹنگ ریکارڈ نہایت اعلیٰ اور مثالی رہا۔ جنگ کے بعد چھ ہوابازوں کو ستارئہ جرأت سے نوازا گیا جو سکواڈرن نمبر19 کے لئے بڑے اعزاز اور فخر کا مقام ہے ۔ ||


 

یہ تحریر 86مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP