قومی و بین الاقوامی ایشوز

پاک افغان بارڈر پرباڑ لگانے کی اہمیت اور افادیت

افغان امور کے ماہر ، ممتاز صحافی اور تجزیہ نگارعقیل یوسف زئی کی تحریر  

پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کا عمل تیزی کے ساتھ جاری ہے اور سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ آئندہ تین چار مہینے میں مکمل ہوجائے گا۔ ذرائع کے مطابق اس منصوبے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان کراس بارڈر ٹیررازم، غیرقانونی نقل و حرکت اور منشیات کی سمگلنگ کا راستہ روکناہے۔ اس منصوبے کی تجویز سابق صدر پرویز مشرف نے 6-2005 کے دوران اس وقت پیش کی تھی جب افغان حکومت نے امریکہ سے شکایت کی کہ پاکستان کے بعض انتہاپسند گروپ افغانستان میں داخل ہو کر دہشت گردی کرتے ہیں۔ جو اب میں جنرل مشرف نے بھی شکایت کی کہ یہی عناصر بعض دیگرکے ساتھ مل کر سرحد کی طوالت کا فائدہ اٹھا کر پاکستان پر حملہ کرتے ہیں۔ اس لئے بہتر یہ ہے کہ ان کی نقل وحرکت کو روکنے کے لئے بارڈر کو محفوظ بنایا جائے۔ سال 2007 کے دوران ایساف، افغانستان اور پاکستان کے متعلقہ حکام کے دوران ایک جوائنٹ پراجیکٹ پر ملاقاتیں بھی ہوئیں مگر بعد میں ایساف اور افغانستان اس منصوبے پر راضی نہ ہو سکے اور پاکستان کو کئی برسوںبعد خود بارڈر فینسنگ کا آغاز کرنا پڑا جس پر بعض رکاوٹوں کے باوجود مسلسل کام جاری رہا۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان 2611 کلومیٹر پر مشتمل پیچیدہ اور ناقابلِ رسائی بین الاقوامی بارڈر موجود ہے جس کوماضی میں'' ڈیورنڈ لائن،، کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ کچھ حلقوں کی جانب سے شکوک و شبہات کے باوجود سرحدی معاملات کے ماہرین اس پر متفق ہیں کہ برطانوی اور افغان سرحد کی حد بندی پر فریقین میں گندمک، ڈیورنڈلائن اور اینگلو افغان ایگریمنٹ کے ناموں سے تین معاہدے موجود ہیں اور ویانا کنونشن کے آرٹیکل62 کے مطابق 1947 کی آزادی کے بعد سابقہ معاہدے برقرار ہیں۔ لہٰذا افغانستان پاکستان سرحد کو بین الاقوامی حیثیت سے ماننا اور مؤثر بنانے سے ہی امن ممکن ہے۔ ہر طرح کی ماضی کی بحث سے قطع نظر آج کی حقیقت یہی ہے کہ پاکستان اور افغانستان کی حد بندی اور سرحدیں سب کو معلوم ہیں اور حکومتِ پاکستان نے سکیورٹی چیلنجز کے تناظر میں27 اپریل2017 کو اس سرحد کو محفوظ بنانے کے لئے اس پر باڑ لگانے کا آغاز کیا جس پر 530 ملین ڈالرز کی لاگت آئی اور اب کہا جارہا ہے کہ70 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔
یادرہے کہ صوبہ بلوچستان میں بعض مقامات پر خندقیں کھودنے جبکہ خیبر پختونخوا بشمول سابقہ فاٹا کی سرحد پر 9 سے11 فٹ تک اُونچی خاردار تار لگا ئے جانے کا فیصلہ کیا تھا۔علاوہ ازیں تقریباً221 مقامات پر چوکیاں بھی قائم کی گئی ہیں جو کہ بارڈر مینجمنٹ کو فعال بنانے کی دیگر سہولیات سے لیس ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ یہ تعداد 443 چوکیوں یا قلعوں تک بڑھائی جائے گی۔ جہاں ڈرون اور سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے بارڈر کی نگرانی  اور مانیٹرنگ کی جارہی ہے یا کی جائے گی۔


طورخم کے بعد غلام خان، انگوراڈہ، چمن اور نواں پاس کے کراسنگ پوائنٹس کو بھی جدید سہولیات سے آراستہ کیا جارہا ہے تاکہ قانونی طور پر دوطرفہ آمد و رفت کو یقینی بنایاجائے اور ایک جدید نظام کے ذریعے آمد و رفت کے ساتھ تجارتی سرگرمیوں کوبھی بڑھایا جاسکے۔


ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے اس ضمن میں15 دسمبر2018 کو ایک بیان میں اس منصوبے کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ دسمبر2019 تک مکمل ہو جائے گا۔ ان کے بقول اس اقدام سے نہ صرف پاکستان اور افغانستان کے درمیان غیر قانونی نقل و حرکت کم یاختم ہوگی بلکہ  اس سے حملہ آوروں کی دو طرفہ نقل و حرکت اور حملوں کی شرح میں بھی کمی واقع ہوگی۔ کمانڈر پشاورکور شاہین مظہر نے چند ہفتے قبل صحافیوں کے ساتھ ایک سیشن میں بتایا کہ وہ اس منصوبے کی خود نگرانی کررہے ہیں اور اس کے بہتر نتائج اور اثرات سامنے آرہے ہیں۔ ان کے بقول پاکستان نے افغان حکومت کو کئی بار پیش کش کی کہ پاکستان ان کے لئے بھی بعض مقامات پر چوکیاں بنا سکتا ہے تاکہ اس بارڈر پر ٹیررازم کا راستہ روکا جاسکے۔ ان کے مطابق ماضی کے مقابلے میں اس پیش رفت کے باعث سرحد پار دہشت گردی کے واقعات میں خاطرخواہ کمی آئی ہے اور اس سے دونوں ممالک کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔
دوسری طرف آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے26 ستمبر2019 کو میران شاہ کے اپنے دورے کے دوران عمائدین سے خطاب میں کہا کہ اس صف بندی سے دونوں ممالک کے سرحدی علاقے مزید محفوظ ہوں گے اور تعلقات میں بھی اس سے بہتری آئے گی۔سکیورٹی حکام کے مطابق جنوری 2019  تک980 کلومیٹر پر باڑ لگائی گئی تھی۔ ان کے مطابق باڑ لگانے کے کام کو ڈیورنڈ لائن کے تنازعے سے جوڑنے کا کوئی جواز نہیں ہے اور ایسا کرنا نہ صرف پاکستان کا قانونی حق ہے بلکہ اس عمل کو امریکہ اور ایساف کی حمایت اور اعتماد بھی حاصل ہے کیونکہ ماضی کے تجربات کی روشنی میں اس پیچیدہ اور خطرناک سرحد کو محفوظ بنانا علاقائی امن کے لئے ناگزیر ہے۔ حکام کے مطابق اس منصوبے کے تحت200 سے زائد کراسنگ پوائنٹس بنائے گئے ہیں جن کے ذریعے قانونی آمد و رفت کو یقینی بنایا جارہا ہے۔ دوسری طرف حساس اداروں کے مطابق سال2016 کے بعد اب تک باڑ لگانے والی ٹیموں پر افغانستان کی جانب سے 41 بار حملے کئے گئے جس کے نتیجے میں75 سکیورٹی اہلکار نشانہ بنے تاہم اس کام کو جاری رکھا گیا۔  ان کے بقول حملے شمالی وزیرستان، مہمند اور باجوڑ کی سرحد پر کرائے گئے۔ جبکہ گروپوں کی شکل میں دہشت گردوں نے ان علاقوں کو اس عرصے کے دوران 36 بار حملوں کا نشانہ بنایا جس کے دوران عام آبادی اور شہریوں پر حملے کئے گئے۔ باڑ لگانے سے ان حملوں اور واقعات میں خاطر خواہ کمی آئی ہے جب کہ افغانستان کی شکایت بھی کم ہوئی ہے۔
فاٹا (سابقہ) کے سابق سیکرٹری اور تجزیہ کار بریگیڈیر(ر) محمود شاہ نے اس ضمن میں بتایا کہ پاک ،افغان سرحد ایک مسلمہ حقیقت ہے اور یہ ایک انٹرنیشنل بارڈر ہے۔ ان کے بقول ویانا کنونشن کے مطابق یہ ایک انٹرنیشنل بارڈر ہے جبکہ 1950ہائوس آف کامن آف دی یونائیٹڈ کنگ ڈم بھی اس کو عالمی سرحد تسلیم کرنے کا اعلان کرچکی ہے۔ ان کے مطابق سابق افغان صدر سردار دائود خان نے اگست1976 کے اپنے دورۂ پاکستان کے دوران بھی ڈیورنڈ لائن کو انٹر نیشنل  بارڈر تسلیم کرلیاتھا۔ ایسے میں بعض افغان اور قوم پرست حلقوں کی ایک غیر ضروری  اور غیر منطقی بحث کی کوئی اہمیت نہیں رہتی۔ ان کے مطابق باڑ لگانے اور دیگر حفاظتی اقدامات سے کراس بارڈر ٹیررازم کے علاوہ اسمگلنگ اور منشیات کی سپلائی کا مسئلہ بھی حل ہوگا اور اس سے افغانستان کو بہت فائدہ ہوگا۔ ان کے مطابق اگر نائن الیون کے بعد یہ سرحد محفوظ ہوتی تو ہزاروں دہشت گرد پاکستان میں داخل نہ ہوتے اور ہم لاتعداد حملوں اور نقصانات سے بچ جاتے۔
سکیورٹی اور حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ طورخم کے بعد غلام خان، انگوراڈہ، چمن اور نواں پاس کے کراسنگ پوائنٹس کو بھی جدید سہولیات سے آراستہ کیا جارہا ہے تاکہ قانونی طور پر دوطرفہ آمد و رفت کو یقینی بنایاجائے اور ایک جدید نظام کے ذریعے آمد و رفت کے ساتھ تجارتی سرگرمیوں کوبھی بڑھایا جاسکے۔ ایسے میں کوشش کی جارہی ہے کہ باڑ لگانے کے عمل کو جلد مکمل کرکے دونوں ممالک کے عوام اور فورسز کو محفوظ بنا کر اس علاقے کو مثالی سرحد بنایا جاسکے۔


  [email protected]
 

یہ تحریر 96مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP