یوم آزادی

پاکستان کاروشن مستقبل

موجودہ پاکستان، کامیابیاں، چیلنجز اورممکنہ حل

وطن عزیز تمام ترمشکلات اورچیلنجز کے باوجود درست سمت کی جانب آگے بڑھ رہاہے۔ہماری ترجیحات واضح ہیں اورمستقبل روشن۔ پوری قوم نے دہشت گردوں کے خلاف جنگ کامیابی سے لڑی ہے،سکیورٹی فورسز اورعوام نے اپنی جانوں کی قربانیاں دے کردنیا کے لئے ایک مثال قائم کی ہے۔ پاکستان کی جغرافیائی اہمیت کوبھی پوری دنیا تسلیم کرتی ہے۔پاکستان معدنیات سے مالامال ہے۔ایک طرف برف پوش پہاڑ ہیں تودوسری طرف زرخیز زمین اور گہرا سمندر۔ چار موسم قدرت کاانمول تحفہ اورسونے پرسہاگہ ہیں،یہ موسم لاجواب ہیں۔یقین کیجئے پاکستان جن نعمتوں سے مالا مال ہے دنیا کے بہت سے ممالک ان نعمتوں کو ترستے ہیں۔ ہمارے لئے ایک اچھی بات یہ  ہے کہ پاکستان میں اکثریت نوجوانوں کی ہے جو مختلف شعبوں میں مہارت حاصل کررہے ہیں۔یہ باصلاحیت



 نوجوان پاکستان کامستقبل ہیں۔پاکستان ،چین،روس اورسنٹرل ایشیا کے ممالک کے درمیان تعلقات میں اضافہ ہوا ہے اوریہ خطہ جدید دور کانیا تجارتی واقتصادی  مرکز ہے۔پاکستان کے سعودی عرب،قطر،ایران اورترکی سے دوستانہ تعلقات کے باعث پاکستان اور چین کے لئے اپنی مصنوعات گوادر کے راستے مشرق وسطی اوریورپ بھیجنا بہت آسان ہوجائے گا۔چین کی طرح پاکستان بھی جلد دنیا کاایک بڑا اورکامیاب کھلاڑی بن کرسامنے آئے گا، یہ صدی ایشیا کی صدی ہے۔پاکستان امریکہ اورمغربی ممالک کی مخالفت کے باوجود چین کے بیلٹ اینڈ  روڈ منصوبے کوبھرپورطریقے سے سپورٹ کررہاہے۔پاکستان اورچین کے درمیان یہ تعلقات دیرپا اورانتہائی پائیدار ہیں۔ سی پیک کی تکمیل کے بعد پاکستان میں خوشحالی کاایک نیادور آئے گا۔ 
 ہمیں اس وقت اگرکوئی چیلنج ہے تووہ اپنی معیشت کوبہتربنانے کاہے ۔ اس  کے لئے حکومت اپنے طورپرکوششیں کررہی ہے ۔بیرون ملک مقیم پاکستانی بھی ملک میں سرمایہ کاری کے لئے اپناکردار ادا کرنے کو تیارہیں،جبکہ دوست ممالک بھی مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کااعلان کرچکے ہیں۔ تاہم یہ بات اہم ہے کہ معاشی بحران سے نمٹنے کے لئے حکومت اورعوام کومل کرکام کرناہوگا۔ صنعت وتجارت سے وابستہ افراد کی ذمہ داریاں عام آدمی سے کئی گنابڑھ جاتی ہیں۔نجی شعبے کے کردار کونظرانداز نہیں کیاجاسکتا۔آج کی دنیا میں امریکہ،جاپان،کوریا اورچین کی معیشت کومضبوط بنانے والی وہاں کی صنعتی و تجارتی کمپنیاں  اورسرمایہ کارہیں۔یہ کمپنیاں جولوگوں کوبڑے پیمانے پرروزگارفراہم کررہی ہیں اوراپنی حکومتوں کو اربوں ڈالرکما کردے رہی ہیں۔ان اربوں ڈالر کے ٹیکسوں سے ہی ان ملکوں کی معیشت چل رہی ہے اورعوام کوصحت وتعلیم کی سہولتیں فراہم کی جارہی ہیں۔
سیاسی ومعاشی استحکام ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔جہاں سیاسی استحکام نہ ہو وہاں معاشی استحکام مشکل ہے اورجہاں معاشی استحکام نہ ہو وہاں سیاسی استحکام بھی نہیں ہوتا۔بعض گروپ  اپنے سیاسی عزائم کے لئے عوام میں انتشاراورخوف وہراس پھیلانے کی کوششیں کرتے رہتے ہیں ایسا ہرحکومت کے خلاف ہوتاہے،یہ کوئی نئی بات نہیں۔
  ہم معاشی مشکلات کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کابھی شکارہیں۔پاکستانی قوم اورفورسز نے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے جتنی قربانیاںدی ہیں دنیامیں اس کی مثال نہیں ملتی۔لیکن بدقسمتی سے ہماری قربانیوں کاکھلے دل سے اعتراف نہیں کیاجاتا۔
 حکومت نے سکیورٹی فورسزکی مدد سے دہشت گردی کے مسئلے پرقابوپالیاہے۔ وطن عزیز میںجہاں ہرروز دھماکے ہوتے تھے اب ایسا نہیں ہے۔ایک وقت تھا ہمارے میڈیا کے لئے کسی دن دھماکہ نہ ہونااوردن خیریت سے گزرجاناحیران کن بات ہوتی تھی۔ہم دہشت گردی کی خبریں سننے کے عادی ہوگئے تھے۔ضرب عضب اورآپریشن ردالفساد نے دہشت گردوں کی کمرتوڑ دی۔ آج سکیورٹی فورسز اورپوری قوم ایک پیج پرہے۔ ملک میں امن قائم ہوگا تو معیشت بھی ترقی کرے گی،دنیامیں کوئی ایسی مثال نہیں ملتی کہ کسی ملک نے امن کے بغیر ترقی کی ہو۔ ماضی میں بعض غلط فیصلوں کے باعث مشکل صورتحال ضرور پیداہوئی لیکن اسے سنبھال لیاگیا۔
سکیورٹی فورسز نے پرامن ماحول فراہم کردیاہے اب اچھی معاشی پالیسیاں بنانامنتخب حکومت کی ذمہ داری ہے۔ ہمارا ایک المیہ یہ ہے کہ ہم اپنے مسائل خود حل کرنے کے بجائے دوسروں کی طرف دیکھتے ہیں ۔اگرہم اپنی ذات اوراپنے گھر،محلے سے مسائل کوحل کرناشروع کریں توکوئی مسئلہ ،مسئلہ ہی نہیں رہے گا۔ لیکن ہماری عادت یہ ہے کہ ہم اپنے گھرکاکوڑا گلی میں ڈال دیتے ہیں اوراپنی گاڑی میں موجود کوڑا صاف ستھری سڑک پرپھینک دیتے ہیں اورہمیں ذرا بھی اپنی غلطی کااحساس نہیں ہوتا۔ ہم ایک قوم کے بجائے ایک ہجوم کی طرح رہ رہے ہیں۔ہم میں سے بعض معجزوں کے منتظرہیں وہ اس بات کے لئے تیارنہیں کہ ملک وقوم کی ترقی کے لئے  اپنابھرپورکردار ادا کریں۔ ہم میں سے اکثرچاہتے ہیں کہ کوئی آئے اورہمارے مسائل چٹکی بجاکرحل کردے۔پاکستان آج جن مشکلات کاشکارہے اس کی بنیادی وجہ کرپشن اورغلط پالیسیاں ہیں۔یہ مسائل چٹکی بجاکرحل نہیں ہوں گے بلکہ دہشت گردوں کی طرح کرپشن میں ملوث مافیاکے خلاف بھی آپریشن کرناہوگا۔
ایک دورتھاجب بعض یورپی ممالک اورجنوبی کوریاجیساملک ترقی کے لئے پاکستان کی طرف دیکھتے تھے ۔کراچی اوراسلام آباد کے دنیا بھرمیں چرچے تھے۔سیئول،دوبئی اورریاض کراچی کے مقابلے میں کچھ بھی نہ تھے۔چندسال پہلے کراچی میں ایک تقریب میں جنوبی کوریاکے سفیر نے اس بات کاکھلے دل سے اعتراف کیاکہ جنوبی کوریا آج جوکچھ بھی ہے وہ پاکستان کے پانچ سالہ منصوبے پرعمل کرکے ہے۔جنوبی کوریاکے ماہرین پاکستان آئے اورپاکستانی ماہرین سے پانچ سالہ منصوبوں کے بارے میں معلومات اورتربیت حاصل کی۔جنوبی کوریاکی حکومت نے ان پانچ سالہ پروگرامز کولاگوکیا آج ان کی معاشی ترقی دنیاکے لئے ایک مثال ہے۔فرق صرف اتناہے کہ جنوبی کوریامیں سیاسی استحکام رہا حکومت اورعوام ترقی کے لئے جڑگئے ہمارے یہاں سیاسی عدم استحکام رہا،کرپٹ لوگوں  نے لوٹ مار شروع کردی ۔ہم کرپشن اورنااہلی کے گرداب میں پھنس گئے اورجنوبی کوریاہم سے بہت آگے نکل گیا۔آج کی ایک عالمی طاقت جرمنی کی معاشی حالت بھی کچھ اچھی نہ تھی ، یہ پاکستان ہی تھا کہ 1963 میں مغربی جرمنی کو مالی مشکلات پرقابوپانے کے لئے 25 ملین ڈالر کی رقم فراہم کی۔جو آج کے حساب سے 250 ملین ڈالر سے زیادہ بنتی ہے۔
مشرق وسطی کے کئی ممالک ان کے درجنوں شہر اورملٹی نیشنل ادارے پاکستانی ماہرین اورحکومت کی مدد کے باعث آج اپنی منفرداورترقی یافتہ شناخت بنانے میں کامیاب ہوئے۔نوجوانوں کے لئے یہ بتاتاچلوں کہ صدرجنرل ایوب خان امریکہ کے د ورے پرگئے توامریکی صدراوراعلیٰ قیادت ان کے استقبال کے لئے خود ائیرپورٹ پہنچے۔پاکستان کی مقبولیت اوراہمیت کایہ عالم تھا کہ امریکی عوام  پاکستانی صدر کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے سڑکوں پرامڈ آئے اوران کاپرتپاک استقبال کیا۔
 ہمسایہ اوربرادرملک چین کی مثال بھی ہمارے سامنے ہے۔چین کوسب سے پہلے پاکستان نے تسلیم کیا،چین اورامریکہ کے درمیان سفارتی رابطہ کرانے میں بھی پاکستان کاکردار کسی سے پوشیدہ نہیں۔دسمبر 1956ء میں چین کے وزیراعظم چو این لائی پاکستان کے دورے پرآئے تولاہورمیں گاڑیوں کی تعداد دیکھ کرحیران رہ گئے ۔ان کایہ جملہ سن کرہرپاکستانی کاسینہ فخرسے پھول گیا کہ اتنی گاڑیاں توپورے چین میں نہیں۔ لیکن آج اسی چین کے ایک شہر میں جتنی گاڑیاں ہیں ہمارے پورے پاکستان میں نہیں۔ چین نے یہ ترقی محض محنت اورمنصوبہ بندی کے ذریعے حاصل کی۔
 امریکی ڈالر آج اوپن مارکیٹ میں ایک سو ساٹھ روپے کوچھو رہاہے لیکن 1954 ء میں یہ امریکی ڈالر پاکستانی تین روپے کے برابر تھا۔ توقع ہے کہ معاشی حالت بہترہوئی اورادائیگیوں کاتوازن ٹھیک ہوگیا توروپے کی قدربہترہوناشروع ہوجائے گی۔اسی طرح تعلیم،صحت اورسپورٹس کے شعبے میں ہم ترقی یافتہ ممالک سے آگے نہیں تھے توبہت پیچھے بھی نہیں تھے۔قومی کھیل ہاکی،سکوائش،کرکٹ اوربہت سے دوسرے کھیلوں میں ہمارے کھلاڑی فتوحات بٹوررہے تھے۔ایک دور تھا سکواش جوبرطانیہ کامقبول کھیل ہے پاکستان اس کھیل کابادشاہ تھا اورتمام انٹرنیشنل ٹائٹلزپاکستانی کھلاڑیوں کے پاس تھے۔
  اپنے نوجوان قارئین کوماضی کے یہ چند واقعات بتانے کامقصد یہ ہے کہ پاکستان کبھی دنیاکے لئے ایک مثال اور ایک اہم ملک کی حیثیت رکھتاتھا۔مغربی جرمنی ،جنوبی کوریا اورمشرق وسطی کے ممالک حسرت سے پاکستان کودیکھتے تھے۔ ہمارا ماضی بھی تابناک تھا اورمستبقل بھی روشن ہے ہمیں مایوس ہونے کی قطعاً ضرورت نہیں ۔
   1997 ء میں پوری قوم نے پاکستان کی پچاسویں سالگرہ منائی،میں ان دنوں ایک قومی اخبارمیں سیاسی رپورٹرتھا۔پاکستان کے پچاس سال کے حوالے سے بہت سی رپورٹیں لکھیں اورتحریک پاکستان کے کارکنوں سے بھی ملاقاتیں کیں ان میں بہت سے کارکن ایسے تھے جنہوں نے بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح اورشاعرمشرق حضرت علامہ اقبال کے ساتھ بھی کچھ وقت گزارا تھا۔انھیں علم تھاکہ پاکستان کے حوالے سے بانی پاکستان کاکیاوژن تھا۔قائداعظم محمد علی جناح کیساپاکستان چاہتے تھے۔ قائداعظم زندہ ہوتے توپاکستان آج بہت سے ممالک سے آگے ہوتا۔ قائداعظم کی وفات کے بعد ہماری قیادت وطن عزیزکودرست سمت میں نہ چلاسکی اوروقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہم معاشی طورپرکمزور ہوتے چلے گئے۔پہلے ہماری ترقی کاگراف مسلسل اوپرجارہاتھا لیکن پھرکیاہواکہ زوال شروع ہوگیا۔
   سوال یہ ہے کہ اس وقت پاکستان کوجوچیلنجز درپیش ہیں ان کاحل کیاہے؟ پہلے تویہ طے کرلیاجائے کہ چیلنجز کیاہیں اوران کی نوعیت کیسی ہے؟ ہمیں جوچیلنجزدرپیش ہیں ان میں دہشت گردی،کرپشن،لوڈ شیڈنگ اوربے روزگاری کاخاتمہ،صحت وتعلیم کی فراہمی بنیادی ایشوزہیں۔عوام کویہ بھی شکایت ہے کہ مہنگائی مسلسل بڑھ رہی ہے جبکہ آمدنی کم ہورہی ہے۔حکومت کوترجیحی اورہنگامی بنیادوں پران مسائل کوحل کرنے کے لئے دن رات کام کرناہوگا۔حکومت مطمئن ہے کہ وہ جلد ان مشکلات پرقابوپالے گی ۔  
حکومت نے سکیورٹی فورسز کی مدد سے  دہشت گردی ختم کرنے میں اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں اوربیرونی دنیامیںبھی ہماری کارکردگی کوسراہاجارہا ہے۔ ان کامرانیوں کوقائم رکھنے کے لئے سیکورٹی فورسز کے ہاتھ مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ کرپشن کے خاتمے کے لئے نیب کاادارہ کام کررہاہے۔ ملک میں ایک ایسا واضح اورمربوط نظام ہوناچاہئے کہ کوئی بھی شخص کرپشن کرنے سے پہلے ہزاردفعہ سوچے اورکرپشن کرنے کی جرأت نہ کرے۔ لیکن ہویہ رہاہے کہ جن لوگوں پرکرپشن کے الزامات لگ رہے ہیں وہ اپنے خلاف کیسز کوسیاسی انتقام قراردے کراپنادامن بچانے کی کوشش کررہے ہیں۔ قانون موجود ہے کہ جس سرکاری افسر کے بارے میں عام تاثر یہ ہو کہ وہ کرپٹ ہے تواسے کرپٹ ہی سمجھاجائے گا ۔ اگرکسی شخص کارہن سہن اس کی آمدنی کے مطابق نہیں تو اسے اپنے ذرائع آمدنی یامنی ٹریل پیش کرناچاہئے۔ لیکن ہمارے یہاں ہوتایہ رہاہے کہ آمدنی پچاس ہزارسے زیادہ نہیں ہوتی لیکن اخراجات لاکھوں روپے ماہانہ ہوتے ہیں۔مہنگی گاڑیوں میں گھومتے پھرتے ہیں کروڑوں روپے مالیت کے بنگلوں میں رہتے ہیں۔ اگرکوئی پوچھے کہ یہ پیسہ کہاں سے آیا توہم برامان جاتے ہیں اور اسے 1973 ء کے آئین کے خلاف قراردیتے ہیں۔ ٹیکس چوروں کوٹیکس نیٹ ورک میں لانے کی ضرورت ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ پاکستان میں ایف بی آر کے حکام کووہ اختیارات حاصل نہیں جوترقی یافتہ ممالک یاہمارے ہمسائے ملک کے ایف بی آرحکام کے پاس ہیں۔ جوبغیراجازت کسی کے گھرمیں بھی داخل ہوسکتے ہیں اورپوچھ سکتے ہیں کہ یہ فرج یا ٹی وی کہاں سے آیا؟ ہمارے یہاں ٹیکس دینے والوں میں زیادہ تعداد سرکاری ملازمین کی ہے۔تاجروں اورسرمایہ کاروں کی بڑی تعداد ٹیکس نیٹ ورک سے باہر ہے۔ لوگوں میں یہ احساس پیدا کرنے کی ضرورت ہے کہ دنیامیں کوئی ملک بھی ٹیکسوں کے بغیرنہیں چل سکتا۔ امریکہ،برطانیہ اوردیگرکئی ممالک میں آمدنی اوراشیاء  پرٹیکس کی شرح پاکستان سے زیادہ ہے۔ ہمارے یہاں تو کروڑوں روپے مالیت کی مہنگی گاڑیوں کے مالکان کی اکثریت انکم ٹیکس گوشوارے ہی نہیں جمع کراتی ۔ایک وقت میں دس ہزارروپے کھانے کابل دینے والے سالانہ دس ہزار روپے ٹیکس نہیں دیتے۔جولوگ ٹیکس دے رہے ہیں ان کی تعداد آٹے میں نمک کے برابرہے۔
   حکومتی اقدامات اوردوست ممالک کی جانب سے مالی مدد کی فراہمی کے بعد توقع ہے کہ حکومت کومسائل حل کرنے میں مدد ملے گی۔دوست ملک چین کی مدد سے جومنصوبے جاری ہیں ان کے مکمل ہونے کے بعد روزگارکے مواقعوں میں بھی اضافہ ہوگا۔ سی پیک یقینی طورپرپاکستان اورپاکستانیوں کی خوشحالی کامنصوبہ ہے۔ سی پیک کے تحت منصوبوں کوبغیر کسی تاخیر کے وقت پرمکمل کرنے کی ضروت ہے۔
پاکستان نے مالی بحران سے نمٹنے کے لئے آئی ایم ایف اورایشیائی ترقیاتی بنک سے قرضہ لیاہے،جس کی بعض شرائط بے حد کڑی ہیں لیکن امید ہے کہ ان قرضوں کواللوں تللوں میں خرچ کرنے کے بجائے ملکی معیشت کوبحران سے نکالنے پرخرچ کیاجائے گا۔چین نے بھی پاکستان کواقتصادی ترقی کے لئے قرضے فراہم کئے ہیں۔بعض مغربی ماہرین وینزویلا،سری لنکا اورکرغیزستان کی مثالیں دے کرمشورہ دے رہے ہیں کہ چین سے قرضے نہ لئے جائیں ورنہ معاشی آزادی برقرار نہیں رہے گی۔اسی طرح ہم آئی ایم ایف سے جوقرضہ لے رہے ہیں امریکہ نے پابندی عائد کی ہے کہ یہ قرضے چینی قرضوں کی قسط ادا کرنے پرخرچ نہیں کئے جاسکتے۔
  1947ء میں آزادی کے بعد سے پاکستان نے کئی نشیب وفراز دیکھے۔بعض ادوار میں حکومتی پالیسیوں کے باعث معاشی بحران میں اضافہ ہوا لیکن اب توقع ہے کہ ہم درست سمت میں جارہے ہیں عارضی طورپرکچھ تنگی محسوس ہورہی ہے لیکن جوں جوں حکومتی آمدنی میں اضافہ ہوگا مسائل کم ہوناشروع ہوجائیں گے۔آبادی میں بڑھتے ہوئے اضافے کوبھی کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے۔ بغیر کسی منصوبہ بندی کے آبادی میں اضافے کے ملکی معیشت پرمنفی اثرات پڑتے ہیں تودوسری طرف اس کے کئی منفی سماجی اثرات بھی مرتب ہوتے ہیں۔بحیثیت قوم ہماری یہ بھی ذمہ داری ہے کہ ہم فرقہ واریت،نسلی ولسانی تعصب کی عینک لگانے کے بجائے صرف اورصرف پاکستانی بن کرسوچیں۔ہمارا نعرہ ''سب سے پہلے پاکستان'' ہوناچاہئے ۔پاکستان ترقی کرے گاتوپاکستان میں بسنے والے تمام لوگوں کواس کافائدہ ہوگا۔ ترقی کسی خاص علاقے یامخصوص لوگوں تک محدود نہیں رہتی۔دوسری طرف ہمیں اپنے  دشمنوں سے بھی ہوشیاررہنے کی ضرورت ہے جوملک و قوم کی جڑیں کھوکھلی کرنے میں مصروف ہیں۔
    حرف آخریہ کہ ہمیں آزادی حاصل کئے بہتّر(72)سال گزرچکے ہیں،ہمیں پاکستان کوکسی ایک سیاسی جماعت یااس کے لیڈرکے وژن کے بجائے قائداعظم محمد علی جناح کے بتائے ہوئے وژن کے مطابق چلاناہے ۔پاکستان کاسیاسی، معاشی اورسماجی نظام قائداعظم کے فرمودات کے مطابق ہونا چاہئے۔ آزادی کے بعد قائداعظم تمام طبقات،فرقوں اورمذاہب کونسلی ولسانی تفریق کئے بغیر ریاست کامساوی شہری بنانے کے حامی تھے۔حضرت قائداعظم محمد علی جناح مذہبی انتہاپسندی کے خلاف تھے وہ پاکستان کوایک جمہوری ،فلاحی اسلامی ریاست بناناچاہتے تھے۔ہماری منزل ایک ایسا ہی روشن خیال ،خوشحال اور ترقی یافتہ پاکستان ہے۔مجھے پختہ یقین ہے کہ 2047ء میں جب قوم قیام پاکستان کی سوسالہ تقریبات منارہی ہوگی ،شایداس وقت تک ہم میں سے بہت سے لوگ نہیں رہیں گے۔پاکستان اپنی کھوئی ہوئی منزل حاصل کرچکاہوگادنیا ہمیں ایک ترقی یافتہ اور خوشحال پاکستان کی حیثیت سے دیکھے گی ۔بہت سے ممالک ترقی کے لئے ہم سے رہنمائی حاصل کریں گے۔


مضمون نگاراخبارات اورٹی وی چینلزکے ساتھ وابستہ رہے ہیں۔آج کل ایک قومی اخبارمیں کالم لکھ رہے ہیں۔قومی اورعالمی سیاست پر اُن کی آٹھ کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔
[email protected]
 

یہ تحریر 32مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP