خصوصی رپوٹ

پاکستان آرمی ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام

(آرمی سپورٹس ڈائریکٹوریٹ کے زیرِ نگرانی ملکی سطح پرفیز I کے تحت صوبہ بلوچستان سے بہترین کھلاڑیوں کے انتخاب کا پروگرام )

تربیت کا لفظ انسانی زندگی میں ایک خاص اہمیت کا حامل ہے، تمام والدین اپنے بچوں کو اچھی تربیت دینے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں لیکن اخلاقی تربیت کے ساتھ ذہنی اور جسمانی تربیت اور صحت کا خیال رکھنا بھی بے حد ضروری ہے کیونکہ صحت مند اور توانا افراد ہی صحت مند معاشرہ تشکیل دے پاتے ہیں۔ کھیلوں کی اہمیت سے ہر چند واضح ہے کہ کھیل ایک صحت مند معاشرے کی عکاسی کرتے ہیں۔ایک مشہور مقولہ ہے کہ''جس ملک میں کھیل کے میدان آباد ہوں گے، وہاں کے ہسپتال ویران ہوں گے اور جس ملک کے کھیل کے میدان ویران ہوں گے وہاں کے ہسپتال آباد ہوں گے۔''



کھیلوں کی اسی اہمیت کو دیکھتے ہوئے نوجوان نسل کو اس میدان میں نہ صرف متعارف کروانا بلکہ بہترین رہنمائی فراہم کرنا ایک فلاحی مملکت کی پہچان ہے۔ وطنِ عزیزمیں مختلف کھیلوں کو فروغ دینے کے سلسلے میں پاک فوج کا کردار ہمیشہ پیش پیش رہا ہے۔ جس نے کئی نامور کھلاڑی پیدا کئے۔جنہوں نے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھرسے اعزازات حاصل کرکے ملک کے وقارمیں اضافہ کیا ۔ پاک فوج نے ہمیشہ سے کھلاڑیوں کو بہترین رہنمائی اور پلیٹ فارم مہیا کرنے میںاہم کردار ادا کیا ہے اور یہ ایک مسلسل عمل ہے۔ اسی مقصد کے تحت چیف آف آرمی سٹاف کی خصوصی ہدایات پر آرمی ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام کا آغاز کیاگیا ہے تاکہ نوجوانوں کو آگے بڑھنے کے بہترین مواقع فراہم کئے جاسکیں اور وہ  کامیابیوں کا لوہا منواسکیں۔
پاک فوج 'ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام' کے زیرِ عنوان قومی سطح پر کھیلوں کے مقابلے کے نئے سلسلے کا آغاز2019میں کرچکی ہے۔ اس پروگرام کو 4مرحلوں میں تقسیم کیاگیا ہے۔ پہلے مرحلے کا آغاز باقاعدہ طور پر بلوچستان سے کیاگیا ہے۔ اس سلسلے کا مقصدملک کے عوام میں چھپے ہوئے ٹیلنٹ کو اُجاگر کرنا ہے تاکہ وہ نمایاں کارکردگی سے اندرون و بیرونِ ملک تماشائیوں کی خصوصی توجہ حاصل کرسکیں۔پاکستان آرمی کی اِن کاوشوں کا مقصدملکی حالات میں مثبت تبدیلی لانا اور کھیل کے میدان کی رونقیں بحال کرنا ہے۔یہ اقدامات ایک صحت مند معاشرے کی جانب یقینا اہم پیش رفت ثابت ہوں گے۔
 اس سلسلے میں پاک فوج نے بلوچستان میں کوئٹہ، چمن، نوشکی، تربت اور گوادر جیسے بڑے شہروں سے مرد و خواتین کی خاص تعداد کو منتخب کیا اور فٹ بال، سائیکلنگ، مارشل آرٹس اور باکسنگ  جیسے کھیلوں(جن پر عبور حاصل کرنے کی صلاحیت ان میں بھرپور ہے) میں رہنمائی اور اُن کی صلاحیتوںمیں مزید نکھار لانے کے لئے ایک تربیتی پلیٹ فارم مہیا کیا ۔ پاک فوج کے سپورٹس ڈائریکٹوریٹ نے اس مہم میں ایک مرکزی کردار ادا کیا ہے۔
اس سلسلے میں آرمی سپورٹس ڈائریکٹوریٹ کی ٹیم اعلان شدہ پروگرام کے  مطابق مختلف مقامات کا دورہ کرکے ابتدائی انتخاب کرتی ہے اور پھر ان کھیلوں کے ماہرین کو راولپنڈی میں 5 سے6 سال تک کے لئے منتخب کھیلوں میں مزید تربیت دی جاتی ہے یا یہ کہا جائے کہ پتھر کو تراش کر ہیرا بنایا جاتا ہے تاکہ اس کی چمک دمک میں اضافہ ہوسکے۔
ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام 2019 کے پہلے مرحلے میں صوبہ بلوچستان کے100 منتخب نوجوانوں کو آرمی کے زیرِ سایہ کھیلوں کی تربیت دی گئی جس میں خواتین و مرد دونوں کی ایک مخصوص تعداد شامل ہے۔ تناسب کے لحاظ سے فٹ بال کے 60فیصد سائیکلنگکے15فیصد ،مارشل آرٹس کے 15 فیصداور باکسنگ کے10فیصد لوگوں کی تعدادپہلے مرحلے میں شامل رہی ہے۔ 
انٹرنیشنل اولمپکس چارٹرکے تحت کھیلوں میںخواتین کو بھی مردوں کے برابرنمائندگی دینے کی ہدایات شامل کی گئی ہیںجس کے تحت2019 میں منعقد ہونے والی نیشنل گیمز میں خواتین کی مؤثرنمائندگی کو یقینی بنایاگیا ہے ۔اس طرح پاک آرمی خواتین کو بھی اپنے جوہر دکھانے کے بھرپور مواقع فراہم کررہی ہے۔
ڈائریکٹر سپورٹس ڈائریکٹوریٹ بریگیڈیئر ظہیراختر سے اس پروگرام کی تفصیلات جاننے کا موقع ملا تو ہمیں معلوم ہوا کہ اس پروگرام کے تحت منتخب کردہ لڑکوں اور لڑکیوں کو ان کے کھیل کے انتخاب کے بعد پانچ سے چھ سال تک کی تربیت دی جاتی ہے اس کے ساتھ مفت رہائش ، کھانا اور ہر ایک کووظیفے کے طور پرمناسب اعزازیہ بھی دیا جاتاہے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو پاک فوج' یوتھ آف پاکستان' کے لئے آگے بڑھنے کے حیرت انگیز مواقع پیداکررہی ہے۔ پہلے مرحلے میں بلوچستان سے 100 نوجوان بشمول مرد و خواتین اس پروگرام کا حصہ بنے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کی ترقی اور پسماندگی کے تناسب کو کم کرنے کے لئے باصلاحیت بلوچی نوجوانوں کی صلاحیتوں کو فوج اور قومی سطح پر اُجاگر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ یہ قومی اور بین الاقوامی سطح پرملک وقوم کی شان بنیں۔
یہ پروگرام دو مرحلوں میں متعارف کروایاگیا ہے پہلے مرحلے میں کسی نوعمربچے  کی کھلاڑی بننے کی فزیکل ٹریننگ جبکہ دوسرا مرحلہ منتخب کھلاڑیوں کا ادارے کے لئے کھیل پر مشتمل ہے۔
مرد و خواتین کھلاڑیوں کے چنائو کے حوالے سے عمر16 سے24 سال اور تعلیم نہم سے گریجویشن رکھی گئی ہے۔
سپورٹس ڈائریکٹوریٹ کے کچھ بچوں کو زیرتربیت دیکھتے ہوئے ہمیں بلوچستان کے علاقے ہزارہ ٹائون کے کچھ باصلاحیت بچوں سے بات چیت کرنے کا موقع ملا تو یوں لگا جیسے یہ بچے پیدا ہی اس کام کے لئے ہوئے ہیں۔ کراٹے کے یہ ماہر بچے نہ صرف اپنی گیم میں مشاق ہیں بلکہ دماغی طور پر بھی ایک کھلی ذہنیت اور روشن خیال کے مالک ہیں۔
کراٹے کے ماہر بچوں میں 4 لڑکیاں اور4 لڑکے شامل ہیں جو اس ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام میںمنتخب کئے گئے ہیں جن میں حدیثہ، نویسہ، ارشاد علی، نادیہ، سید اصغرعلی، سید محمدمہدی، عنائتہ بتول اور نصیرآغاشامل ہیں۔
بلوچستان کے علاقے سے اتنا ٹیلنٹ ابھرے گا  یہ کبھی کسی نے سوچا بھی نہیں ہوگا لیکن جب وہاں کے رہنے والے بچے اپنے اندر اتنا شوق رکھتے ہوں تو پھر ایسی بہت سی مثالیں سامنے آتی ہیں۔ ارشاد علی 12 سال کی عمر سے موچی کی دکان پر کام کرتا تھا۔ استاد کراٹے کھیلتے تھے اس لئے انہوںنے ارشاد علی کو بھی اس طرف راغب کیا اور پھر شوق نے اس کو پروان چڑھایا اور اس نے مختلف صوبوں میں کھیل کرتین گولڈ میڈل حاصل کئے۔ پانچ بھائی اور  2بہنوں کا یہ بھائی اکیلا اس فیلڈ سے منسلک نہیں بلکہ اس کی لگن اور شوق کو دیکھ کر دوسرے بہن بھائیوں میں بھی کراٹے کے لئے دلچسپی پیدا ہو رہی ہے لیکن ان تمام مراحل کی قابلِ ذکربات یہ ہے کہ کھیل کے ساتھ ساتھ ان کی پڑھائی بھی جاری و ساری ہے۔
اس طرح کی اور مثالیں سید محمدمہدی، نصیرآغا اور سیدعلی اصغر کی بھی ہیں۔ مہدی میٹرک کا طالب علم ہے اور5 سال سے کراٹے میںمہارت دکھا رہا ہے۔18 سال کی عمر میں ایک بار نیشنل سلور میڈل بھی جیت چکا ہے اور اس کے علاوہ صوبائی سطح پر بلوچستان کا نام خو ب روشن کررہا ہے جبکہ سیدعلی اصغرایف ایس سی پری میڈیکل کرنے کے ساتھ 13 سال سے کراٹے کے میدان میں نام پیدا کرچکا ہے اور 4 دفعہ نیشنل گولڈ میڈل لے چکا ہے ، اُس نے ایک دفعہ آرمی کی طرف سے اور 3 بار واپڈا کی طرف سے کھیل میںشرکت کی۔ اصغر کے والد نے ان کو اپنے زیرِ سایہ اپنے کلب میں کراٹے کی پریکٹس کروائی چونکہ وہ خود بھی اس کے شوقین تھے لہٰذا انہوںنے اپنے بیٹے کو بھی اسی فن سے متعارف کروانا چاہا۔
ان کے ایک ساتھی بلوچستان کے ہونہار بیٹے نصیر آغا ہیں جو بچپن سے ہی کراٹے کا شوق رکھتے تھے اور 19 سال کی عمر میں انہوںنے 5 گولڈ میڈل حاصل کرلئے ہیں۔
جہاں بلوچستان کے بیٹے ملک کی شان اور آن کو بڑھانے میں پیش پیش ہیں وہاں بلوچستان کی بیٹیاں بھی ان کے شانہ بشانہ ہیں۔ حدیثہ، نویسہ، عنائتہ اور نادیہ قوم کی یہ بیٹیاں قوم کے بیٹوں کے مقابلے میں برابری کی سطح پر آکر ملک کا نام روشن کررہی ہیں۔ حدیثہ ان میں نیشنل لیول کی پلیئر ہیں اور میڈلز بھی لے چکی ہیں۔18 سال کی عمرمیں نادیہ کوئٹہ کے علاقے میں کراٹے کی ٹریننگ کرتے ہوئے اپنا لوہا منوا رہی ہیں۔ عنائتہ اپنی دوست کو کراٹے کھیلتے دیکھتی تو ہمیشہ یہ سوچتی کہ کیا کبھی میں بھی یہ کرپائوں گی لیکن جب ارادے مضبوط ہوں توراستے کھلتے چلے جاتے ہیں۔ عنائتہ نے اپنے شوق کا اظہار اپنے والدین سے کیا تو وہ نہ صرف خوش ہوئے بلکہ اس کی باقاعدہ ٹریننگ بھی شروع کروائی اور آج عنائتہ آرمی سپورٹس ڈائریکٹوریٹ کا اہم حصہ ہے۔ ان خوبصورت ناموں میں سب سے پیارا نام نویسہ کا ہے جو 12 سال کی سب سے کم عمر کھلاڑی ہے۔ نویسہ نے ایک سال پہلے پریکٹس شروع کی اور آج وہ بھی ان چند بچیوں میںسے ایک ہے جو کھیل کے میدان میں اپنا نام روشن کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔یہ بچیاں کسی لحاظ سے بھی لڑکوں سے کم نہیں ہیں، ان کا کہنا تھا کہ ہم مل کر اس ملک کی شان بڑھائیں گے۔ جیسے تالی ایک ہاتھ سے نہیںبجتی ویسے ہی ملک کی ترقی کسی اکیلے فرد سے ممکن نہیںاور جس قوم کی بیٹیوں کے عزائم اتنے بلند ہوں اُس قوم کو کوئی کیسے زیر کرسکتا ہے۔ یہ تمام بچے اور بچیاں صلاحیتوںسے بھرپور ہیں اور جو بچے فزیکلی فٹنس کے اصول سے واقف ہوں وہ اپنے آپ کو ہر گیم میں ایڈجسٹ کرسکتے ہیں۔ اس بات کو مدِنظر رکھتے ہوئے پاک آرمی نے اپنے سپورٹس ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام کا آغاز صوبہ بلوچستان سے کیا ہے۔ پاک فوج کی ٹیمز نے بلوچستان سے مختلف بچوں کو سلیکشن رائونڈ میں منتخب کیا اور یوں وہ پاک آرمی کی اس کاوش کا حصہ بن گئے۔


کسی قوم کی ترقی کا انحصاراس کے نوجوانوں پرہوتا ہے۔ جس انداز سے نئی نسل کو پروان چڑھایا جائے گاویسا ہی معاشرہ سامنے آئے گا  اس بات کو مدِنظر رکھتے ہوئے پاک فوج نے جو بیڑہ اٹھایا ہے وہ یقینا قابلِ تعریف ہے،


2گھنٹے صبح اور 2  گھنٹے شام کی فزیکل ٹریننگ کے ساتھ ساتھ ان بچوں کے رہن سہن اور طعام کا بھی خاص خیال رکھاجاتاہے۔ اس چیز کی پوری کوشش کی جاتی ہے کہ ان بچوں کو گھر سے دور گھر والا ماحول فراہم کیا جائے۔ مزید یہ کہ ان کو ماہانہ سطح پر تنخواہ کا سسٹم بھی متعارف کروایا جاتا ہے۔ان تمام باتوں میں سب سے اہم اور قابلِ تعریف یہ ہے کہ یہ تمام والدین اپنے بچوں کی مکمل طور پر رہنمائی کررہے ہیں اور اس بات کا شعور بھی رکھتے ہیںکہ ان بچوں کا مستقبل ان کی روشن خیالی ہی کا مرہونِ منت ہے۔ وہ بچوں اور بچیوں میں کوئی فرق روا نہیں رکھتے بلکہ خود اپنی بیٹیوں کو ایسی راہ مہیا کرتے ہیں جس سے ان کا شوق مزیدنکھر کرسامنے آئے اور وہ نہ صرف اپنے والدین بلکہ اپنے ملک کا فخر بنیں۔
پاک فوج کے اس اقدام سے یہ بات واضح ہے کہ وہ دور دراز علاقوں کے رہنے والے بچوں کو ملکی اور غیر ملکی سطح پر نمائندگی کے لئے تیار کرنا چاہتے ہیں اور یہ کوشش  یقینارائیگاں نہیں جائے گی۔ یہاں بچوں کو جس سطح پر تیار کیاجاتا ہے اور جس طرح کا ماحوال فراہم کیا جاتا ہے ایسے میں نتائج بھی مثبت آئیں گے۔
کہتے ہیں کہ کسی قوم کی ترقی کا انحصاراس کے نوجوانوں پرہوتا ہے۔ جس انداز سے نئی نسل کو پروان چڑھایا جائے گاویسا ہی معاشرہ سامنے آئے گا  اس بات کو مدِنظر رکھتے ہوئے پاک فوج نے جو بیڑہ اٹھایا ہے وہ یقینا قابلِ تعریف ہے، ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام کے آئندہ مراحل میں ملک کے دوسرے حصوں میں چھپے ٹیلنٹ کو عوام کے سامنے لایا جائے گا اور وہ دن دور نہیں جب یہی نوجوانانِ پاکستان اس ملک کی پہچان بنیں گے کیونکہ یہی بچے مستقبل میں کھیل کے میدانوں کی رونق اور اُمید کی کرن ہیں۔

یہ تحریر 82مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP