قومی و بین الاقوامی ایشوز

پاکستان میں دہشت گردی اوربھارتی مکروہ چہرہ 

23 جون بدھ کادن۔۔
جوہرٹاؤن لاہورمیں رہنے والے اپنے روزمرہ کاموں میں مصروف تھے۔ کوئی نہیں جانتاتھاکہ چند لمحوں بعد کیاقیامت برپاہونے والی ہے۔
بی اوآرسوسائٹی کے ای بلاک میں کالے رنگ کی ایک پرُاسرار گاڑی آکررکتی ہے۔نیلے رنگ کی شلوارقمیض میں ملبوس شخص گاڑی ایک گھرکے آگے کھڑی کرکے تیزی سے نکل جاتاہے۔صبح 11 بج کر8 منٹ پرایک ہولناک دھماکہ ہوتاہے۔جس کی آوازمیلوں دورتک سنائی دیتی ہے۔دھماکہ اتناشدیدتھا کہ جائے وقوعہ پرآٹھ فٹ چوڑا اورتین فٹ گہرا گڑھاپڑگیا۔ کئی گھروں کی چھتیں اوردیواریں اڑ گئیں۔ایک سوسے زیادہ گھربرُی طرح متاثر ہوئے،گھروں اورگلیوں میں کھڑی درجنوں گاڑیاں بھی تباہ ہوگئیں۔دھماکے کے بعد ہرطرف چیخ وپکارسنائی دے رہی تھی۔زخمی مدد کے لیے پکاررہے تھے۔پورے علاقے میں دھواں اورگرد اُڑرہی تھی۔ریسکیوٹیموں،پولیس اوررینجرزنے فوری طورموقع پرپہنچ کرصورتحال کوکنٹرول کیا۔اس واقعہ میں تین افراد شہید اور24زخمی ہوگئے۔میرے ذہن میں ابھی تک اس شدید زخمی پولیس کانسٹیبل طاہر کاچہرہ گھوم رہاہے جس کاایک کندھا بری طرح ٹوٹ گیا تھا،وہ زخموں سے چور تھا،لیکن اس کے چہرے پر خوف کے آثاربالکل نہیں تھے ۔چند گھنٹوں بعد نیوزچینلزپر سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج بھی چلناشروع ہوگئیں۔دیکھتے ہی دیکھتے اس ہولناک دھماکے کی خبرپوری دنیامیں پھیل گئی۔یہ بات بھی اہم ہے کہ جس دن یہ دھماکہ ہوا اُسی دن ایف اے ٹی ایف کااجلاس تھا،جہاں بھارت پاکستان کے خلاف لابنگ کررہاتھا۔ پنجاب پولیس کے شعبہ انسداد دہشت گردی،ملٹری اورسول انٹیلی جنس ایجنسیوں نے فوری طورپراپنی تحقیقات شروع کردیں اورچند ہی گھنٹوں میں پہلے دہشت گرد کوٹریس کرلیاگیا۔دہشت گردوں کے فون کالز ریکارڈسمیت بہت سی دستاویزات قبضے میں لے لی گئیں۔گاڑی کہاں سے چھینی گئی،کس نے کس کے سپرد کی،موٹروے کے راستے لاہورکیسے پہنچی،گاڑی میں دھماکہ خیز مواد کہاں بھراگیا،دہشت گردی کاماسٹرمائنڈ کون تھا؟،پیسہ کہاں سے اورکن اکاونٹس میں آیا۔کس نے بھجوایا؟ سب کچھ سامنے آگیا۔




 پہلے ملزم پیٹرپال ڈیوڈ اورتین مشتبہ افراد کوگرفتارکیاگیا۔اس کے بعدایک خاتون عائشہ گل اورضیاء اللہ سمیت دس ملزمان کی گرفتاری عمل میں آئی۔چند دنوں بعد مرکزی ملزم افغان شہری عید گل کوبھی گرفتارکرلیاگیا،اس دہشت گرد گروپ میں دس افراد شامل تھے۔ پوری سازش بے نقاب ہوگئی۔اس دہشت گرد نیٹ ورک کو بھارتی خفیہ ایجنسی'' را'' چلارہی تھی۔
پاکستان میں دہشت گردی سے بھارت کامکروہ چہرہ ایک بار پھربے نقاب ہوگیا ہے۔ بھارت خود ریاستی دہشت گردی میں ملوث ہے اوردہشت گردتنظیموں کی سرپرستی کررہاہے۔پاکستان میں دہشت گردی کے ہر واقعے کے سرے کسی نہ کسی طرح بھارت سے جاملتے ہیں۔ ہمیں بھارت سے کسی اچھے کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔
بھارتی خفیہ ایجنسی را کابڑا ہدف پاکستان میں چین کے تعاون سے شروع ہونے  والے سی پیک منصوبے ہیں۔پاکستانی اداروں نے انتہائی کامیابی کے ساتھ بلوچستان میں بھارتی نیٹ ورک بھی توڑدیاہے۔ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی اورڈی جی آئی ایس پی آر نے 14نومبر2020ء کو ایک مشترکہ نیوز کانفرنس میں بھارتی دہشت گردی کے ناقابل تردید شواہد قوم اورعالمی برادری کے سامنے پیش کیے تھے۔ سی پیک کے خلاف بھارت نے جودہشت گردی سیل (سی پیک سیل) بنایاہے اس کا سربراہ براہ راست بھارتی وزیراعظم نریندرمودی کورپورٹ کرتاہے ۔اس سیل کواسی ارب روپے سے زیادہ فراہم کیاجاچکاہے۔مقصدپاکستان کی معاشی ترقی کوروکنااور سی پیک کونقصان پہنچاناہے۔ایک طرف بھارت اپنے ایجنٹوں کے ذریعے دہشت گردی کروا رہا ہے، سٹیٹ ٹیررازم کوہوادے رہاہے ، تودوسری طرف مسلسل سیزفائرلائن کی خلاف ورزی کررہاہے،ان سب سازشوں کامقصد ایک ہی ہے کہ پاکستان کودباؤمیں لایاجائے ،لیکن بھارت یہ بات بھول جاتاہے کہ پوری قوم پاک فوج کے شانہ بشانہ سیسہ پلائی ہوئی دیوارکی طرح کھڑی ہے۔
پاکستان میں انتشارپیداکرنا،دہشت گردی کرانااورپاکستان کوکمزورکرنابھارت کے ایجنڈے میں شامل ہے۔حکومتیں بدلتی رہتی ہیں لیکن پاکستان کے خلاف بھارتی ایجنڈا نہیں بدلتا۔ مجھے یاد ہے بہت سال پہلے اُس وقت کے بھارتی وزیرداخلہ ایل کے ایڈوانی نے ایک واقعہ کے بعد پاکستان کودھمکی دی تھی کہ پاکستان کو ایسی جگہ ضرب لگائیں گے جہاں سے خون رستارہے گا۔اس دھمکی کے کچھ عرصہ بعد ہی بلوچستان میں دہشت گردانہ کارروائیاں شروع ہوگئیں۔ دہشت گردوں نے نہ صرف محب وطن بلوچوں بلکہ سرکاری تنصیبات کوبھی نشانہ بنایا۔اخبارات میں آئے روزگیس پائپ لائن کودھماکے سے اڑانے کی خبریں آتی رہیں۔اسی طرح 16جون 2013ء کو زیارت میں بانی پاکستان حضرت قائداعظم محمد علی جناح کی ریذیڈنسی کوبھی نذرآتش کردیاگیاجس میں قائداعظم کے زیراستعمال تمام چیزیں اورنایاب تصاویربھی جل گئیں ،اس حملے کی ذمہ داری دہشت گرد تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی ،جسے بھارتی خفیہ ایجنسی افغانستان سے چلارہی ہے۔دفترخارجہ کے ترجمان کے مطابق '' سال 2001 سے پاکستان اپنی سرزمین پر 19 ہزار دہشت گرد حملوں کا سامنا اور 83 ہزار جانوں کا نقصان برداشت کرچکا ہے، اس کے نتیجے میں براہِ راست ہونے والا مالی نقصان 126 بلین  ڈالر کے برابر ہے ۔ سرحد کے اطراف سے بھارتی سپانسر کردہ دہشت گردی سے پاکستان مسلسل نقصان برداشت کررہا ہے۔دوسری جانب بھارت ریاکاری اور شر انگیزی سے اپنے آپ کو دہشت گردی سے متاثرملک ظاہر کرتا ہے اور منافقانہ انداز میں پاکستان پرہی دہشتگردی کے الزامات لگا کر بین الاقوامی برادری کو گمراہ کرتا ہے''۔
 میں  چند ماہ پہلے ہلال میگزین میں ہی یورپ کی ایک تحقیقاتی این جی او  ای یوڈس انفولیب کی رپورٹ کے حوالے سے تفصیل سے لکھ چکاہوں۔اس رپورٹ نے دنیا کی آنکھیں کھول دیں۔بھارت کس طرح جھوٹی خبروں،جعلی ویب سائٹس،جعلی این جی اوز اورجعلی صحافیوں کے ذریعے پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کرتا رہا۔یہ سلسلہ ایک دوسال سے نہیں بلکہ پندرہ سال سے جاری تھا۔دنیا کے 116 ممالک میں 750 سے زائد جعلی ویب سائٹس کاانکشاف ہوا،جنھیں بھارت پاکستان کے خلاف پروپیگنڈے کے لیے استعمال کررہاتھا۔ بھارت کبھی فیک نیوزاورجعلی ویب سائٹس کے ذریعے پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کرتاہے،کبھی ایف اے ٹی ایف جیسے فورم کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کرتاہے، اورجب کوئی کامیابی نہیں ملتی تو پاکستان میں انتشاراورعدم استحکام پیدا کرنے کے لیے دہشت گردی کراتاہے۔پاکستان کے خلاف ففتھ جنریشن وار سمیت دہشت گردوں کوتربیت،اسلحہ اورپیسہ بھی فراہم کررہاہے۔ ای یو ڈس انفو لیب نے بھارت کا بدنما چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب کردیا۔
آپ کویاد ہوگا نومبر2020 میں نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے یو این کے سیکریٹری جنرل سے ملاقات کی اور انہیں پاکستان میں دہشت گردی کی سرگرمیوں میں بھارت کے ملوث ہونے کے بارے میں ڈوزیئر(دستاویزی ثبوت) پیش کیاتھا ۔ ایک ورچوئل نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے عالمی برادری کوبتایاکہ بھارت، پاکستان اور خطے میں دہشت گردی سپانسر کررہا ہے اور پاکستانی معیشت کو مفلوج کرنا چاہتا ہے۔ سرحد پار حملے کر نے کے لیے دہشت گرد قرار دی گئی تنظیموں  ٹی ٹی پی اور جماعت الاحرار جن کی جڑیں پاکستان سے اکھاڑ دی گئی ہیں، انہیں فروغ دے رہاہے اوران کی مدد کررہاہے ۔پاک چین اقتصادی راہداری کو متاثر کرنے کے لیے بلوچ علیحدگی پسندو ں کودہشت گردی کے لیے اکسا رہاہے۔پاکستانی قوم نے بڑی قربانیاں دے کرٹی ٹی پی اورداعش کوشکست دی ہے لیکن بھارت ٹی ٹی پی کے ان شکست خوردہ گروپوں کودوبارہ سے منظم کررہاہے ،ٹی ٹی پی اور بلوچ علیحدگی پسندوں کواسلحہ ،تربیت اورپیسہ فراہم کیاجارہاہے ۔بھارت نے سی پیک کو سبوتاژ کرنے کے لیے دہشت گردوں کی ایک سپیشل فورس بنائی ہے جس میں سات سو کے قریب دہشت گرد شامل ہیں ، ان دہشت گردوں کو افغانستان اور بھارت میں قائم کیمپوں میں تربیت فراہم کی گئی ہے ،ان میں 66 کے قریب تربیتی کیمپ افغانستان میں جبکہ اکیس بھارت میں کام کررہے ہیں ۔ڈوزئیرمیں یہ بات بھی بتائی گئی کہ بھارت نے ان دہشت گردوں کو بعض اہم پاکستانی شخصیات کوقتل کرنے کابھی ٹاسک دیاہے تاکہ پاکستان میں افراتفری پھیلے۔یہ اطلاع بھی ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی  را، افغانستان کے صوبے ننگر ہار میں داعش پاکستان  کے نام سے ایک  نئی ملیشیا بنارہی ہے۔ بھارت نے پاک چین اقتصادی منصوبے سی پیک کونقصان پہنچانے کے لیے ایک خصوصی سیل بنایاہے اوراسے کروڑوں روپے فراہم کیے ہیں ۔پاکستان کی طرف سے دیئے جانے والے ڈوزیئر میں آزاد کشمیر اور گلگت  بلتستان میں بھارتی تخریبی کارروائیوں کے شواہدبھی موجود تھے۔اس ڈوزیئرنے عالمی سطح پربھارت کامکروہ چہرہ بے نقاب کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
بھارتی سازشوں اوردہشت گرد منصوبوں سے صرف پاکستان ہی نہیں،بلکہ افغانستان، نیپال،بنگلہ دیش،بھوٹان،سری لنکا سمیت کئی ممالک پریشان ہیں۔انڈیا ایک طرف افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کررہاہے تودوسری طرف افغان عوام کے خلاف بھی دہشت گردی میں ملوث ہے۔افغانستان میں ہونیوالے کئی دھماکوں اوردہشت گردی کی کارروائیوں کے پیچھے بھارتی خفیہ ایجنسی را کاہاتھ ہے۔کابل میں سکھوں کے گوردوارے اورسیدالشہدا، ہزارہ اسکول کی بچیوں کودہشت گردی کانشانہ بنانے کے بزدلانہ واقعے میں بھارتی خفیہ ایجنسی را کے  ملوث ہونے کے ثبوت سامنے آئے ہیں۔بھارت داعش اورٹی ٹی پی کے دہشت گردوں سمیت کئی گروپوں کو تربیت،اسلحہ اورپیسہ فراہم کررہاہے۔خدشہ ہے کہ آنیوالے دنوں میں افغانستان میں بھارتی دہشت گردی میں اضافہ ہوجائے گا۔ اسی طرح بنگلہ دیش اورنیپال جیسے ممالک بھی اپنے اندرونی معاملات میں بھارتی مداخلت سے پریشان ہیں۔27مارچ 2021ء کو بھارتی وزیراعظم نریندرمودی بنگلہ دیش کے سرکاری دورے پرپہنچے تو بنگلہ دیشی عوام مودی کے خلاف سڑکوں پرنکل آئے،ملک گیرپرتشدد مظاہروں میں پانچ سے زیادہ افرادمارے گئے۔یہ لوگ بنگلہ دیش میں بھارتی مداخلت اوربھارت میں مسلمانوں پرڈھائے جانے والے مظالم اورقوانین پراحتجاج کررہے تھے۔افغانستان کامعاملہ بھی کچھ ایساہی ہے،افغان عوام کی اکثریت افغانستان میں بھارتی مداخلت کے خلاف ہے،افغان جانتے ہیں بھارت ان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کررہاہے،امریکی فوج کے انخلاء کے بعد مجھے یقین ہے کہ بھارت کے لیے حالات سازگارنہیں رہیں گے اوراسے دہشت گرد انہ منصوبوں سے پسپائی اختیارکرناپڑے گی۔بھارت نے جوبویا ہے اب اسے کاٹناپڑے گا۔
عالمی برادری کوآہستہ آہستہ اس بات کااحساس ہورہاہے کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کے دعویداربھارت کاکرداردوغلااورمنافقانہ ہے۔بغل میں چھری منہ میں رام رام کے مترادف وہ کہتاکچھ ہے اورکرتاکچھ ہے۔پاکستان کی جانب سے خطے میں امن کے لیے جب بھی ہاتھ بڑھایاگیا،بھارت نے پاکستان کی پیٹھ میں خنجرگھونپا،بھارت میں ہونیوالی ہردہشت گردی کاالزام پاکستان پرتھونپااورپروپیگنڈا شروع کردیا۔
آپ یقینا جانتے ہوں گے امریکی میگزین فارن پالیسی بھی بھارت کی عالمی دہشت گردی کوبے نقاب کرچکاہے ۔فارن پالیسی نے اکتوبر 2020 ء میں اپنی ایک رپورٹ میں بھارت اور داعش کے گٹھ جوڑ کو عالمی امن کے لیے انتہائی خطرناک قرار دیا۔میگزین نے عالمی دہشت گردی میں بھارت کو سرفہرست رکھتے ہوئے بھارت اور داعش کے آپس میں روابط کے بارے میں تفصیل سے بتاتے ہوئے لکھاہے کہ بھارتی دہشتگردی کی  داستانیں تاریخی طور پر دنیا کی نظروں سے اوجھل رہیں۔ اگر بھارت کی انتہا پسند پالیسی کا نوٹس نہ لیا گیا تودنیاپر اس کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ مختلف ممالک میں دہشتگرد حملوں اور نئی لہر میں بھارتی سرپرستی نیا موڑ لے رہی ہے۔ بھارت کا دہشت گردی میں ملوث ہونا کوئی نئی بات نہیں ہے، بھارت کے دہشت گرد گروپوں کی سر پرستی کے واضح ثبوت موجود ہیں۔ بھارت پہلے صرف خطے میں دہشتگرد کارروائیوں میں ملوث رہا، اب اس نے اپنادائرہ کار بڑھا دیا ہے ،اسے روکا نہ گیا تو یہ علاقائی اور بین الاقوامی امن کے لیے انتہائی خطرناک ہو گا۔فارن پالیسی میگزین کی یہ رپورٹ دنیا کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے۔مغربی دنیا نے بھارت سے جوکام لیناہے شایداس کی وجہ سے بھارت کے خلاف کوئی پابندی نہیں لگائی گئی،ورنہ یہ رپورٹ بھارت کوایک دہشت گردریاست قراردینے کے لیے کافی تھی ۔ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کے مطابق انہوں نے بھارت کے دہشت گردی میں ملوث ہونے کے ثبوت ایف اے ٹی ایف کوفراہم کیے ہیں۔ اب دیکھنایہ ہے کہ ایف اے ٹی ایف بھارت کے خلاف کیااقدامات کرتی ہے۔بھارت لابنگ کرکے ایف اے ٹی ایف کوپاکستان کے خلاف استعمال کررہاہے۔
کون نہیں جانتا بھارت ماضی میں بھی پاکستان میں دہشت گردی کرواتا رہا ہے۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی میں بھارتی کردارڈھکاچھپانہیں۔مکتی باہنی اورعلیحدگی پسند گروپوں کو بھارت میں تربیت فراہم کی جاتی تھی،انھیں مسلح کرکے مشرقی پاکستان میں داخل کیاجاتاتھا۔ بھارت ایساہی خونی کھیل بلوچستان میں کھیلنے کی کوشش کررہاہے اورنوجوانوں کوورغلارہاہے،اس کے لیے افغانستان کی سرزمین استعمال کی جارہی ہے۔ ہم جانتے ہیں بلوچستان میں رہنے والے لوگوں کی اکثریت محب وطن ہے۔بلوچ بھی اپنے دوسرے ہم وطنوں کے شانہ بشانہ پاکستان کی ترقی میں اپناکردار ادا کررہے ہیں۔ حکومت کی طرف سے کوشش کی جارہی ہے کہ وہ نوجوان جوبھارتی خفیہ ایجنسی سے رابطے میں نہیں ،انھیں قومی دھارے میں شامل ہونے کاموقع دیاجائے، یہ ایک اچھا فیصلہ ہے۔بھارت نے بلوچ لبریشن آرمی،بلوچ لبریشن فرنٹ اوربلوچ ری پبلکن آرمی جیسی تنظیمیں بنائیں اورانھیںاسلحہ،تربیت اورپیسہ فراہم کیا۔ بھارت نے ان دہشت گرد تنظیموں کوچند سال میں  بائیس ارب روپے دیے ۔اب بھی بہت سے دہشت گرد گروپ افغانستان میں موجود ہیں،جنھیں بلوچستان میں داخل کیاجاسکتاہے۔پاکستانی حکام مسلسل اس خدشے کااظہارکررہے ہیں کہ بھارت افغانستان کے خراب حالات سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کررہاہے،افغان مہاجرین کی آڑ میں داعش اورٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کوپاکستان میں داخل کیاجاسکتاہے۔
وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار اوروفاقی وزیرداخلہ شیخ رشید نے 28جون کو اپنی علیحدہ علیحدہ نیوزکانفرنس میں اس بات کی تصدیق کی کہ جوہرٹائون دھماکے میں مقامی دہشت گردوں سے ملنے والے شواہد اوربین الاقوامی کرداروں  کے تانے بانے بھارتی خفیہ ایجنسی را سے جاملتے ہیں ۔ کراچی سے بھی را کاایک بڑا اورخطرناک نیٹ ورک پکڑا گیا ہے ، جوکئی شہروں میں دہشت گردی کی منصوبہ بندی کررہاتھا۔ دھماکے میں ملوث ملزمان کی گرفتاری،ان کے بیانات اورشواہد ملنے کے بعد اس بات میں کوئی شک نہیں رہاکہ اس دھماکے کے پیچھے بھارت کاہاتھ ہے۔وزیراعظم عمران خان نے بھی پنجاب پولیس کے شعبہ انسداددہشت گردی سمیت ملٹری وسول انٹیلی جینس اداروں کی کارکردگی اورکوآرڈینیشن کوبھی خوب سراہاہے۔اس کوآرڈینیشن نے دہشت گردوں اوران کے عالمی روابط کی نشاندہی کی۔وزیراعظم نے چارجولائی کو عالمی برادری سے مطالبہ کیاکہ'' بھارت کے خلاف کارروائی کی جائے۔اس گھناؤنے دہشتگردحملے کی منصوبہ بندی اور استعمال ہونے والے سرمائے کی کڑیاں پاکستان کیخلاف بھارتی پشت پناہی سے ہونے والی دہشتگردی سے ملتی ہیں۔ عالمی برادری اس بدمعاشی کیخلاف بین الاقوامی ادارے حرکت میں لائے''۔ بھارت دوسرے ممالک میں دہشت گردی کروا کرخودکوایک بدمعاش ریاست ثابت کررہاہے۔ اس سے پاکستان ہی نہیں پوری دنیا کاامن خطرے میں ہے۔عالمی برادری نے فی الحال خاموشی اختیارکی ہوئی ہے لیکن وہ دن دور نہیں جب عالمی ضمیر اپنے سیاسی اورتجارتی مفادات کوایک طرف رکھتے ہوئے، بھارت کوایک دہشت گرد،بدمعاش ریاست قراردے گا۔
  مجھے خدشہ ہے کہ بھارت پاکستان کے حالات خراب کرنے کی کوششوں سے بازنہیں آئے گا،کہیں فرقہ وارانہ بنیادوں پراورکہیں لسانی بنیادوں پرنفرتیں پھیلانے اورآگ لگانے کی کوشش کرے گا۔ہم سب کواس سے ہوشیاررہنے کی ضرورت ہے،ہم کچھ بھی ہیں کسی بھی مسلک سے تعلق رکھتے ہیں کوئی زبان بھی بولتے ہیں ،ہمارا جینامرنااورسب کچھ پاکستان کے لئے ہے،پاکستان ہے توہم ہیں۔سچ یہ ہے کہ ہم ایک بہت حساس دورسے گزررہے ہیں۔دنیابھرکی خفیہ ایجنسیاں افغانستان میں اپناکھیل کھیل رہی ہیں۔ان کامقصدپاکستان کوانتشارکاشکارکرنااورپاک چین دوستی ،سی پیک منصوبوں کونقصان پہنچاناہے۔بھارت امریکہ کابڑا اتحادی بن کرابھررہاہے،اس نے چین کے خلاف اپنی خدمات پیش کردی ہیں۔یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کے حوالے سے مغربی ممالک کی پالیسی نہیں بدلی،انہوں نے صرف خاموشی اختیارکی ہوئی ہے۔اس بات کاخدشہ موجود ہے کہ افغانستان سے پاکستان میں بھارتی مداخلت بڑھ جائے۔بھارت فرقہ وارانہ اورلسانی فسادات کی سازش کرسکتاہے۔اس لیے ہمیں اپنی صفوں میں مکمل اتحاد رکھنے کی ضرورت ہے۔ ||


مضمون نگاراخبارات اورٹی وی چینلزکے ساتھ وابستہ رہے ہیں۔آج کل ایک قومی اخبارمیں کالم لکھ رہے ہیں۔قومی اورعالمی سیاست پر اُن کی متعدد کُتب شائع ہو چکی ہیں۔
[email protected]

یہ تحریر 214مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP