پاکستانیات

پاکستان :  خطۂِ خاک یا ارضِ پاک؟

یہ خواب اقبال نے دیکھا تھاکہ اسلامیانِ ہند کی مجوزہ آزاد اور خودمختار مملکت میں اسلام کو عرب شہنشاہیت کی زنجیروں اور فقہاء کی ازکار رفتہ نازک خیالیوں سے آزاد کرا لیا جائے گا، دُنیائے اسلام کا انجماد ٹوٹے گا اور یوں اسلام کی حرکی اور انقلابی روح بیدار اور سرگرمِ کار ہو سکے گی۔ ہم نے گزشتہ تقریباً  نصف صدی کے دوران عرب ملوکیت کی چھاپ سے اسلام کو پاک کرنے کے بجائے اس چھاپ کو اور زیادہ گہرا کر دیا ہے۔ نتیجہ یہ کہ نہ تو ہم حقیقی اسلام کی بازیافت کر پائے ہیں اور نہ ہی اسلام کے قانون، تعلیم اور کلچر کو تحریک دے کر اسلام کی حقیقی روح کو روحِ عصر سے ہم آہنگ کر پائے ہیں۔ ہماری اس غفلت کا نتیجہ یہ ہے کہ آج وطنِ عزیز مذہبی جنون اور فرقہ وارانہ تشدد کی گرفت میں پڑا سسک رہا ہے۔ اسلام کے بجائے مُلّائیت سے پھوٹنے والے اس جنون اور تشدد کا علاج فکرِ اقبال میں موجود ہے۔ مگر المیہ یہ ہے کہ ہماری قومی زندگی میں گزشتہ نصف صدی فکرِ اقبال سے انحراف کا زمانہ ہے۔ یہ اس انحراف اور انکار ہی کا شاخسانہ ہے کہ آج ہم واپس اُسی مقام پر کھڑے نظر آتے ہیں جہاں علامہ اقبال اور قائداعظم سن سینتیس کے انتخابات میں آل انڈیا مسلم لیگ کی عبرت ناک شکست پر غور و فکر میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔
آل انڈیا مسلم لیگ کی شکست کے اسباب پر روشنی ڈالتے وقت علامہ اقبال نے جہاں خود مسلم لیگ کو قصور وار ٹھہرایا ہے وہاں مسلم عوام کو مسلم لیگ سے لاتعلقی پر حق بجانب بھی قرار دیا ہے۔ ٢٨مئی ١٩٣٧ء کے خط میں اقبال نے قائداعظم کو یہ مشورہ دیا تھا کہ وہ مسلم لیگ کو فقط امراء اور رؤساء کی نمائندہ تنظیم نہ رہنے دیں بلکہ اسے حقیقی معنوں میں مسلمان عوام کی سیاسی تحریک بنائیں۔ مسلمان عوام کے روٹی، روزگار کا مسئلہ روز بروز سنگین سے سنگین تر ہوتا چلاجا رہا ہے مگر مسلم لیگ کے سیاسی پروگرام میں عوام کے ان مصائب کی جھلک تک موجود نہیں۔ اعلیٰ ملازمتوں پر امراء اور رؤساء کے بچوں کی اجارہ داری قائم ہے اور چھوٹی موٹی ملازمتیں وزراء کے رشتہ داروں اور دوستوں کے لئے وقف ہیں۔ پنڈت جواہر لعل نہرو اپنی بے خدا سوشلزم سے مسلمان عوام کی غربت کو دور کرنے کے وعدے لے کر میدانِ عمل میں کود پڑے ہیں۔ ایسے میں مسلم لیگ کا سارے کا سارا مستقبل اس بات پر منحصر ہے کہ وہ مسلمان عوام کی مادی مشکلات و مصائب کا کیا حل پیش کرتی ہے؟ پنڈت نہرو کے بے خدا سوشلزم کو نہ ہندو قبول کریں گے اور نہ مسلمان۔ خوش نصیبی سے دورِ حاضر کے جدید معاشی تصورات کی روشنی میں اسلامی شریعت کے نفاذ سے معاشرے میں معاشی عدل و انصاف کا بول بالا ہو سکتا ہے۔
"For Islam the acceptance of social democracy, in some suitable form and consistent with the legal principles of Islam, is not a revolution but a return to the original purity of Islam."
اپنے استدلال کو آگے بڑھاتے ہوئے اقبال لکھتے ہیں کہ اسلام کی اس حقیقی پاکیزگی کی جانب مراجعت کی خاطر برصغیر میں ایک یا ایک سے زیادہ جداگانہ مسلمان مملکتوں کا قیام ضروری ہے۔ وجہ یہ ہے کہ صرف مسلمانوں کی اِن جداگانہ مملکتوں کے اندر ہی اسلامی معاشی عدل و انصاف کا نظام قائم کیا جا سکتا ہے:
"Don't you think that the time for such a demand has already arrived? Perhaps this is the best reply you can give to the atheistic socialism of Jawaharlal Nehru?"
جوں جوں اقبال اور قائداعظم کی فکری رفاقت اور نظریاتی یگانگت گہری ہوتی گئی، مسلم لیگ کے اغراض و مقاصد میں انقلابی تبدیلیاں رونما ہوتی چلی گئیں۔ بہت جلد وہ وقت آ پہنچا جب آل انڈیا مسلم لیگ اشراف کے ایک کلب کے بجائے عوامی جمہوری تحریک میں ڈھل گئی۔ سن انیس سو تینتالیس میں کل ہند مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں پاکستان کا مطلب سمجھاتے ہوئے قائداعظم نے جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کو خبردار کیا تھا کہ پاکستان میں جاگیرداری اور سرمایہ داری کے ''ظالمانہ اور شرپسند'' نظاموں کی قطعاً کوئی گنجائش نہ ہوگی۔ اپنی آخری تقریر میں انہوں نے مغرب کے سرمایہ دارانہ نظام کی تباہ کاریوں کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار فرمایا تھا کہ پاکستان میں اسلام کے ابدی اصولوں پر مبنی ایک انقلابی معاشی نظام قائم کیا جائے گا مگر افسوس، صد افسوس! قائداعظم کی ''جیب کے کھوٹے سکّے'' اس کے برعکس عزائم کے حامل تھے۔ چنانچہ جب پاکستان مسلم لیگ کے پہلے کونسل اجلاس میں زرعی اصلاحات کے لئے دولتانہ کمیٹی کا قیام عمل میں آیا تو اس کمیٹی کے قیام کی خبر کے ساتھ ہی ایک اور خبر بھی شائع کرا دی گئی جس میں چند علماء نے اپنے فتوے میں زرعی اصلاحات کو ازروئے شرع حرام قرار دیا تھا۔ دو اڑھائی ماہ بعد حکومت نے ہاری کمیٹی کی رپورٹ شائع کرتے وقت مسعود کھدرپوش کے اختلافی نوٹ کی اشاعت پر بھی پابندی عائد کر دی تھی۔ تین ماہ کے اندر اندر مولانا عبدالحامد بدایونی سمیت سولہ علمائے کرام کے دستخطوں سے ''اشتراکیت اور زرعی مساوات'' کے عنوان سے اس خفیہ اختلافی نوٹ کے خلاف ایک پمفلٹ منظرِ عام پر آ گیا۔ اس پمفلٹ میں وڈیرا شاہی کے اسلامی ہونے اور مسعود کھدر پوش کے اشتراکی اور ملحد ہونے کے شرعی جواز پیش کئے گئے تھے۔ عقل حیران ہے کہ صیغۂ راز میں رکھا گیا یہ اختلافی نوٹ اِن سولہ علمائے کرام تک کیسے پہنچ گیا اور پھر اِن پر سرکاری راز افشا کرنے کے ''جرم'' میں مقدمہ کیوں قائم نہ کیا گیا؟
ستم ظریفی یہ ہے کہ ملکیتِ زمین کے باب میں جماعتِ اسلامی کے امیر اور جماعتِ احمدیہ کے سربراہ دونوں ہم خیال پائے جاتے ہیں۔ سیّد ابوالاعلیٰ مودودی اور مرزا بشیر الدین محمود، ہر دو نے اس موضوع پر اپنی اپنی کتاب میں جاگیرداری نظام کے شرعی جواز مہیا کرنے میں یکساں دادِ تحقیق دی ہے۔ ہر مسلک کے علمائے کرام کے استدلال کو کام میں لاتے ہوئے نوابزادہ نصر اللہ خان نے ''انجمن تحفظِ حقوقِ زمینداراں تحت الشریعہ'' قائم فرمائی۔ یوں تب سے لے کر اب تک شریعتِ اسلامی کی وہ تفسیر و تعبیر ہماری اجتماعی زندگی میں بارآور نہ ہو سکی جو اقبال کی نثری تحریروں کے ساتھ ساتھ جاوید نامہ، پس چہ باید کرد اے اقوامِ شرق اور ابلیس کی مجلسِ شوریٰ میں جلوہ گر ہے۔
اقبال کے نزدیک شرعِ متین کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ معاشرے میں کوئی شخص کسی دوسرے شخص کا محتاج نہ رہے۔ اپنی نظم ''دراسرارشریعت'' میں انہوں نے شریعت کے رموز اور طریقت کے اسرار پر روشنی ڈالتے ہوئے امیرانِ شریعت اور پیرانِ طریقت کو انتہائی دل سوزی کے ساتھ یہ دعوت دی ہے کہ وہ اپنے حجروں سے باہر نکلیں اور زندگی کے کھلے میدان میں اسرارِ شریعت اور رموزِ طریقت کو عام کریں۔ اس نظم میں مغرب کے سرمایہ دارانہ نظام اور اسلام کے اُس انقلابی اقتصادی نظام کا موازنہ بھی پیش کیا گیا ہے جو آج کی دُنیائے اسلام میں تو کہیں موجود نہیں مگر قرآنِ حکیم میں خوابیدہ ہے۔ یہاں حدود اور تعزیرات کی بات سرے سے کی ہی نہیں گئی بلکہ اقتصادی اور معاشرتی اخوت اور مساوات کے ابدی اسلامی اصولوں پر مبنی جدید ادارے قائم کرنے کی بات کی گئی ہے۔
بات یہ ہے کہ قُلِ الْعَفْو اور اَلْاَرْضُ لِلّٰہ میں پوشیدہ قرآنی تعلیمات کے باب میں اقبال اور علمائے کرام کی تفہیم و تعبیر میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ ہم اقبال کو مفکرِ اسلام اور مصورِ پاکستان مانتے ہیں مگر جب عمل کا وقت آتا ہے تو اقبال کی بات ماننے کے بجائے علمائے کرام کے فتوئوں میں راہِ فرار ڈھونڈتے ہیں۔ میں اس طرزِ فکر و عمل کو تصورِ پاکستان سے انحراف اور انکار سمجھتا ہوں۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم انحراف اور انکار کے راستے کو چھوڑ کر اقرار اور اثبات کی راہ اپنائیں۔ اقبال کی تفسیر و تعبیر کو برصغیر میں اجماعِ اُمت کا درجہ حاصل ہے۔ اسی تفسیر و تعبیر نے تحریکِ پاکستان کو جنم دیا اور اسلامیانِ ہند کی بھاری اکثریت نے ووٹ کے ذریعے پاکستان قائم کر کے اقبال کی تفسیر و تعبیر کو سند کا درجہ عطا کردیا ہے۔
اگست سن سینتالیس میں اسلامیانِ ہند نے پاکستان کے نام سے ایک خطۂ خاک حاصل کیا تھا۔ اس خطۂ خاک کو ارضِ پاک کا مرتبہ صرف اور صرف اُس وقت ملے گا جب ہم اس خطۂ خاک پر اقبال کے تصوّرات کا انقلابی انسانی معاشرہ قائم کرنے کے عمل کا آغاز کریں گے۔


مضمون نگار ایک ممتاز دانشور ہیں۔ آپ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کے سابق ریکٹر ہیں۔ آپ کی تحاریر قومی اخبارات کی زینت بنتی رہتی ہیں۔  
[email protected]

یہ تحریر 217مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP