قومی و بین الاقوامی ایشوز

پاک سعودی تعلقات۔ سعودی ولی عہد کے دورئہ پاکستان کے تناظر میں

 اسلام کے ابدی رشتے میں گُندھے پاک سعودی تعلقات تاریخ کے درخشاں موڑ پر آچکے ہیں۔تاریخ شاہد ہے کہ سعودی عرب اورپاکستان مشکل کی ہرگھڑی میں شانہ بشانہ نظرآئے ۔مذہب ،ثقافت ، سیاست، دفاع اوربزنس سمیت ہر اہم شعبے میں ہردوممالک دیرینہ تعلقات کے حامل ہیں۔پی ای ڈبلیو ریسرچ سنٹرکے مطابق پوری دنیا میں پاکستان وہ واحدملک ہے جس کے پچانوے فیصدشہری سعودی عرب سے لگائو رکھتے ہیں۔ جس کی ایک بڑی وجہ مکہ ومدینہ جیسے مقدس شہرہیں۔



 ١٩٧٩میں پاکستان نے اپنے شہرلائل پورکانام سعودی شاہ ،شاہ فیصل کے نام پر فیصل آبادرکھا۔١٩مارچ ١٩٥٧کومعرض وجودمیں آنے والے سب سے بڑے سویلین ایوارڈ کانام'' نشان پاکستان'' ہے ۔جوکہ اب تک صرف ٢٣ غیرملکی شخصیات کودیاگیاہے۔ یکم فروری ٢٠٠٦کوسعودی بادشاہ عبداللہ بن عبدالعزیزالسعود کو بھی نشانِ پاکستان کے اعزاز سے سرفراز کیاگیا ۔دوسری جانب دی ہیو اینڈہیو ناٹس (Haves and Have Nots)کی دنیا میں بین الاقوامی تعلقات ایک خاص پس منظررکھتے ہیں ۔مڈل ایسٹ کی بدلتی صورتحال ،شام کی ہوتی شام،قطروسعودیہ کی باہمی چپقلش،ترک چائنہ تعلقات میں موجودہ تنائو اورپاکستان وامریکہ تعلقات کے سردگرم رویےّ سعودی ولی عہد جناب محمد بن سلمان کے حالیہ دورے کے تناظرمیں بہت سے عکس لئے ہوئے ہیں۔ولی عہد کاعہدہ سنبھالنے کے بعد سعودی شہزادے محمدبن سلمان کا یہ پہلادورہ پاکستان ہے ۔
پہلے ہم پاک سعودی تعلقات پر ایک سرسری نظرڈالتے ہیں۔یوں توپاکستان کی تاریخ سعودی نوازشات سے بھری پڑی ہے لیکن  حالیہ دورے میں سعودی وزیرخارجہ کا یہ کہنا تھاکہ'' ہم پاکستان کو خیرات نہیں دے رہے بلکہ سرمایہ کاری کررہے ہیں،'' بہت اہمیت کاحامل ہے اور کیا اس سے خوبصورت سفارتی جملہ کوئی ہوگا؟جب سعودی ولی عہد نے حالیہ دورے کے دوران وزیراعظم پاکستان سے کہا :''وہ انہیں سعودی عرب میں پاکستان کا سفیر سمجھیں۔'' اس سے قبل نورخان ائیر بیس سے وزیراعظم پاکستان نے نہ صرف خود سعودی ولی عہد کوخوش آمدید کہا بلکہ ان کی کاربھی خود چلا کر گئے ۔یہ بھی ایک محبت واحترام سے مزین عمل تھاجسے ماہرین بہترین سفارت کاری بھی کہہ سکتے ہیں۔
پاکستان وسعودیہ یوں تو قیام پاکستان سے ہی ایک دوسرے کے حلیف تھے مگر ١٩٥٣ میں جب شاہ سعود دوسرے سعودی بادشاہ بنے تویہ تعلقات مزیدگہرے ہوتے گئے۔شاہ سعود ،سعودی تاریخ کے پہلے حکمران تھے جنہوں نے مغربی بیلٹ کوللکارا اور١٩٥٦ میں نہرسویز جنگ میں تیل کی فراہمی روک دی۔انیس سو ساٹھ میں فیلڈ مارشل ایوب خان کا دورہ کسی بھی پاکستانی حکمران کا پہلادورۂ سعودی عرب تھا جس میں ان کا پرتپاک استقبال کیاگیا۔ساٹھ کی دہائی کا دفاعی معاہدہ ایک اورپیشرفت تھی۔ دفاعی میدان میں پاکستان کے تعلقات ١٩٦٩ میں اس وقت مزید مضبوط ہوئے جب جنوبی یمن سے مداخلت پر پاکستانی پائلٹس نے سعودی ائیرکرافٹ سنبھال لئے۔١٩٧٣میںسعودی بادشاہ شاہ فیصل اورپاکستانی وزیراعظم ذوالفقارعلی بھٹومغربی بالادستی کے خلاف ایک اتحاد قائم کرتے نظرآتے ہیں۔عرب اسرائیل جنگ میں پاکستانی پائلٹس عربوں کے جہاز اڑانے شام بھی گئے۔١٩٧٤کی اسلامی سربراہی کانفرنس میں شاہ فیصل اوربھٹو کی قربت سپرپاورزکی آنکھ میں شہتیربنی رہی۔یہی وہ کانفرنس تھی جس میں فلسطین کی تنظیم پی ایل او کوفلسطین کی واحد نمائندہ تنظیم تسلیم کیاگیا اوربعدازاں اسی بنیادپر تمام اسلامی ممالک نے مل کراس تنظیم کو اقوام متحدہ کے مبصرکادرجہ بھی دلوایا ۔ اسّی کی دہائی میں ایف سولہ خریدنے کے لئے سعودیہ نے پاکستان کو پچاس کروڑ ڈالرزفراہم کئے۔ستّر سے اسّی کی دہائی میں کم وبیش پندرہ ہزار سپاہی جذبہ ایمانی کے سائے تلے سعودی عرب کے محافظ بنے رہے۔پاکستان آرڈیننس فیکٹری میں الخالد ٹینک کی تیاری میں بھی سعودی عرب نے پاکستان کی مدد کی۔٢٠١٠کے سیلاب زدگان کے لئے سعودی عرب نے پاکستان کو ڈیڑھ کروڑ ڈالرزکی امداددی۔
شہزادہ محمد بن سلمان کے دورے کے موقع پر پاکستان کی طرف سے انہیں سی پیک میں شمولیت کی دعوت دی گئی جس پر بعد ازاں چین نے مثبت ردعمل کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ وہ کسی بھی ملک کی سی پیک میں آمدکوخوش آمدیدکہتاہے۔آئل ریفائنری پر سعودیہ کی سرمایہ کاری سے گوادربندگاہ کی اہمیت دو چند ہوگئی ہے۔
وزیرِاعظم پاکستان نے سعودی شہزادے کو دیئے گئے عشایئے میںعمررسیدہ پاکستانی حاجیوں کے لئے امیگریشن کی سہولت کی درخواست مذہبی سرشاری سے کی کہ حاجیوں کو سہولت دینے سے اللہ راضی ہو گا جسے شہزادے نے فوری قبول کیا۔ پاکستانی شہریوں کی معمولی جرائم میں سعودی عرب میں قیدپر وزیرِاعظم نے گزارش کی تو سعودی ولی عہد نے ٢١٠٧قیدیوں کی رہائی کا پروانہ جاری کردیا۔ وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ میری خواہش تھی کہ ہمارے مہمان طویل دورہ کرتے اوردیکھتے کہ پاکستان کی گلیوں میں لاکھوں لوگ کیسے ان کا والہانہ استقبال کرتے لیکن افسوس کہ سکیورٹی خدشات کی وجہ سے ایساممکن نہیں ہوسکا۔انہوں نے اپنائیت کا اظہارکرتے ہوئے کہاکہ اگرسعودی شہزادہ ادھر الیکشن لڑیں تومجھ سے زیادہ ووٹ لیں گے۔
عشائیے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سعودی شہزادہ محمدبن سلمان نے کہا کہ پاکستان اورسعودی عرب برادراسلامی ملک ہیں۔ولی عہد بننے کے بعد میرا یہ مشرق کا پہلا دورہ ہے اور پہلاملک پاکستان ہے۔پاکستان اورسعودی عرب نے ہرمشکل اورسازگارحالات میں خم ٹھونک کرایک دوسرے کا ساتھ دیا۔ہم اس یارانے کو جاری رکھیں گے ۔پاکستانی قیادت کی تعریف کرتے ہوئے انہوںنے کہا کہ بہترین قیادت کے ساتھ پاکستان کا بہترین مستقبل ہو گا اور٢٠٣٠تک پاکستان٢٠ بڑی معاشی طاقتوں کی صف میں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ مستقبل میں پاکستان ایک اہم ملک بننے جا رہا ہے ہماری خواہش ہے کہ ہم بھی اس کا حصہ ہوں۔
ایوانِ صدر کی ایک پروقارتقریب میں سعودی ولی عہد کوپاک سعودی تعلقات کو استحکام بخشنے پرپاکستان کا سب سے بڑاسول اعزاز''نشانِ پاکستان'' دیاگیا۔شہزادہ محمد،یہ اعزازپانے والی چوبیس ویں شخصیت ہیں ۔
دفترخارجہ کے ترجمان نے اتوارکودوٹویٹ جاری کئے جن کے مطابق سعودی عرب نے ویزہ پالیسی میں نرمی کی ہے جس کا اطلاق پندرہ فروری سے ہوچکا ہے۔بعد ازاں عرب نیوز سے بات کرتے ہوئے پاکستانی صدر کا کہنا تھا کہ پاکستان مغرب سمیت دوسرے ممالک کے لئے چین کی طرف کھلنے والادروازہ ہے۔ ہنری کسنجربھی اسی راستے سے چین پہنچے ۔ان کاکہناتھاکہ معدنیات میں بلوچستان اورہنزہ میں بیش بہا مواقع موجود ہیں،جن میںسعودی عرب سرمایہ کاری کرے گا،اس کے ساتھ ساتھ مصنوعی انٹیلی جنس اورکمپیوٹنگ کے شعبے میں بھی ہم اشتراک سے کام کرسکتے ہیںکیونکہ آنے والے دنوں میں دنیاانہی شعبوں کے گردگھوم رہی ہوگی۔
پاکستان اورسعودی عرب نے مفاہمت کی سات یادداشتوںپردستخط کئے۔جن کی لاگت ٢٠ارب ڈالرہے۔وزارت خزانہ کے مطابق تجارتی معاہدوں کے علاوہ سعودی عرب رواں مالی سال میں گرانٹ اورقرض کی مدمیں کم وبیش ٨ارب روپے دے گا۔سعودیہ کی مصنوعات پاکستان میں درآمد کرنے کی یادداشت پر پاکستانی وزیر خزانہ اسدعمر اورسعودی وزیر خارجہ عادل الجبیرنے دستخط کئے۔سعودی وزیر توانائی خالدلفالح اور پاکستانی وزیر پڑولیم غلام سرورخان نے پاکستان میں ریفائنری پیٹروکیمیکل پلانٹ کے قیام کے لئے ہونے والے منصوبے کی مفاہمتی یادداشت پردستخط کئے۔ سٹینڈرڈائزیشن کے شعبے میں اشتراک کے لئے مفاہمت کی یادداشت پر پاکستانی وزیرِخارجہ شاہ محمود قریشی اورسعودی وزیرتجارت ڈاکٹرماجدالقاسمی نے دستخط کئے۔پاکستان میں ترقیاتی منصوبوں پر سعودی فنڈنگ کے معاہدے پر سعودی وزیرخارجہ عادل الجبیراور پاکستانی وزیر خزانہ نے دستخط کئے۔سعودی وزیر توانائی اورپاکستانی وزیر پٹرولیم نے معدنی وسائل میں تعاون کی مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط کئے۔ کھیلوں اورامورِنوجوان کے ڈیپارٹمنٹس میں اشتراک کی یادداشت پر سعودی وزیر خارجہ اورپاکستان کی طرف سے فہمیدہ مرزانے دستخط کئے۔ وزیراعظم سے ملاقات کے دوران دونوں ممالک نے افغانستان کے پرامن حل،کشمیر سمیت خطے کے باقی مسائل کا پرامن حل نکالنے کی ضرورت پر زور دیا اور دنیامیں مسلمانوں کے خلاف ظلم وزیادتی پر تشویش کا اظہار کیا۔ سعودیہ نے کرتارپور راہداری کے کھولنے کا خیرمقدم بھی کیا۔آرمی چیف پاک سعودی مشاورتی عمل میں بھی شریک رہے۔ پاکستان اورسعودیہ کے مابین سٹریٹجک تعلقات میں ان کااہم کردارہے وہ اگست ٢٠١٨میں اپنے پیشہ ورانہ دورے پر شہزادہ محمدبن سلمان  سے ملے تھے۔
سعودی عرب پاکستان میں بجلی کے نظام کی ترقی کے لئے ایک ارب،بیس کروڑ، پچھترلاکھ ریال فراہم کرے گا۔کل رقم میں سے دیامربھاشاڈیم کے لئے٣٧کروڑ پچاس لاکھ سعودی ریال،مہمندڈیم کی تعمیروترقی کے لئے تیس کروڑریال،جاگران ہائیڈروپاورپراجیکٹ کے لئے تیرہ کروڑ بارہ لاکھ ڈالر، جامشورو پاورپراجیکٹ کے لئے پندرہ کروڑسینتیس لاکھ ریال اورشونترمنصوبے کی تعمیر کے لئے سعودی عرب چوبیس کروڑپچھترلاکھ ریال پاکستان حکومت کو مختلف مراحل میں فراہم کرے گا۔اسی طرح اگرہم گوادر میں سعودی سرمایہ کاری کی آئوٹ پٹ دیکھیں تو ایک تخمینے کے مطابق گوادرآئل ریفائنری سے روزانہ کی بنیادپر دو سے تین لاکھ بیرل تیل فراہم ہوگا۔گوادرآئل ریفائنری پرکتنی لاگت آتی ہے۔ ابھی اس کاتخمینہ لگناباقی ہے جو کہ پاکستان حکومت جلدازجلد فزیبلٹی رپورٹ تیارکرواکرسعودی حکومت کو فراہم کردے گی۔
ویزہ پالیسی میں نرمی،پاکستان میں امیگریشن کا عمل مکمل کرانے کی جانب اہم قدم، ٢١٠٧ پاکستانی قیدی رہا کرنے کاسعودی فیصلہ یقینی طورپر دوطرفہ تعلقات میں ایک اہم موڑ ہے ۔اس کے ساتھ ساتھ پاکستانی حکام کو ایک قدم آگے بڑھ کرسعودی حکومت سے سری لنکاکی طرز کا معاہدہ کرناہوگا۔       سری لنکانے سعودی عرب میں اپنے پانچ لاکھ ورکرز کی حفاظت کے لئے نہ صرف سعودی عرب سے باقاعدہ معاہدہ کیاہے بلکہ شکایات وتجاویز کے لئے ایک ہاٹ لائن بھی بنادی ہے جس پر متاثرہ ورکرسعودی عرب میں اپنے مسائل سے سری لنکن حکومت کوآگاہ کرسکتاہے۔وہ وقت دورنہیں جب ہردوممالک دنیاکے بہترین دوست شمارکئے جائیں گے۔
پیرکے روزناشتے کے بعد سعودی ولی عہد نے صدرپاکستان اورآرمی چیف جنرل قمرجاویدباجوہ سے ملاقات کی۔ملاقات کے دوران باہمی دفاعی معاملات، خطے کی سکیورٹی اورافغان امن عمل پرگفتگوہوئی ۔ بعد ازاں وزیراعظم خود گاڑی چلاتے ہوئے شہزادے کو نورخان ائیربیس تک الوداع کہنے آئے۔ وفاقی کابینہ کے ارکان اورپاکستان کے آرمی چیف بھی ہمراہ تھے۔
سعودی ولی عہد کا حالیہ دورہ جہاں ایک مضبوط پاک سعودی تعلقات کی عکاسی کرتا ہے وہاں مستقبل کی راہیں متعین کرتا ہوا بھی دکھائی دیتا ہے کہ جدید دَور کے تقاضوں اور مستقبل  کے چیلنجز کو مدِ نظر رکھتے ہوئے قوموں کے ساتھ تعلقات کو استوار کرکے ہی آگے بڑھا جاسکتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ  زندگی کے مختلف شعبہ جات میں مفاہمت کی جن یادداشتوں پر دستخط کئے گئے ہیں وہ پاکستان اور سعودی عرب دونوں ممالک کے ان عزائم کی نشاندہی بھی کرتے ہیں جن کو لے کر یہ دونوں ممالک نہ صرف خود کو بین الاقوامی سطح پر ایک منظم اور مضبوط قوم کے طور پردیکھنا چاہتے ہیں بلکہ باہمی تعلقات کو بھی مزید استحکام اور دوام بخشنے کے بھی خواہاں ہیں۔ 


مضمون نگار لاھور سے شائع ہونے والے ایک قومی اخبار کے ساتھ وابستہ ہیں۔
 [email protected]

یہ تحریر 170مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP