قومی و بین الاقوامی ایشوز

پاک افغان بارڈرمینجمنٹ اوربارودی سرنگوں کے خلاف جاری مہم

قبائلی اضلاع میں فورسز اور خود قبائلی باشندوں کی قربانیوں کے بعدقیام امن کاخواب شرمندہ تعبیرہوچکاہے۔ اس وقت بارڈر مینجمنٹ کاعمل جاری ہے 'جس کے ذریعے سرحدی علاقوں کو محفوظ بنایاجارہاہے۔ فورسز کے جوانوں نے انتہائی نامساعدحالات میں اس عظیم اوراہم ترین منصوبے پر کام کرکے دنیابھر کو حیران کردیاہے۔یہی وجہ ہے کہ عسکری قیادت بھی جوانوں کی حوصلہ افزائی کے لئے ہمہ وقت اورہر قسم کے موسم میں ان علاقوں کادورہ کرتی ہے۔
گزشتہ دنوں چیف آ ف آ رمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے شدید برف باری کے باوجودان اگلے مورچوں کادورہ کرکے جوانوں کی ہمت بندھائی۔ انہوں نے موسم کی شدت کامقابلہ کرنے پر جوانوں کے حوصلے کی تعریف کرتے ہوئے واضح کیاکہ ان کی قربانیاں کسی صورت رائیگا ں نہیں جائیں گی۔ قیادت کاان حالات میں علاقے کے مسلسل دوروں سے جہاں جوانوں کو حوصلہ ملتاہے 'وہاں مقامی آبادی کو بھی تحفظ کااحساس ہوتاہے کیونکہ آرمی چیف کادورہ صرف جوانوں سے ملاقاتوں تک محدود نہیں رہتابلکہ کوشش کی جاتی ہے کہ مقامی عمائدین کے ساتھ بھی نشستیں منعقد کی جائیں جس کے مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔


فوج کی طرف سے باقاعدہ مہم بھی چلائی گئی ہے بلکہ اب بھی جاری ہے جس کے ذریعے لوگوں میں اس حوالے سے شعور بیدار کیاجارہاہے۔خطرناک علاقوں کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔ بہت سے علاقوں کو خاردار تاروں کے ذریعے بند کیاگیاہے۔



اس وقت اگر دیکھاجائے تو قبائلی اضلاع میں تعمیر وترقی کانیا سفر شروع ہوچکا ہے۔ عشروں کے غلامانہ اورسامراجی نظام سے چھٹکارا ملنے کے بعد اب قبائلی نوجوانوں میں نئی امنگیں جنم لینے لگی ہیں۔وہ بھی خودکو اپنے علاقوں میں باقی ملک کے شہریوں کے برابر سمجھنے لگے ہیں کیونکہ ان کو بھی آئین کے تحت تمام بنیادی انسانی وسیاسی حقوق مل گئے ہیں۔
 جب روسی یلغار کے بعد افغان جنگ شروع ہوئی تو اس کے مضر اثرات نے قبائلی علاقوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ روس تو افغانستان سے چلا گیا مگر اس علاقے کو بارود کاڈھیر بناگیا۔ چنانچہ خطرناک اسلحے کی بہتات نے مسائل بڑھانا شروع کردیئے۔ کلاشنکوف کے بعد جو سب سے مہلک ہتھیا ر عام ہوا،وہ بارودی سرنگیں تھیں۔ اگرچہ ان کا ذخیرہ شمالی و جنوبی وزیرستان میں سب سے زیادہ تھا مگر ان کاسب سے پہلے اور سب سے زیادہ استعمال باجوڑ میں ہوتارہا جس کی وجہ سے بڑی تعداد میں جانی نقصان ہونے کے ساتھ ساتھ عام لوگ زندگی بھر کے لئے معذور بھی ہوتے چلے گئے۔اگر یہ کہاجائے کہ جنگ کی تباہ کاریوں میں سب سے خطرناک کردار بارود ی سرنگیں اداکرتی ہیں تو کسی بھی طور غلط نہ ہوگا۔ یہ خاموش قاتل ہوتی ہیں خاص طورپر جب وسیع علاقے میں بچھا دی جائیں تو پھر وہ علاقہ ناقابل رہائش بن کررہ جاتاہے کیونکہ بارودی سرنگوں کی وجہ سے وہ علاقہ ایسے مقتل میں تبدیل ہوجاتاہے جہاں قدم قدم پرموت چھپی ہوتی ہے اور کسی کو نظر بھی نہیں آتی۔ بارودی سرنگیں بچھانا جس قدر آسان ہے، ان کو ختم کرنا یا نکالنا اسی قدر مشکل کام ہے۔ جس پر تربیت یافتہ افراد ی قوت کے ساتھ ساتھ خرچہ بھی بہت آتاہے  اور وقت بھی لگتاہے۔
نائن الیون کے بعد جب قبائلی علاقہ جات میں بدامنی کی لہر شروع ہوئی تو اس نے رفتہ رفتہ دہشت گردی کی صورت اختیار کرلی۔ صورت حال جب بہت سنگین ہوئی تو ریاست حرکت میں آئی اور جنوبی وزیرستا ن میں آپریشن راہ نجات کے ذریعے کارروائی کاآغازکردیاگیا۔ جب عسکریت پسند وں کو یقین ہوگیاکہ اب پسپائی کے علاوہ کوئی چارۂ کار نہیں توانہوں نے جاتے جاتے وسیع علاقے میں بارودی سرنگیں بچھا دیں۔ عسکریت پسندوں نے قبائلی علاقوں میں اس مکروہ عمل کے ذریعے سیکڑوں مربع کلومیٹرعلاقے کو قتل گاہ میں تبدیل کردیا۔صرف وزیرستان ہی نہیں باجوڑ ،مہمند ،خیبر ،اورکزئی اور کرم میں بھی اس گھنائونے عمل کے ذریعے ہزاروں لوگوں کی زندگیاں دائو پر لگا دیں 'چنانچہ قبائلی علاقوں میں فوجی کارروائیوں کی کامیابی کے بعدسب سے اہم کام ان بارودی سرنگوں کی صفائی کارہاہے کیونکہ ان سے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کاخطرہ ہر وقت منڈلاتارہتاہے۔ان علاقوں میں بارودی سرنگوں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ اب تک فوج کی طرف سے مسلسل صفائی مہم کے دوران بائیس ہزار بارودی سرنگوں کی صفائی کی جاچکی ہے' جن میں بہت سی اڑائی گئیں جبکہ بہت سی ناکارہ بنائی گئی ہیں مگر اب بھی صفائی کی یہ مہم جاری ہے۔ 
 اس وقت تمام قبائلی اضلاع میں100سے زیاد ہ ٹیمیں اس مہم میں مصروف ہیں جبکہ دو ٹیمیں دیر پائیں میں اپنا کام احسن طریقے سے ختم کر چکی ہیں۔اس وقت 35 ٹیمیں جنوبی وزیرستان میں مصروف عمل ہیںاور شمالی وزیرستان میں13 ٹیمیں کام کررہی ہیں۔ مہمند میں 7، کُرم اور خیبرکے اضلا ع میں سات سات اورکزئی میں5 جبکہ باجوڑ میں3ٹیمیں ان خاموش قاتلوں کی تلاش میں تندہی کے ساتھ کام کررہی ہیں۔ پاک فو ج کی مسلسل کوششوں سے بائیس ہزار بارودی سرنگوں کی صفائی کے ساتھ سیکڑوں مربع کلومیٹر علاقے کو محفوظ بنایاجاچکاہے۔ اس سلسلے میں فوج کی طرف سے باقاعدہ مہم بھی چلائی گئی ہے بلکہ اب بھی جاری ہے جس کے ذریعے لوگوں میں اس حوالے سے شعور بیدار کیاجارہاہے۔خطرناک علاقوں کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔ بہت سے علاقوں کو خاردار تاروں کے ذریعے بند کیاگیاہے۔ سکولوں،مارکیٹوں١ور گھروں تک میں اس حوالے سے بیداری مہم چلائی گئی ہے۔ بچوں اورخواتین کی بھی تربیت کی جارہی ہے جس کی وجہ سے بہت سے حادثات روکنے میں کامیابی بھی ملی ہے کیونکہ جونہی کو ئی مشکو ک چیز نظر آتی ہے تو فورسز کو اطلاع کردی جاتی ہے جو پورے علاقے کو گھیرے میں لے کر مہارت کے ساتھ بارودی سرنگ کو ناکارہ کردیتی ہیں۔ 
قبائلی اضلاع میں قیام امن کے ساتھ ہی پاکستان نے مستقبل میں پیش بندی کے طورپر بارڈرمینجمنٹ کے منصوبے پربھی عملدر آمد شروع کردیا تھا۔ کچھ عرصہ قبل جب پاکستان نے پاک افغان بارڈر کومحفوظ کرنے اور دراندازی روکنے کے لئے بارڈر مینجمنٹ کی طرف قدم بڑھایا تو افغانستان کی طرف سے بھرپور مخالفت کی گئی مگر پاکستان نے مخالفت کی پروانہ کرتے ہوئے کام جاری رکھا ۔کم و بیش اڑھائی ہزار کلومیٹر طویل پاک افغان بارڈر عشروں سے مینجمنٹ سے محروم رہا ہے اور یہی وجہ تھی کہ اکثر اوقات اسے ایک لکیر سے زیادہ کی حیثیت نہیں دی گئی' جس کی وجہ سے پھر قباحتیں بھی بڑھتی گئیں۔ ایک اندازے کے مطابق پاک افغان سرحد سے روزانہ 15 سے 20 ہزار افراد بلا روک ٹوک گزرتے تھے ۔ایک بھیڑ لگی ہوتی تھی یہ احساس ہی نہیں ہوا کرتا تھا کہ اس مقام سے بین الاقوامی سرحد عبور کی جارہی ہے۔ صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اس امر سے لگا یا جاسکتا ہے کہ عدالت عظمیٰ تک نے اس حوالے سے تشویش کا اظہار کیا ۔اسی دوران پاک فوج نے ایک تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے فیصلہ کیا کہ! اب یہ غیر قانونی آمدورفت بند ہونی چاہئے۔ چنانچہ بارڈر مینجمنٹ کے حوالے سے منصوبہ بندی ہونے لگی۔ نیشنل ایکشن پلان اور آپریشن ضرب عضب کے تناظر میں اس بارڈر مینجمنٹ کی اشد ضرورت بھی محسوس کی جارہی تھی' اس حوالے سے پاک فوج اور حکومت پاکستان نے یکطرفہ کارروائی سے گریز ہی کیا چنانچہ افغان حکومت کے ساتھ بات چیت شروع کی گئی اور پھر بارڈر مینجمنٹ پر کام شروع ہو گیا۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ سال رواں کے دوران پاکستان کی جانب سے افغانستان کے ساتھ سرحد پر نگرانی کے لئے باڑ کی تنصیب پر کام تیزی سے جاری ہے ۔چترال سے شمالی وزیرستان تک کے پاک افغان سرحدپربارڈر مینجمنٹ پر دس ارب روپے لاگت کاتخمینہ لگایاگیاہے۔ اس مقصد کے لئے کم وبیش چارسو گاڑیاں ٹرانسپورٹیشن کے لئے استعمال کی جارہی ہیں جبکہ ا س کے لئے اکوڑہ خٹک میں مرکز بنایاگیاہے۔ تاہم یہ خرچہ دیگر ممالک میں سرحدوں پر باڑ لگانے کے خرچے سے کئی گنا کم ہے۔
پورے منصوبے پر سات ہزار گھنٹے کام ہوگا تو تب کہیں پایہ تکمیل کو پہنچے گا۔ چترال سے شمالی وزیرستان تک منصوبے کوچود ہ یونٹوں میں تقسیم کیاگیاہے جس پر روزانہ کی بنیادپر 14ہزار افرادکام کررہے ہیں۔یہ باڑ اور قلعے پانچ ہزار فٹ بلندی سے لے کر 7ہزار فٹ کی بلندی تک پہاڑوں پر بنائے جارہے ہیں۔ کچھ ایسے علاقے بھی ہیں جہاں تین ماہ تک برف پڑی رہتی ہے، ایک انچ بھی ایسا علاقہ نہیں چھوڑا جائے گا جہاں سے غیر قانونی طریقے سے آمدورفت ہو سکے ۔ 7کراسنگ پوائنٹ مکمل طورپر بند کر دیئے گئے ہیں' باڑ کی تعمیر میں مقامی لوگوں کی خدمات لی گئی ہیں اور باڑ لگانے میں پاکستان فوج کو مقامی قبائل کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ باڑ لگانے کے ساتھ ساتھ تین منزلہ ٹاور بنائے جائیںگے جن میں تمام جدید آلات نصب ہوںگے۔ سی سی ٹی وی کیمرے بھی لگائے جائیں گے جس کے ذریعے رات کے وقت بھی سرحد کی نگرانی کی جائے گی۔ سرحد کی نگرانی کے لئے کنٹرول روم بھی بنایا گیا ہے، جہاں سے پورے نظام کو کنٹرول کیا جائے گا۔ اس وقت پاکستان افغانستان کے درمیان آمدورفت کے 16 باضابطہ راستے موجود ہیں۔ اس کے علاوہ سیکڑوں کی تعداد میں ایسے پوائنٹ بھی موجود ہیں جس کے ذریعے لوگ بغیر کاغذات کے آتے جاتے رہتے ہیں۔ اس وقت صرف طور خم اور چمن پر بائیو میٹرک کا نظام لگایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ غلام خان اور کرم ایجنسی میں خرلاچی بارڈر کراسنگ کوبھی باضابطہ نظام کے تحت لایا جائے گا ۔ پاک افغان سرحد کو کسی قاعدے اور ضابطے کے تحت لاکر اسے باقاعدہ انٹری پوائنٹ کی صورت دینا ' پاکستان ہی نہیں' افغانستان کے حق میں بھی بہتر ہے ۔



بارڈر مینجمنٹ کے بعد جب روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں لوگوں کی آمد کا سلسلہ رکے گا اور سمگلنگ کے رجحان کی حوصلہ شکنی بھی ہو گی تو اس کے خوشگوار اثرات مقامی منڈیوں پر بھی مرتب ہوںگے اورضرورت کی اشیاء یقینا سستی ہوں گی' جن کا فائدہ عام آدمی کو ہی پہنچے گا۔ ویسے یہ امر بھی خوش آئند ہے کہ بارڈر مینجمنٹ کے معاملے پر آج قوم اور سیاسی و عسکری قیادت ایک ہی صف میں کھڑے دکھائی دیتے ہیں'جس کی وجہ سے امید رکھی جانی چاہئے کہ اب یہ عمل ہر صورت مکمل ہو کر رہے گا' جس سے سرحد پار آمدورفت کنٹرول ہونے کی صورت میں دونوں ملکوں کے لئے مسائل کم ہوتے چلے جائیں گے۔
پاک فو ج ایک طرف بارڈرمینجمنٹ کے ذریعے وطن عزیز اور خاص طورقبائلی اضلاع کو بیرونی دشمنوں سے جبکہ دوسری طرف بارودی سرنگوں کے خلاف جاری مہم کے ذریعے اندرونی پوشیدہ قاتلوں سے بھی مقامی آبادی کو محفوظ رکھنے کی کوششیں بھرپورطریقے سے جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان علاقوں کے لوگوں نے جو محرومیاں اورجوپسماندگی دیکھی ہے اس کے تناظر میں ان علاقوں میں مزید اورتیزرفتاراقدامات کی ضرورت ہے ۔

یہ تحریر 70مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP