انٹرویو

پاکستان ایک نعمت ہے

گولڈمیڈلسٹ کارکن تحریکِ پاکستان اور سو سے زائد کتابوں کے مصنف ڈاکٹر احمد حسین قریشی کہتے ہیں۔
''پاکستان ایک نعمت ہے اس کی قدر اور حفاظت کرنی چاہئے''



ڈاکٹر احمد حسین قریشی قلعہ داری کا شمار ان شخصیات میں ہوتا ہے جو شہرت اور تحسین سے بالاتر ہو کر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کی اُردو،فارسی، عربی اور پنجابی میں لکھی گئی کتابوں کی تعداد ایک سو سے زائد ہے۔ قرآن پاک کا منظوم ترجمہ ان کا اہم کارنامہ ہے۔ اس کے علاوہ علامہ اقبال کے بہت سے کلام کا پنجابی منظوم ترجمہ کیا۔ انہوں نے تحریک پاکستان میں بھی حصہ لیا اور اس دوران زخمی بھی ہوئے۔انہیں قائداعظم سے ملنے کا شرف بھی حاصل ہوا۔ قائداعظم کی مدح میں کئی نظمیں بھی لکھیں۔ ان کی زیادہ ترکتابیں تحقیقی ہیں۔ ان کے ذاتی کتب خانے میںپچاس ہزار سے زائد کتب اور چارہزار مخطوطات موجود ہیں۔ بہت سی نامور علمی و ادبی شخصیات ان کے کتب خانے سے استفادہ کرتی رہی ہیں۔ انہوں نے عربی اور اُردو ادب میں پی ایچ ڈی کر کے اپنی لیاقت کا لوہا منوایا۔ وہ درس و تدریس اور تصنیف و تالیف میں مصروف رہے اور 90 سال سے زائد عمر ہونے کے باوجود تصنیف و تالیف کاکام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کی شہرت ایران اور مصر تک ہے۔ ان کی علمی و ادبی خدمات پر حکومت پاکستان نے انہیں ''تمغۂ امتیاز'' اور نظریہ پاکستان ٹرسٹ نے ''تحریک پاکستان گولڈ میڈل'' سے نوازا۔ ڈاکٹر صاحب کی ہمہ جہت خدمات ہیں۔ محمد ابوبکر فاروقی نے منہاج یونیورسٹی سے پروفیسر مختار احمد عزمی کی سربراہی میں ڈاکٹر صاحب پر مقالہ لکھا ہے جو کتابی شکل میںشائع ہوا ہے۔ ان کی خدمات پر مزید تحقیق اور تحسین کی ضرورت ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ ان کی غیر مطبوعہ کتب کی اشاعت کو یقینی بنائے تاکہ یہ سرمایہ تشنگان علم تک پہنچ سکے۔ آپ کی معلومات کے لئے ان کا انٹرویو پیش خدمت ہے۔
س:    کچھ اپنے اور خاندان کے بارے میں بتائیں؟۔
٭… میں30 مارچ1923 کو گجرات کے مشہور گائوں قلعہ دار میں پیدا ہوا۔ میر اخاندان ایک مذہبی گھرانا ہے۔ جس نے تقریباً تین سو سال تک مذہبی تعلیم کو پھیلایا۔ 
س:     آپ نے کہاں تک تعلیم حاصل کی؟اور کن کن اداروں سے؟ ۔
٭…  میں نے ابتدائی تعلیم ''قلعہ دار'' اور ''کنجاہ'' کے سکولوں سے حاصل کی اور پھر ''زمیندار ڈگری کالج گجرات'' میں داخلہ لے لیا جہاں سے بی اے تک تعلیم حاصل کی۔ کالج کے زمانے میں پروفیسر غلام جیلانی اصغر میرے محبوب اُستاد تھے۔ان کے علاوہ پروفیسر مقصود احمد خان اور ڈاکٹر بشیر حسین بھی تھے۔میں نے پنجاب یونیورسٹی لاہور سے ایم اے اُردو، فارسی، عربی کے امتحانات پاس کئے۔ اس کے بعد پی ایچ ڈی اُردو اور پی ایچ ڈی عربی کی ڈگریاں بھی پنجاب یونیورسٹی لاہور سے حاصل کیں۔
س:    آپ نے تحریکِ پاکستان کو اپنی آنکھوں سے دیکھا، اُس میں شامل بھی رہے۔ تحریک پاکستان میں تیزی کب آئی؟ آپ تحریک پاکستان میں کس طرح حصہ لیتے رہے؟ آپ اس وقت کس شہر میں مقیم تھے؟ ۔
٭… قائداعظم محمد علی جناح اور ان کے رفقاء کی کاوشوں سے برصغیر کے مسلمانوں میں آزادی حاصل کرنے کا شعور بیدار ہو چکا تھا۔1947ء کے آغاز سے ہی مسلمانوں کے ذہنوں میں آزادی حاصل کرنے کا جذبہ اپنی انتہاء کو پہنچ چکا تھا۔ قائداعظم کی قیادت میں تمام مسلمان ایک پرچم تلے جمع ہو چکے تھے۔ ہر گاؤں، قصبہ اور شہر کے لوگوں کا ایک ہی نعرہ تھا۔ ''لے کر رہیں گے پاکستان'' ''بن کے رہے گا پاکستان''۔ آزادی کا یہ جذبہ پورے برصغیر کے مسلمانوں میں موجود تھا۔
    گجرات میں بھی مسلمان ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہو چکے تھے۔ 3فروری1947ء کو باقاعدہ سول نافرمانی کی تحریک شروع ہوئی تو گجرات کے مسلمانوں نے اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ جلالپور جٹاں، کنجاہ اور دیگر علاقوں سے مسلمان جلوسوں کی شکل میں گجرات آئے۔ مولوی عبداللہ کی قیادت میں کنجاہ کا بہت بڑا جلوس پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاتا سٹی تھانے کے قریب پہنچا۔ پولیس نے جلوس کو روکا۔ ایک جلوس پیر ولایت شاہ کی مسجد سے صاحبزادہ سید محمود شاہ کی قیادت میں آیا۔ دوسرا بڑا جلوس مسجد میاں جلال الدین سے آیا جس میں شہر کے سرکردہ مسلمان خاندان، مغلیہ خاندان، پگانوالہ خاندان اور جوڑہ خاندان کے سرکردہ افراد بھی شامل تھے۔ یہ تمام جلوس سٹی تھانہ کے پاس پہنچ کر ایک منظم تحریک کی شکل اختیار کر گئے۔ پنڈی ڈویژن کا ڈی آئی جی مسٹر اسکاٹ ہاتھ میں ہاکی پکڑے خود موجود تھا۔ اس نے پولیس کومسلمانوں پر تشدد کرنے کا حکم دیا۔ اس نے خود بھی مسلمانوں کو ہاکی سے مارنا شروع کر دیا۔ میں کنجاہ میں پڑھایا کرتا تھا اور ایک جلوس کی قیادت کرتے ہوئے گجرات آیا۔ اس کا پہلا نشانہ میں بنااور اس کی ہاکی میرے چہرے پر بائیں آنکھ پر لگی اور میں توازن برقرار نہ رکھ سکا اور گر پڑا۔میرے دو شاگرد نوبہار اور محمد سرور آگے بڑھے۔ انہوں نے اسکاٹ کو اٹھا کر زمین پر پٹخ دیا۔ وہ زمین پر گرتے ہی بھاگ نکلا۔ پولیس بھی بے بس ہو کر بھاگ نکلی۔جوانوں نے اسکاٹ کا پیچھا کیا تو اس نے ایک دکان میں پناہ لی۔یہاں بھی اس کو مار پڑی۔ اس دوران پتھراؤ شروع ہو گیا۔ ایک پتھر اس کے سر پر لگا اور خون بہنے لگا۔ مسلمان قریب پہنچے تو گھبرا کر پاکستان زندہ باد کے نعرے لگانے لگا۔ اس جگہ پر پاکستان کا پرچم لگا کر وہاں آزادی پارک کی بنیاد رکھی گئی۔اس طرح میں نے تحریک پاکستان میں عملی حصہ لیا۔
س: آپ کے ساتھ تحریک پاکستان میں حصہ لینے والے کارکنوں میں کون کون شامل تھا؟۔
٭… میرے ساتھ تحریک پاکستان میں حصہ لینے والے دو کارکن مجھے یاد ہیں۔ ایک ٹھیکیدار رشید احمد اور دوسرے ایک آرٹسٹ تخلیق کار سکندر منہاس شمع تھے۔ تحریک پاکستان میں حصہ لینا کسی اعزاز سے کم نہیں ہے، میرے کئی ساتھیوں اور طالب علموں نے بھی تحریک پاکستان میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اپنی جان کی پروا کئے بغیر آزادی حاصل کرنے کے لئے انگریز اور ہندوؤں سے ٹکرائے ۔ یہی جذبہ برصغیر کے ہر مسلم نوجوان میں تھا۔ اسی لئے قائداعظم کو نوجوانوں سے بہت توقعات وابستہ تھیں۔
س:۔ کیا کبھی قائداعظم مادر ملت یا تحریک پاکستان کے اہم رہنماؤں سے ملنے یا انہیں دیکھنے کا موقع ملا؟۔
٭… جی ہاں! قائداعظم اور محترمہ فاطمہ جناح تحریک پاکستان کے دوران گجرات تشریف لائے اور میونسپل کمیٹی گجرات میں جلسہ ہوا۔ وہاں مجھے ان سے ہاتھ ملانے کا شرف حاصل ہوا۔ قائداعظم بارعب شخصیت کے مالک تھے۔ ان سے ملنے والا ان کی شخصیت سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا تھا، قائداعظم سے ملاقات کا سحر اور ان کے ہاتھ کا لمس آج بھی محسوس کرتا ہوں۔ مخالفین ان کے خلاف دشنام طرازی کرتے رہتے تھے لیکن قائداعظم کے عاشق مخالفین کو منہ توڑ جواب دیتے تھے۔ میں چونکہ شاعری کرتا تھا اس لئے میں نے قائداعظم کے لئے کئی نظمیں لکھیںاور ان کو خراجِ تحسین پیش کیا کرتا تھا۔ چند اشعار یوں ہیں۔
باطل کا فسوں تیرے در پہ ہو ہی گیا خم،اے قائداعظم
لہرایاہے اسلام کا پھر دہر پہ پرچم،اے قائداعظم
ظاہر ہوئی کیا آج تیرے خواب کی تعبیر، اے قائداعظم
اک شمع فروزاں وطن ہے تیرا دم دم ، اے قائداعظم
جب امتِ مرحوم کی قسمت کا ستارا چمکا ہے دوبارہ
کیوں تجھ کو مسیحائے زماں پھر نہ کہیں ہم، اے قائداعظم
٭٭٭
میدانِ سیاست میں بہ شمشیر تفکر، گر آئے تو یکسر
کرتے ہیں عدو تیرے ، تمناؤں کا ماتم، اے قائداعظم
اس خاک سیاہ ہند کو پھر پاک بنایا، گردُوں پہ اٹھایا
تحسین کے نغموں کی صدا آتی ہے پیہم ، اے قائداعظم
بتلائے اسرار جہانبانی کے تو نے ،شاہوں کے نمونے 
ہستی سے دور ہوئے دہر کے سب غم، اے قائداعظم
دائم رہے شاداں رہے تو گرم نوا ہے، ہر لب پہ دعا ہے
رحمت کی دعا تجھ پر  برستی رہے جھم جھم، اے قائداعظم
س:    شاعری کا شوق کیسے ہوا اور اب تک کتنے مجموعے منظر عام پر آ چکے ہیں؟ 
٭… میرے چچا علامہ مولوی محمد باقر قریشی قلعہ داری اچھے شاعر تھے۔ وہ عربی ، فارسی اور پنجابی میں بھی شعر کہتے تھے۔ ان اشعار کو اپنے خطبہ جمعہ میںبھی استعمال کرتے تھے ۔لوگ دور دور سے ان کا خطبہ سننے کے لئے آتے تھے۔ میں نے اپنے چچا کے اشعار لکھنے شروع کئے تو مجھے بھی شاعری میں دلچسپی پیدا ہوئی۔ ابتداء میں مَیں نے معجزاتِ رسول اور جنتی و دوزخی لوگوں کے حالات احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روشنی میں پنجابی میں منظوم کئے۔
تحریکِ پاکستان کے بارے میں سب سے پہلے اردو مثنوی لکھنے کا شرف بھی مجھے حاصل ہوا۔ جب قائداعظم کے حوالے سے کچھ لوگوں نے طنزیہ شاعری کی تو اس کے جواب میںقائداعظم کی مدح میں نظم مستزاد شکل میں لکھی۔ حمد، نعت، قصاید، تاریخ گوئی ، مرثیہ، علامہ اقبال کی مثنوی مسافر، اسرار خودی، پس چہ بایدکرد، گلشن راز جدیدی اور بندگی نامہ کے منظوم پنجابی تراجم کئے۔ شکوہ جواب شکوہ ، قصیدہ بردہ شریف اور قصیدہ سعاد کا بھی پنجابی ترجمہ کیا۔ 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے موقع پر شاہ نامہ فردوسی کے انداز میں''جنگ نامہ ہندو پاک'' لکھا۔ یوں کئی کلیات تیار ہو گئیں۔ 
    میرا ایک کام جس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں اور اس پر فخر بھی کرتا ہوں، وہ ہے قرآن پاک کا منظوم اردو ترجمہ۔ میں نے بڑی محبت اور عقیدت سے یہ کام انجام دیا جسے بہت پذیرائی ملی۔ قرآن مجید کا ترجمہ میں نے مثنوی کے انداز میں کیا ہے۔ اس مجموعہ کا نام ''مفاہیم القرآن'' ہے۔
سورة الکوثر کا ترجمہ یوں کیاہے۔
شروع کرتا ہوں لے کر نام اس کا 
جو رحمن و رحیم ہے سچا
عطا کی ہم نے ہے ہاں تم کو کوثر
نمازیں پڑھ تُو قربانی دیا کر
یہ فرماتا ہے بے شک رب اکبر
بلا شک تیرا دشمن ہو گا ابتر
س: برصغیر میں مسلمان، ہندو، سکھ سالہاسال سے اکٹھے رہ رہے تھے پھر مسلمانوں کو الگ وطن حاصل کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ 
٭… دو قومی نظرئیے کی بنیاد ہی اس پر تھی کہ مسلمان اور ہندو دو الگ الگ قومیں تھیں۔ اُن میں کچھ بھی مشترک نہیں تھا۔ معاشرتی اور سماجی طور پر بھی یہ دونوں قومیں ایک دوسرے کے قریب نہیں تھیں۔ ویسے بھی ہندوؤں کا رویہ مسلمانوں سے دن بہ دن خراب ہوتا جا رہا تھا۔ پہلے قائداعظم بھی ہندوؤں اور سکھوں سے مل کر انگریزوں کو برصغیر سے نکالنا چاہتے تھے لیکن جلد ہی انہوں نے محسوس کیا کہ ہندو انگریزوں کے جانے کے بعد مسلمانوں پر حکومت کرنے کے خواب دیکھ رہا ہے لہٰذا انہوں نے ہندو ؤں سے راہیں جدا کر لیں۔ پاکستان دو قومی نظرئیے کی بنیاد پر وجود میں آیا ہے جہاںمسلمان اپنے مذہب کے مطابق زندگی گزار سکیں۔
س:  قیامِ پاکستان کے وقت ہجرت کے دوران لوگوں کو کیا مسائل درپیش تھے؟
٭… جو مسلمان ہجرت کر کے آئے تھے وہ سارا مال واسباب چھوڑ آئے تھے۔ اپنی عزتیں اور جانیں بچا کر پاکستان پہنچنا ہی ان کے لئے اہم تھا۔ اس لئے یہاں مہاجر کیمپوں میں انہیں کھانا اور ضروریات زندگی کی اشیاء فراہم کی گئیں۔ اس وقت لوگوں میں بہت جذبہ تھا۔ سب لوگ خدمت کے لئے تیار تھے۔ کا ش یہ جذبہ ہمیشہ قائم رہتا۔
س:     آپ نے تصنیف و تالیف کاکام بھی کیا۔ اس کی کچھ تفصیل بتائیں؟ 
٭… میں نے اپنی ساری زندگی تصنیف و تالیف میں گزاری اور تقریباً ایک سو کتابیں تصنیف کیں۔ ان میں سے سب سے اہم قرآن پاک کا منظوم اُردو ترجمہ ہے۔ اس کے علاوہ ضلع گجرات کی تاریخ اور نعتیہ مجموعۂ کلام شائع ہو چکی ہیں ۔میں نے علامہ اقبال کی کتابوں اسرار خودی، مثنوی مسافر، پس چہ باید کرد اور بندگی نامہ کا منظوم پنجابی ترجمہ بھی کیا ہے۔ ''پنجابی ادبی تذکریاں تے اِک تنقیدی نظر ''کتاب پر مجھے رائٹر گلڈ کی طرف سے انعام بھی دیا گیا۔ اس کے علاوہ بے شمار کتب اور بھی ہیں جن کا یہاں احاطہ کرنا مشکل ہے۔ میری علمی و ادبی خدمات کے سلسلے میں حکومت پاکستان کی طرف سے مجھے 14 اگست 1998ء کو''تمغۂ امتیاز'' سے نوازا گیا۔
س:     تحریک پاکستان میں آپ کی خدمات کا اعتراف کس سطح پر کیا گیا؟
٭… تحریک پاکستان میں حصہ لینے کی وجہ سے مجھے گولڈ میڈل سے نوازا گیا۔ یہ گولڈ میڈل مجھے نظریہ پاکستان ٹرسٹ اور تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ کی طرف سے دیا گیا۔ یہ گولڈ میڈل اس وقت کے وزیر اعظم شوکت عزیز نے دیا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی اور نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے چیئرمین مجید نظامی بھی موجود تھے۔میری علمی و ادبی خدمات پر ''تمغہ امتیاز'' مجھے صدر پاکستان محمد رفیق تارڑ نے دیا تھا جو میرے لئے اعزاز ہے لیکن بطور کارکن تحریک پاکستان گولڈ میڈل حاصل کرنا میں اپنے لئے بڑا اعزاز سمجھتا ہوں۔ ان کے علاوہ چودھری شجاعت حسین نے بطور وزیر اعظم خصوصی سند عطا کی۔ گجرات کی ایک تنظیم نے ''شان گجرات'' کے اعزازسے بھی نوازا۔ 
س: پاکستان کی نوجوان نسل سے آپ کو کیا توقعات ہیں؟ ۔
٭… جوان نسل کو میں صرف اتنا کہوں گا کہ:
 ''اس ملک کو رکھنا میرے بچو سنبھال کے''
 کیونکہ قیام پاکستان کے وقت جو قتل و غارت میں نے دیکھی ہے وہ لفظوں میں بیان نہیں کی جاسکتی۔کتنی قربانیاں مسلمانوں نے دیں نوجوان نسل کو اس کا اندازہ نہیں ہے۔
س:۔ آپ کے خیال میں پاکستان کو کس طرح قائداعظم، علامہ اقبال اور تحریک پاکستان کے رہنماؤں کی خواہش اور نظریات کے مطابق بنایا جا سکتا ہے؟۔
٭… قائداعظماور علامہ اقبال کے اصولوں پر عمل پیرا ہو کر ہی پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جاسکتا ہے۔
س:۔ قارئین کے لئے آپ کیا پیغام دیں گے؟۔
٭… دیانتداری سے اس ملک کی خدمت کی جائے۔پاکستان کو لوٹنے کے بجائے اس کو کچھ دینے کا جذبہ پیدا کیا جائے۔ آزادی اور پاکستان اللہ کی نعمت ہے اس کا شکر اور قدر کرنے کے علاوہ اس کی حفاظت بھی کرنی چاہئے۔


[email protected]
 

یہ تحریر 160مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP