ہمارے غازی وشہداء

وہ گوہر نایاب جو پیوند خاک ہوا

کیپٹن روح اللہ شہید کے حوالے سے کنول زہراکی تحریر

مادر وطن کی سلامتی اور بقا کے لئے ان گنت جوان جان کے نذرانے پیش کرچکے ہیں، یہ سلسلہ تا حال جاری ہے۔ پاکستانی افواج وہ افواج ہیں جن کے لہو میں یہ حسینی الفاظ رچے ہیں کہ جب زندگی کا اختتام موت ہے تو شہادت سے زیادہ بہترین انجام اور کیا ہوسکتا ہے۔
آج میں اس ماں کے جذبات قلم بند کرنے جا رہی ہوں جس نے اپنی27 برس کی کمائی وطن کی سلامتی کی خاطر قربان کردی۔ یقینا ایس ایس جی کمانڈو کیپٹن روح اللہ شہید کی والدہ وہ پہلی ماں نہیں ہیں جن کے دل پر بیٹے کا زخم ہے۔ یہ عظیم ماں ان ہزاروں مائوں کی ترجمانی کرتی ہیں جن کے لال میری اور آپ کی خوشگوار زندگی کی خاطر پاک سرزمین کی خاک کا پیوند بنے ہیں۔
میرا دل اس وقت کانپ گیا جب اس عظیم ماں نے اپنے جوان بیٹے کو یاد کرتے ہوئے کہا، میرے روح اللہ کی تین ماہ بعد شادی تھی، میری جب اس سے بات ہوتی تھی اسے چھٹی لے کر آنے کی تاکید کرتی تھی۔ اس روز بھی عادت کے مطابق یہی اصرار کرکے سوگئی، میری طبیعت ناساز تھی وہ سن کر پریشان ہوا اور بولا امی بس ایک ضروری کام ہے وہ کر لوں پھر لمبی چھٹی لے کرآپ کے پاس آئوں گا، میں نے پھر کہا بیٹا تین ماہ بعد تمہاری شادی ہے، کب تیاریاں شروع کرو گے؟ تمہارا ہی انتظار ہو رہا ہے۔ کہنے لگا بس ایک ہفتہ دے دیں، سب ہوجائے گا انشا اللہ۔ مجھے تسلی کراکے اس نے اللہ حافظ کہا۔ میں نے بھی اسے رب کے حوالے کیا اور سوگئی، تہجد کے وقت مجھے محسوس ہوا جیسے روح اللہ نے مجھے کہا ہوکہ امی اٹھیں میں آگیا ہوں۔ میں ہڑبڑا کر اٹھی، میرا جسم بخار سے تپ رہا تھا مگر میں جلدی دروازے کی جانب لپکی اور دروازہ کھول کر کہا آئو بیٹامگر وہاں کوئی نہیں تھا ،البتہ میں نے اپنے لخت جگر کی خوشبو کو محسوس کیا، مجھے تشویش ہوئی کہ میں نے ایسا کیوں محسوس کیا، میں نے اﷲ تعالیٰ سے دعا کی کہ یا اللہ میرے بچے کی حفاظت کرنا ، پھر وضو کیا اور نماز کی ادائیگی میں مشغول ہوگئی۔ صبح نو بجے پتہ چلا کہ اس کودشمن سے لڑتے ہوئے گولی لگی ہے۔ بعدمیں پتہ چلا کہ وہ شہید ہوگئے۔ 
میں شہید کیپٹن روح اللہ کی والدہ کے جذبات محسوس کر رہی تھی اگرچہ ان کا لہجہ مضبوط تھا مگر ایک ماں کا کرب محسوس کیا جاسکتا تھا، میرے پوچھنے پر کہنے لگیں کہ بیٹا مجھے اس بات کا صبر ہے کہ میرا بیٹا مجھ سے مل کر گیا ہے۔ وہ نماز شب اور فجر کی ادائیگی کا پابند تھا، بالخصوص کسی بھی مشن پر جانے سے قبل دو رکعت نماز شکرانہ ضرور پڑھتا تھا کہ اللہ نے اس کام کے لئے میرا انتخاب کیا، یقینا اس وقت وہ انہی فرائض کی ادائیگی میں مشغول ہوگا، اس نے مجھ سے ملنے کا وعدہ کیا تھا تب ہی میں نے اس کی آواز اور اس کی خوشبو کو محسوس کیا۔ 
کیپٹن روح اللہ صوبہ خیبرپختونخواہ کے علاقے شب قدر میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی علاقے سے ہی حاصل کی، ان کی والدہ کے مطابق شہید کیپٹن روح اللہ کا دل انسانیت کی خدمت سے بھرا ہوا تھا۔ وہ اپنا جیب خرچ جمع کرکے ضرورت مندوں میں تقسیم کر دیا کرتے تھے، انہوں نے 2007میں میٹرک کیا۔ روح اللہ کے بھائی نے بتایا کہ شہید کیپٹن نے گورنمنٹ میڈیکل کالج حیات آباد سے2009میں ایف ایس سی مکمل کیا۔ وہ ذہین طالب علم تھے۔ ظہیر اللہ کے مطابق شہید کیپٹین جمناسٹک میں بہت ایکٹو تھے، جمناسٹک کی بہت سی مشقوں میں انہوں نے نمایاں پوزیشنز حاصل کی ہیں، اس کے علاوہ وہ بہترین کرکٹر بھی تھے، انہوں نے باقاعدہ کرکٹ اکیڈمی جوائن کی ہوئی تھی، آج بھی ان کے کمرے میں نصابی و غیر نصابی سرگرمیوں میں حاصل کی جانے والی اسناد اور ایوارڈز آویزاں ہیں۔
والد صاحب کی خواہش تھی وہ ڈاکٹر بنے کیونکہ وہ پڑھائی میں بہت اچھے تھے جبکہ وہ فوجی بنناچاہتے تھے، والد صاحب نے ان کا شوق دیکھ کر انہیں اجازت دیدی، جس کے بعد وہ پاکستان ملٹری اکیڈمی کی جانب عازم سفر ہوئے، وہاں بھی کامیابی کے جھنڈے گاڑھنے لگے اور اچھی کارگردگی کی بدولت سارجنٹ بن گئے۔
شہید کی ماں نے بتایا کہ وہ اکثر خود کو چوٹ لگا لیا کرتا تھا، جس پر میں اسے بہت ڈانٹا کرتی تھی، پی ایم اے میں ٹریننگ کے دوران اسے چوٹ لگ گئی تو چھٹی پر بھی گھر نہیں آیا میں نے پوچھا کیوں نہیں آرہے تو کہنے لگا بہت کام ہے اس لئے اگلی چھٹی پر آؤں گا۔  جب اگلی بار آیا تو میری نظر اس کے ماتھے پر لگے نشانات پر پڑی۔ میرے پوچھنے پر بانہیں گلے میں ڈال کر بولا:  امی چوٹ لگ جانے کی وجہ سے ٹانکے آئے تھے، آپ کی ڈانٹ کے ڈر سے پچھلی چھٹی پر گھر نہیں آیا تھا، اب بالکل ٹھیک ہوں، معمولی سا زخم تھا اب سب ٹھیک ہے۔ میں آخری دیدار کے وقت جب اس کا لہولہان سینہ دیکھ رہی تھی تو سوچ رہی تھی، کاش یہ بھی معمولی سا زخم ہوتا اور وہ سب ٹھیک ہے کہہ کر بانہیں گلے میں ڈال دیتا۔ میرے جوان نے بہت سی مائوں کے جوانوں کی زندگیاں محفوظ کی ہیں، اللہ نے مجھے شہید کی ماں کا رتبہ دیا جس پرمیں اس کی شکر گزار ہوں۔
کیپٹن روح اللہ 2010میں پاکستان ملٹری اکیڈمی سے پاس آئوٹ ہوئے اور 50 بلوچ رجمنٹ کا حصہ بنے۔
پاکستان آرمی کے زیر انتظام ایک شعبہ کمانڈوز کا ہوتا ہے جن کا انتخاب بہت مشکل سے کیا جاتا ہے ۔ یہ وہ بہادر اور قابل ترین لوگ ہوتے ہیں جن کو سخت ترین جانچ کے بعد منتخب کیا جاتا ہے، کیپٹن روح اللہ ان ہی کمانڈوز میں سے ایک تھے،انہوں نے2014میں سپشل سروس گروپ میں شمولیت اختیارکی تھی۔اکتوبر 2016 کے آخری معرکے سے قبل بھی وہ بہت سے اہم آپریشز کا حصہ رہ چکے تھے، وہ آرمی پبلک سکول کا سانحہ،  باچا خان یونیورسٹی، کرسچئن کالونی اور مردان کچہری پر دہشت گردوں کے حملوں کے بعد عمارت اور عملے کو ریسکیو اور دہشتگردوں کو واصل جہنم کرنے کے معرکوں میں پیش پیش رہے تھے۔ آپریشن ضربِ عضب کے بعد کیپٹن روح اللہ پاکستان آرمی کے ان کمانڈوز میں سے ایک تھے جنہوں نے 750 سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز(IBOs) میں حصہ لیا اور کامیابیاں سمیٹیں۔انہوں نے چار سو سے زائد دہشت گردوں کو گرفتار کیا اور دس کوجہنم واصل کیا۔
24 اکتوبر2016 کی رات 11 بج کر 10 منٹ پر کوئٹہ کے سریاب روڈ پر واقع پولیس ٹریننگ کالج پر دہشت گردوں نے حملہ کیا۔ بعد ازاں ایس ایس جی کمانڈوز نے ریسکیو آپریشن کے دوران سات سو پولیس کیڈٹس کو محفوظ کیا اور دہشتگردوں کو دھول چٹائی۔
 آپریشن کے دوران کیپٹن روح اللہ کو ایک کمرے میں دہشت گرد کی موجودگی کا احساس ہوا۔ وقت اتنا کم تھا کہ اگر نشانہ لے کر فائر کیا جاتا تو دہشت گرد بلاسٹ کر دیتا اور چالیس سے پچاس پولیس کیڈٹس جان کی بازی ہار جاتے۔ اس ہنگامی صورتحال میں جب فرض اور زندگی آڑے آ گئی تھی  تو نوجوان روح اللہ نے و ہی کیا جو صرف پاک فوج کا جوان ہی کرسکتا ہے، پولیس کیڈٹس  کے عینی شاہدین کے مطابق ہماری آنکھوں کے سامنے کیپٹن روح اللہ نے دہشت گرد پر چھلانگ دی اور ہماری زندگی محفوظ کرتے ہوئے اپنی  جوانی قربان کردی۔
ان کی والدہ نے بتایا کہ اٹھائیس ستمبر کو جب ان کی پوسٹنگ بلوچستان میں ہوئی تو اس نے مجھے یقین دلایا کہ دسمبر تک وہ چھٹیاں لے کر آجائے گا تاکہ اس کے سہرے کے پھول کھلائے جا سکیں مگر اب میں روز اس کی قبر پر پھول چڑھاتی ہوں.
کیپٹن روح اللہ شہید کو پاک فوج کی جانب سے تمغۂ جرأت سے نوازا گیا۔ ||


مضمون نگار صحافت کے شعبے سے وابستہ ہیں۔
 [email protected]

یہ تحریر 197مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP