ہمارے غازی وشہداء

وہ قوم کا بیٹا تھا

اسے بچپن سے ہی فوج میں جانے،دفاعِ وطن اور شہادت کا رتبہ پانے کا شوق تھا۔کمسنی میں کھیل کے دوران اپنی بڑی بہن سے کہتا تھا،میں فائرنگ کرونگا آپ مجھ پر کُشن سے حملہ کرنا میں گر جائوںگا،آپ میری آنکھیں بند کرکے'' اے راہ حق کے شہیدو'' گاکر مجھ پر چادر ڈالنا دینا، ماضی سے جڑی اس یاد کو بیان کرتے ہوئے سید شاہد زیدی کی آنکھیں بیٹے کی تصویر دیکھ کر ڈبڈبا گئیں، آواز گلوگیر ہوگئی۔
شہید میجر عدیل شاہد7 اکتوبر 1986 کو کراچی میں پیدا ہوئے۔وہ گھر، خاندان،محلے والوں کی آنکھ کا تارا تھے۔پھر دھرتی کا فخر بنے،بہن بھائیوں میں ان کا نمبر تیسرا تھا۔ شہید عدیل نے ''میری سکول ملیر'' سے ابتدائی تعلیم حاصل کی جبکہ سول ایوی ایشن (سی اے اے)  ماڈل سکول نمبر 1 سے میٹرک کیا،شہید نے ایف ایس سی گورنمنٹ ڈگری کالج گلشن اقبال سے کیا۔تعلیمی میدان میں ہمیشہ نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے شہید میجرعدیل شاہد نے 2007 میں پاکستان آرمی کے لانگ کورس 119  میں اپلائی کیا۔ شہید کے والد کا کہنا ہے کہ عدیل کو پنڈی سے آنے والے لیٹر کا شدت سے انتظار تھااور پھر جب ان کا انتظار ختم ہوا تواس روز اس کی عید تھی۔اگرچہ ان کی والدہ کچھ تذبدب کا شکار نظر آئیں مگر جلد ہی وہ بھی بیٹے کی خوشی میں راضی ہوگئیں۔عدیل کی سختی سے تاکید تھی کہ وہ اکیلا کاکول جائے گا کیونکہ اب وہ بڑا ہوچکا ہے۔ البتہ اس نے اپنی مکمل شاپنگ کی ذمہ داری میرے سر ڈال دی تھی۔ مجھے یاد ہے میں نے بس اتنا کہا 'بیٹا پاکستان ملٹری اکیڈمی کا رگڑا بہت خطرناک ہوتا ہے' تو وہ زور سے ہنس کرکہنے لگا 'کوئی بات نہیں پاپا نہ سہہ سکا تو زیادہ سے زیادہ کیا ہوگا مرجائوں گا، مگر پلٹ کر آئوں گا تو آرمی آفیسر بن کر ہی آئوںگا۔'اس کا جنون دیکھ کر میں خاموشی سے اس کی خوشی کے انتظامات میں مصروف ہوگیا، پندرہ روز بعد عدیل اپنی بچپن کی محبت کی جانب عازم سفر ہوا، یہاں میں اور اس کی والدہ نے اس کی کامیابیوں کے لئے جائے نماز کو سنبھال لیا،وہ کاکول میں اپنی کامیابیوں کی جانب بڑھ رہا تھا ایک روز فون پر میں نے اس سے کہا کہ ماں باپ کا صبر کب تک آزمائے گا،آخر کب شکل دیکھائے گا، ہنس کرکہنے لگا جلد آئوں گا پاپا۔ بس آپ دعا کریں، پی ایم اے کی روایت ہے کہ اگر کوئی جی سی ( جنٹل مین کیڈٹ )دورانِ ٹریننگ انتقال کر جاتا ہے تو اس کے گھر پہلے خالی بیگ بھیجتے ہیں۔ ایک روز ڈور بیل بجی اور عدیل کا خالی بیگ ملا، میں دنگ رہ گیا،لانے والے سے پوچھا یہ کیا ہے؟ اس نے کہا بس یہ دینے کو کہا تھا اورواپس چلا گیا، ایک لمحے کو جھٹکا لگا مگر اس کی ماں سے کچھ نہ کہا، دل نے کہا نیچے کاؤنٹر پر فون کرکے پوچھتا ہوں کہیں عدیل چھٹی پر تو نہیں آیا ہے اور شرارت کر رہا ہے۔میرا اندزہ درست ثابت ہوا۔ موصوف سیڑھوں پر کھڑا ہنس رہا تھا۔ میں نے گلے لگاکر کہا بیٹا باپ بوڑھا ہوگیا ہے۔ آئندہ ایسا مذاق نہ کرنا، 21 ستمبر 2019 کو قومی پرچم میں لپٹا ،اس کا جسد خاکی دیکھ کر سوچ رہا تھا شاید عدیل ابھی ہنس کر اٹھے گا اور گلے لگ جائے۔
 شہید زندہ ہوتا ہے،میرا عدیل میرا ہی نہیں بلکہ قوم کا بیٹا تھا جو دفاع وطن کی خاطر امر ہوا ہے۔ اس نے مادر وطن کے دفاع میں میدان سے منہ نہیں موڑا بلکہ شیر کی طرح مقابلہ کیا، وہ دشمن کے سینے میں ڈربن کر دھڑکتا اور افسران، دوستوںاورماتحتوں کے دلوں میں بستا تھا۔
عدیل نے پاکستان ملٹری اکیڈمی سے اپنا 119لانگ کورس مکمل کرنے کے بعد آرمی ائیر ڈیفنس کورس میں شمولیت اختیار کی۔عدیل شہید کی پہلی پوسٹنگ 2009 میں 161 آر سی جی ائیر ڈیفنس رجمنٹ سرگودھا میں ہوئی، جہاں انہوں نے دشمن کے طیارے گرانے کی تربیت حاصل کی، ساتھ ہی ٹروپ اور بیٹری کمانڈ کے فرائض انتہائی جانفشانی سے ادا کئے، 23 مارچ  2012 یوم پاکستان کو کیپٹن مقرر ہوئے، اسی دوران انہوں نے آر پی وی Remotely Piloted Vehiclesکا کورس بھی امتیازی پوزیشن سے مکمل کیا۔جس کے بعد دو ماہ کے لئے چین چلے گئے جہاں سے ڈرون کنٹرول اور گرانے کا ایڈوانس مکمل کورس کیا۔
وطن کے اس سرفروش کی لگن، دھرتی سے محبت اور جانفشانی کے جذبے کو مدنظر رکھ کر انہیں متعدد حساس مقامات اور سیاچن جیسے پُر خطر محاذ پر دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے اور برفانی دھول چٹانے کا موقع ملا جسے انہوں توقعات کے عین مطابق نبھایا۔
عدیل شہید کے والد کا کہنا ہے کہ سیاچن سے واپسی کے بعد عدیل اللہ کے مزیدقریب ہوگیا تھا۔اس کے اندر وطن سے محبت میں مزید اضافہ ہوتا جارہا تھا، وہ  پیانو بجانے کا ماہر تھا اکثر قومی ترانے اور نغمے کی دھن بجایا کرتا تھا۔
شہید عدیل شاہد یوم دفاع چھ ستمبر 2015 کو آرمی ایئر ڈیفنس سکول ملیر میں بطور انسٹرکٹر تعینات ہوئے۔ یوم ِپاکستان 23مارچ 2017کو ترقی پاکر میجر کے عہدے پر فائز ہوئے۔شہید کے والد سید شاہد زیدی نے بتایا کہ عدیل ہمیں اتنی جلدی جلدی خوشخبریاں سنا رہا تھا کہ ہم میاں بیوی کو سجدۂ شکر سے اٹھنے کا موقع ہی نہیں ملتا تھا۔وطن کا لاڈلا بیٹا ، میرا عدیل جان محفل تھا، یاروں کا یار، خدمت گزار اور درد مند۔جب اس کا سوم تھا اس روز متعدد غریب خواتین نے میری بیٹیوں کو پرسہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ لڑکا باقاعدگی سے ہمیں راشن و دیگر ضروریات کے حصول کے لئے ماہانہ رقم ارسال کرتا تھا۔
شہید میجرعدیل کے والد کے مطابق وہ اپنی ماں کے بے حد قریب تھے۔ایک روز ان کی ماں نے شادی کرنے کے لئے خوب اصرار کیا ۔کہنے لگا 'ماما میں شہید فوجی کی بیوہ سے شادی کرنا چاہتا ہوں کیونکہ فوجی کی بیوی کم عمری میں بیوہ ہوجاتی ہے،اس کی نوے فیصد زندگی تو اپنے شوہر کو سپرد خاک کرتے ختم ہوجاتی ہے، شادی مذہبی فریضہ ہے، بہتر ہے کسی کی کفالت کرکے کی جائے تاکہ کسی کی مدد بھی ہو۔اس نیک جذبے کے پیش نظر اس نے شہید کی بیوہ اور بیٹی کی سرپرستی کی ذمے داری اپنے سر لی،ہم نے اس کی خوشی کو مقدم جانا، اللہ کا شکر ہے میری بہو بالکل میری بیٹیوں جیسی ہے جبکہ میری تین پوتیاں بھی ہیں۔بیٹے کی شادی کے کچھ عرصے بعد عدیل کی والدہ اللہ کو پیاری ہوگئیں۔ بلاشبہ وہ دن ہم سب پر قیامت کا تھا مگر مجھے 21 ستمبر 2019 کو اپنی 32 برس کی کمائی کو سپرد خاک کرنے کے لمحات پل بھر کے لئے بھی نہیں بھولتے ۔
عدیل شہادت سے ایک سال قبل اپنی بہن کی شادی میں آیا تھا، بیٹی کی رخصتی کے بعدمیں اس سے کہنے لگا، لو بھئی اب میں نے اپنی ساری ذمہ داری ادا کردی،والدین کے انتقال کے بعد بہن بھائیوں کی شادیاں،اپنی شادی،تم چار بہن بھائیوں کی شادی،اللہ کے حکم سے زندگی کے ہم سفر کے ساتھ چھوڑنے کے بعد آج چھوٹی بیٹی کو بھی اپنے گھر کا کر دیا، بس اب سکون سے اس دنیا سے رخصت ہوںگا،شہید عدیل یہ سن کر کہنے لگا کہ اور میری بیٹیوں کی ذمہ داری کون ادا کرے گا۔میں نے کہا وہ تم جانو، تمہارا کام، بیٹا میں کب تک رہوں گا۔ کہنے لگا نہیں پاپا یہ بھی آپ نے کرنا ہے۔ میں نے الجھ کر موضوع بدلنے کے ارادے سے پوچھا، بیٹا کب لیفٹیننٹ کرنل بننے کی خوشخبری سنا رہے ہو، ہنس کر بولا 'ارے میاں ہم تو میجری میں ہی نمٹ جائیں گے'۔ اس وقت میں سمجھا تھا کہ شاید اس کا موڈ ریٹائرمنٹ کا ہورہا ہے،میں نے سوچا ابھی نہیں، مگر بعد میں اسے سمجھاؤںگا کہ فوج مت چھوڑنا، مجھے کیا خبر تھی، وہ تو پاکستان کے پرچم اور وردی کو سُرخرو کرنے کے لئے لا محدود مدت تک وطن کا سرفروش سپاہی بننے جا رہا ہے۔
مجھے فخر ہے کہ میں شہید کا باپ ہوں،اس بہادر بیٹے کا باپ ہوں جس نے پشت پر نہیں بلکہ سینے پر زخم کھا کر جام شہادت نوش کیا، شہادت سے دو روز قبل فون پر کہہ رہا تھاکہ پاپا ہمارا دشمن انتہائی بزدل ہے، وہ محدود مدت کے لئے زندہ رہنا چاہتا ہے۔ جبکہ ہم تو لا محدود مدت کی زندگی کے حصول کے لئے شہادت کو اپنی میراث سمجھتے ہیں۔اس کی یہ باتیں میرا دل مٹھی میں لے لیتی تھیں مگر میں چپ چاپ سنتا تھا کیونکہ اب وہ میرا ہی بیٹا نہیں بلکہ مادر وطن کا بھی بیٹا تھا، میری دھرتی کا سپاہی تھا،میری مٹی کا فخر تھا۔ میں کیسے اس کے جذبے کو ڈانٹ ڈپٹ کرسکتا تھا کیونکہ وہ تو راہ حق کا مجاہد بن چکا تھا، جس کی سانسوں میں پاکستان زندہ باد کی دھن بجا کرتی تھی، بلکہ بجا کیا کرتی تھی میرا عدیل آج بھی اس سر کی مالا جپتا ہے،کیونکہ شہید کبھی مرتا نہیں،شہید عدیل کی طرح میری فوج کا ہر شہید زندہ اور ہر غازی معتبر ہے،وطن کی سرحدوں کی حفاظت اس کے استحکام پر مامور ایک ایک سپاہی میرا بیٹا ہے، مجھے تو ہر فوجی اپنا عدیل لگتا ہے. شہید میجر عدیل کے والد نے بتایا کہ عدیل اپنی بیٹیوں کو فورسز جوائن کرانا چاہتا تھا اور اپنی شہادت سے دو روز قبل کال پر کہہ چکا تھا پاپا میری شہادت کے بعد میری تین کلیوں کے آپ ہی باغبان ہیں۔ میں نے گھبرا کر پوچھا، بیٹا کب آؤ گے،کہنے لگا بہت جلد۔ 
20 ستمبر 2019 کے دن گیارہ بجکر 30 منٹ پر ایف سی پشاور کی جانب سے دردناک کال موصول ہوئی، مخاطب نے سب سے پہلے عدیل کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ آپ ایک نڈر بیٹے کے بہادر باپ ہیں۔ آپ کے بیٹے نے وہ کام کیا ہے جس کی چاہ  افواج پاکستان کے ہر جوان کو ہے اور پھر اس کے بعد پرعزم لہجے میں لزرش ہوئی اور میرے بیٹے کے دوست نے بتایا شاہد صاحب! خیبرپختونخوا میں کامیابی سے آپریشن کے مراحل طے کرنے کے دوران پاک افغان سرحد پر بارودی سرنگ پھٹنے سے میجرعدیل سمیت ایک اور دھرتی کے سپوت نے جام شہادت نوش کرلیا ہے،ایک لمحے کو میں سناٹے میں آگیا، یوں لگا جیسے چھوٹا سا عدیل شرارتا ًابھی انگلی چھٹرا کر بھاگا ہے،اس کا بچپن، نوجوانی ہر لمحہ نگاہوں میں پھر گیا۔جوان بیٹے کو کھونے کے غم کے ساتھ شہید کا باپ ہونے کا فخرلئے میں نے دو رکعت نمازِ شکرانہ پڑھ کر کہا اللہ تیری امانت تیرے حوالے،بس تو میرے وطن کی حرمت پر آنچ نہ آنے دینا،اس وطن کا امن و سکون میرے عدیل جیسے ہزاروں جوانوں کی محنت کا نتیجہ ہے، جن کا  لہو خاکِ وطن کو کبھی بنجر نہیں ہونے دے گا۔ اِن شا اللہ!
 رات دو بجے سبز ہلالی پرچم میں اپنے 32 برس کے جواں کا جسد خاکی دیکھ کر میرے کانوں میں یہ الفاظ گونج رہے تھے، ہم تو میجری میں ہی نمٹ جائیں گے۔
شہید عدیل کی بہت سی ذمہ داریاں میرے ناتواں کاندھوں پر ہیں جب تک زندہ ہوں، بیٹے کی طرح وطن کی خدمت کروں گا،اسی مقصد کے تحت شہید میجر عدیل کے نام پر ایک فلاحی ادارے کی بنیاد ڈالی ہے، جس کے زیر انتظام مفت تعلیم، صحت کے مراکز، قلت آب پر قابو پانے کے لئے منصوبہ بندی، مفت قبر کے حصول کے لئے قبرستان سمیت دیگر اہم پروجیکٹ زیر غور ہیں۔ میرے بیٹے کا مسلک پاکستان تھا اسی لئے بلا رنگ و نسل قوم کی خدمت کرنا اب میری باقی ماندہ زندگی کا نصب العین ہے۔جو لوگ سمجھتے ہیں اس ملک میں کچھ نہیں، وہ نادان ہیں،یہ شہیدوں کی سرزمین ہے جو کبھی مرتے نہیں بلکہ زندہ لوگوں کی طرح اللہ سے اپنا رزق حاصل کرتے ہیں۔جس ملک کے دفاع پر مامور اَن گنت شہیدوں کا رزق پروردگار کے ذمے ہے،وہ ملک اللہ کی رحمتوں سے کیسے تشنہ رہ سکتا ہے۔ بس اپنے حصے کا دیا جلانا ہے،اسی لئے میں ایک ادنیٰ سی کوشش میں دن رات سرگرم ہوں۔ مجھے یقین ہے میری اس چھوٹی سی کاوش کو ربِّ کائنات  برکتوں سے نوازے گا۔
سید شاہد زیدی نے کہا کہ شہید کے باپ کے طور پر قوم کے جوانوں  سے التماس کرتا ہوں جو بھی مادر وطن اور افواج پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرے، اسے منہ توڑ جواب دیں کیونکہ پاکستان کی پاکیزگی کو برقرار رکھنے کے لئے لاکھوں' شاہد 'نے اپنے عدیل سپرد خاک کئے ہیں۔پاکستان زندہ باد ||


مضمون نگار صحافت کے شعبے سے وابستہ ہیں
 [email protected]


 

یہ تحریر 133مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP