متفرقات

ٹیپو سلطان ایک زندہ و منوّر استعارہ

یہ مئی کا مہینہ ہے۔ آج سے تقریباً دو صدیاں پیشتر 5 مئی کو ہماری کمان کا آخری تیر فرنگی فوج کے سینے میں پیوست ہوا تھا:
درمیانِ کار زارِ کفر و دیں
ترکش  ما   را   خدنگِ  آخریں
(اقبال)  


     


5مئی1799ء کو ٹیپو سلطان نے اپنے اس مقولے پر عمل کرتے ہوئے کہ شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے، دادِ شجاعت دیتے ہوئے شہادت پائی تھی۔ ٹیپوسلطان کی شہادت کی خبر کے ساتھ ہی صرف سرنگاپٹم کے میدان پر ہی نہیں بلکہ بلادِ اسلامیہ کے نام سے موسوم پورے برصغیر پر موت کا سا سناٹا طاری ہو گیا تھا۔ انتہائی سراسیمگی کے اس عالم میں برصغیر کے ''جعفر از بنگال، صادق از دکن'' اور ان کی نسلی اور معنوی اولاد نے گیدڑ کی زندگی کے اوصاف کو اوصافِ حمیدہ قرار دے کر اپنا لیا تھا۔ جب سے لے کر اب تک ہمارا حکمران طبقہ عوام کے دلوں سے شیر کی زندگی بسر کرنے کی تمنا کو مٹا ڈالنے میں کوشاں ہے، مگر یہ تمنا ہے کہ مٹائے نہیں مٹتی۔ یہ کس قدر المناک حقیقت ہے کہ سیاسی آزادی کے حصول سے پون صدی بعد آج بھی ہم ٹیپوسلطان کی یاد سے بدستور ڈر رہے ہیں۔ ہمارے سیاسی اور تہذیبی مناظر پر آج بھی وہی موت کا سا سکوت طاری ہے، وہی اٹوٹ سناٹا مسلّط ہے جو آج سے دو سو بیس سال پہلے سرنگاپٹم کے میدان میں ٹیپو کی شہادت کی خبر سُن کرمسلط ہوا تھا۔ وہ میدان جو دو سو بیس سال پہلے کفر و دیں کا کارزار بنا تھا آج وہاں بھارت کے لڑکے بالے کرکٹ کھیل رہے ہیں اور جس جگہ ہمارے ترکش کا یہ آخری تیر ٹوٹ کر گرا تھا وہاں یہ شوقیہ کھلاڑی اپنے جوتے رکھتے ہیں۔ ایسا کیوں ہے کہ ہم نے ٹیپو سلطان کی شہادت کی دو صد سالہ یادگار منانے کے لئے نہ تو کوئی بین الاقوامی سیمینار منعقد کیا ہے اور نہ کسی قومی سمپوزیم کا اہتمام کیا ہے۔ ہمارے تعلیمی اداروں میں کوئی تقریب منعقد ہوئی ہے نہ کسی پریس کلب میں کوئی اجتماع منعقد ہوا ہے۔ ہمارا سرکاری میڈیا بھی اس شیر کی دھاڑ سے ناآشنا ہے اور ہمارے منبر و محراب بھی حریت کی اس لَے سے محروم ہیں؟ .....اس لئے کہ گیدڑ کبھی شیر کی یاد نہیں مناتا وہ تو اس یاد سے چھٹکارا پانا چاہتا ہے۔ اس پر تو شیر کی یاد موت کی کپکپی بن کر طاری ہو جاتی ہے۔ ہماری ساری کی ساری ترجیحات گیدڑ کی زندگی سے مستعار ہیں۔ بقول اقبال:
فیضِ فطرت نے تجھے دیدہ شاہین بخشا
اور رکھ دی ہے غلامی نے نگاہِ خفاش
اللہ نے تو ہمیں شاہین کی آنکھ دی تھی مگر مغرب کی غلامی نے شاہین کی اس آنکھ میں چمگادڑ کی نظر رکھ دی ہے۔ چنانچہ جب ہم چمگادڑ کی نظر سے دیکھتے ہیں تو ہمیں ٹیپو سلطان سے خوف آنے لگتا ہے کہ یہ شخص ہمیں ذلت کی زندگی چھوڑ کر عزت کی موت کی جانب بلاتا ہے۔ ٹیپو سے خوف دراصل زندگی کے ان معیار و اقدار سے خوف ہے جو اسلام سے پھُوٹے ہیں اور جن پر ٹیپو سلطان نے عمل کیااور دائمی زندگی پائی۔ جب اقبال کے ایک پرستار نے ایک فوجی سکول قائم کیا اور اس اسکول کو اقبال کے نام سے منسوب کرنا چاہا تو اقبال نے اسے مشورہ دیا کہ وہ اس سکول کو ''ٹیپو فوجی سکول'' کا نام دیں۔ اقبال کا استدلال یہ تھا کہ:
''ایک معمولی شاعر کے نام سے فوجی سکول کو موسوم کرنا کچھ زیادہ موزوں نہیں معلوم ہوتا۔ میں تجویز کرتا ہوں کہ آپ اس فوجی سکول کا نام ''ٹیپو فوجی سکول'' رکھیں۔ ٹیپو ہندوستان کا آخری مسلمان سپاہی تھا جس کو ہندوستان کے مسلمانوں نے جلد فراموش کر دینے میں ناانصافی سے کام لیا ہے۔ اس عالی مرتبت مسلمان سپاہی کی قبر زندگی رکھتی ہے بہ نسبت ہم جیسے لوگوں کے جو بظاہر زندہ ہیں اور اپنے آپ کو زندہ ظاہر کرکے لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں۔''      (خط بنام میجر محمد سعید خان)
اپنی عظیم ترین تخلیق ''جاوید نامہ'' میں اقبال ٹیپو سلطان سے زندگی، موت اور شہادت کے اسرار و رموز سیکھتے نظر آتے ہیں اور انھیں عقیدت پیش کرتے وقت ''وارثِ جذبِ حسین'' قرار دیتے ہیں:
آں شہیدانِ محبت را امام
آبروئے ہند و چین و روم و شام
نامش از خورشید و مہ تابندہ تر
خاکِ قبرش از من و تو زندہ تر
عشق رازِ بود بر صحرا نہاد
تو ندانی جاں چہ مشاقانہ داد
از نگاہِ خواجۂ بدر و حنین
فقرِ سلطاں وارثِ جذبِ حسین!
ہماری قومی تاریخ میں ٹیپو سلطان وہ عہد آفریں شخصیت ہیں جنہیں سب سے پہلے یہ احساس ہوا کہ جو مغربی سامراج ہندوستان کے ساحلوں پر اترنے کو بے تاب ہے وہ صرف ہندوستان ہی نہیں بلکہ پورے مشرق کو غلام بنانے کا پروگرام لے کر آ رہا ہے۔ چنانچہ انھوں نے ایران، وسطی ایشیا اور ترکی سمیت پوری دنیائے اسلام کو اس خطرے کے پیشِ نظر متحد اور مستعد کرنے کی کوشش کی۔ مشرق اس خطرے کا جیتا جاگتا احساس نہ رکھتا تھا اور انگلستان کو ان ہی مسلمان ممالک کے حکمرانوں میں سے چند ایک ٹیپو کی مجوزہ تدابیر سے پیشگی آگاہ کر دیتے تھے اس لئے وہ مسلمان ملکوں کو متحد اور سرگرمِ عمل کرنے میں ناکام رہا۔
ٹیپو سلطان کے عہد میں ہندوستان صنعتی طور پر انگلستان سے بہت آگے تھا۔ ہندوستان کی مصنوعات کی انگلستان میں درآمد پر ہی پابندی نہ تھی بلکہ ہندوستانی کپڑا خریدنا اور پہننا بھی قابل دست اندازیٔ پولیس جرم تھا۔ ہندوستان میں مشین نہیں تھی۔ چنانچہ ٹیپو سلطان برطانوی استعمار کی رقیب فرانسیسی استعماری قوت سے مشین درآمد کرنے کے جتن کرتا رہا وہ اسی رقابت سے فائدہ اُٹھا کر اپنی بحری قوت کی ترقی میں بھی کوشاں تھا مگر ''دوستوں'' کے کرم سے ٹیپو سلطان کی یہ سب حکمت عملی ناکام رہی۔ اگر ٹیپو مشین درآمد کرنے اور اپنے ہاں مشینی دور کا آغاز کرنے میں کامیاب ہو جاتا تو پورے مشرق کی گزشتہ دو سو برس کی اور آئندہ ہزاروں برس کی تاریخ مختلف ہوتی۔ اگر ہندوستان میں بروقت مشین آ جاتی تو ہمارے دستکار انگریزوں سے پہلے صنعتکار بن جاتے اور لنکا شائر سے پہلے ہماری ٹیکسٹائل مصنوعات اطراف عالم میں پھیل جاتیں۔ ٹیپو سلطان کی جانبازی اور سرفروشی کے ساتھ ساتھ ٹیپو سلطان کا یہ نیا شعور ٹیپو سلطان کی شہادت کے بعد سے لے کر اب تک ان تمام قوتوں کے لئے ایک خطرہ بنا ہوا ہے جو اسلامی مشرق کو اپنی دائمی غلامی.....(سیاسی غلامی بھی اور تہذیبی غلامی بھی)..... میں رکھنے میں سرگرم عمل ہیں۔ ہم کہ ابھی تک مغرب  سے درآمد ہونے والی کلچرل افیون کے نشے میں مست ہیں، اپنی تاریخ اور اپنے ہیروز کو مغرب کی آنکھوں سے ہی دیکھتے چلے آتے ہیں اور آج بھی ٹیپو کی یاد کو اپنے دل و دماغ کے قریب تک نہیں پھٹکنے دیتے۔ علامہ اقبال ہمارے اور ہماری ملت کے اس طرح کے پرانے روگوں کے علاج کی فکر میں سرگرداں رہے ہیں۔ چنانچہ انھوں نے اپنی نظم ''سلطان ٹیپو کی وصیت'' میں ہمیں اور ہماری آنے والی نسلوں کو ان اصول و اطوار اور ان معیار و اقدار کی جانب متوجہ کیا ہے جن سے ٹیپو سلطان کی شخصیت عبارت تھی۔ اس نظم کے آخری دو شعر یہ ہیں:
صبح ازل یہ مجھ سے کہا جبرئیل نے
جو عقل کا غلام ہو وہ دل نہ کر قبول
باطل دوئی پسند ہے، حق لاشریک ہے
شرکت میانہ حق و باطل نہ کر قبول!
ہم وہ لوگ ہیں جو اس وصیت کو فراموش کر دینے میں ہی اپنی نجات کا سامان تلاش کرنے میں مصروف ہیں۔ ہم وہ لوگ ہیں جنہیں صبح ازل ابلیس نے یہ پٹی پڑھائی تھی کہ خبردار حق و باطل میں تفریق ہر گز نہ کرنا ورنہ مارے جاؤ گے اور موت کا خوف ہم پر اس درجہ مسلط ہے کہ ہم ٹیپو سلطان سے یہ سبق نہیں سیکھناچاہتے کہ موت بھی زندگی کے مقامات میں سے ایک مقام ہے۔ ایک ایسا خوبصورت مقام جو دوست کی جانب ہجرت کا دروازہ کھول دیتا ہے۔ہم ایسے لوگ ٹیپو سلطان سے ڈریں گے نہیں تو اور کیا کریں گے؟مگر اس تمام یاسیت میں اُمید کی کرن بھی ہے۔ وہ ہیں ہماری مسلح افواج اور ان کے بہادر افسر و جوان جو سلطان ٹیپو سی بہادری اور قربانی کا جذبہ رکھتے ہیں۔ حالیہ لڑی جانے والی دہشت گردی کی جنگ اور اُس میں ہماری بہادر افواج کی کامیابیاں اپنی مثال آپ ہیں۔ اسی طرح ہماری عوام کے پائے استقامت میں لغزش نہ آئی۔ ہمیں انتظار ہے تو صرف اس قیادت کا جو بے لوث، نڈر اور دیانت کے اعلیٰ اصول پر عمل کرتے ہوئے ترقی یافتہ اقوام کی صف میں لے آئے۔


مضمون نگار ایک ممتاز دانشور ہیں۔ آپ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کے سابق ریکٹر ہیں۔ آپ کی تحاریر قومی اخبارات کی زینت بنتی رہتی ہیں۔

 [email protected]

یہ تحریر 150مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP