یوم آزادی

پاکستان کا قیام۔ ایک نظریہ ایک منزل

14اگست ہمارے عظیم وطن کا یومِ آزادی ہے جسے انسانی تاریخ میں ایک انوکھے واقعے کی حیثیت حاصل ہے۔ جب آل انڈیا مسلم لیگ، انڈین نیشنل کانگرس اور حکومتِ برطانیہ کے درمیان تقسیمِ ہند کا معاہدہ طے پا گیا اور دو خودمختار دستور ساز اسمبلیاں وجود میں آ گئیں، تو لارڈ ماؤنٹ بیٹن پاکستان کی دستور ساز اسمبلی سے خطاب کرنے اور اِنتقالِ اقتدار کے لیے اگست  1913کی سہ پہر کراچی آئے۔ قائدِاعظم نے انہیں الوداعی عشائیہ دیا۔ ہندوستان کے آخری وائسرائے نے دستور ساز اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے اِس حقیقت کا برملا اعتراف کیا کہ پاکستان کا قیام تاریخ کا ایک اہم واقعہ ہے۔ قائدِاعظم کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ شہنشاہ اکبر کی طرح ہندو اقلیت سے فیاضانہ سلوک روا رکھیں گے۔ قائدِاعظم نے جوابی تقریر میں فرمایا کہ ہمیں رواداری اور جمہوری اقدار کی پاسبانی کا اعلی ترین نمونہ پیغمبرِ خدا حضرت محمد ۖ کے اسوۂ حسنہ میں ملتا ہے اور ہم ان کی تابندہ روایات کے امین ہیں۔
اِس جوابی تقریر سے تین روز پہلے یعنی11 اگست کے تاریخی دن قائدِاعظم نے پاکستان کی دستور ساز اسمبلی سے پہلے خطاب میں ریاستِ پاکستان اور ان کے شہریوں کے درمیان تعلقات کی نوعیت واضح کی تھی اور بعض مہلک معاشرتی خرابیوں کے خلاف سخت وارننگ دی تھی جو آج بھی سرطان کی صورت اختیار کیے ہوئے ہیں۔
قائدِاعظم کی ان دو تقریروں میں اور امریکہ کی عوام سے ایک نشری پیغام میں وہ بنیادی اصول اور مقاصد تفصیل سے بیان ہوئے ہیں جن کے لیے برِصغیر میں مسلمانوں کی ایک آزاد اور خودمختار مملکت کا قیام ازبس ناگزیر تھا۔ ظہورِپاکستان کے وقت اور اس سے متصل مہینوں میں بابائے قوم حضرت قائدِاعظم نے باربار پوری دنیا پر واضح کیا کہ مسلمانوں کی نشاةِ ثانیہ کے لیے ایک جدید تجربہ گاہ وجود میں آ گئی ہے۔ 11اگست کو دستور ساز اسمبلی سے خطاب کے وقت پنجاب میں خون آشام فسادات پھوٹ پڑے تھے اور بھارت کی طرف سے مسلسل زہریلا پرو پیگنڈہ کیا جا رہا تھا کہ پاکستان کی ریاست مذہبی جنون میں غیرمسلم اقلیتوں کا مکمل صفایا کر دے گی۔ مغربی ممالک میں بھی یہ تاثر پھیل رہا تھا کہ پاکستان میں ملاؤں کی حکومت قائم ہو گئی ہے جو انسانی آزادیوں کا مکمل طور پر قلع قمع کر ڈالے گی۔ اِن حالات میں قائدِاعظم نے بڑی بصیرت اور غیرمعمولی دوراندیشی سے کام لیتے ہوئے فرمایا:
حکومت کی اولین ذمہ داری امن و امان قائم رکھنا ہوتا ہے تاکہ مملکت کی طرف سے اپنے باشندوں کی جان، مال اور مذہبی عقائد کی پوری حفاظت کی جا سکے۔ اِس تقسیم میں ایک یا دوسری ڈومینوں میں اقلیتوں کا باقی رہنا ناگزیر تھا۔ ہمیں اپنی ساری توجہ لوگوں بالخصوص عوام اور غریبوں کی بہبود پر مرکوز کر دینی چاہیے۔ آپ کا تعلق کسی بھی مذہب یا ذات یا عقیدے سے ہو، اس کا کاروبارِ مملکت سے کوئی سروکار نہیں۔ ہم اِس بنیادی اصول سے آغاز کر رہے ہیں کہ ہم سب ایک مملکت کے شہری اور مساوی شہری ہیں۔ میرے خیال میں اب ہمیں ہر بات بطور نصب العین پیشِ نظر رکھنی چاہیے اور وقت گزرنے پر آپ دیکھیں گے کہ ہندو، ہندو نہیں رہیں گے اور مسلمان، مسلمان نہیں رہیں گے، مذہبی لحاظ سے نہیں کہ وہ ہر فرد کا ذاتی عقیدہ ہے، بلکہ مملکت کے شہری کے طور پر یا سیاسی لحاظ سے۔
اِس اولین خطاب میں قائدِاعظم نے درج ذیل الفاظ میں ان برائیوں کی بڑی واشگاف انداز میں بھی نشان دہی کی جن میں بھارت اور پاکستان جیسے پس ماندہ ممالک بری طرح مبتلا تھے اور آج بھی ہیں۔
ان کا ارشاد تھا:
ہند جن بڑی لعنتوں سے دوچار ہے، ان میں ایک رشوت اور بددیانتی ہے۔ یہ یقینا ایک زہر ہے۔ میں کسی بھی نوعیت کی بددیانتی اور اقرباپروری سے درگزرنہیں کروں گا اورنہ کوئی ایسا اثر اور دباؤ  برداشت کروں گا جو مجھ پر براہِ راست یا بالواسطہ ڈالا جائے گا۔ جہاں کہیں بھی مجھے معلوم ہو گا کہ ایسی کوئی خرابی رائج ہے یا اعلیٰ اور ادنیٰ سطح پر کہیں موجود ہے، یقینا اسے روا نہیں رکھوں گا۔
قائدِاعظم پاکستان کے گورنر جنرل کی حیثیت سے تیرہ ماہ زندہ رہے اور اس پورے عرصے میں ان کی اِس قدرعزت و رعب تھا کہ کسی سرکاری اہل کار اور کسی سیاسی منصب دار کو رشوت ستانی اور بددیانتی کے ارتکاب کی جرأت نہیں ہوئی۔ وہ اِس حقیقت کا مکمل ادراک رکھتے تھے کہ زیادہ تر قرابت دار معاملات کے بگاڑ کا باعث بنتے ہیں۔ قائدِاعظم نے اِس ضمن میں درخشاں روایات قائم کیں۔ ہر مقام پر قانون اور ضابطوں کا پورا پورا خیال رکھا اور کسی بھی رشتہ دار کو سرکاری امور میں سفارش کرنے یا کسی اور طریقے سے اثرانداز ہونے کی جرأت نہیں ہوئی۔ ان کے ایک بھائی جو کراچی میں رہتے تھے، ایک بار گورنر جنرل ہاؤس آئے اور ملاقات کے لیے اپنا وزٹنگ کارڈ بھیجا جس پر بطورِ خاص قائدِاعظم کے بھائی کا حوالہ درج تھا۔ وہ بہت برہم ہوئے اور کارڈ واپس کرتے ہوئے ملنے ہی سے انکار کر دیا۔ اِس محتاط روش سے تمام واقف کاروں، دوستوں اور قرابت داروں کوبھی اندازہ ہوگیا کہ قائد ایسے معاملات نہیں کرتے۔
قیامِ پاکستان کے بعد قائدِاعظم 28اکتوبر 1947 کو لاہور تشریف لائے اور والٹن کیمپ میں مہاجرین کے حالات دیکھ کر ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ پنجاب میں خونریز فسادات کی تفصیلات سے انہیں شدید صدمہ پہنچا تھا۔ لاہور کے عوام سے ریڈیو کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ دنیا کی سب سے بڑی اسلامی ریاست وجود میں آ چکی ہے جو مسلمانوں کی نشاةِ ثانیہ کے لیے جدید ترین تجربہ گاہ کے طور پہ کام کرے گی اور اِسلام کے سپاہی آگے بڑھ کر اس کی حفاظت کریں گے۔ انہوں نے فروری1948  میں امریکی عوام کے نام ایک نشری خطاب میں پاکستان کے قیام کی غرض و غایت اِن الفاظ میں بیان کی:



پاکستان کی آئین ساز اسمبلی کو ابھی پاکستان کا آئین مرتب کرنا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ جمہوری طرز کا آئین ہو گا جس میں اسلام کے بنیادی اصول مستقل ہوں گے۔ یہ اصول آج بھی اسی طرح عملی زندگی میں قابلِ عمل ہیں جس طرح تیرہ سو سال پہلے تھے۔ اسلام نے ہمیں جمہوریت کا درس دیا ہے۔ اس نے انسانی مساوات، عدل اور ہر شخص سے منصفانہ برتاؤ سکھایا ہے۔ ہم ان درخشاں روایات کے وارث ہیں۔ بہرحال پاکستان ایک ایسی مذہبی مملکت نہیں ہو گا جس میں مذہبی پیشوا مامور من اللہ کے طور پر حکومت کریں۔ ہمارے ہاں بہت سے غیرمسلم ہیں ..... ہندو، عیسائی اور پارسی۔ وہ بھی پاکستانی ہیں اور وہ تمام دوسرے شہریوں کی طرح یکساں حقوق اور مراعات سے بہرہ ور ہوں گے۔
قائدِاعظم کے اِن تمام ارشادات سے چند بنیادی حقائق سامنے آتے ہیں جو پاکستان کے اساس کی حیثیت رکھتے ہیں۔ پہلا یہ کہ پاکستان ایک جمہوری اور قانونی جدوجہد کے نتیجے میں قائم ہوا۔ دوسرا یہ کہ اس کا سب سے بڑا مقصد محکوم اور مقہورعوام اور اقوام کی مدد کرنا اور عالمی امن کے فروغ میں دستِ تعاون بڑھانا ہے۔ تیسرا یہ کہ اس کی اساس اسلام کے اعلیٰ و ارفع اصول ہیں اور یہ مسلمانوں کی نشاةِ ثانیہ کے لیے ایک جدید ترین تجربہ گاہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ جمہوری اقدار کی پاسداری اور ناداروں اور غریبوں کی حالت میں خوشگوار تبدیلی لانے کے لیے معرضِ وجود میں آیا ہے۔ اس میں اقلیتوں کے جان، مال، مذہبی معتقدات کو تحفظ فراہم کرنا اور انہیں معاشی اور ثقافتی طور پر مستحکم کرنا مقصود ہے۔
پاکستان کا تصور پیش کرنے اور اسے حقیقت کا جامہ پہنانے میں حکیم الامت علامہ محمد اقبال اور قائدِاعظم محمد علی جناح نے تاریخ ساز کردار ادا کیا۔ ہندوستان کی تقسیم اور اس کے شمال مغرب میں اسلامی ریاست کے قیام کا واضح نقشہ، علامہ اقبال نے خطبہ الہ آباد میں پیش کیا تھا جو انہوں نے دسمبر 1930 میں آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں دیا تھا۔ اِس تاریخی اہمیت کے خطبے کی چند سطروں سے آپ کو صحیح اندازہ ہو جائے گا کہ ان کے ذہن میں جدید اسلامی ریاست کا تصور کیاتھا:
اگر تم لوگ موجودہ حالات میں اپنی تمام تر توجہ اسلام کے مرکز کی طرف مبذول کر دو گے اور اِس کے حیات جاوداں بخشنے والے افکار سے الہام پذیر ہو گے، تو اِس صورت میں تم اپنی منتشر قوتوں کو اکٹھا کر سکو گے اور کھویا ہوا مقام پھر سے پا سکو گے۔
اِس اعلی نصب العین کے تحت پاکستان نے تمام تر دشواریوں اور مزاحمتوں کے باوجود اِنسانی تاریخ پر گہرے نقش ثبت کیے ہیں۔ یہ اس کی پہلی دستورساز اسمبلی نے قراردادِ مقاصد منظور کی تھی جو اسلام کے بلند تصورات اور جمہوری اقدار کا ایک حسین امتزاج ہے۔ یہ شرف کسی اور مسلمان مملکت کو حاصل نہیں ہوا۔ یہ قراردادِ مقاصد ہمارے دستور کا حصہ ہے۔ ہمارے دستور میں شہری آزادیوں کے علاوہ عدل اور مساوات کی ضمانت دی گئی ہے اور عدلیہ کی آزادی اور اقلیتوں کی معاشرتی، معاشی اور ثقافتی ترقی کے دروازے کشادہ ہیں۔ ریاستی اداروں کے دائرہ ہائے اختیارات اور ذمہ داریاں صراحت سے بیان ہوئی ہیں۔ امورِ مملکت میں پارلیمان کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے اور عوام کی سربلندی اور جمہوری اداروں کو غیرمعمولی اہمیت دی گئی ہے۔ اِس کے علاوہ پاکستان نے اپنی سلامتی کی حفاظت کے لیے ایٹمی طاقت بھی حاصل کی ہے اور دِفاع کا ایک قابلِ اعتماد نظام تشکیل دے دیا ہے جسے طاقت، قوتِ ایمان سے مل رہی ہے ، البتہ مسلمانوں کی نشاةِ ثانیہ کا سفر سست روی کا شکار ہے جس کے لیے اجتماعی کوششیں بروئے کار لانے کی اشد ضرورت ہے۔ ||


مضمون نگار سینئر صحافی و کالم نویس ہیں۔
[email protected]
 

یہ تحریر 83مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP