قومی و بین الاقوامی ایشوز

پانی کے ممکنہ قومی بحران سے کیسے نمٹا جائے 

کسی بھی ملک کی تعمیر و ترقی میں آبی وسائل کلیدی قردار ادا کرتے ہیں۔آبی وسائل کے انتظامات اور ان سے بھرپور استفادہ  حاصل کرنا ہر زندہ قوم کی اولین ترجیح ہوتی ہے۔ ہمارے ملک پاکستان کی بھی ترقی پانی کے صحیح استعمال اور زراعت و دیگر شعبہ جات میں پانی کی اچھی منیجمنٹ سے وابستہ ہے ۔
 عالمی موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں پاکستان کا نمبر پانچواں ہے جو کہ ایک انتہائی خطرناک بات ہے ۔پاکستان کے لئے یہ اس لئے بھی انتہائی خطرناک ہے کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور ملکی معیشت کا دارومدار اسی پر ہے۔
موجودہ صورتحال 
پاکستان کے دریائوں میں پانی 150 ملین ایکڑ فٹ سالانہ ملتا ہے ۔اگر اس کو کل آبادی سے تقسیم کر دیں تو فی کس850مکعب میٹرپانی سالانہ بنتا ہے ۔ہمارے ملک میں پانی ذخیرہ کرنے کے لئے چھوٹے بڑے ڈیم موجود ہیں مگر وہ صرف ایک مہینے کا پانی یعنی پندرہ سے سترہ ملین ایکڑ فٹ پانی جمع کر سکتے ہیں ۔دوسری جانب ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق کھیتوں میں کل پانی کا %96  استعمال کرنے کے لحاظ  سے پاکستان دنیا کا سب سے زیادہ پانی ضائع کرنے والا ملک ہے ۔جس کی وجہ سے نہ صرف سردیوں میں فوگ اور اسموگ بنتی ہیں بلکہ سیم اور تھور میں بھی اضافہ ہو رہا ہے جس سے زمین تباہ ہورہی ہیں ۔واضح رہے کہ ملک میں کھیتی باڑی کا زیادہ تر حصہ انڈس بیسن (یعنی دریا سندھ اور ملحقہ دریائوں کے اطراف) میں ہے جو کہ کل سترہ ملین ہیکٹر بنتا ہے ۔
دوسری طرف پڑوسی ملک بھارت کی جانب سے ہمارے دریائوں پر ڈیم بنانے کے عمل سے بھی پانی کی شدید کمی ہو رہی ہے  ۔مثال کے طور پر کشن گنگا ڈیم، یا بگھلیار ڈیم سے پاکستان میں پانی کی کمی ہو جائیگی۔
 ملکی پیداوار میں پانی کا کردار کتنا ہے اس کو جانچنے کے لئے ایک واٹر پروڈ کٹویٹی ہے ۔ water productivity کا تصور عالمی بنک نے متعارف کروایا ۔اس کے مطابق اگر کل جی ڈی پی کو تازہ پانی کے کل استعمال سے تقسیم کر دیں تو یہ پتہ چل جائے گا کہ فی ڈالر جی ڈی پی پیدا کرنے میں کتنے مکعب میٹر پانی خرچ ہوتا ہے ۔دنیا میں سب سے زیادہ واٹر پروڈکٹویتی  لگزمبرگ کی ہے جو کہ 1308 ڈالر فی مکعب میٹر ہے جبکہ پاکستان صرف 1 ڈالر فی مکعب میٹر کے ساتھ 182 ممالک کی فہرست میں 165ویں نمبر پر ہے ۔ واضح رہے کہ ہمارے پڑوسی ممالک بھارت اور ایران بالترتیب 3 اور 4 ڈالر فی مکعب میٹر پر ہیں ۔ 
اکنامک ریویو آف پاکستان کے مطابق 2011-2012 میں زراعت کا جی ڈی پی میں حصہ اکیس فیصد تھا ۔جبکہ ملک کی کل لیبر کاتقریباً  45%کھیتی باڑی سے منسلک ہے ۔بحیثیت مجموئی ملک کی نصف آبادی کا روزگار زراعت سے  ہی ہے ۔
 مستقبل کے خطرات 
پانی کی دستیابی کے لحاظ سے پاکستان کا شمار خشک ممالک میں ہوتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ عالمی موسمیاتی تبدیلی سے متاثر ممالک میں پاکستان کا نمبر سر فہرست ممالک میں ہے ۔اس کے علاوہ بھی دیگر عوامل جو پانی کی کمی کا باعث ہیں ان سب سے ہمارے مستقبل کو خطرہ لاحق ہے ۔اگر ان خطرات کا جائزہ لیں تو مندرجہ ذیل مسائل سامنے آئیںگے ۔ 
بارشوں کے رجحان میں تبدیلی  
پاکستان میں فصلیں دو طرح کی ہیں، ایک ربیع اور دوسری خریف ۔ربیع فصلیں سردیوں میں یعنی نومبر سے اپریل کے دوران ہوتی ہیں جبکہ خریف گرمیوں کی فصلیں ہیں یعنی مئی سے اکتوبر کے دوران، گرمیوں میں مون سون کی بارشیں ہوتی ہیں جو کہ اکثر موسلادھار برستی ہیں ۔ جبکہ سردیوں کی بارشیں ہلکی اور دیر تک برستی ہیں لہٰذا یہ فصلوں کے لئے زیادہ موزوں ہوتی ہیں ۔
 اگر بارشوں کا سلسلہ ذرا بھی بدلا تو پورا زراعت کا نظام متاثر ہو جائے گا ۔بارشیں اگر غلط موسم میں ہوجائیں تو فصلوں کا نقصان ہوتا ہے ۔سیلاب کی صورت میں بھی کھڑی فصلیں تباہ ہو جاتی ہیں ۔دوسری طرف بارشیں مقررہ مقدار میں نہ ہوں تو خشک سالی کا مسئلہ پیدا ہو جاتا ہے اور پانی کی کمی کی وجہ سے کھیتی باڑی نہیں ہو پاتی ۔پاکستان ڈویلپمنٹ ریویو میں 2021 میں ڈاکٹر ریحانہ صدیقی  کے ایک تحقیقی مقالے میں پنجاب کی چار فصلوں کا جائزہ لیا گیا جس میں گندم، کپاس، گنا اور چاول شامل ہیں۔ اس کے مطابق بارشوں میں اضافہ سے گندم، کپاس اور گنا کی پیداوار متاثر ہوتی ہیں چاول پر اس کا فرق نہیں پڑتا ۔جبکہ دیگر ذرائع سے اندازہ ہوتا ہے کہ بارشوں میں کمی سے چاول سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے ۔تاہم کسی بھی موسمی تبدیلی سے سب سے زیادہ خطرہ کپاس کو ہوتا ہے ۔  
درجہ حرارت کا بڑھنا 
ہر فصل کو ایک مخصوص درجہ حرارت کی ضرورت ہوتی ہے ۔ملک میں پیدا ہونے والی بہت سی فصلیں مثال کے طور پر مکئی، کپاس، سویا بین وغیرہ 30 ڈگری سے اوپر درجہ حرارت برداشت نہیں کرسکتی ہیں اور ان کی پیداوار میں کمی آنا شروع ہو جاتی ہے۔ گلوبل وارمنگ اور عالمی موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے بہت سی فصلیں درجہ حرارت بدلنے سے متاثر ہوںگی اور ان پر منفی اثرات پڑیں گے ۔ 
جنگلات پر اثرات 
موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر جنگلات اور حیاتیاتی نظام، جسے ایکو سسٹم کہتے ہیں، وہ ہے۔ہمارے شمالی علاقوں میں اور کچے کے جنگلات پر پانی کی دستیابی یا عدم دستیابی کا اثر پڑتا ہے ۔بارشوں میں کمی اور سیلابی پانی میں کمی کے باعث درختوں کی پیداوار میں کمی ہو رہی ہے ۔پہلے ہی پاکستان میں جنگلات کا رقبہ کم ہے گو کہ موجودہ حکومت شجر کاری پر بھرپور توجہ دے رہی ہے مگر پانی کی دستیابی ان مہمات کی کامیابی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے ۔اسی طرح ہمارے ساحلی علاقوں میں مینگروو کے  جنگلات جن سے نہ صرف سمندری مچھلیوں کی افزائش ہوتی ہے بلکہ ساحلی آبادیوں کو سمندری طوفانوں اور سونامی جیسے خطرات سے بچاتے ہیں ۔یہ جنگلات بھی دریائوں کے میٹھیپانی پر انحصار کرتے ہیں ۔لہٰذا انڈس ڈیلٹا میں پانی کی کمی سے یہ بہت زیادہ متاثر ہو رہے ہیں.
اس چیلنج سے کیسے نمٹیں
جیسا کہ اوپر ذکر ہوا ہے کہ پانی کی کمی کے مسائل کو اگر حل کرنا ہے تو ہمیں اس معاملہ کو سمجھنا ہوگا ۔ایک تو یہ کہ کھیتوں میں جو بے پناہ پانی ضائع ہو رہا ہے اس کو روکنا ہوگا اور دوسرا ہمیں پانی کے ذخائر کو بڑھانا ہوگاا ور نئے ڈیم تعمیر کرنا ہوں گے  اورتیسراعلم و تحقیق کے میدان میں سرمایہ کاری ۔ہم تینوں معاملات کا جائزہ لیتے ہیں ۔
پانی کے بچانے اور حفاظت کے طریقے 
پانی کو اگر ضائع ہونے سے بچانا ہے تو اس کے کئی طریقے ہیں۔مثال کے طور پر فصلوں کاصحیح انتخاب، آبپاشی کا جدید نظام وغیرہ ۔ہمیں دونوں چیزوں پر توجہ دینی ہوگی۔
 فصلوں کا جہاں تک تعلق ہے تو ایک بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ پاکستان کا شمار خشک اور پانی کی کمی والے ممالک میں ہوتا ہے ۔لہٰذا ہمیں فصلیں بھی ایسی ہی لگانی چاہئیں جو کم پانی لیں ۔بدقسمتی سے ہمارے ملک میں وہ فصلیں زیادہ کاشت ہوتی ہیں جو زیادہ پانی مانگتی ہیں مثال کے طور پر چاول یا گنا یہ ٹراپیکل ممالک کی فصلیں ہیں جہاں سال بھر بارشیں ہوتی ہیں ۔2020 میں چھپنے، والی جرمنی اور پاکستان کے مشترکہ تحقیقی مقالے سے انکشاف ہوا کہ سندھ اور پنجاب میں صرف3 فصلیں گنا، چاول اور کپاس ملک میں کل پانی کا 57%  پانی لیتی ہیں جس کو کم کر کے بآسانی نصف پر لایا جا سکتا ہے ۔اس کے لئے آبپاشی کا نظم بہتر بنانا ہوگا ۔
اس کے علاوہ ایسی فصلیں جو کم پانی لیتی ہیں مثال کے طور پر  سورج مکھی وغیرہ وہ مالی فائدہ بھی زیادہ دیتی ہیں ان کا انتخاب کر کے ہم بہت سا پانی بھی بچا سکتے ہیں ۔
جدید آبپاشی کا نظام 
 دنیا بھر میں اس وقت آبپاشی کا  نظام جدت اختیار کر چکا ہے ۔تاہم ہمارے ملک میں اب بھی قدیم نظام موجود ہے ۔ہم اگر سپرنکلر سسٹم یا ڈرپ اریگیشن سسٹم کو لگانا شروع کر دیں تو اگلے چند سالوں میں ہم اپنی پانی کی کھپت کو با آسانی پچاس فیصد پر لا سکتے ہیں ۔سپرنکلر سسٹم فوارے کے ذریع پانی دیناہے اس طرح بہت سا پانی بچ جاتا ہے ۔دوسری طرف ڈرپ اریگیشن میں چھوٹے پائپوں کے ذریعے پودوں کی جڑوں میں پانی دیا جاتا ہے ۔اس طرح بہت ہی کم پانی میں کافی بڑا رقبہ سیراب ہو سکتا ہے ۔
امریکہ میں چھپنے والی ایک تحقیق کے مطابق ڈرپ اریگیشن کے ذریعے یپچھتر سے پچانوے فیصدپانی بچایا جاسکتا ہے ۔گویا ہم فرض کر لیں کے اگر اسکو پورے ملک میں لگا دیا جائے تو موجودہ پانی کے ذخائر جو ایک ماہ کا پانی جمع کر سکتے ہیں وہ کم سے کم چار ماہ کے لئے کافی ہوں گے ۔جبکہ اس کی قیمت کا اندازہ پنجاب ایگری کلچر ڈپارٹمنٹ نے زیادہ سے زیادہ2 لاکھ روپے فی ایکڑ لگایا ہے ۔ڈیم کے مقابلے میں یہ رقم یکمشت لگانے کے بجائے بتدریج لگائی جاسکتی ہے ۔لہٰذا حکومت کو چاہیے کہ اس پر خاص توجہ دے ۔
نئے ڈیم اور ذخائر کی تعمیرات 
پاکستان میں موجود تربیلا ڈیم، منگلا ڈیم اور وارسک ڈیم جوپہلے سے موجود ہیں، اس کے علاوہ ڈیڑھ سو کے قریب چھوٹے بڑے آبی ذخائر موجود ہیں ۔گزشتہ چند سالوں میں تربیلا ڈیم کی توسیع اور گومل ڈیم جیسے منصوبے مکمل ہوئے ہیں لیکن اب بھی زیر تعمیر ڈیم جیسے داسو ڈیم جو 1.1 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کے ساتھ ساتھ ساڑھے چار ہزار میگاواٹ بجلی بھی پیدا کرے گا ۔اس کی لاگت محض 4.28 ارب ڈالر ہے جو کہ دیگر ڈیموں کے مقابلے میں نہایت کم ہے ۔اسی طرح دیامر بھاشا ڈیم، اور دیگر کئی منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کی کوششیں جاری ہیں لیکن اس ضمن میں ایک مستقبل کا منصوبہ خاصا اہم ہوسکتا ہے ۔وہ ہے سکردو میں کتزارا ڈیم کا منصوبہ ۔یہ ڈیم پینتیس ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی وجہ سے دنیا کا سب سے بڑا ڈیم بن سکتا ہے۔ اس سے پندرہ ہزار میگاواٹ بجلی بھی بنے گی ۔اس ڈیم کی لاگت کا تخمینہ 2016 میں 7 ارب ڈالر لگایا گیا تھا ۔صرف اس ایک ڈیم میں ملک کا ساٹھ سے ستر دن کا پانی جمع ہو سکتا ہے ۔
تاہم ڈیم بنانے کے ساتھ ساتھ پانی کے منصفانہ تقسیم کے فارمولے کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے ۔پانی کی کمی سے سب سے زیادہ متاثر انڈس ڈیلٹا میں بسنے والے لوگ ہیں ۔ماضی کے اس خوشحال ترین علاقے میں پانی کی ترسیل کو یقینی بنایا جائے کیوں کہ وہاں بسنے والے لاکھوں افراد کا دارومدار اب بھی کھیتی باڑی پر ہی ہے جو کہ پانی کی کمی کی وجہ سے متاثر ہو رہا ہے ۔
تحقیق اور تعلیم 
ضرورت اس امر کی ہے کہ پانی کے مسائل اور مستقبل میں آنے والے بحران سے نمٹنے کے لئے تعلیم اور تحقیق کے رجحان کو بڑھانا ہوگا ۔حکومت کو چاہیے کہ اس سلسلے میں ماہرین سے مشاورت کی جائے ۔تحقیق پر زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کرے ۔اس کے ساتھ ساتھ نئے اسکالروں کو سکالرشپ اور فنڈ دیں جو پانی کے مسائل اور آنے والے بحران سے نمٹنے کی منصوبہ بندی خالص سائنسی اور سماجی مساوات کی بنیادوں پرکریں ۔ ||


  مضمون نگار ایک معروف یونیورسٹی میں اینوائرمینٹل سائنسز کے شعبے سے وابستہ ہیں اور ماحولیات سے متعلق موضوعات پر لکھتے ہیں۔
 

یہ تحریر 64مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP