قومی و بین الاقوامی ایشوز

پاکستان امریکہ تعلقات کا ایک نیا روڈ میپ

چھ دہائیوں سے بھی زیادہ عرصے پر محیط پاک امریکہ تعلقات کی سب سے زیادہ نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ بے شمار اُتار چڑھائو کے باوجود دونوں نے کبھی ایک دوسرے سے مکمل طور پر ناتا نہیں توڑا۔ بلکہ جب بھی موزوں موقع دستیاب ہوا ہے، تعلقات کو نئے سرے سے اُستوار کرنے اور اُنہیں آگے بڑھانے کے لئے باہمی عزم کا اظہار کیاگیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کے حالیہ دورئہ امریکہ کے تنائج کی روشنی میں یہ حقیقت مزید واضح ہو جاتی ہے کہ نکتۂ نظر میں اختلافات کے باوجود وزیرِاعظم عمران خان اور صدر ٹرمپ نے تسلیم کیا ہے کہ دونوںملکوں میںنہ صرف سیاسی بلکہ معاشی، تجارتی اور ثقافتی شعبوں میں تعاون کے فروغ کے لئے وسیع گنجائش موجود ہے۔ اس کی سب سے اہم وجہ یہ ہے کہ بعض معاملات میں ایک دوسرے سے مختلف آراء رکھنے کے باوجود، بہت سے ایسے شعبے ہیں جن میں تعاون سے دونوں ملکوں کے قومی مفادات کو فائدہ پہنچتا ہے۔ چونکہ بین الاقوامی تعلقات ، قومی مفادات کی بنیاد پر قائم کئے جاتے ہیں اور کسی بھی دو ملکوں کے قومی مفادات میں کبھی بھی سو فیصد ہم آہنگی قائم نہیں رہتی اس لئے بعض اوقات اختلافات کا پیدا ہونا ناگزیر ہے۔



مثلاً امریکہ ایک عالمی طاقت ہے جو اپنے قومی مفادات کے تحفظ اور فروغ کو عالمی نکتہ نظر سے دیکھتا ہے۔ پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے جس کے اہم قومی مفادات اُسی خطے سے منسلک ہیں جس کا وہ جغرافیائی طور پر ایک حصہ ہے۔ ضروری نہیں کہ علاقائی مسائل کے بارے میں دونوں ملکوںکا نکتہ نظر یکساں ہو، پھر بھی باہمی تعاون کو ضروری سمجھاجاتاہے اور دونوں ایک دوسرے کو نظرانداز نہیں کرسکتے۔ وزیرِاعظم عمران خان نے یہ دورئہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دعوت پر کیا ہے۔ امریکی صدر نے کھلے عام اپنی انہی خواہشات کا اظہار کیاتھا کہ وہ پاکستانی رہنما سے ملنا چاہتے ہیں تاکہ خطے، خصوصاً افغانستان، میں امن اور سلامتی کے عمل کو آگے بڑھایا جاسکے۔ امریکی صدر کے اس بیان کا پس منظر یہ ہے کہ افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے میں پاکستان نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ امریکی حکومت اور افغانستان کے لئے صدر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی زلمے خلیل زاد پاکستان کے اس کردارکا برملا اعتراف کرچکے ہیں۔ اس کے علاوہ امریکہ کی جانب سے چند ایسے اقدامات بھی کئے گئے جن کی وجہ سے پاکستان اور امریکہ کے درمیان تلخی میں کمی واقع ہوئی ۔ ان میں پاکستان کے لئے آئی ایم ایف بیل آئوٹ پیکج پر امریکی اعتراض کی واپسی اور افغانستان کے بارے میں امریکہ، روس اور چین پر مشتمل سہ فریقی مشاورتی عمل میں پاکستان کی شمولیت بھی شامل ہے۔



ان اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ افغان مصالحتی عمل کو مزید آگے بڑھانے میں پاکستانی مدد کا خواہش مند ہے۔ پاکستان چونکہ پہلے ہی اس پر آمادگی کا اظہار کرچکا ہے اس لئے واشنگٹن میں وائٹ ہائوس میں وزیراعظم عمران خان اور صدر ٹرمپ کے درمیان ملاقات میں آخرالذکر کی طرف سے غیرمتوقع طور پر پاکستان اور وزیراعظم عمران خان کے لئے گرم جوشی کا مظاہرہ کیا گیا۔ مثلاً یہ جانتے ہوئے بھی کہ بھارت کشمیر پر کسی تیسرے فریق کی جانب سے ثالثی کا مخالف ہے اور اسی مقصد کے لئے چین، روس اور اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل حتیٰ کہ ماضی میں خود امریکہ کی طرف سے بھی متعدد بار پیش کش کو مستر دکرچکاہے، صدر ٹرمپ نے نہ صرف اپنی طرف سے ثالثی کا کردار اداکرنے کی خواہش کا اظہار کیا، بلکہ یہ بھی کہا کہ اُنہیں بھارت کے وزیرِاعظم نریندر مودی نے خودا ایسا کردار اداکرنے کی درخواست کی تھی۔ بھارتی حکومت اور میڈیااس سلسلے میں جتنا چاہے شور مچائے، حقیقت یہ ہے کہ دُنیا کے سب سے طاقتور شخص یعنی امریکی صدر کو یہ بات کہتے ہوئے کروڑوں انسانوں نے دیکھا اور سُنا۔ بھارت کے فوری ردِعمل کی روشنی میں اس بات کا امکان کم نظر آتاہے کہ کشمیر پر بھارت امریکہ یا کسی اور ملک کی ثالثی کو قبول کرے گا۔  پاکستانی وزیرِاعظم کے ساتھ گفتگو میں امریکی صدر کے اس بیان سے مسئلہ کشمیر کی ثالثی کو ایک نئی لائم لائٹ میسر آئی ہے۔ اس سے کشمیری عوام کی جدوجہدِ آزادی کو سیاسی اور اخلاقی سپورٹ حاصل ہوئی ہے اور کشمیر پر بھارتی مؤقف مزید کمزور ہوا ہے۔ اب یا عنقریب نہ سہی مگر مستقبل قریب میں کشمیرپر بین الاقوامی مصالحت کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا۔ کیونکہ پاکستان اور کشمیری عوام شدت کے ساتھ اس کے حامی ہیں۔ اُن کا یہ مؤقف ماضی میںکشمیر پر پاک بھارت دوطرفہ مذاکرات کی ناکامی کے تجربات پر مبنی ہے۔ اسی لئے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ پاکستان اور بھارت کے درمیان دوطرفہ بنیادوں پر مذاکرات کے ذریعے حل نہیں ہوسکتا۔ اس کے لئے بین الاقوامی ثالثی خواہ وہ امریکہ جیسی سپر پاور یا اقوامِ متحدہ کی طرف سے ہو، ناگزیر ہے۔ اسی طرح اس دورے کا ایک اور اہم نتیجہ یہ ہے کہ پاکستان کو امریکہ سے موصول ہونے والی سکیورٹی امداد بحال ہو سکتی ہے۔ اس کی طرف صدر ٹرمپ نے خود اسی وقت اشارہ دیا جب وہ وزیرِاعظم عمران خان سے گزشتہ ادوار میں پاک امریکہ تعلقات پر بات کررہے تھے۔اسی بات چیت کے دوران انہوںنے امریکہ کی طرف سے پاکستان کو تقریباً ڈیڑھ ارب ڈالرسالانہ امداد کا ذکر کیا اور کہا کہ اس کے باوجود دونوں ملک ایک دوسرے کے قریب نہ آسکے۔

مگر خود صدر ٹرمپ نے اس میں اضافہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کی وجہ یہ تھی کہ دونوں ملکوں میں مضبوط لیڈر شپ نہیں تھی۔ مگر اب نہ صرف پاکستان اور امریکہ میں صدر ٹرمپ کے مطابق صحیح قیادت آچکی ہے اور وہ حالات بھی نہیں رہے اسی لئے پاکستان کے لئے امریکی امداد دوبارہ بحال ہو سکتی ہے۔ حالات میں تبدیلی سے صدر ٹرمپ کی مراد افغان طالبان کے ساتھ امریکہ کے مذاکرات میں اہم پیش قدمی ہے، جس کی روشنی میں افغانستان جنگ بندی اور قیامِ امن کے حقیقی امکانات پیدا ہوگئے ہیں۔ امریکیوں کے اپنے بیانات کے مطابق ان تبدیلیوں کو لانے میں پاکستان نے اہم کردار ادا کیا ہے اور اس کے بعد بھی افغانستان میں استحکام اور امن و امان کے قیام میں بھی پاکستان کے کردار کی ضرورت پڑے گی۔ کیونکہ پاکستان کے ساتھ افغانستان کی ایک طویل سرحد قائم ہے اور جیسا کہ ماضی سے ظاہر ہے افغانستان کی صورت حال کا پاکستان پرفوراً اثر پڑتا ہے۔ افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے میں پاکستان نے جو مخلصانہ اور کامیاب کوششیں کی ہیں امریکی اب اُس کے معترف ہو چکے ہیں اور انہیں یقین ہے کہ افغانستان میںجنگ بندی اور مصالحت کی طرف مزید پیش قدمی میں بھی پاکستان اُسی سپرٹ سے اپنا کردار ادا کرے گا۔ پاکستان کے بارے میں امریکی سوچ میں یہ تبدیلی ہے جس کی بنیاد پر نہ صرف پاکستان کے لئے امریکی امداد بحال ہوسکتی ہے بلکہ دیگر شعبوں میں بھی تعاون کا اضافہ ہو سکتا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی امریکہ میں آمد سے ایک روز قبل امریکی محکمہ خارجہ کے ایک سینیئر اہلکار نے بھی اخباری نمائندوں کے ساتھ اپنی بریفنگ میں پاکستان کو امریکی سکیورٹی امداد کی بحالی کا اشارہ دیا تھا۔ مگر امریکی اہلکار کے مطابق اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ افغان امن عمل کے اگلے مراحل میں پاکستان کسی حد تک امریکہ کا مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ کیونکہ امریکی اہلکار کے مطابق اس وقت صدر ٹرمپ کے سامنے سب سے اہم مسئلہ افغانستان ہے اور قابلِ فہم بھی ہے کیونکہ افغانستان میں جنگ بندی اور فوجی انخلاء کے مقاصد حاصل کرنے کے بعد ٹرمپ اگلے سال صدارتی انتخابی دوڑ میں حصہ لینا چاہتے ہیں تاکہ اس میں اُن کی کامیابی کے امکانات زیادہ ہوں۔ پاکستان کے لئے بھی افغانستان کا مسئلہ اہم ہے مگر وزیرِاعظم کے امریکی دورے کے دوران پاکستان کا فوکس امریکہ کے ساتھ دو طرفہ تعلقات میں مزید اضافہ تھا کیونکہ اس وقت پاکستان کی حکومت کے سامنے سب سے بڑا چیلنج معیشت کی زبوں حالی ہے اور پاک امریکہ دو طرفہ تعلقات میں بہتری یعنی دونوں ملکوں کے درمیان تجارت میں مزید اضافہ اور پاکستانی معیشت کے مختلف شعبوں میں امریکہ پاکستان کی سب سے بڑی ایکسپورٹ مارکیٹ ہے اور پاک امریکہ سٹریٹیجک ڈائیلاگ کے تحت امریکہ پاکستان میں ایو ایس ایڈ کے ذریعے مختلف شعبوں مثلاً تعلیم، صحت، توانائی، واٹرمینجمنٹ، لائیو سٹاک، پھلوں اور سبزیوںکو ویلیوایڈڈ پراسیس کے ذریعے برآمد کے قابل بنانے کے لئے امریکہ ٹیکنیکل اور مالی امداد فراہم کررہا ہے۔اس تعاون سے ہزاروں کسان، مزدور، طالب علم اور ڈاکٹر مستفید ہو رہے ہیں۔ پاکستان اس تعاون کو مزید بڑھانے اور دوطرفہ تجارت اور پاکستان میں امریکی سرمایہ کاری میں اضافے کا خواہش مند ہے۔ وزیرِاعظم عمران خان اور صدر ٹرمپ کے درمیان ملاقات کے دوران آخر الذکر کے ریمارکس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ بھی پاکستان کے ساتھ ان شعبوں میں تعاون کومزید فروغ دینے پر تیار ہے۔ دورے کے آغاز سے قبل امریکی محکمہ خارجہ کی طرف سے جو بیان جاری کیاگیاتھا، اس میں کہا گیا تھا کہ وزیرِاعظم عمران خان اور صدر ٹرمپ کے درمیان ملاقات میںجن اُمور پر بات چیت ہوگی اُن میںتجارت اور توانائی شامل ہوں گے۔

یہی وجہ ہے کہ صدر ٹرمپ نے وائٹ ہائوس میں وزیراعظم عمران خان کے ساتھ ملاقات میں اس بات کا اشارہ دیا کہ پاکستان کے ساتھ امریکی تجارت کے حجم میں 20گنا تک اضافہ ہو سکتا ہے۔ پاک امریکہ تعلقات کا سب سے اہم پہلو ملٹری  ٹو  ملٹری  تعاون رہا ہے اور اس وقت بھی جب کہ تعلقات بہت نچلی سطح تک پہنچ چکے ہیں، امریکہ پاکستان کے ساتھ ملٹری ٹو ملٹری  تعلقات کی بحالی اور اس کے مستقل قیام کی اہمیت کو تسلیم کرتا ہے۔ وزیرِاعظم عمران خان کے دورئہ امریکہ سے تقریباً دس روز قبل ٹرمپ کی طرف سے نامزد چیئرمین جائنٹ سٹاف جنرل مارک میلے نے امریکی سینیٹ  کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے سامنے بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کے ساتھ عسکری روابط کا تواترکے ساتھ جاری رہنا امریکی مفادات کے حق میں ہے کیونکہ جنوبی ایشیا کے لئے صدر ٹرمپ کی حکمتِ عملی میں پاکستان امریکہ کا ایک کلیدی پارٹنر ہے اس کے علاوہ افغانستان میں ممکنہ سمجھوتے کے بعد کے حالات کو پُرامن اورمستحکم رکھنے میں بھی پاکستان ایک اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ امریکہ کے دورے پر وزیرِاعظم کے ہمراہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کا جانا اور امریکہ کی عسکری قیادت کے ساتھ اُن کی ملاقاتوں کی اہمیت کو اسی سیاق و سباق میں دیکھا جاسکتا ہے۔ اگرچہ اسی دورے سے پاک امریکہ تعلقات میںکوئی ڈرامائی تبدیلی نہیں آئی مگر مستقبل میںایک بہتر، باہمی مفاد اور احترام پر مبنی تعلقات کے لئے دونوں رہنمائوں نے ایک نئے روڈ میپ پر اتفاق کیا ہے۔


مضمون نگار معروف ماہر تعلیم اور کالم نویس ہیں۔  
[email protected]
 

یہ تحریر 172مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP