قومی و بین الاقوامی ایشوز

پاکستان کا دفاعی بجٹ کیا ہے حقیقت ۔ کیا ہے فسانہ

پاکستان کے دفاعی بجٹ کے بارے میں غلط فہمی ہے کہ یہ مکمل بجٹ کا 70 یا 80 فیصد حصہ لے جاتا ہے ایسا قطعاً نہیں۔ پچھلے مالی سال 2014-15 کا بجٹ اٹھا کر دیکھ لیجئے۔ مکمل بجٹ کا خرچ 4302 ارب روپے تھا جو مالی سال2013-14 سے7.9 فیصد زیادہ تھا۔ اس میں سے700 ارب روپے ڈیفنس افیئرز اینڈ سروسز کے لئے رکھے گئے تھے۔ جسے دفاعی بجٹ کہا جاتا ہے جو کہ کل کے بجٹ کا16.27 فیصد تھا-

الڈوس ہگزلے ایک مشہور انگریزی ادیب ہے‘ وہ کہتا ہے:’’کچھ چیزیں ایسی ہیں جنہیں ہم جانتے ہیں اور کچھ چیزیں ایسی ہیں جنہیں ہم نہیں جانتے اور انہی کے درمیان ہمارے ادراک اور شعور کے بند دروازے پائے جاتے ہیں۔‘‘

کسی بھی بات کو سمجھنے کے لئے اسے جاننا بہت ضروری ہے۔ جانیں گے نہیں تو سمجھیں گے نہیں۔ اور جب ہم جان لیتے ہیں تو ہمارے ادراک اور شعور کے بند دروازے کھل جاتے ہیں۔ یہی بنیادی اصول ایک صحافی کے لئے بھی بہت ضروری ہے۔ جاننا۔۔۔ ! تحقیق کرنا۔۔۔! اپنے شعور کے بند دروازے کھولنا اور دوسروں تک اس ادراک کو پہچاننا۔ آج جس اہم معاملے پر میں نے قلم اٹھایا ہے وہ ہے ’’پاکستان کا دفاعی بجٹ‘‘ یہ معاملہ جتنا اہم ہے اتنا ہی حساس ہے ۔ اور جتنا حساس ہے اتنا ہی غلط فہمی پر بھی مبنی ہے!

جب ہم کسی چیز کو جانتے نہیں تو اس کے بارے میں غلط اطلاع یا غلط تاثر پھیلا دیتے ہیں اور ایسا ہی کچھ معاملہ پاکستان کے دفاعی بجٹ کے متعلق بھی ہے۔ اغیار کی ریشہ دوانیاں اور پراپیگنڈہ تو ایک طرف اس پر آخر میں بات کروں گی‘ پہلے ان ’’اپنوں‘‘ کے لئے کچھ حقائق سامنے رکھوں گی جو غلط فہمی یا تحقیق کی کمی کے باعث پاکستان کے دفاعی بجٹ پر انگلیاں اٹھاتے ہیں۔

یہ بھی واضح رہے کہ خطے میں پاکستان کا دفاعی بجٹ سب سے کم ہے۔ دنیا کے تمام ممالک کے دفاعی بجٹ پر بنی ہوئی ورلڈ بینک کی رپورٹ اٹھا کر دیکھ لیجئے۔ اندازہ ہو جائے گا کہ خطے میں پاکستان کا دفاعی بجٹ کیا ہے؟

پاکستان کے دفاعی بجٹ کے بارے میں غلط فہمی ہے کہ یہ مکمل بجٹ کا 70 یا 80 فیصد حصہ لے جاتا ہے ایسا قطعاً نہیں۔ پچھلے مالی سال 2014-15 کا بجٹ اٹھا کر دیکھ لیجئے۔ مکمل بجٹ کا خرچ 4302 ارب روپے تھا جو مالی سال2013-14 سے7.9 فیصد زیادہ تھا۔ اس میں سے 700 ارب روپے ڈیفنس افیئرز اینڈ سروسز کے لئے رکھے گئے تھے۔ جسے دفاعی بجٹ کہا جاتا ہے جو کہ کل کے بجٹ کا16.27 فیصد تھا- یہ بجٹ افواجِ پاکستان کی تینوں شاخوں‘ آرمی‘ ایئر فورس اور نیوی کے لئے تھا۔ اس بجٹ میں سے 48 فیصد آرمی‘ 20 ایئر فورس اور 10 فیصد نیوی کے لئے مختص تھا۔ جبکہ باقی ماندہ بجٹ انٹر سروسز اداروں‘ ڈیفنس پروڈکشن ڈویژن اور پاکستان ملٹری اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کے لئے مختص تھے۔ اس بجٹ کا زیادہ حصہ ملازمین کی تنخواہوں اور دیگر سہولیات پر خرچ کرنے کے لئے مختص تھا۔ دفاعی بجٹ کا خرچ تنخواہوں‘صحت‘ ٹریننگ‘ آپریشنز کی فنڈنگ‘ ہتھیاروں اور دیگر سہولیات‘ دیکھ بھال اور نئی اشیاء کی خریداری پر مشتمل ہوتا ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ2014- 15 کے لئے ملکی اور علاقائی صورت حال کے پیشِ نظر دفاعی بجٹ میں 173 ارب روپے اضافے کی خواہش ظاہر کی گئی تھی لیکن اس کے برعکس اضافہ صرف73 ارب روپے کیا گیا تھا۔

پچھلی دو دہائیوں سے پاکستان کے دفاعی بجٹ میں مسلسل کٹوتی کی جارہی ہے۔ باوجود اس حقیقت کے کہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے پاکستان اگلے محاذوں پر دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے اور پچھلے سال سے آپریشن ضربِ عضب بھی جاری ہے‘ جس کے آپریشنل اخراجات کا اندازہ اس کی کامیابیوں کے تناسب سے لگایا جاسکتا ہے۔یہاں واضح کرنا بھی ضرور ی ہے کہ80 کی دہائی کے آخر تک پاکستان اپنے جی ڈی پی(یا مجموعی ملکی پیداوار) کا 7 فیصد دفاع پر خرچ کرتا تھا جو 90 اور 2000 کی دہائی میں کم کرکے 3.9 فیصد کردیا گیا اور مالی سال 2014 - 15 کے لئے تو دفاعی بجٹ کو مزید کم کرکے 2.4 فیصد کردیا گیا۔

اس کے علاوہ یہ بھی واضح رہے کہ خطے میں پاکستان کا دفاعی بجٹ سب سے کم ہے۔ دنیا کے تمام ممالک کے دفاعی بجٹ پر بنی ہوئی ورلڈ بینک کی رپورٹ اٹھا کر دیکھ لیجئے۔ اندازہ ہو جائے گا کہ خطے میں پاکستان کا دفاعی بجٹ کیا ہے؟ ورلڈ بینک کی یہ رپورٹ جی ڈی پی کے حساب سے ملکوں کے دفاعی بجٹ کا فیصد بتاتی ہے اور یاد رکھئے گا کہ جن ملکوں کا ڈیٹا میں آپ کو بتاؤں گی ان کی ملکی معیشت کا حجم اور افراطِ زر کو بھی مدِ نظر رکھئے گا۔

2005سے 2009 میں بھارت نے اپنا دفاعی بجٹ 2.8 فیصد سے بڑھا کر 2.9 فیصد تک کردیا۔ چین نے اپنا دفاعی بجٹ 2.0 فیصد سے بڑھا کر 2.2 فیصدکردیا جبکہ اس کے برعکس خطے میں پاکستان نے اپنی معیشت کے اعتبار سے اپنے دفاعی بجٹ میں کٹوتی کی اور اسے 4.2 فیصد سے 3.3 فیصد تک لے آیا۔ جبکہ اسی عرصے میں امریکہ نے بھی اپنے دفاعی بجٹ میں چین اور بھارت کی طرح اضافہ کیا اور اسے 3.8 فیصد سے 4.6 فیصد تک لے گیا۔

80کی دہائی کے آخر تک پاکستان اپنے جی ڈی پی (یا مجموعی ملکی پیداوار) کا 7 فیصد دفاع پر خرچ کرتا تھا جو90 اور 2000 کی دہائی میں کم کرکے 3.9 فیصد کردیا گیا اور مالی سال 2014-15 کے لئے تو دفاعی بجٹ کو مزید کم کرکے 2.4 فیصد کردیا گیا۔

اب آجایئے 2010-2014 کے ڈیٹا پر۔ اس عرصے میں البتہ بھارت اور چین نے اپنے دفاعی بجٹ میں کمی کی اور پاکستان بھی پہلے کی طرح مستقل مزاجی کے ساتھ مسلسل اپنے دفاعی بجٹ میں کمی کرتا رہا۔ بھارت نے دفاعی بجٹ 2.1 فیصد تک کردیا۔ چین 2.7 فیصد سے 2.4 فیصد تک لے آیا۔ امریکہ نے بھی اپنے دفاعی بجٹ میں معمولی کمی کی اور اسے4.7 فیصد سے3.8 فیصد پر لے آیا۔لیکن اب پڑوسی ملک بھارت سے خبر ہے کہ وہ آئندہ مالی سال 2015-16 کے لئے اپنا دفاعی بجٹ 40 ارب ڈالر کی بھاری رقم تک بڑھا رہا ہے جو 2014-15 کے لئے 35ارب ڈالر تھی ! یہ اُس اضافی بجٹ سے علیٰحدہ ہے جسے اگر شامل کیا جائے تو انڈیا کا موجودہ دفاعی بجٹ46 ارب ڈالر سے زائد ہے۔

بھارت پہلے ہی دنیا میں ہتھیاروں کا سب سے بڑا خریدار ہے۔ 2013 میں بھارت نے 6 ارب ڈالر ہتھیاروں کی خریداری پر خرچ کئے۔ بھارت کے بڑھتے ہوئے جنگی جنون اور اسرائیل کے ساتھ بڑھتے ہوئے دفاعی معاہدوں کی بنیاد پر ضرورت اس بات کی ہے کہ اس بحث کو فروغ دیا جائے کہ آیا پاکسان کو بھی اپنا دفاعی بجٹ اس سال بڑھانے کی ضرورت ہے یا نہیں؟؟ بحث میں اس حقیقت کو مدِ نظر رکھنا ہوگا کہ پاکستان میں دہشت گردوں کے خلاف کئی آپریشنز بھی چل رہے ہیں جو اپنی کامیابی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ان آپریشنز کی کامیابی کی رفتار پر اختلاف یا بحث ہو سکتی ہے لیکن پاکستان میں کسی بھی شخص کو اس بات سے اختلاف نہیں کہ ان آپریشنز کو ہر حال میں کامیاب بنانا ہے ’’چاہے گھاس ہی کیوں نہ کھانی پڑے۔‘‘ یاد رہے یہ جملہ صرف محاورتاً استعمال ہوا ہے۔ اس کے علاوہ ’’را‘‘ کی سرگرمیاں پاکستان میں بڑھتی جارہی ہیں۔ ان کا سدِ باب کرنے کے لئے بھی دفاعی بجٹ کی ضرورت ہے۔

میرا ذاتی خیال ہے کہ آئندہ مالی سال 2015-16 کے لئے دفاعی بجٹ میں اضافہ ناگزیر ہے۔ اس اضافے کی مقدار کیا ہونی چاہئے‘ اس پر بحث لازم ہے اور میرا خیال ہے کہ متعلقہ حلقوں میں یہ بحث رواں ہوگی اور آخر میں حتمی فیصلہ قومی اسمبلی کی بجٹ بحث میں ہوگا۔ لیکن اس کے ساتھ میری توقع یہ بھی ہے کہ تعلیم‘ صحت اور ترقیاتی اخراجات میں بھی مناسب اضافہ کیا جائے گا اور اس اضافے کے درست اور شفاف استعمال کو بھی یقینی بنایا جائے گا تاکہ اس کی آڑ میں ملک کے دفاعی بجٹ کے متعلق غلط فہمی کو ہوا نہ دی جاسکے۔ آخر میں مجھے یقین ہے کہ میری اس تحریر کے ذریعے بہت سے لوگ جو دفاعی بجٹ کے متعلق نہیں جانتے تھے‘ اب جان چکے ہوں گے اور اپنے شعور ادراک کے دروازوں کو تحقیق کے لئے کھلا رکھیں گے۔

یہ تحریر 167مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP