معیشت

پاکستان کی معیشت اور ڈیم

پاکستان ایک زرعی معیشت ہے۔ ہماریGDP کا24فیصد زراعت سے آتا ہے۔ 52 فیصد افراد کا روز گار براہِ راست یا بالواسطہ طور پر زراعت سے منسلک ہے۔ ہماری برآمدات کا تقریباً  80 فیصد زراعت پر مبنی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ30سال پہلے کی نسبت آج ہماری معیشت زراعت پر کم انحصار کرتی ہے۔ لیکن پھر بھی آج زراعت ہی ہماری معیشت کا پہیہ گھما رہی ہے۔ اچھی زراعت کے لئے تین چیزوں کی ضرورت ہے۔ زمین، موسم اور پانی۔ قدرت نے پاکستان کو بہت اچھی زمین فراہم کی ہے۔ پنجاب اور سندھ میں وسیع زرعی علاقے موجود ہیں۔ بلوچستان کی زمین پھلوں کے لئے بہت موزوں ہے۔خیبرپختونخوا میں گنا اور تمباکو کاشت ہوتا ہے۔ہمارے ملک میں چار موسم ہیں جس کی وجہ سے تین فصلیں سال میں حاصل کی جاسکتی ہیں۔ تیسری اہم چیز پانی ہے۔ پاکستان میں دنیا کا سب سے بڑا اوراہم آبپاشی کانظام موجود ہے۔ ملک میں دریائوں کے ذریعے تقریباً 134ملین ایکڑ فٹ(MMf) پانی پہاڑوں سے آتا ہے جو کہ ہماری زمینوں کو سیراب کرتا ہوا بحیرئہ عرب میں گرتا ہے۔ یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ اس پانی کا 75فیصد صرف مون سون کے مہینوں یعنی جون، جولائی اور اگست میں آتا ہے جب شدید گرمی سے برف پگھلتی ہے اور شدید بارشیں ہوتی ہیں۔ اس طرح ایک سیلاب کی سی کیفیت ہوتی ہے اور یہ پانی بہت کچھ ڈبو دیتا ہے۔ اس طرح قدرت کا یہ عطیہ بعض اوقات تباہی کی علامت بن جاتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس پانی کو روکا جائے اور جب ضرورت ہو تو اسے فصلوں کو مہیا کیا جائے۔



سیلابی پانی کو روکنے کے لئے سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ ملک میں ڈیم بنائے جائیں ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ملک میں کیسے ڈیم بنائے جائیں، چھوٹے یا بڑے ۔ اگر ہم پاکستان کے دریائوں کو دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ یہ تمام دریا بہت بڑے ہیں اور ان میں پانی کا بہائو برسات کے موسم میں بہت زیادہ ہوتا ہے اس لئے اتنے بڑے دریائوں پر چھوٹے ڈیم بنانا ناممکن ہے۔ ویسے بھی اگر آپ ایک بڑے ڈیم کے بجائے چھوٹے 1000 ڈیم بناتے ہیں تو اس پر لاگت بہت زیادہ آتی ہے ۔ اس طرح ڈیم کی افادیت بھی کم ہوجاتی ہے۔ البتہ خاص طور پر پوٹھوہار یعنی راولپنڈی کے اردگرد علاقوں میں چھوٹے ڈیم بارشی پانی کو روکنے کے لئے بنائے جاسکتے ہیں۔1960 میں سندھ طاس معاہدہ ہوا۔ جس کے تحت تین مغربی دریائوں یعنی سندھ، جہلم اور چناب پر پاکستان کا حق تسلیم کرلیاگیا۔ اس سے ذرا پہلے ملک میں Wapda کا قیام عمل میں لایاگیاتھا۔ سندھ طاس میں پاکستان نے تین مشرقی دریائوں یعنی ستلج، راوی اوربیاس سے دستبرداری کی اور اس کے بدلے میں نیا سسٹم بنانے کے لئے ہندوستان نے پچاس کروڑ روپے پاکستان کو دیئے۔ اس کے علاوہ عالمی بینک نے بھی اس میں اپنا حصہ ڈالا۔ اب پاکستان کو مغربی دریائوں کا پانی محفوظ کرنا تھا۔ اس کے علاوہ بہت سی رابطہ نہروں کا جال بنانا تھا اور نہروں کو کنٹرول کرنے کے لئے ان پر بیراج بھی تعمیر کرنے تھے۔ یہ کام واپڈا نے بہت احسن طریقے سے پورا کیا۔ عالمی بینک نے حکومت ِ پاکستان کو مشورہ دیا کہ دریائے جہلم پر روہتاس یا منگلا کے مقام پر ڈیم بنایا جائے تاکہ فوری طور پر جہلم دریا کا پانی ذخیرہ کرکے اسے نہروں کے سسٹم میں ڈالا جائے اس ڈیم پر 1963 میں کام شروع ہوا۔ عالمی بینک نے اس سلسلے میں اہم کردار ادا کیا ۔ اس کے علاوہ ہندوستان سے ملے ہوئے پیسوں سے بھی اس کی تعمیر ایک مشہورِ زمانہ امریکی فرم نے شروع کی۔ یہ ڈیم 1967 میں مکمل ہوگیا جس سے تقریبا6لاکھ ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ ہونا شروع ہوا۔ اس کے علاوہ نہایت سستی بجلی بھی ملنا شروع ہوگئی جو کہ تقریباً  1500 میگاواٹ تھی۔ واپڈا کا پلان یہ تھا کہ ہر 9 سال کے بعد پاکستان میں ایک نیاڈیم بنایا جائے گا۔ اس لئے دریائے سندھ پر نیا ڈیم بنانے کی بات شروع ہوئی۔ عالمی بینک نے حکومتِ پاکستان کو کہا کہ دریائے سندھ پر سب سے پہلے کالاباغ ڈیم بنایا جائے جو کہ سب سے سستا بنے گا اس کے علاوہ اس کے معاشی فوائدبھی باقی سب ڈیموں سے زیادہ ہیں۔ کالاباغ ڈیم کی زمین ایک قدرتی سائیٹ ہے اور یہاں ڈیم بہت موزوں اورجلدی بن سکتا ہے۔ کالاباغ کے علاوہ دوسری سائیٹ تربیلا تھی یہاں بھی بڑا ڈیم بن سکتا تھا لیکن نسبتاً مشکل جگہ تھی۔ واپڈا نے اس وقت یہ سوچا کہ اگر عالمی بینک کے تعاون سے ایک مشکل ڈیم بنالیا جائے تو کالاباغ جوکہ قدرتی سائیٹ ہونے کی وجہ سے ایک آسان ڈیم ہے وہ آئندہ واپڈا خود اپنے ذرائع اور مہارت سے بنالے گا۔ گوکہ عالمی بینک کالاباغ ڈیم پر ہی مصر تھا لیکن حکومت ِ پاکستان کی شدید خواہش پر تربیلا ڈیم پر کام شروع کیاگیا۔ اس ڈیم پر1968 میں کام شروع ہوا یعنی منگلا ڈیم کے بننے کے ایک سال بعد اس ڈیم میں ذخیرۂ آب کی گنجائش سات ملین ایکڑ فٹ تھی اور تقریباً3 ہزار میگاواٹ بجلی بن سکتی تھی۔ یہ کیونکہ  مشکل ڈیم تھا اس لئے اسے بنانے میں تقریباً 8 سال لگے اور 1976میں ڈیم مکمل ہوا۔


اگر ہم پاکستان کے دریائوں کو دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ یہ تمام دریا بہت بڑے ہیں اور ان میں پانی کا بہائو برسات کے موسم میں بہت زیادہ ہوتا ہے اس لئے اتنے بڑے دریائوں پر چھوٹے ڈیم بنانا ناممکن ہے۔ ویسے بھی اگر آپ ایک بڑے ڈیم کے بجائے چھوٹے 1000 ڈیم بناتے ہیں تو اس پر لاگت بہت زیادہ آتی ہے ۔


1985 میں واپڈا نے کالاباغ ڈیم پر کام شروع کرنا چاہا اس کے لئے ابتدائی سروے شروع ہوا۔ لیکن جلد ہی یہ ڈیم'' سیاسی'' تنازعات کا شکار ہوگیا۔ اس وقت کے صوبہ سرحد کی چند جماعتوں نے یہ کہا کہ اس سے نوشہرہ کو خطرہ ہے۔ گوکہ دنیا کی ہر سٹڈی میں کہا گیا کہ ایسا کچھ نہیں کیونکہ کالاباغ کی انتہائی اونچی سطح سے بھی نوشہرہ خاصی اونچائی پر ہے۔ کچھ عرصے بعد صوبہ سندھ سے بھی کالاباغ ڈیم کے خلاف آوازیں بلند ہونا شروع ہوگئیں کہ اس سے صوبے کا پانی کم ہو جائے گا۔ حالانکہ  حقیقت یہ ہے کہ تربیلا ڈیم کا تقریباً 63 فیصد پانی صوبہ سندھ کو دیا جاتا ہے۔ جس سے سندھ کی نہریں سارا سال بہتی ہیں۔ اگر کالاباغ ڈیم بنایا جائے تو اس کی بدولت صوبہ سندھ کی مزید( تقریباً)آٹھ لاکھ ایکڑ اراضی زیرِ کاشت آسکتی ہے۔ اسی طرح صوبہ خیبر پختونخوا کی تقریباً6 لاکھ ایکڑ اراضی جنوبی علاقوں یعنی ڈیرہ اسماعیل خان، کوہاٹ اور بنوں وغیرہ میں زیرِ کاشت آسکتی ہے۔ یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ کے پی میں دریائے سندھ تقریباً600 کلومیٹر تک بہتا ہے لیکن وہاں اس دریاکا پانی اس لئے استعمال نہیں ہوسکتا کیونکہ دریاکی سطح بہت نیچی ہے۔ یہ صرف کالاباغ ڈیم ہی سے ممکن ہے کہ وہاں 6 لاکھ ایکڑ زمین جنوبی علاقوں میں زیرِ کاشت لائی جاسکتی ہے۔ بہرحال اس ڈیم پر کام شروع نہ ہوسکا۔ اس طرح ہر سال لاکھوں ایکڑ فٹ پانی ضائع ہورہا ہے اور ہم سستی بجلی سے بھی محروم ہیں۔
یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ 1976 کے بعد سے ملک میں کوئی بڑا ڈیم نہ بن سکا۔ اس وقت ملک میں تین بڑے دریا ہیں۔ دریائے سندھ پر ممکنہ مقامات 'کالاباغ' 'بھاشا' بونجی ، داسو ، سکردو اور اکھوڑی  (Akhori) میں اسی طرح دریائے جہلم پر روہتاس کے قریب بڑا ڈیم بن سکتا ہے۔ دریائے چناب پر چنیوٹ کے مقام پر ڈیم بنایا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ دریائے کابل پر منڈا کے مقام پر مہمند ڈیم بنایا جاسکتا ہے۔ کچھ عرصے سے یہ کوشش ہو رہی ہے کہ ملک میں نئے ڈیم بنائے جائیں کیونکہ تربیلا ڈیم کی جھیل تقریباًچالیس فیصد مٹی سے بھر چکی ہے۔اسی طرح منگلا ڈیم بھی تیس فیصد مٹی سے بھر چکا ہے۔ گو کہ صدر مشرف کے دور میں منگلا ڈیم کو اونچا کیا گیا اور اب اس میں پانی کی گنجائش سات ملین ایکڑ فٹ سے بڑھ چکی ہے۔ یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ منگلا ڈیم کا Catchment Areaبہت بڑا نہیں اس لئے یہ ڈیم صرف سیلاب کی صورت میں ہی بھرسکتا ہے۔ جیسا کہ ہم نے دیکھا کہ اب تک یہ ڈیم ایک یا دو دفعہ پہلے مکمل بھر سکا۔ اس سال پھر اگر سیلاب نہ آیا تو یہ مکمل بھر نہیں سکے گا۔ کیونکہ کالاباغ ڈیم تنازعات کی زد میں تھا اس لئے سپریم کورٹ نے ایک مقدمہ میں فیصلہ دیا کہ فوری طور پر بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم پر کام شروع کیا جائے۔ اس سلسلے میں حکومتِ پاکستان نے فوری کام کی ہدایات دیں اور  اس ڈیم کا ایک فنڈ بھی شروع کیاگیا۔مہمند ڈیم دریائے سوات پر منڈا (Munda)   کے مقام یہ بنایا جائے گا اور اس میں ایک ملین ایکڑ فٹ پانی کی گنجائش اور تقریباً100 میگاواٹ بجلی کی گنجائش بھی ہوگی۔ اس ڈیم پر کام تقریباً شروع ہونے والا ہے کیونکہ اس ڈیم کو بنانے کا ٹھیکہ بھی ایک فرم کو دے دیاگیا ہے۔ یہاں یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ کچھ مغربی ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیم کی سائٹ فلیش فلڈنگ کا علاقہ ہے اس لئے یہاں بڑا ذخیرہ ممکن نہیں۔ کیونکہ شدید سیلاب کی صورت میں ڈیم کو نقصان پہنچے گا اور اس کے نتیجے میں پشاور ویلی جہاں یہ دریائے کابل میں شامل ہو کر زمین سیراب کرتا ہے خطرے سے دوچار ہوجائے گا۔ اُمید ہے کہ حکومتِ پاکستان اس خطرے کو سمجھے گی اور اس کا مناسب تدارک بھی کرے گی ۔ ایک تجویز یہ ہے کہ اس کے ساتھ ہی اکھوڑی ڈیم جو ضلع اٹک میںبنایا جاسکتا ہے،پر فوری کام شروع کردیا جائے اور دریائے کابل کا پانی اٹک کے پل سے براہِ راست بذریعہ نہراکھوڑی میں ڈال دیاجائے تاکہ ممکنہ سیلاب کی صورت میں پشاور ویلی کو نقصان نہ پہنچے۔
سندھ دریا پر دوسرا ڈیم بھاشا کے مقام پر بنایا جائے گا۔ جس کا زیادہ تر رقبہ شمالی علاقہ جات (G.B) میں آتا ہے کچھ علاقہ ہزارہ ڈویژن میںموجود ہے۔ کیونکہ یہ ڈیم زلزلوں کے علاقے میں ہے اس لئے یہ بہت مشکل سائیٹ ہے اور اس پر نہایت مہارت سے کام کرنے کی ضرورت ہے، حکومت نے اس علاقے میں خاصی زمین خرید لی ہے۔ پہلے مرحلے میں ڈیم کی جھیل بنائی جائے گی۔ دوسرے مرحلے میں ڈیم پر بجلی گھربنایا جائے گا جو کہ کثیر سرمائے سے ہی ممکن ہے ۔  اُمید ہے کہ پاکستان میں تمام ممکنہ ڈیم بنائے جائیں گے تاکہ ملک میںخوشحالی کا دوردورہ ہو سکے۔


 

یہ تحریر 158مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP