صحت

پاکستان میں کرونا ویکسین کا آغاز 

کرونا وائرس 2019 کے آخر میں سامنے آیا لیکن پھر کوووڈ ۔19 کے  نام سے عالمی وبا کی شکل میں اس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
 اس بیماری میں مبتلا ہونے والے زیادہ تر افراد میں اس بیماری کا اتنا اثر نہیں ہوتا اور وہ صحت یاب بھی ہو رہے ہیں مگر کچھ افراد اس کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے گئے۔
کرونا وائرس سے محفوظ رہنے کے لئے دنیا بھر کے سائنسدان مختلف ویکسینز بنا رہے ہیں جو ہمیں کرونا وائرس کے حملے سے محفوظ رکھنے میں مددگار ثابت ہوںگی اور اب پاکستان بھی ان ملکوں میں شامل ہو گیا ہے جہاں کرونا وائرس کی ویکسین دستیاب ہونا شروع ہو گئی ہے اور اس کے لئے حکومت پاکستان نے ایک ڈیٹا مرتب کیا ہے جس میں ویکسین لگانے کے حوالے سے جائزہ لے کر فیصلہ کیا ہے کہ پہلے مرحلے میں صحت سے متعلقہ شعبے سے منسلک عملے کو ویکسین لگائی جائے گی، دوسرے مرحلے میں ساٹھ سال یا اس سے بڑی عمر کے افراد کو ویکسین لگائی جائے گی جبکہ تیسرے مرحلے میں اٹھارہ سال اور اس سے بڑی عمر کے افراد کو ویکسین فراہم کی جائے گی۔
ویکسین مستقبل میں ہونے والی کسی مخصوص بیماری کے حملوں کے خلاف ہمارے اندر قوت مدافعت کوبڑھانے کا کام کرتی ہے۔جب کوئی جرثومہ ہمارے جسم میں داخل ہوتا ہے تو ہمارا مدافعتی نظام اس سے لڑنے کی کوشش کرنے کے لئے اینٹی باڈیز بناتا ہے۔ ہمارا بیمار ہونا یا نہیں ہونا ہمارے مدافعتی رد عمل کی طاقت اور یہ کہ یہ طاقت کتنے مؤثر طریقے سے اینٹی باڈیز جراثیموں سے لڑتی ہے، پر منحصر ہوتا ہے۔اگر ہم بیمار ہو جاتے ہیں تو پیدا کی گئی کچھ اینٹی باڈیز ہمارے جسم میں ہمارے تندرست ہو جانے پر ایک محافظ کی طرح موجود رہتی ہیں اور اگر ہم مستقبل میں انہی جراثیم کی زد میں آ جاتے ہیں تو اینٹی باڈیز اس کی شناخت کر کے اسے بھگا دیتی ہیں۔
ویکسین اسی قوت مدافعت کی وجہ سے کام کرتی ہیں، انہیں ایک ہلاک شدہ، کمزور یا جراثیم کے جزوی حصے سے بنایا جاتا ہے۔ جب ہم کوئی ویکسین لگواتے ہیں تو یہ جراثیم کے جس حصے پر بھی مشتمل ہو، اس میں ہمیں بیمار کرنے کی طاقت یا بھرپور طاقت موجود نہیں رہتی ہے لیکن یہ اپنے خلاف ہماری قوت مدافعت کے ذریعے اینٹی باڈیز پیدا کر لیتے ہیں جس کے باعث بیمار ہوئے بغیر ہم بیماری کے خلاف امیونٹی یا قوت مدافعت حاصل کر لیتے ہیں اور پھر اگر ہم دوبارہ ان جراثیم کی زد میں آ جاتے ہیں تو ہماری قوت مدافعت اس کی شناخت کرتی ہے اورہم اسے باہر بھگانے کے قابل ہو جاتے ہیں۔
ویکسین کو ایک مدافعتی رد عمل پیدا کرنے کے لحاظ سے ڈیزائن کیا جاتا ہے جبکہ انفرادی قوت مدافعت کافی مختلف ہوتی ہے جس سے کچھ صورتوں میں کسی شخص کی قوت مدافعت ایک مناسب رد عمل نہیں بنائے گی۔ اس کے ساتھ کچھ ویکسینز کو بوسٹرز کی بھی ضرورت ہوتی ہے جیسے کرونا ویکسین کی دو خوراکیں لازمی ہیں۔ ایک حالیہ تحقیق کے مطابق کسی خاص بیماری کے خلاف قوت مدافعت کے تسلسل کا انحصار اس رفتار پر ہو سکتا ہے جس کے ساتھ بیماری جسم میں پھیلتی ہے اگر کوئی بیماری بہت تیزی سے بڑھتی ہے تو قوت مدافعت کی یادداشت کا رد عمل انفیکشن کی روک تھام کے لئے فوری طور پر رد عمل کا اظہار نہیں کر پاتا لہٰذا بوسٹرز ہماری قوت مدافعت کے لئے ایک یاد دہانی کے طور پر کام کرتے ہیں۔
کرونا ویکسین کے حوالے سے ابھی کچھ ایسے ابہام ہیں جو آہستہ آہستہ  مزید تحقیق اور وضاحت کے ساتھ دور ہوتے جائیں گے۔مگر اس حوالے سے ویکسین لگوانے والے افراد کو بھی اس کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔اگر کسی کو الرجی ہے یا مختلف ادویات استعمال کرتے ہیں تو اس بارے میں ویکسین لگوانے سے پہلے لازمی آگاہ کریں۔ اکثر لوگوں کو ویکسین لینے کے بعد ایک سے دو ہفتوں میں تحفظ حاصل ہو جاتا ہے مگر ویکسین لگوانے والے کو آئندہ بھی انفیکشن سے بچائو کے عام اصولوں پر عمل جاری رکھنا ہوگا جس میں ماسک کا استعمال ، ہاتھوں کی صفائی اور سماجی دوری قابل ذکر ہیں۔
کرونا ویکسین لگنے کے بعد کچھ افراد میں معمولی علامات ضرور ظاہر ہوتی ہیں جیسے پٹھوں میں درد، ہلکا بخار وغیرہ مگر یہ بیماری نہیں ہے بلکہ ویکسین لگنے کے بعد جسم کا رد عمل ہوتا ہے۔
سائینو فارم(Sinopharm) کے نام سے چینی ویکسین متعارف کروائی جاچکی ہے۔ اس کے علاوہ دنیا بھر میں بہت سی کرونا ویکسینز تیار کی جارہی ہیں جن میں سے کچھ میں اسی وائرس کی کمزور شکل کو استعمال کیا گیا ہے ۔آکسفورڈ یونیورسٹی اور آسٹراز نیکا(Oxford- Astrazeneca)کی تیار کردہ ویکسین میں ایک غیر نقصان دہ وائرس کا استعمال کیا گیا ہے جو کرونا وائرس سے مشابہت رکھتا ہے جبکہ فائزرPfizer، (بائیواین ٹیک(Bio NTech) اور موڈرنا (Moderna)کی تیار کردہ ویکسین میں ایک جینیاتی کوڈ کا استعمال کیا گیا ہے جو انسانی مدافعتی نظام کے رد عمل کی وجہ سے بنتا ہے اور انہیں ایم آراین اے ویکسینز کہا جاتا ہے یہ ویکسینز انسانی خلیوں میں تبدیلی نہیں کرتی بلکہ یہ صرف انسانی جسم میں کرونا وائرس کے خلاف مدافعت بڑھانے کا کام کرتی ہیں۔
اب تک کی ہونے والی تحقیق کے مطابق کرونا وائرس کی ویکسینز لوگوں کو بہت زیادہ بیمار ہونے سے بچانے اور ان کی زندگی محفوظ رکھنے میں کارگر ثابت ہو سکتی ہیں۔مگر اب تک یہ واضح نہیں ہے کہ ویکسینز کرونا وائرس کے پھیلائو کو روکنے میں کتنی مؤثر ثابت ہوں گی۔
 کرونا وائرس سے بچائو کی ویکسین کی یادداشت کتنے دنوں تک مؤثر رہے گی اس بارے میں کوئی حتمی رائے نہیں ہے۔اسی طرح وائرس کی نئی اقسام آنے سے جسم کا یہ مدافعتی نظام اس کے خلاف مؤثر انداز میں نہیں لڑ سکے گا اور ایسی صورتحال میں ہمیں ویکسین کو بھی بدلنا ہوگا جس طرح ہر سال فلو کی نئی ویکسین بنائی جاتی ہے۔مگر اس کے ساتھ ساتھ ہمیں سماجی فاصلہ بھی برقرار رکھنا ہوگا اور باقاعدگی سے ہاتھ دھونا، بیمار ہونے کی صورت میں گھر پر رہنا اور علامات ظاہر ہونے کی صورت میں ٹیسٹ بھی کروانا ہوگا کیونکہ ابھی ہمیں نہیں معلوم کہ ویکسین کتنی مؤثر ہے۔ ||


مضمون نگار مائکرو بیا لوجسٹ  ہیں اورمختلف اخبارات میں کالم لکھتی ہیں۔ 
[email protected]
 

یہ تحریر 83مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP