قومی و بین الاقوامی ایشوز

پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کا کام آخری مراحل میں داخل

پاک فوج کے جوانوں نے 809  کلو میٹر میں سے  635 کلو میٹر تک سرحدی علاقہ محفوظ بنا دیا
اس بات سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ میں جہاں ہزاروں بے گناہ پاکستانیوں نے شہادت کا درجہ پایا وہیں سکیورٹی فورسز نے ناقابل فرامو ش قربانیاں دے کر خود کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے امر کر دیا اور اس فہرست میں افواج پاکستان سر فہرست ہیں۔سرحدوں کی حفاظت پر مامور پاکستانی فوج کے افسروں اور جوانوںنے دیگر سکیورٹی اداروں کے شانہ بشانہ دہشت گردی کا جواں مردی سے مقابلہ کیا ۔گزشتہ پندرہ برس سے دہشت گردی کے خلاف جنگ اگرچہ ختم ہو گئی ہے لیکن سرحد پار سے خطرات    ا بھی بھی نہیں ٹلے۔ اگر ماضی پر ایک نظر دوڑائی جائے تو زیادہ تر دہشت گرد یا تو سرحد پار سے آئے اور یا پھر فوجی آپریشنز کے بعد سرحد پار چلے گئے ۔اسی طرح پاک افغان تعلقات اپنی جگہ لیکن دونوں ملکوں کے درمیان ایک طویل سرحد کی وجہ سے بھی امن و امان کی صورت حال سوال طلب رہتی ہے۔ اس صورت حال کو تشویش ناک قرار دیتے ہوئے دونوں ملکوں کے درمیان سرحد پر باڑ لگانے کافیصلہ کیا گیا۔ پاک فوج نے بارڈرپر ایک ہزار 16پوسٹیں قائم کر کے کوشش کی کہ دہشت گردوں پر نظر رکھی جا سکے اور دوسری جانب افغانستان کی جانب سے صرف 208چیک پوسٹیں بنائی گئیں اس سے یہ اندازہ بھی لگایا جا سکتا ہے کہ افغانستان کی حکومت قیام امن کے حوالے سے کتنی سنجیدہ ہے۔



خیبرپختونخوا کے ساتھ متصل افغان سرحد کی طوالت 1229کلومیٹر ہے۔ اگر تفصیل سے جائزہ لیا جائے تو سب سے طویل سرحد چتر ال کے ساتھ لگتی ہے' اس کی لمبائی 493کلومیٹر ہے جس میں سے پھر 471کلومیٹر سرحد انتہائی بلندی پرواقع اور گلیشیائی علاقوں سے گزرتی ہے۔ دیر پائیں سے متصل پاک افغان سرحد کی طوالت انتالیس'باجوڑ کے سا تھ سرحد کی لمبائی پچاس'مہمند کے ساتھ 69'خیبر کے ساتھ 111کلومیٹر'کرم کے ساتھ 191کلومیٹر'شمالی وزیر ستان کے ساتھ 183جبکہ جنوبی وزیر ستا ن کے ساتھ 94 کلومیٹر سرحد متصل ہے۔ ا س تمام سرحد کی حفاظت پاک فوج کی الیون کور کے ذمے ہے جس کے جوان جانوں کے نذرانے پیش کرکے دہشت گردوں کے وار اپنے جسموں پرروک کر ہمیں محفوظ رکھے ہوئے ہیں' پاک افغان سرحد پر روسی حملے  سے پہلے تک امن وامان کی صورتحال بہترین ہوا کرتی تھی۔ یہ پرامن ترین سرحد تصور کی جاتی تھی'تاہم 2001ء میں نائن الیون کے بعد امریکی حملے نے افغانستان میں جو آگ دہکائی اس کے شعلوں نے جلد ہی پاک افغان سرحد پر واقع قبائلی علاقہ جات کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
اس وقت 809 کلو میٹر علاقے میں باڑ لگانے کا فیصلہ کیا گیا۔اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ باقی ماندہ سرحد دشوار گزار ترین علاقہ ہے جہاں باڑ لگانا ممکن نہیں اسی طرح بعض علاقے اس قدر اونچائی پر واقع ہیں جہاں باڑ کی ضرورت نہیں۔یوں اب تک 635 کلو میٹر باڑ مکمل کر لی گئی ہے جبکہ 173 کلومیٹر باقی ہے جہاں باڑ لگائی جائے گی۔یوں اس طویل سرحد پر باڑ لگانے کا 78.5 فیصد کام مکمل ہو گیا ہے ۔دلچسپ امر یہ ہے کہ صرف فینسنگ ہی نہیں کی جا رہی بلکہ قلعہ نما پوسٹیں بھی بنائی جا رہی ہیں۔ان پوسٹو ں کی کل تعداد 443 ہے ان میں سے221 پوسٹوں کی تعمیر کا کام مکمل ہو گیا ہے جبکہ 222 پوسٹوں کی تعمیرجاری ہے۔ان میں 35 پوسٹیں مالاکنڈ میں بنائی جا رہی ہیں۔ضلع باجوڑ میں54 ، ضلع مہمند میں 58 ، خیبر میں 93 ،کرم میں 109 ،شمالی وزیر ستان میں 64 اور جنوبی وزیر ستان میں 30 پوسٹیں تعمیر کی جائیں گی۔



 اگر کہا جائے کہ پاک فوج نے دہشت گردی کو جڑ سے تقریباً اکھاڑ پھینکا ہے تو یہ غلط نہیں ہو گا ۔ماضی میں قبائلی علاقوں میں جانا مشکل ہی نہیں ناممکن ہوا کرتا تھا اور انہیں نو گو ایریا زکہا جاتا تھا ۔یہ سارا علاقہ لگ بھگ47 ہزار مربع کلو میٹرہے۔دہشت گردی کے خاتمے کے بعد جہاں دہشت گردوں کو علاقہ چھوڑنے پر مجبور کر دیا گیا ہے وہیں مقامی افراد کا اعتماد نہ صرف قائم ہوا بلکہ پہلے سے زیادہ اس میں بہتری آئی ہے۔ماضی میں مقامی افراد دہشت گردوں کے خلاف ایک جملہ نہیں بول سکتے تھے لیکن اب انہیں اپنی ذمہ داری کا بھرپور احساس ہوا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اب نہ صرف حکومت اور سیکورٹی ادارے بلکہ ساری عوام ایک پیج پر ہے۔اسی تناظرمیں اگر دیکھا جائے تو ملک کی تاریخ میں پہلی بار جہاں قبائلی علاقے خیبر پختون خوا کا حصہ بنے وہیں قبائلی نمائندوں کو صوبائی اسمبلی کی نمائندگی کا گراں قدر اعزاز بھی حاصل ہوا اور چند ماہ قبل ہونے والے صوبائی اسمبلی کے انتخابات جس خوش اسلوبی کے ساتھ منعقد ہوئے اس کا سہرا بھی سکیورٹی فورسز کے سر ہے۔
حکومت اور عسکری قیادت کی جانب سے قبائلی علاقوں میں جہاں امن و امان کا قیام ممکن بنایا گیا وہیں مستقبل کے لئے ایک ایسا لائحہ عمل بھی ترتیب دیا گیا جس کے نتیجے میں دیرپاامن قائم ہو گا اور اس کا آغاز بارڈرمینجمنٹ سے کیا گیا۔سرحدوں کی حفاظت صرف فوج یا سکیورٹی اہل کاروں کی تعیناتی سے ہی ممکن نہیں بلکہ اس کے لئے مربوط لائحہ عمل ترتیب دینا لازم ہوتا ہے چنانچہ ایک طرف فوج  سرحدوں کی حفاظت کرتی ہے تو دوسری جانب علاقے کی جغرافیائی صورتحال کے پیش نظر یہاں باڑ لگانے کا کام بھی جاری ہے۔جس طرح کہ پہلے ذکر ہوا ا س سلسلے میں خاصا کام مکمل کر لیا گیا ہے اور 2020 تک باڑ لگانے کا کام مکمل کر لیا جائے گا۔ اس اقدام سے جہاں سرحد پار سے آنے والوں کی حوصلہ شکنی ہو گی وہیں ان کا پاکستان میں داخلہ صرف قانونی طور پرممکن ہو سکے گا۔ذرائع کے مطابق روزانہ15 سے20 ہزار افراد کی آمدورفت ہوا کرتی تھی۔پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے بھی بین الاقوامی سرحد پار کرنے کے لئے دستاویزات نہ ہونے کا نوٹس لیا تھا جبکہ یہ تاثر بھی تھا کہ سرحد کی حفاظت کے لئے اتنی بڑی تعداد میں فورس بھی تعینات نہیں کی جا سکتی لہٰذا ایک طرف لوگوں کی آمدورفت کو منظم بنا نا مقصود تھا تو دوسری طرف جدید ترین ٹرمینل بنا کران کی آمدورفت کو آسان بنانا تھا۔کُل سولہ ٹرمینل بنانے کا منصوبہ ہے جن میںسے تین ٹرمینل بن چکے ہیں۔طورخم بارڈر پر بننے والا ٹرمینل بلاشبہ جدید ترین سہولتوں سے مزین ہے۔
اگر باڑ لگانے کے کام کا ایک جائزہ لیا جائے تو حیران کن طور پر چونکہ سرحد ہموار نہیں بلکہ بلند و بالا پہاڑی سلسلوں میں واقع ہے اور ایک مقام پر ضلع دیر کے قریب اس کی سطح سمندر سے بلندی13 ہزار فٹ اور دوسرے مقام کی بلندی 10 ہزار 460 فٹ ہے اس سے یہ اندازہ لگانا قطعی مشکل نہیں کہ سکیورٹی فورسز کس طرح سے یہ مشکل کام سر انجام دے رہی ہیں۔مقامی رہائشی بھی پاکستان آرمی کی جانب سے سرحد پر باڑ لگانے کے اقدام کو وقت کا اہم تقاضا قرار دیتے ہیں۔ایک مقامی باشندے سمیع اللہ کا کہنا ہے کہ درحقیقت یہ کام قیام پاکستان کے بعد سے شروع کر دینا چاہئے تھا تاکہ کم از کم مغربی سرحدوں کو محفوظ بنایا جا سکتا لیکن سیاسی عمائدین نے اس اہم مسئلے کی جانب توجہ ہی نہیں دی اور اس کا خمیازہ ہمیں دہشت گردی کی لہر کے نتیجے میں بھگتنا پڑا۔اب جبکہ باڑ لگانے کا کافی کام مکمل ہو گیا ہے تو اس سے نہ صرف غیر قانونی طور پر سرحد پار کرنے کا عمل رک جائے گا بلکہ سرحد پار سے لوگ باقاعدہ دستاویزات کے ساتھ پاکستان آ سکیںگے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک اور اہم مسئلہ سمگلنگ کا ہے جس پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ سمیع اللہ نے اس تاثر کو بھی درست قرار نہیں دیا کہ باڑ لگانے سے مقامی باشندوں کو سرحد پار جانے میں مشکلات پیش آئیں گی ان کا کہنا تھا کہ جدید ٹرمینل بننے سے امپورٹ ایکسپورٹ کے لئے بھی تمام قانونی تقاضے پورے ہوں گے جس سے ملک کی معیشت کو فائدہ ہو گا۔ایک اور مقامی رہائشی عارف آفریدی کا کہنا تھا کہ انہوں نے باڑ لگانے کے کام کا خود بھی جائزہ لیا ہے کہ یہ ایک انتہائی مشکل کام ہے لیکن آفرین ہے کہ پاکستان آرمی کے جوان جوش و جذبے کے ساتھ خدمات انجام دے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بلند و بالا پہاڑوں پر بھی باڑ لگائی جا رہی ہے جہاں سرد موسم میں برف باری سے نہ صرف باڑ چھپ جاتی ہے بلکہ جو چوکیاں اور قلعے بنائے گئے ہیں وہ بھی برف سے ڈھک جاتے ہیں لیکن اس کے باوجود پاک فوج کے جوان جانفشانی سے اپنی ڈیوٹی انجام دینے میں کوئی کسر نہیںاٹھا رکھتے۔اس کے علاوہ جو مقامی مزدور اس باڑ لگانے کے عمل میں اپناکردار ادا کر رہے ہیں وہ یقیناً لائقِ تحسین ہیں۔ بلاشبہ ہماری فورسز مبارکباد کی مستحق ہیں اور اس کاعملی اظہار ان علاقوں میں عوام کی جانب سے دیکھا جا سکتا ہے۔
گویا قبائلی علاقوں میں تعمیر و ترقی کا سلسلہ جاری ہے۔ سکول بن رہے ہیں، سڑکیں تعمیر ہو چکی ہیں، اسپتالوں کی حالت بہتر بنائی گئی ہے،امن و امان کی صورت حال بہتر ہو گئی ہے، نو گو ایریاز ختم ہو گئے ہیں، عام لوگ اپنی معمول کی زندگی کی جانب لوٹ رہے ہیں ایسے میں سرحد پر باڑ لگا کر دہشت گردوں کے ملک میں داخلے کو روکنے کی کوشش بھی آخری مراحل میں ہے جس کے بعد توقع کی جا سکتی ہے کہ ان علاقوں میں ملک بلکہ بیرون ملک سے بھی سیاح بڑی تعداد میں آئیں گے اور ان علاقوں کی ترقی و خوش حالی کا ایک نیا دور شروع ہو گا۔


 

یہ تحریر 153مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP