انٹرویو

پاکستان دو لخت ہونے کا صدمہ ابھی تک نہیں بھولا

تحریک پاکستان کے کارکن ملک محمد ایاز کہتے ہیں


ملک محمد ایاز ایوارڈ یافتہ مصنف ہیں۔ ان کی 7 پنجابی اور 2 اُردو کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ دو پنجابی کتابوں پر ''مسعود کھدر پوش ایوارڈ'' بھی مل چکا ہے۔ وہ امرتسر میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے بچپن میں تحریک پاکستان میں حصہ لیا جب امرتسر میں فسادات بڑھ گئے تو وہ رمضان المبارک میں ہجرت کر کے پاکستان آ گئے۔ تحریک پاکستان، مسلم لیگی عمائدین، فسادات اور ہجرت کے واقعات کے حوالے سے انہوں نے پنجابی کتاب ''بھلیاں یاداں'' بھی لکھی ہے۔ اس طرح انہوں نے ان تاریخی واقعات سے نئی نسل کو آگاہ کیا ہے۔ ان کی ان ہی یادوں پر مشتمل انٹرویو پیش خدمت ہے۔


س:۔اپنے ابتدائی ایام کے بارے میں کچھ بتائیں۔۔؟
ج:۔ میں نے امرتسر میں گورنمنٹ پرائمری سکول اندرون حکیماں والا گیٹ سے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ یہ ''ٹوئے والا سکول'' کے نام سے مشہور تھا۔ میں نے تیسری جماعت پاس کر لی اور چوتھی جماعت میں پروموٹ تو ہوگیا لیکن چوتھی جماعت کی پڑھائی شروع نہ ہو سکی کہ بے لگام ہنگامے پھوٹ پڑے اور میرے شہر امرتسر میں تو ان ہنگاموں کا اتنا زور تھا کہ تمام سکول بند ہوگئے۔ کانگریس کے مداریوں کے چکموں میں سکھ آگئے اور انہوں نے بے دریغ مسلمانوں کا قتل عام شروع کر دیا۔
س:۔ جب تحریک پاکستان شروع ہوئی تو اس وقت مسلمانوں میں کیسا جذبہ تھا؟
ج:۔ تحریک پاکستان اور حصول پاکستان کے لئے قائداعظم محمد علی جناح اور ان کے رفقاء نے دن رات انتھک محنت کی، خطرات کا نہ صرف مقابلہ کیا بلکہ تمام سازشوں اور سازشیوں کو اپنی کاوشوں سے پائوں تلے روندتے ہوئے مملکت خدا داد پاکستان حاصل کرلیا۔ مادر ملت اور ان کے قابل صد تعظیم رفقاء کی جانفشانی، ایثار اور قربانیوں کو کبھی بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ان کا خلوص، ایمانداری اور شب و روز کی تگ و دو ہی تھی جس نے تمام ملت اسلامیہ کو متحد کرکے انہیں اپنے قدموں پر لاکھڑا کیا۔
 مسلم لیگ کے جھنڈے تلے برِ صغیر کے مسلمانوں نے پاکستان کے حصول کے لئے اپنی حتی المقدور کاوشوں کو جاری رکھا۔ یہ اجتماعی جہاد ہی تھا کہ کانگریس جیسے منافقوں اور انگریزوں جیسے شاطروں کو مجبوراً پاکستان کو علیٰحدہ مملکت ماننا پڑا۔ اس جہاد میں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں جانوں اور عزتوں کی قربانی دینا پڑی۔ چھوٹے بڑے سب اپنی اپنی جگہ ہر طرح سے پاکستان کے لئے ہر قربانی دینے کے لئے تیار تھے۔
س:۔ تحریک پاکستان میں طلبہ نے بھرپور حصہ لیا۔ قائداعظم اور مسلم لیگ کا پیغام گھر گھر پہنچایا، کیا آپ نے بھی اس تحریک میں عملی شرکت کی؟ 
ج:۔ میری عمر اس وقت یعنی 1947ء میں تقریباً8 سال  تھی۔ مجھے یاد ہے کہ میں اور میرے ہم عمر محلہ دار لڑکے ہر روز مغرب کے وقت کھانا کھانے کے بعد اکٹھے ہو جاتے، سرکنڈوں کے اوپر لگی چھوٹی چھوٹی مسلم لیگ کی جھنڈیاں ہاتھوں میں تھامے، میاں باری جو ایک نوجوان اور مسلم لیگ کا دیوانہ عاشق تھا ، کی قیادت میں جلوس کی صورت میں تمام محلے، گلیوں کا دورہ کرتے اور ''مسلم لیگ زندہ باد، بن کے رہے گاپاکستان، قائداعظم زندہ باد ''کے نعرے لگاتے اور پھر رات گئے اپنے اپنے گھروں کو لوٹ جاتے۔
 ہنگامے روز بروز بڑھتے گئے۔ روز رات کو اعلان ہوتے کہ جتھا حملے کے لئے آرہا ہے۔ محلے کے تمام جوان اپنے اپنے ہتھیاروں سے مسلح ہو کر بازار میں دو رویہ قطاروں میں، مکانوں کے چھجوں تلے صف بستہ ہو جاتے۔ پھر اعلان ہوتا کہ بلوائیوں کے جتھے نے اپنا رخ بدل لیا ہے۔ نعرۂ تکبیر کے فلک شگاف نعروں کے جواب میں ست سری اکال کی صدائیں بلند ہوتیں۔ پھر سٹین گنوں کی تڑتڑاہٹ دل دہلائے دیتی تھی۔ چھوٹے بچے مائوں کی گود میں پناہ لیتے۔ اور سسکتے سسکتے سو جاتے۔ دن کو کرفیو ہر بازاراور محلے کو ویران کر دیتا  اور مزید ڈوگرا فوجی جیپوں میں سوار رائفلیں تانے سڑکوں پر گشت لگاتے جس سے خوف و ہراس میں مزید اضافہ ہو جاتا۔
س:۔ کیا تحریک پاکستان شروع ہونے سے پہلے بھی آپ کے علاقے میں ہندوؤں یا سکھوں سے کوئی لڑائی جھگڑے یا تعصب کے واقعات ہوتے تھے؟ 
ج:۔ جہاں ہم رہتے تھے وہاں مسلمانوں، ہندوؤں اور سکھوں کے محلے الگ الگ تھے۔ سب اپنے کام سے کام رکھتے تھے۔ ایک دوسرے کے محلے میں آنا جانا نہیں تھا، اس لئے کبھی لڑائی جھگڑے کی نوبت نہیں آئی۔
س:۔ جب آزادی کی تحریک چلی تو پھر کیا حالات تھے اور کس طرح کے واقعات پیش آتے تھے۔
ج:۔  ہمارے کھیت حکیماں والا دروازہ کے باہر بجلی گھرسے آگے ریلوے لائن کے پار موضع ان گڑھ کے پاس تھے۔ میں اپنے والد کے ساتھ دن کو کھیتوں پر چلا جاتا اور شام تک وہاں کھیلتا رہتا۔ ایک دن عصر کے وقت ایک ریل گاڑی بھگتانوالہ سٹیشن کی طرف سے آئی اس میں سکھ سوار تھے۔ انہوں نے ریل کی پٹڑی کے پتھروں سے جھولیاں بھری ہوئی تھیں۔ جب وہ ہمارے کھیتوں کے پاس آئے تو جو محنت کش درختوں کے نیچے بیٹھے تھے۔ ان پر سنگ باری شروع کر دی۔ سب نے بھاگ کر مختلف اوٹوں میں پناہ لی اور اللہ کے فضل سے سب محفوظ رہے۔ اس واقعے کے چند دن بعد دوپہر سے قبل میں نے دیکھا ایک سکھ ننگی تلوار ہاتھ میں لئے اپنی ٹم ٹم جس کے لکڑی کے پہیوں کی جگہ اس نے کار کے پہیے لگائے ہوئے تھے، چیختا چلاتا گھوڑی کو تیز سے تیز دوڑاتا بھگتانوالہ کی طرف بھاگا جا رہا تھا ۔اس کے پیچھے پانچ چھ مسلح جوان لگے ہوئے تھے جو کہ پیدل تھے۔ وہ بچ کر نکل گیا۔اسی دورا ن اعلان ہوا کہ سکھوں نے ایک مسجد جو کہ ان کے دربار کے قریب ان کے محلے میں واقع تھی، کو شہید کر دیا ہے۔ اعلان ہوا کہ آج جمعہ کی نماز سب نے اس مسجد میں ادا کرنی ہے۔ ہر طرف سے مسلمان اس مسجد کی طرف لپکے چلے آئے۔ ہمارے گھر سے آگے ایک سڑک تھی جس کو نئی سڑک کہتے تھے، وہاں ایک مسلمان کمہار کی دکان تھی۔ اس نے دکان میں موجود مٹی کے لوٹے سڑک پر رکھ دیئے تاکہ مسجد کو جانے والے مسلمان ان کو وضو کے لئے استعمال کر سکیں۔ مسلمانوں نے نماز جمعہ ادا کی اور جب گھروں کو لوٹنے لگے تو سکھوں نے بازار میں دو رویہ مکانوں کے چھجوں کے نیچے صف بستہ ہو کر ان پر حملہ کر دیا اور اوپر چھتوں سے ان کی عورتیں اور بچے اینٹوں سے حملہ آور ہوگئے۔ مسلمان بالکل نہتے تھے۔ وہ پھر مسجد کی طرف پلٹے اور وہ لوٹے اٹھالائے جن کی ضربوں سے انہوں نے سکھوں کو چھجوں کے نیچے سے نکال کر سڑک پر کر دیا اور خود چھجوں کے نیچے ہوگئے۔ یہ لوٹے پھر لوٹا بم کے نام سے مشہور ہوئے۔ سیکڑوں مسلمان زخمی ہوئے اور کچھ شہید بھی ہوئے۔ ہم اپنے مکان کی کھڑکیوں سے زخمیوں سے بھرے تانگے آتے دیکھتے رہے۔
ایک مرتبہ پتہ چلا کہ جٹاں والی گلی کے سکھوں نے مسلمانوں پر حملے کے لئے مٹی کے تیل اور پٹرول کے بھرے کنستر اُپلوں (گوبر کی پاتھیوں) میں چھپا کر رکھے ہوئے ہیں اور رات کے وقت مسلمانوں کے گھروں کو جلانے کے لئے آئیں گے۔ ان دنوں قتل اور مکانوں کو آگ لگانے کے واقعات ہو رہے تھے۔ یہ خبر ملتے ہی مسلمانوں نے وہاں ہلہ بول دیا۔ سارے سکھ وہاں سے بھاگ گئے۔ مسلمان تیل اور پٹرول کے کنستر وہاں سے نکال کر لے گئے۔ اس طرح مسلمانوں کی املاک نذر آتش ہونے سے بچ گئیں۔
س:۔ آپ نے امرتسر سے پاکستان کب ہجرت کی اور اس دوران کیا واقعات پیش آئے؟ 
 ج:۔فسادات، کرفیو، قتل و غارت جب انتہا کو پہنچ گئے اور رمضان کا مہینہ بھی آگیا تو ہمارے بزرگوں نے فیصلہ کیا کہ بچوں اورعورتوں کو لاہور بھیج دیں۔ یہ سکون سے وہاں عید مناکر پھر واپس آ جائیں۔ امی، نانی، ماموں بمعہ اہل و عیال، خالہ بمعہ تمام بچوں کے اور ہم بھائی بہن اپنی والدہ کے ہمراہ تھے۔ ابا جی ہمیں ریل گاڑی پر سوار کرا کے واپس چلے گئے۔ ہر طرف ہُو کا عالم تھا، کرفیو لگا ہوا تھا۔ ہمارے گھر کے آگے جو چوک تھا وہاں بلوچ رجمنٹ کے فوجی کھڑے تھے جنہوں نے ہمیں ایک طرف چلنے کا کہا اور ہم سٹیشن پہنچ گئے۔ وہاں ہمارا ایک محلے دار کلاّ کشمیری بھی اپنے بال بچوں کے ساتھ ہمیں مل گیا۔
 لاہور ریلوے سٹیشن پر ہم اترے اور وہاں سے ایک تانگے میں سوار ہوگئے۔ نانی، ماموں اور خالہ باغبانپورہ میں نانی کے آبائی مکان کی طرف چلے گئے اور ہم اپنی والدہ اور کلّا کشمیری کے بچوں کے ساتھ تانگے میں سوار شیرانوالہ گیٹ کی طرف چل پڑے۔ ابھی تھوڑی دور گئے تھے کہ دیکھا سڑک پر ایک ٹرک کھڑا ہے کہ اس کے آگے ایک سکھ قتل ہوا پڑا تھا۔ یہاں کے حالات دیکھ کر ہمیں اندازہ ہوگیا کہ اب واپس جانے والی کوئی بات نہیں ۔ہم اس کشمیری کے ساتھ ان کے عزیزوں کے گھرپہنچ گئے۔ میری والدہ خوف و ہراس سے اس قدر پریشان ہوگئیں کہ وہ ابا جان کے ماموں اور ان کے محلے کا نام تک بھول گئیں۔ بڑے طریقوں سے میزبانوں کو اپنی منزل بتانے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے۔ پھرمیری والدہ کو یاد آیا کہ ابا جی کی خالہ چوہٹہ مفتی باقر اندرون موچی دروازہ رہتی ہیں اور ان کے خاوند کا نام قائم پہلوان ہے۔ والدہ صاحبہ نے ان کو قائم پہلوان کا بتایا۔ گھر والوں کے دو جوان لڑکے ہمارے ہمراہ ہولئے۔ راستہ میں دکانیں بند تھیں ۔آگ لگی ہوئی تھی۔ لاشوں کے جلنے کی بدبو ہر سمت پھیلی ہوئی تھی، ایک طرف کرفیو اور دوسری طرف یہ خوف و ہراس، خیر ہم بچتے بچاتے قائم پہلوان کے گھر پہنچ گئے اور وہ لڑکے واپس چلے گئے۔ پھر وہاں کچھ روز قیام کے بعد ہم بھی باغبانپورہ میں اپنی نانی اور ماموں کے پاس چلے گئے۔ ہماری والدہ تمام دن روتی رہتیں جب کسی قافلے کی آمد کی اطلاع ملتی تو وہ میرے خالہ زاد جو مجھ سے عمر میں بڑا تھا، اس کو یا میری بڑی بہن کو ساتھ لے کر اس قافلہ میں جاتیں اور ابا جی کو تلاش کرتیں۔ ایک دوبار محلے کے آدمی ملے اور انہوں نے بتایا کہ سب آگئے ہیں، اب امرتسر میں کوئی مسلمان نہیں رہا۔ یہ اطلاع ہمارے لئے اور زیادہ تکلیف دہ تھی۔
 ایک دن دوپہر کے وقت اچانک ابا جی ایک کنستر آٹے والا اور ایک گھی والا برتن لئے آگئے۔ میری والدہ پر تو غشی طاری ہوگئی۔ سب گلے مل مل کر  رونے لگے۔ پھر جب کچھ آنسوئوں کا غبار ہٹا تو انہوں نے بتایا کہ یہ آخری ریل گاڑی تھی جس کی چھت پر وہ اور ہمارے تایا ٹین کے صندوق اور کنستر کی اوٹ میں بیٹھ کر آئے ہیں کچھ بلوچ رجمنٹ کے فوجی تھے جنہوں نے اس گاڑی کو بحفاظت لاہور ریلوے سٹیشن پر پہنچایا تھا۔ میرے تایا کے سسرال لاہور میں ہی تھے وہ ان کے پاس چلے گئے۔ اُف میرے اللہ ! یہ اذیت کی گھڑیاں جس پر پڑیں وہی جانے۔
 آخر سب قربانیوں اور کاوشوں کا صلہ مملکتِ خدا داد پاکستان کی صورت میں ملا۔ اللہ اس کا حامی و ناصر ہو۔
س:۔ پاکستان آ کر آپ نے تعلیم کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا یا کوئی ملازمت وغیرہ کی؟
ج:۔ ہم مختلف علاقوں میں قیام پذیر رہے۔ میں نے تعلیم کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا۔ گورنمنٹ پرائمری سکول شاہ پور کانجراں سے پرائمری اور ڈی بی ماڈل سکول ٹھوکر نیاز بیگ سے میٹرک کیا۔ اس کے بعد اسلامیہ کالج ریلوے روڈ میں داخلہ لیا۔ اس وقت ایم ایم شریف پرنسپل تھے ان کے بعد کرنل اسلم اور پھر خواجہ عبدالحئی پرنسپل بنے۔ یہاں سے ایف اے کیا اور اسلامیہ کالج سول لائنز میں داخل ہو گیا۔ یکم اکتوبر 1960ء کو بطور کلرک اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں بھرتی ہو گیا۔ اس دوران سیالکوٹ، پشاور، راولپنڈی اور کراچی تعینات رہا اور 9 جنوری 2000ء کو بطور ڈپٹی ڈائریکٹر ریٹائر ہو گیا ۔
س:۔ آپ طویل عرصہ بنک میں ملازمت کرتے رہے۔ ہر وقت حساب کتاب اور دفتری معاملات پھر تصنیف و تالیف کا شوق کیسے ہو گیا؟ 
ج:۔ سچ بتاؤں کہ دوران ملازمت تو ہر وقت مصروفیت رہی۔ کچھ شاعر ادیب دوست تھے۔ لیکن تب تک میرا ادبی رجحان نہیں تھا۔ لیکن جب ریٹائر ہوا تو سب بچے اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہو چکے تھے۔ ماشاء اللہ سب بیٹے اچھے عہدوں پر ہیں۔ دو بیٹے میرے ساتھ ہی رہتے ہیں۔ تھوڑی فراغت ملی تو پھر ادب کی طرف رجحان ہوا۔ کتابیں پڑھنے کا شوق تھا، پھر لکھنا بھی شروع کر دیا۔ زیادہ پنجابی زبان میں لکھا۔ جب حوصلہ افزائی ہوئی تو مزید شوق بڑھا ۔
س:۔ اب تک کتنی کتابیں شائع ہوچکی ہیں؟ 
ج:۔ میری سات کتابیں پنجابی میں پرچول، پندھ حرمین شریفین دا (سفر نامہ)، ہانگ کانگ دی یاترا (سفر نامہ)، حق دی راہ، سوچاں (شعری مجموعہ)، بھلیاں یاداں۔ یہ کتاب مسلم لیگ کے قائدین، تحریک پاکستان اور ہجرت کے واقعات پر مشتمل ہے۔ قصور دا صوفی بابا بلھے شاہ جبکہ دو کتابیں اُردوزبان میں انوار اولیاء لاہور اور خیالوں کے مقابر (شعری مجموعہ) شامل ہیں۔ تصوف میرا بنیادی موضوع ہے۔ دو کتابوں پندھ حرمین شریفین دا اور حق کی راہ کو ''مسعود کھدر پوش ایوارڈ'' بھی مل چکے ہیں۔ کتاب ''بھلیاں یاداں'' لکھ کر میں نے کوشش کی ہے کہ تحریک پاکستان کے مقاصد اور اس دور کے حالات اور واقعات نوجوان نسل تک پہنچاؤں تاکہ وہ جان سکیں کہ پاکستان کیوں بنا اور کتنی قربانیوں کے بعد بنا۔
س:۔ آپ نے قیام پاکستان کے لئے کم عمری میں اپنا حصہ بھی ڈالا اور ہجرت کی مشکلات بھی برداشت کیں۔ آپ کے ذہن میں یقیناً پاکستان کا ایک خاکہ ہوگا۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ موجودہ پاکستان اُس خاکے کے مطابق ہے؟ 
ج:۔ تحریک پاکستان کے قائدین نے اس مملکت کا جو نقشہ بتایا تھا اس میں بنیادی بات یہی تھی کہ یہ ایک اسلامی ملک ہوگا، جس میں مسلمان آزادی سے اپنے مذہب پر عمل کرسکیں گے۔ مسلمانوں کی مسلمانوں پر حکومت ہوگی لیکن اس میں اقلیتیں بھی امن اور سکون سے رہ سکیں گی۔ میں بہت حد تک مطمئن ہوں لیکن ابھی ہم نے مزید آگے بڑھنا ہے۔
س:۔ کیا اقدامات ہونے چاہئیں جن سے پاکستان واقعی اس کے بانیوں کے خوابوں کی تعبیر بن جائے؟ 
ج:۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ پاکستان کو قائم رکھنے اور دہشت گردی و تخریب کاری سے بچانے کے لئے افواج پاکستان کی خدمات قابل ستائش اور ناقابل فراموش ہیں۔ پاکستان کو قائد اور اقبال کا پاکستان بنانے کے لئے آپس میں اتفاق و اتحاد برقرار رکھنا ہوگا۔ صوبائی، لسانی اور قومیت کے تعصبات سے بچنا ہوگا۔ ایک قوم بن کر رہیں گے  تو ترقی کریں گے:
فرد قائد ربط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں
موت ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں
س:۔ آپ پاکستان بنانے والوں میں شامل تھے، جب پاکستان دو ٹکڑے ہوا تو آپ کے جذبات و احساسات کیا تھے اور آپ کس کو اس کا ذمہ دار سمجھتے ہیں؟ 
ج:۔ میں اس صدمے کو آج تک نہیں بھلا پایا۔ ہر محب وطن پاکستانی کے لئے شدید دکھ اور صدمے کا باعث تھا۔ بنگالی بھی بڑے محب وطن تھے۔ شیرِ بنگال مولوی فضل حق نے قرارداد پاکستان پیش کی تھی۔ بس تعصب اور نفرتیں ایسی پیدا ہوئیں کہ ہندوؤں نے اس کا فائدہ اٹھایا اور پاکستان دولخت ہو گیا۔ اللہ پاکستان کو حفظ و امان میں رکھے اور ہم سب کو اس کے استحکام اور ترقی کے لئے کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
س:۔ نوجوانوں کو آپ کیا پیغام دینا چاہیں گے؟ ۔
ج:۔ ہر پاکستانی خاص طور پر نوجوانوں کو اپنی صلاحیتوں اور بساط کے مطابق ملکی تعمیر و ترقی کے لئے کام کرنا چاہئے۔ اگر ایسا ہو جائے تو پھر پاکستان کو کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی۔ پاکستان زندہ باد۔


[email protected]
 

یہ تحریر 59مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP