انٹرویو

پاک بھارت روائتی جنگ ایٹمی جنگ میں نہ بدلے، اس کی ضمانت نہیں دی جا سکتی

پاک و ہند کی موجودہ صورتحال اور علاقائی و بین الاقوامی معاملات پر ڈاکٹر حسن عسکری رضوی سے بات چیت

س:  ڈاکٹر صاحب آپ اس وقت جیو سٹریٹجک معاملات کو کیسے دیکھ رہے ہیں ؟ آپ کے خیال میں پاکستان کو کیا چیلنجز درپیش ہیں اور ان سے کیسے نمٹا جائے؟
ج: پاکستان کے ایکسٹرنل چیلنجز میں تو سب سے بڑا چیلنج انڈیا کا ہے جو انتہائی نازک مراحل سے گزر رہا ہے اس کے علاوہ افغانستان کا اندرونی خلفشار اورخارجہ پالیسی کا بھی ہے۔ ایک چیلنج یہ بھی ہے کہ دنیا کی جو دیگرطاقتیں ہیں ان سے کس طرح کاتعلق رکھا جائے اور ان سب سے بڑھ کر چیلنج یہ ہے کہ اس وقت پاکستان کی معیشت کی جو صورتِ حال ہے ، قرضے بہت زیادہ ہیں، قرضوں کی واپسی کا مسئلہ ہے، اس کے لئے ہم باہر سے امداد لیتے ہیں۔ پاکستانی باہر سے پیسہ بھیجتے ہیں تو فارن ایکسچینج دستیاب ہوتا ہے۔ آپ کی معیشت جب تک اندرونی وسائل پر نہیں کھڑی ہوتی تو آپ کی فارن پالیسی کے آپشنز بہت حد تک کم ہو جاتے ہیں۔ 



س: ہندوستان اور پاکستان کے بیچ اعلانیہ تو نہیں لیکن غیر اعلانیہ جنگ ہوئی بارڈرز کے دوسری جانب سے ہماری سرحدی حدود کی خلاف ورزی کرنے پر پاکستان نے ہندوستان کے دو طیاروں کو مار گرایا اس کے بعد ابھی نندن کو خیر سگالی کے طور پر واپس کیا گیا آپ ہندوستان کے آنے والے الیکشن کے تناظر میں اس صورتِ حال کو کیسے دیکھتے ہیں کیا یہ مودی کی الیکشن مہم کا حصہ ہے ؟ 
ج: اس میں دو طرح کے عوامل ہیں ایک تو immediate  factor  ہے جس کا آپ نے ذکر کر دیا کہ وہ الیکشن میں ultra nationalism card   کھیلنا چاہتا ہے۔ انہوں نے پلوامہ کا فائدہ اٹھایا کہ اس طرح ان کو خاص طور پر شمال اور مرکزی علاقوں میں ہندو اکثریتی آبادی والی ریاستوں میں کافی ووٹ مل جائیں گے۔ انھوں نے اپنی انتخابی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے اپنی سکیورٹی فورسز کو داؤ پر لگایا ہے۔ pro govt elements  کا انتہا پسندانہ رویہ ہمیں ہندوستان کے اندر بھی نظر آتا ہے۔ اور اسی انتہا پسند انہ رویے کی وجہ سے اس نے پاکستان سے ایک ایسی جنگ شروع کی ہے جس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ 
س: کیا ایک اعلانیہ بڑی جنگ کے بادل ابھی منڈلا رہے ہیں یا آپ سمجھتے ہیں کہ اتنی جگ ہنسائی کے بعد مودی سرکار اب ایک بڑی جنگ کا خطرہ مول نہیں لے سکتی؟
ج: جنگی خطرہ جس کو ہم escalation کہتے ہیں وہ escalation  تو ایک پوائنٹ پر آ کر رک گیا ہے۔ لیکن ابھی تک ہمارے پاس کوئی ایسا ثبوت نہیں ہے جس کی بناء پر ہم یہ کہہ سکیں کہ یہ خطرہ کم ہو رہا ہے اور ہم نارمل ریلیشن شپ کی طرف جا رہے ہیں یا عنقریب چلے جائیں گے۔ کیونکہ ہندوستان کی فورسز فل الرٹ حالت میں موجود ہیں۔ موبیلائزیشن بھی موجود ہے پھر مودی اور وہاں کے فارن منسٹر کے بیانات بھی دیکھیں اور ان کے نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر کی باتوں پر غور کریں تو ہمیں صاف پتہ چلتا ہے کہ معاملہ ایک پوائنٹ پر رک تو گیا ہے لیکن خطرہ ابھی موجود ہے۔ 
س: فرض کیجئے کہ ہندوستان کی جارحانہ پالیسی کے نتیجے میں ہمیں بڑی جنگ میں کودنا پڑتا ہے تو پھر دونوں ممالک اس بات کی ضمانت کس حد تک دے سکتے ہیں کہ نیو کلیئر ہتھیار استعمال نہیں ہوں گے ؟
ج: روائتی جنگ ایٹمی جنگ میں نہیں بدلے گی اس کی ضمانت کسی کی طرف سے نہیں دی جا سکتی۔ نہ ہندوستان کی طرف سے دی جا سکتی ہے نہ پاکستان کی طرف سے۔ کیونکہ اس سلسلے میں دونوں ممالک نے کوئی کمٹمنٹ نہیں کی ہے۔۔ ویسے پاکستان جب اپنی سکیورٹی اورstrategic balanceکی بات کرتا  ہے تو پاکستان ایک نیوکلیئر اور سکیورٹی کنونیشنل سسٹم کو اکٹھا دیکھتا ہے۔ ہندوستان کو روائتی سکیورٹی میں پاکستان پر advantage ہے۔ ان کی آرمی تینوں سروسز نمبر کے حساب سے بھی بڑی ہیںاور ائیر فورس ، آرمی، نیوی، کا سازوسامان بھی زیادہ ہے۔ لیکن جب نیوکلیئر ویپن استعمال ہو جائیں تو پھر یہ فرق کمپرومائز  ہو جاتا ہے۔ کیونکہ پاکستان کی فوج کی تربیت ہی ایسے کی جاتی ہے کہ ان میں کمٹمنٹ ہمت و جرأت بہت بلند ہوتی ہے ان کو پہلے دن سے یہ بات سکھائی جاتی ہے۔ پھر آپ یہ بھی دیکھیں کہ پاکستانی فوج گزشتہ کئی برسوں سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کر رہی ہے نارتھ وزیرستان میں تو باقاعدہ ایک پوری جنگ ہوئی ۔ نیوی کو چھوڑ کر ہم نے پوری جنگ لڑی تو اس لئے بھی پاکستان کی ملٹری کا سپورٹ سسٹم موبیلائزڈ ہے۔ہمیں ایک طویل عرصے سے صورتِ حال پر قابو پانے کا تجربہ ہے ۔ وہ بھی آپ کو ایڈوانٹیج دیتا ہے۔ پاکستان کی battled hardened army ہے۔ 
س: ہم کئی سالوں سے بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں کیا اسی تجربے نے ہمیں حالیہ کشیدگی میں ہندوستان پر برتری دلائی ہے؟
ج: پہلی واضح وجہ تو یہی ہے۔ ان کے سکیورٹی ایکسپرٹ طویل عرصے سے یہ گفتگو کرتے تھے کہ پاکستان کے ساتھ ایک جنگ ہونی چاہئے پاکستان کو ایک بار سزا دینی چاہئے، سبق سکھانا چاہئے ۔ اس طریقے سے کہ وہ پوری جنگ نہ بنے مکمل وار کی طرف نہ جایا جائے تو اس کے لئے انہوں نے بڑے نسخے آزمائے  ہیں۔ لمیٹڈ وار ہو گی، سرجیکل اسٹرائیک ہو گی، کولڈ اسٹارٹ ہو گا ، میزائل اٹیک ہو گا۔ انڈیا میں سکیورٹی کا جو لٹریچر چھپتا ہے یہ سب چیزیں وہاں مل جاتی ہیں۔ تو ان کا یہ خیال تھا کہ اتنا تیز ہم ایکشن لیں گے کہ پاکستان فوری رسپانس نہیں دے سکے گا۔اس کو رسپانڈ کرنے کے لئے زیادہ وقت کی ضرورت ہو گی۔ اپنی صلاحیت کو زیادہ سمجھنے اور دشمن کی صلاحیت کو اپنے سے کم سمجھنے سے بھی ہندوستان کو زیادہ نقصان ہوا ۔ 
س: ڈاکٹر صاحب اس صورتِ حال میں آپ نے دیگر ممالک امریکہ، چائنا ،سعودی عرب، ایران اور افغانستان کے ردعمل کو کیسا پایا؟ 
ج: اگر ہندوستان اور پاکستان میں کشیدگی کی صورتِ حال ہو توآپ یہی توقع کرتے ہیں کہ یہ ممالک دونوں ملکوں کے بیچ امن قائم کرنے کی کوشش کریں گے۔ امریکہ، روس اور چین کی بھی بنیادی خواہش ہے کہ ان دو ملکوں کے بیچ روائتی جنگ نہ ہو۔ کیونکہ روائتی جنگ میں یہ خطرہ رہتا ہے کہ یہ ایٹمی جنگ  نہ بن جائے۔ کیونکہ ایٹمی جنگ صرف ہندوستان پاکستان تک محدود نہیں رہے گی بلکہ اس کے اثرات دوسرے علاقوں تک بھی جائیں گے۔ بین الاقوامی کمیونٹی کا پہلا رول فائر فائیٹر کا ہے کہ یہ جو آگ لگ رہی ہے اس آگ کو بجھاؤ۔ اس کے بعد ممالک کی اپنی اپنی پالیسیز ہوتی ہیں۔ 
س: کیا ان مما لک نے آگ بجھانے کا کردار ادا کیا؟ 
ج: میرے خیال میں امریکہ نے کردار ادا کیا اب اس کا اثر و رسوخ ہندوستان میں بڑھ گیا ہے۔ روس کا کردار اس لئے اہم رہا کہ روس اور اس سے پہلے سوویت یونین انڈیا کے قریب سمجھے جاتے تھے۔ تو روس کی ساؤتھ ایشیا کی پالیسی میں پہلی ترجیح انڈیا ہے پاکستان نہیں ہے لیکن انھوں نے بھی ایک غیر جانبدار کردار اداکیا ۔ چین سے ان کے تعلقات اقتصادی سطح پر ہیں۔ لیکن وہ جانتے ہیں کہ چین پاکستان کا دوست ہے تو اس کا بھی رول رہا۔ سعودی عرب نے بھی مثبت کردار ادا کیا۔ ابھی تو کردار یہی ہے کہ معاملات ٹھیک ہو جائیں لیکن اگر معاملات بگڑتے ہیں تو پھر آپ دیکھئے گا کہ بہت سے ممالک پاکستان کا ساتھ دیں گے۔ چین کے بارے میں آپ کو بالکل شک نہیں ہونا چاہئے  اگر خدانخواستہ جنگ شروع ہو جاتی ہے تو چین پاکستان کا ساتھ دے گا۔ 
س: ایران سے تعلقات کیسے دیکھتے ہیں آپ ؟ 
ج: اگر فتنہ و فساد بڑھے گا تو ایران پاکستان کی سائیڈ پر ہو گا۔ وہ پاکستان کی مخالفت میں انڈیا کے ساتھ کھڑے نہیں ہوں گے۔ 
س: امریکہ سے طالبان مذاکرات اور افغانستان سے نیٹو افواج کے انخلا کا کیا مستقبل دیکھتے ہیں ؟ کیا اس طرح ہندوستان کا اثر و رسوخ افغانستان میں کم ہونے اور پاکستان کے مستحکم ہونے کے چانسز بڑھ نہیں جاتے؟ کیا پاکستان اس کو بطور ہتھیاربھی استعمال کر سکتا ہے؟
ج: دیکھئے یہ ایک حقیقت ہے ایکٹو رول پلے کر کے پاکستان نے ہندوستان کے ہاتھ باندھنے کی کوشش کی ہے۔ امریکہ کی خواہش تو ہے کہ فیس سیونگ کر کے فوجیں افغانستان سے باہر لے جائے۔ اور یہ خواہش پاکستان کے تعاون کے بغیر پوری نہیں ہو گی۔ ہندوستان کو یہ بھی پرابلم ہے کہ سی پیک مکمل ہونے کے بعد پاکستان کی اکانومی کو بوسٹ ملے گا۔ اگر افغانستان میں افغان طالبان اوردوسرے گروپس کی نمائندگی سے اتحادی حکومت وجود میں آتی ہے تو وہاں ہندوستان کو وہ رسائی حاصل نہیں ہو گی جو کابل حکومت کے ساتھ اب ہے۔ اس طرح انڈیا کا رول پش بیک ہو جائے گا۔ سعودیہ سے امداد آئی ہے اور یو اے ای سے بھی مدد ملی ہے یہ رحجانات اگر چلتے ہیں تو پاکستان کے حالات کے بہتر ہونے کے واضح امکانات ہیں۔ 
س: اسلحہ بیچنے کے خواہش مند جنگ کی آگ پر پانی ڈالیں گے یا اس کو مزید بھڑکائیں گے؟
ج: اسلحہ بیچنے والوں کی خواہش تو ہوتی ہے کہ وہ ہندوستان کو بھی اسلحہ بیچیں اور پاکستان کو بھی لیکن وہ یہ جنگ اس لئے نہیں بڑھانا چاہیں گے کیونکہ دونوں کے پاس ایٹمی ہتھیار ہیں۔ اگر ایٹمی ہتھیار نہ ہوتے تو شائد ان کو اتنی پریشانی نہ ہوتی کیونکہ ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال اس جنگ کو باہر لے کر جائے گا اور اس میں پاکستان کے پاس ہر قسم کے نیو کلیئر ویپن ہیں یعنی تھیٹر آف وار کے جنہیں ہم منی ایچر ویپنز کہتے ہیں وہاں سے شروع کر کے بڑے ہتھیاروں تک ۔۔ ڈلیوری سسٹم دونوں کے پاس موجود ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ نیو کلیئر ریاستیں عملی طور پر جنگ کی طرف جا رہی ہیں۔ 
س: ہندوستان کے ونگ کمانڈر ابھی نندن کو اگلے ہی روز واپس کر دیا گیا اس سے ایک امن کا خواہاں پاکستان تو نظر آتا ہے لیکن ہندوستان نے اگلی ہی رات بارڈر پر گولہ باری کی؟ 
ج: پائلٹ کی واپسی سے عالمی سطح پر یہی باور کرانا تھا کہ پاکستان کا مقصد معاملات کو بڑھانا نہیں ٹھنڈا کرنا ہے۔ فائدہ آپ کو فوری طور پر نہیں مل سکتا ڈپلومیسی ایک طویل المیعاد قسم کا کام ہے ہندوستان سے جو معاملات چل رہے ہیں یہ آخری جنگ نہیں ہے جنگ نہ بھی ہو تو آپ کے تنازعات چلتے رہیں گے ایک لانگ ٹرم اننگز کھیلنے کے لئے آپ کے لئے لازم ہوتا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر آپ کے لئے سپورٹ موجود ہو۔ بین الاقوامی سپورٹ کے بغیر جنگیں نہیں جیتی جاتیں۔ 
س: بہرحال پاکستان نے perception کی جنگ جیت لی ہندوستان میں بھی وزیراعظم کی تقریر کو سراہا گیا۔ تو عمران خان صاحب کی خارجہ پالیسی کامیاب نظر آتی ہے آپ کو؟
ج: اس وقت خارجہ پالیسی مؤثر رہی ۔  ہماری حکومت نے اور وزیراعظم نے اس کرائسس کو بہتر طریقے سے کنٹرول کیا۔ وزیراعظم کے بیانات بھی محتاط رہے ۔ وہاں بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو معاملات کو ٹھنڈا کرنا چاہتے ہیں۔  
س۔ اس دوران اسرائیل کا کیا کردار رہا ؟ کہا گیا کہ اسرائیل نے ہندوستان کی مدد کی ؟
ج: ہندوستان اسرائیل سے اسلحہ خریدتا ہے۔ اسرائیل چھوٹا ملک ہے لیکن ٹیکنالوجی میں بہت آگے ہے۔ کشمیر میں ہندوستان کی فورسز جو ظلم و ستم کر رہی ہیں ان کی ٹریننگ میں بھی اسرائیل کا عمل دخل ہے۔ ان کا بھی الیکشن سیکیور کرنے کا معاملہ تھا غزہ پر اٹیک بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ اسرائیلی ووٹ influence  کرنے کے لئے ایسا کیا گیا۔آئندہ ہونے والی کسی بھی جنگ میں اسرائیل کی مدد انڈیا کے ساتھ ہو گی اور ہمیں اس پر غور و فکر کی ضرورت ہے۔
س: گزشتہ بیس برس کے منظر نامے میں پاکستان نے اپنے دوست زیادہ بنائے ہیں یا دشمن؟
ج: پاکستان کو سفارتی چیلنجز رہے ہیں۔ پچھلی حکومتوں نے ان سوالوں کو ایڈریس نہیں کیا جو بین الاقوامی سطح پر اٹھائے گئے۔دہشت گرد تنظیموںکی موجودگی کے الزامات بھی لگتے رہے۔ اس وجہ سے پاکستان کو ایک سیریس امیج پرابلم رہی ہے۔  یہ بحران پاکستان نے سفارتی محاذ پر بہت اچھا ہینڈل کیا ہے۔ امیج بحال ہوا ہے پاکستان کو کام کرنا پڑے گا ۔ ڈپلومیسی پر زور دینا ہو گا۔ اقتصادیات کو بہتر کریں تا کہ وقت کے ساتھ ساتھ قرضوں پر آپ کا دارومدار کم سے کم ہو۔ ابھی کالعدم تنظیموں کے خلاف جو اقدامات ہوئے ہیں بین الاقوامی کمیونٹی ان کی تعریف کر رہی ہے کیونکہ وہ یہی چاہتے تھے۔ حکومت کو ان معاملات کو حل کرنے میں بڑی یکسوئی کی ضرورت ہے۔ ماضی میں ان پالیسیز میں تسلسل نہیں رہا۔ 
س: پاکستان کی معاشی صورتحال کو استحکام کی جانب کیسے لے جایا جا سکتا ہے؟
ج: اس ایک سال میں ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ کس حد تک ہم اپنی اکانومی کو درست کر سکتے ہیں۔ ریوینیو کی کولیکشن کو بہتر کر سکتے ہیں۔ہماری معیشت، ٹیکسٹائل اور ایگریکلچر بیسڈ ہے۔ حکومت مذہبی سیاحت کی ترویج کر رہی ہے جیسا کہ کرتار پور بارڈر ہے۔ اس کے علاوہ آپ کے ہاں بدھ ازم کے بہت سے تاریخی مقامات  ہیں ۔  ٹیکسلا اور پشاور میوزیم میں آپ کو بدھا کے اصل مجسمے ملتے ہیں۔ جو جاپان، سری لنکا ، کوریا اور تھائی لینڈ کے سیاحوں کے لئے کشش کا باعث ہیں۔ 
مجھے اُمید ہے کہ اگر ہم ایک وژن اور یکسوئی سے کام کرنے میں کامیاب ہو گئے، تو پاکستان کا مستقبل شاندار ہے۔ 

یہ تحریر 395مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP