قومی و بین الاقوامی ایشوز

پاکستان کا پیغام

دہشت گردی کے مقابلے میں انتہا پسندی کا مسئلہ زیادہ پیچیدہ ہوتا ہے- اس کی ایک ظاہری وجہ یہ ہے کہ دہشت گردوں کی کارروائیاں توجہ حاصل کرنے کے لئے ہوتی ہیں جبکہ انتہا پسند قوتیں اپنا کام خاموشی سے کرنے کو ترجیح دیتی ہیں۔ آسان لفظوں میں انتہا پسندی کو گھن لگنے جیسا عمل سمجھا جاتا ہے جس میں  نقصان ہونے کے بعددیمک کا پتہ چلتا ہے ۔ دنیا کے بہت سے معاشرے بلا تفریقِ مذہب اس مسئلے سے دو چار ہیں اور اپنے مقامی تناظر میں حل نکالنے کی کوشش میں ہیں۔ اس کے تدارک کے لئے جوابی بیانیے کو ایک مؤثر تدبیر سمجھا جاتا ہے۔ 
چند دیگر مسلم معاشروں کی طرح پاکستان میں انتہا پسندی کا چیلنج مذ ہبی تناظر کا حامل ہے ۔ دہشت گردوں نے مذ ہبی بیانیے کو استعمال کرکے پاکستان کی سلامتی ، ریاست اور سماج کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اگر چہ ان کی تخریبی قوت کو سختی سے کچل دیا گیا ہے لیکن ان کے فکری اور نظری اثرات ابھی تک باقی ہیں بلکہ اس کے اثرات دیگر مذہبی طبقات تک بھی پہنچے ہیں۔ پاکستان کا داخلی سطح پر سکیورٹی منظرنامہ اندرونی و بیرونی ہر دو سطح پر درپیش خطرات کے سبب بہت پیچیدہ ہے۔ داخلی سطح پر خطرات کا باعث بننے والوں میں نہ صرف سخت گیر مذہبی انتہاپسند فرقہ وارانہ گروہ شامل ہیں بلکہ وہ گروہ بھی اس خطرے کا سبب ہیں جو سماج میں مذہبی طور پر عدم برداشت پھیلاتے ہیں۔آخر الذکر اس لئے بھی ایک مختلف طرح کا چیلنج دیتے ہیں کہ ایسے گروہ اپنے مددگاروں کے ذریعے بڑی سطح پر ایسی صورتحال پیدا کردیتے ہیں جس کے سبب نہ صرف ملکی معیشت کو خطرہ لاحق ہوتا ہے بلکہ سماجی ہم آہنگی بھی متاثر ہوتی ہے اور ملکی امیج عالمی سطح پر داغدار ہوجاتا ہے۔ مسئلے کی اس حسا سیّت کو سمجھتے ہوئے ریاست اور علمائے کرام نے کئی اقدامات کئے جن میں 'پیغام پاکستان' کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ 'پیغام پاکستان 'پاکستان کے پانچ ہزار سے زائد چنیدہ علمائے کرام کا دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف متفقہ فیصلہ ہے۔ اس فیصلے کا اجرا 2018 کے اوائل میں ایوان صدر میں 'پیغام پاکستان' کے نام سے کیا گیا۔'پیغام پاکستان' کو ایک نیابیانیہ کہا گیا اور یہ یقینا بہت مثبت پیش رفت ہے کہ اس نئے بیانیے میں آئین  اور دستور کی بالادستی کو اوّلیت دی گئی ہے۔
پیغام پاکستان کی حیثیت ایک متفقہ فتوے کی ہے اور علما ئے کرام میں یہ قومی اتفاق 1951کے بعد دوسرا واقعہ ہے جب تمام مکاتب فکر کی رائے ایک نقطے پر یکساں ہوئی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ 1951 میں اکتیس جیّد علمائے کرام پاکستان کے نئے دستور کے لئے بائیس نکات پر متفق ہوئے تھے۔ اب یہ تعدادبڑھ کر پانچ ہزار تک چلی گئی ہے اور اس مرتبہ اتفاق دستور کے تحفظ پر ہوا ہے۔بائیس نکات میں صرف ایک نکتہ ایسا ہے جس پر نظر ثانی ہوئی ہے جوامت مسلمہ کی وحدت کو بچانے اور اس کے تحفظ و استحکام کی ذمہ داری سے متعلق تھا۔جبکہ پیغام پاکستان کے نونکات میں قومی معاملات کی حرمت کے باب میں کہا گیا ہے کہ بعض گروہ (اس سلسلہ میں)جغرافیائی حد بندی کے(بھی) قائل ہیں چنانچہ وہ کسی دوسرے ملک میں لشکر کشی کاحصہ بن جاتے ہیں ۔یہ رویہ اسلامی تعلیمات کی رو سے عہد شکنی میں آتا ہے۔
پیغام پاکستان کی یہ شق واضح طور پر علما ئے کرام کی اس رائے سے رجوع کرتی ہے جس کی آبیاری انہوں نے ساٹھ برس سے زائدعرصے تک کی اور دس برس ہچکچاہٹ میں گزار دیئے۔امت مسلمہ کے چیمپیئن ہونے کا سب سے زیادہ فائدہ ان عسکری جتھوں نے اٹھایا جو ادھر ادھر اپنی عسکری مہمات چلاتے رہے لیکن انہیں امہ کی تائید حاصل نہ ہوسکی۔


1951 میں اکتیس جیّد علمائے کرام پاکستان کے نئے دستور کے لئے بائیس نکات پر متفق ہوئے تھے۔ اب یہ تعدادبڑھ کر پانچ ہزار تک چلی گئی ہے اور اس مرتبہ اتفاق دستور کے تحفظ پر ہوا ہے۔


بہرطور پیغام پاکستان بیانیہ سازی کی طرف ایک اہم پیش رفت ہے اور اسے صرف چند ہزار علماء تک محدود نہیں رہنا چاہئے۔ان علماء کی ذمہ داری ہے کہ اس متفقہ اعلامیے اور فتوے کو نہ صرف اپنے دائرہ اثر میں پھیلائیں بلکہ اسے مدارس کے نصاب کا حصہ اور اپنی تقاریر کا محوربنائیں۔ظاہر ہے حکومت اور معاشرے کے دیگر طبقات کی ذمہ داری بھی ہے کہ علماء نے جس میثاق پر اتفاق کیا ہے،اسے قومی اتفاق میں بدلنے کے لئے کاوش کریں۔
یہ بھی کہا جارہا ہے کہ یہ اقدام پارلیمنٹ یا اس کے ذیلی ادارے کی طرف سے اٹھایاجانا چاہئے تھا اور اس کی تشکیل میں عسکری اداروں کے کردار پر سوال اٹھایا جارہا ہے لیکن پورے مسودے میں کوئی ایسا نکتہ نہیں ہے جس پر اتفاق رائے نہ پایا جاتا ہو۔دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عسکری اداروں کے کردار اور کامیابی سے انکا ر نہیں کیا جاسکتا لیکن پارلیمنٹ اور حکومتی اداروں نے نئی فکر اور نئے بیانیے کی تشکیل میں مؤثر اور کلیدی کردار ادا نہیں کیا تھا جس کے باعث خلا موجود تھا اور خلازیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتا۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ پارلیمنٹ کا استحقاق اس سے لے لیا جائے یا اس کے متوازی عمل کی حوصلہ افزائی کی جائے۔پاکستان کو جس بیانیے کی ضرورت ہے وہ عمرانی معاہدے پر نظرثانی سے متعلق ہے۔ دہشت گرد اور انتہاپسند کس چیز کو چیلنج کرتے ہیں؟پاکستانی ریاست کی ساخت،اس کا آئین ، دستور اور اس دستور کا محافظ ادارہ کون ہے؟ پارلیمنٹ ۔
پاکستانی عسکری گروہوں کی ذہنی اور نظری تشکیل میں القاعدہ کے بانی اراکین بالخصوص ایمن الظواہری کا بنیادی کردار ہے اور اس کی کتاب سپیدۂ سحرپاکستان کے آئین کا تنقیدی جائزہ ہے اور وہ ثابت کرتا ہے کہ یہ آئین اسلامی نہیں ہے۔ یہ اتفاق ہے کہ جب حکومت نے پیغامِ پاکستان پیش کیا ،انہی دنوں محسود طالبان نے انقلاب محسود کے نام سے چھ سو اسی صفحات پر مشتمل اپنا مقدمہ پیش کیاہے اور اس میں ایک باب'' کون سا نظام ناکام اور فرسودہ ہے'' کے عنوان سے باندھا ہے اور اس میں قبائلی اور جمہوری معاشرے کا تقابل پیش کیا ہے۔عنوان سے ظاہر ہے کہ جمہوری اداروں پر تنقید کی نوعیت کیا ہوگی۔
بظاہر جب عسکریت پسند اور بعض سیاسی رہنما پارلیمنٹ کو ہدف تنقید بناتے ہیں تو وہ مختلف مقاصد کے تحت قانون سازی اور رائے سازی کے نمائندہ ادارے کو کمزور کرتے ہیں۔عسکریت پسند اس ادارے کے متبادل اداروں کی بات کرتے ہیں جبکہ یہ سیاسی رہنما پارلیمنٹ پر اعتماد کے لئے تیار نہیں۔  پاکستان کی سیاسی اور عسکری تاریخ پارلیمنٹ کی بالادستی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اس کشمکش میں پارلیمنٹ بہت کم بالادست ہوئی ،فوجی حکمران ہوں یا سویلین، پارلیمنٹ صحیح کردار اور مقام کوترستی رہی ہے۔ حکمران اسے ربڑ سٹیمپ سمجھتے رہے اور پارلیمنٹ سے بالا معاملات چلانے اور سلجھانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔
اپنی حساسیت کے سبب بعض اوقات ریاست ایسے اقدامات اٹھاتی ہے کہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ ماضی کے برعکس  ایک نئے آزادانہ معاشرے کی داغ بیل ڈال رہی ہے۔ اسی طرح کا ایک تا ثر پیغامِ پاکستان کے بارے میں دیا گیا۔ بظاہر یہ ایک مثبت پیش رفت سمجھی جارہی تھی کالعدم فرقہ پرست اور عسکری جماعتیں پیغامِ پاکستان  کی پاسداری کررہی ہیں۔  تاہم نتیجہ اس کے برعکس  نکلا کہ دیگر مخالف مسالک کی  جماعتوں نے پیغامِ پاکستا ن کو یہ کہہ کر مسترد کردیا کہ یہ چند مخصوص کالعدم جماعتوں کو اس دباؤ سے نکلنے کا موقع فراہم کرنے کے لئے تیار کیا گیا ہے جس کا  ماضی میں انہیں سامنا رہا۔اب اس تاثر کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔
ابھی تک  پیغامِ پاکستان سے خاطر خواہ نتائج حاصل ہوئے ہیں لیکن اسے علماء کے دل کی آواز بنانا ہوگا ۔ تاہم جہاں تک اس کے مندرجات کی بات ہے تو یہ ایک جامع اور مدلل دستاویز ہے۔ جیسا کہ یہ پاکستانی سماج کی تعمیرِ نو کی بات کرتے ہوئے کہتا ہے کہ پاکستانی نہ تو دوسرے مذاہب کو کم تر سمجھتے ہیں اور نہ ہی ان کے مذہبی پیشواؤں کی اہانت کرتے ہیں۔ مسلمانوں کے لئے ضروری ہو گا کہ وہ مذہبی آزادی پر یقین رکھتے ہوئے محض مدلل تبلیغ کے ذریعے دیگر مذاہب سے وابستہ افراد کو مسلمان ہونے کی دعوت دیں۔ اس دستاویز میں مذہبی آزادی سے متعلق آئینی شقوں پر زور دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ اسلام کی بنیادی تعلیمات سے مطابقت رکھتی ہیں۔ اس میں درج ہے کہ تمام شہریوں کو قانونی و اخلاقی حدود کے اندر رہتے ہوئے بنیادی انسانی حقوق فراہم کئے جاتے ہیں۔ یہ حقوق یکساں مواقع و رتبے،  قانون کے سامنے برابری، سماجی و اقتصادی اور سیاسی انصاف، اظہار ِرائے ، مذہب وعبادت اور جماعت سازی جیسی آزادیوں کا احاطہ کرتے ہیں۔
اسی طرح اس فتوے میں مسلکی نفرت، مسلح فرقہ وارانہ تصادم، اور بزورِ طاقت اپنی بات منوانے کی مذمت کی گئی ہے۔ اس پر دستخط کرنے والے علماء نے اس بات کی ضمانت دی ہے کہ وہ جمہوریت، آزادی، مساوات،برداشت، یکجہتی،باہمی احترام ،اور انصاف جیسے اصولوں پر مبنی سماج کے لئے کام کریں گے تاکہ پرامن بقائے باہمی  کے لئے سازگار ماحول قائم کیا جا سکے۔
پیغامِ پاکستان اس فتوے کا پسِ منظر بیان کرتے ہوئے دعویٰ کرتا ہے کہ پاکستان  میں تقریبا تمام قانون سازی قرآن و سنت کے مطابق کی گئی ہے،تاہم مذہبی اشرافیہ ابھی بھی اس دستاویز کو اپنے مدارس و مساجد کے لئے ضابطہ تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔اس کے لئے ریاست کو تمام مسالک کے علماء کے درمیان ایک بڑے اور مسلسل مکالمے کا اہتمام کرنا ہو گا۔
پاکستان اس وقت انتہا پسندی کے گورکھ دھندے میں اُلجھا ہوا ہے۔ معاشرتی سطح پر صورتِ حال اس سے بھی ابتر ہے جہاں یہ اکثر کمزور مذہبی گروہوں کے خلاف تشدد کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ عسکری تشدد کی مذمت تو کی جاتی ہے تاہم اس کے پسِ پردہ ، بالخصوص مختلف مذاہب پر عمل  پیرا لوگوں سے متعلق نظریات وخیالات پر کم ہی توجہ دی جاتی ہے۔یہ مسائل ایک علمی مکالمے سے ہی حل ہو سکتے ہیں ۔ پیغام پاکستان اس مکالمے کے لئے ٹھوس بنیادیں فراہم کرتا ہے اور مسلم دنیا کے لئے بھی امید کی ایک کرن بن سکتا ہے ۔ پیغام پاکستان دنیا کے لئے پاکستان کا پیغام بن سکتا ہے۔

یہ تحریر 81مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP