ہمارے غازی وشہداء

وہ جو سرخرو ہوئے

شہید میجر عدیل شاہد کے حوالے سے ونگ کمانڈر محبوب حیدر (ریٹائرڈ) کی ایک تحریر

شہادت کسی مرگِ ناگہانی یا حادثاتی موت کا نام نہیں بلکہ یہ وہ رتبۂ بلند ہے جسے خداوندِکریم اپنے منتخب بندوں کو عطا فرماتا ہے اوریہ حقیقت اس لمحے مزید واضح ہوگئی جب میری ملاقات شہید میجر عدیل شاہد کے والدِ گرامی سید شاہدحسین زیدی سے ہوئی۔انہوں نے بتایا کہ تقسیم ِ ہند کے وقت ہمارا خاندان ہندوستان کے مشہورشہر جے پور کے محلہ ساادات سے ہجرت کرکے1947 میں کراچی پہنچا۔ عدیل 7اکتوبر 1986کو اسی پاکستان کے سب سے زیادہ آبادی والے شہر کراچی میں پیدا ہوئے۔ عدیل نے کوئین میری سکول ملیر سے پرائمری تعلیم حاصل کی اور میٹرک ، کے بی وی ماڈل سکول نمبر1 نزد قائداعظم انٹر نیشنل ایئرپورٹ کراچی سے کیا۔ ایف ایس سی کا امتحان گورنمنٹ ڈگری کالج گلشن اقبال، کراچی سے پاس کیا۔عدیل کے آرمی آفیسر بننے کا خواب شرمندئہ تعبیر ہونا لازم تھا۔ ہمیں میجر عدیل کی چھوٹی بہن زومیراجسے وہ پیار سے زونی کہتا، نے بتایا کہ عدیل کا چوتھی جماعت ہی سے سب سے پسندیدہ کھیل بھی بڑا عجیب تھا۔ وہ کہتا میں پائلٹ آفیسر راشد منہاس بنتاہوں اور اپنی بڑی بہن عمیرہ جسے لاڈ سے گڑیا پکارتا تھا، سے کہتا کہ گڑیا باجی آپ فلائٹ لیفٹیننٹ مطیع الرحمن ہو۔ آپ نے مجھے تکیہ مارنا ہے جس سے میں شہید ہو جائوں گا اور زونی ، آپ نے اپنے شہید بھائی کے اُوپر سفید چادر ڈال کر یہ نغمہ پڑھنا ہے۔
اے راہِ حق کے شہیدو وفا کی تصویرو
تمہیں وطن کی ہوائیں سلام کہتی ہیں
عدیل کبھی پائلٹ آفیسر راشد منہاس(نشانِ حیدر) بنتا تو کبھی میجر عزیز بھٹی شہید (نشانِ حیدر) کا روپ دھار تا۔ جو بہن بھائی مل کر شہادت کو کھیل سمجھ کر کھیلیں، کس دشمن کی مجال ہے کہ ایسی قوم سے ٹکر لینے کی جرأت کرسکے۔
عدیل کے دل و دماغ میں آرمی آفیسر بننے کا یہی والہانہ شوق وجذبہ تھا کہ آپ2007میں پی ایم اے 119 لانگ کورس کے لئے منتخب ہوگئے اور26 اپریل2009 کو بی اے کی ڈگری حاصل کرکے پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول سے پاس آئوٹ ہو کر آرمی ایئر ڈیفنس کور میں شامل ہوگئے۔ 
عدیل شہید کی پہلی پوسٹنگ اپریل 2009 میں161 آر سی جی ، ایئر ڈیفنس رجمنٹ سرگودھا میں ہوئی۔ جہاں آپ نے پانچ سال میں گنز کے ذریعے  دشمن کے لڑاکا طیارے گرانے کی تربیت حاصل کی اور ساتھ ہی ایڈجوٹنٹ شپ، ٹروپ کمانڈر اور بیٹری کمانڈر جیسے اہم فرائض انتہائی جانفشانی اور لگن سے سرانجام دیئے اور اس دوران آپ 23 مارچ2012 یومِ پاکستان کے مبارک موقع پر ترقی حاصل کرکے کیپٹن بن گئے۔
عدیل نے آر پی وی (Remotely Piloted Vehicle)کورس بڑی محنت سے امتیازی پوزیشن سے مکمل کیا۔ آپ کو دوماہ کے لئے چین بھیجا گیا جہاں سے آپ نے ڈرون اڑانے ، گرانے اور کنٹرول کرنے کا ایڈوانس کورس کیا، المختصردورانِ سروس آپ کوکئی  حساس مقامات اور سیاچن جیسے پُرخطر علاقوں میں بھی دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر نوکری کرنے کا موقع ملا۔
 6ستمبر2015میں آپ کو انسٹرکٹر کی حیثیت سے سکول آف آرمی ایئرڈیفنس ملیر میں پوسٹ کردیاگیا تاکہ آپ اب تک حاصل کئے ہوئے علم کی قیمتی امانت کو باقی افسران اور جوانوں تک پہنچاسکیں۔23 مارچ 2017 یومِ پاکستان کو آپ ترقی پاکر میجر بن گئے۔ سب گھر والوں نے اس خوشی کو خدا کا شکر ادا کرتے ہوئے سادہ و پُروقار انداز میں منایا۔ آپ 17 اپریل2017 تک ایک لائق اُستاد ہونے کی ذمے داری نبھاتے رہے۔دوسال کے بعد آپ کو ایک مرتبہ پھر 161 آر سی جی ، ایئر ڈیفنس رجمنٹ میں تعینات کردیاگیا۔ اس طرح مجموعی طور پر آپ دس سالوں میں ایئر ڈیفنس کور کے ایک تجربہ کارافسر بن گئے جس کی وجہ سے تمام آفیسرز اور جوان آپ کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔
یکم اپریل 2019 کو آپ ایف سی خیبرپختونخوا کی ایک کور نارتھ، مہمند رائفلز میں پوسٹ کردیئے گئے۔ یہ پاک افغان سرحد کا انتہائی حساس علاقہ ہے۔ پاک افغان سرحد پر 1200کلومیٹر کی آہنی باڑ لگانے کاکام کافی حد تک مکمل ہو چکا ہے۔اس باڑ کی تکمیل سے پاک افغان سرحد پر دہشت گردوں کی نقل و حرکت ختم ہو جائے گی لہٰذا دشمن ہر گز نہیں چاہتا کہ یہ کام مکمل ہو مگر پاک آرمی کی بھرپور کوشش ہے کہ باڑ کی تنصیب کا کام ہر قیمت پر جلد از جلد مکمل ہو جائے اس مقصد کے حصول کے لئے پہلے ہی ہمارے بہت سے جوان اور آفیسرز اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرچکے ہیں۔ اس علاقے میں دشمن چھپ کر بارودی سرنگیں بچھاتا رہتا ہے۔20ستمبر 2019 کو بھی چند بارودی سرنگیں بچھے ہونے کی اطلاع ملی تھی جن کو ناکارہ بنانے کی ذمہ داری ایک بم ڈسپوزل اسکواڈ کو سونپی گئی تھی جس کا انچارج ایک کیپٹن کو بنایا گیا۔ مگر اس موقع پر میجر عدیل نے رضاکارانہ طور پر خود بم اسکوارڈ سربراہ کی ذمہ داری قبول کی اور خطرناک سرچ آپریشن پر روانہ ہوگئے۔ ابھی متعلقہ جگہ پر سرچ آپریشن جاری تھا کہ 12 بج کر 15 منٹ پر ایک بارودی سرنگ خوفناک دھماکے کے ساتھ پھٹ گئی ۔ عدیل کا پورا جسم اس کا نشانہ بنا اور گھٹنوں تک دونوں ٹانگیں دھماکے کی شدت سے ضائع ہوگئیں اور آپ اپنے ایک سپاہی فراز حسین کے ہمراہ درجۂ شہادت پر فائز ہوگئے اور اسی طرح شہیدانِ وطن کی کہکشاں میں پاک فوج کے میجر اور سپاہی کی صورت میں دو درخشاں ستاروں کا مزید اضافہ ہوگیا۔
عدیل کو اپنے ادارے سے والہانہ وابستگی اور وارفتگی کا  جذبہ والد سے ورثے میں ملا۔ آپ کے والد سید شاہد حسین زیدی ''پاکستان سٹیل'' میں اکانومسٹ سیکرٹری اکائونٹیبلٹی جیسے اعلیٰ و کلیدی منصب پر فائز رہے اور مسلسل تیس سال تک اپنی گراں قدر خدمات سے ادارے کو مستفید فرماتے رہے۔ آپ کے والد نے ماضی کے دریچوں میں جھانکتے ہوئے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور پھر رب کا شکر ادا کرتے ہوئے فرمایا کہ میرا بیٹا ابھی پانچویں جماعت ہی میں تھا اور اس نے اپنی  عادت بنا لی تھی کہ جب وہ سکول سے چھٹی کے بعد گھر لوٹتا تو صدر دروازے پررُک جاتا اور داخل نہ ہوتا۔ تقاضا کرتا کہ ایک چھوٹا فوجی افسر گھر آیا ہے پہلے اسے سلیوٹ کیاجائے۔ اگر کوئی ٹالنے کے لئے یہ کہتا کہ آداب اب اندر تشریف لے آیئے تو کہتا کہ ایسے نہیں بلکہ پائوں اٹھا کر زمین پر زور سے مارا جائے اور دایاں ہاتھ ماتھے پر رکھ کر فوجی انداز میں شایانِ شان طریقے سے سلیوٹ کیاجائے اور جب ایسا کردیا جاتا تو خوش ہو کر گھر میں داخل ہو جاتا ۔



شہیدکی ایک یہ بھی مخصوص عادت تھی کہ کمیشنڈ آفیسر بننے کے بعد بھی جب کبھی چھٹیوں میں گھر آتا تو ماں کے بازو پر سررکھ کر لیٹ جاتا جیسے کوئی چھوٹا بچہ ہو اورپیار سے کہتا ماں مجھے اس طرح بہت سکون ملتاہے۔ ایک دن ماں نے کہا بیٹا اب تم جوان ہوگئے ہو میں چاہتی ہوں کہ تمہاری شادی کردی جائے اس معاملے میں اگر تمہاری کوئی تجویز ہے تو مجھے بتائو۔ کہنے لگا ماں جی آپ جہاں چاہیں میری شادی کردیں لیکن مجھے خوشی ہوگی کہ اگر آپ میری شادی کسی فوجی افسر کی بیوہ سے کردیں جو بے شک مجھ سے عمر میں بڑی ہو۔ لہٰذا والدین نے کیپٹن مجاہد بشیرشہید، ستارئہ بسالت کی بیوہ سے آپ کی شادی کردی جو ضربِ عضب 2014میں شہید ہوئے تھے اور اُن کی ایک بیٹی بھی ہے جس کی عمر اُس وقت ڈیڑھ سال تھی اور اب چار سال ہے، اس طرح ایک یتیم بچی کو دوبارہ باپ کا دستِ شفقت نصیب ہوا۔ بیٹی کانام صبغة فاطمہ ہے۔ عدیل جب بھی چھٹی لے کر گھر آتا تو یہ بیٹی دن میں کئی بار اپنے باپ کا ماتھا چومتی اور عدیل بھی والہانہ انداز میں اُس کی پیشانی اور گالوں کے بوسے لیتا۔ اﷲ نے عدیل کو بھی دو جڑواں بیٹیاں عطا فرمائیں جو اس وقت الحمدﷲ دو دو سال کی ہیں، ایک کانام زینب عدیل اور دوسری کا نام دعا عدیل ہے۔ خداوندذوالجلال پاک فوج کے ہر شہید کو وقت سے پہلے  آگاہ فرمادیتا ہے کہ اُسے شہادت کے منصب ِ اعلیٰ کے واسطے منتخب کرلیاگیا ہے بعض اوقات یہ ادراک خواب کی صورت میں ہوتا ہے یاکشف کی شکل میں اُس کے گوشِ حقیقت شہادت کی آذان سن لیتے ہیں جس کی پکار پر وہ لبیک کہتا ہوا رزم گاہِ شہادت میں خوشی خوشی دوڑ کر خود کود پڑتا ہے۔ جیسا کہ قولِ سیدالشہداء امام حسین  ہے کہ اگر زندگی کا اختتام موت پر ہے تو شہادت بہترین انتخاب ہے۔
اسی لئے بچوں کی ماں صالحہ جو دو مرتبہ بڑے جاگزیں صدموں سے گزری ، وہ کہتی ہے کہ شہادت سے ایک روز پہلے عدیل کا ایس ایم ایس آیا کہ میں اپنی فیملی سے بہت پیار کرتا ہوں۔ صالحہ میری شہادت کے بعد تم نے میری تینوں بیٹیوں اور پاپا کا خاص طور پر خیال رکھنا۔ اﷲ حافظ! عدیل نے شہادت سے دو روز قبل اپنے پہلی جماعت کے کلاس فیلو کو بھی فون کیا اور اُس کی ماں سے کہا کہ خالہ جان آپ میری ماں کے انتقال کے بعد مجھے ماں کی طرح عزیز ہیں۔ میں عنقریب شہید ہو جائوں گالہٰذا آپ میرے لئے دعا کریں۔ خداحافظ !
عدیل غریبوں کا درد رکھنے والا ایک نہایت شفیق اور مخلص انسان تھا۔ جب کبھی محلے سے گزرتے ہوئے بچوں کو گُٹکا کھاتے ہوئے اور غلط مشاغل میں وقت ضائع کرتے ہوئے دیکھتا تو اُنہیں سمجھاتا۔ اُس کی اس پُرخلوص کوشش سے گلی محلے کے کئی بچے سُدھر گئے اور ان میں سے کچھ کو اس نے فوج میں بھی بھرتی کروایا۔ کچھ بچوں کو والد سے سفارش کرکے کراچی کے مختلف دفاتر میں نوکریاں دلوائیں۔ شہادت کے بعد میں پتہ چلا کہ چند بچوں کی تعلیم و تربیت اور علاج معالجے کا بھی خیال رکھتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ شہر کراچی میں اس کی شہادت کی خبر بڑی تیزی سے پھیلی اور بے شمار لوگوں اپنے ہیرو کی آخری جھلک دیکھنے اور جنازے کو کاندھا دینے کے لئے 21 ستمبر2019 کو اُمنڈآئے۔گورنر، چیف منسٹر سندھ، کمانڈر کراچی کور، قومی و صوبائی اسمبلیوں کے ممبران، بیوروکریٹس اور بے شمار لوگوں نے نماز جنازہ ادا کی اور اس کے بعدآپ کے جسدِ خاکی کو فوجی اعزاز سے وادیٔ حسین قبرستان میں دفنادیاگیا اور اپنے ہیرو کے لئے قوم کا یہ وہی سلیوٹ اور سلام تھا جس کی شہید عدیل کی روح کو پانچویں جماعت سے طلب تھی۔
 ایک ہفتے کے بعد حسن اسکوائر پر دوبارہ عوام الناس اور سول سوسائٹی کے افراد نے ایک دعائیہ تقریب منعقدکی جو تقریباً تین گھنٹے تک جاری رہی اور شہید کو خراجِ تحسین نذر کرنے کے لئے چراغ روشن کئے گئے۔ جوان بچے، پڑھاپے میں والدین کا سہارا بنتے ہیں مگر آفرین ہے عدیل پر جو اپنی شہادت کے ذریعے سے ملک و ملت کا سہارا بنا۔ اس نے اپنی جوانی قوم کی ترقی و یکجہتی اور امن  کے لئے قربان کردی۔ پاکستان کا بچہ بچہ اس کے لہو کا مقروض ہے اور وعدہ کرتا ہے کہ اپنے محسن شہیدکے خاندان کا حتی المقدور ہر قدم پردکھ سُکھ میںساتھ نبھائے گا۔
 اس موقع پرشہید کے والد نے کہا کہ مجھے عدیل پر فخر ہے اگر میرے سو بیٹے بھی ہوں تو میں ملک و ملت پر قربان کردوں انہوں نے مزید کہاکہ میں عدیل کے نام پر ٹرسٹ بنا کر اس کے تعلیم و تربیت اور علاج معالجے کے مشن کو اپنی حیثیت کے مطابق آگے بڑھائوں گا۔ شہید کی بیوہ نے کہا کہ پاپا اگر بیٹوں کی قربانی کا جذبہ رکھتے ہیں تو میں بھی اپنی تینوں بیٹیوں کو پڑھا لکھا کر پاک فوج کے حوالے کروں گی تاکہ اپنے باپ کی طرح ملک و قوم کی خدمت کرسکیں۔ بہنوں نے بھی عہد کیا کہ ہم اپنے شہید بھائی کے جاں نثاری اور جذبۂ حب الوطنی کے مشن کو آگے بڑھائیں گی۔
شہید کے بڑے بھائی نبیل بولے کہ میرا چھوٹا بھائی عدیل نہایت ملنسار، مخلص اور جری تھا ۔ وہ ہمیشہ یہی کہتا تھا وطن کی خاطر جان چلی جائے لیکن وطن کی ناموس پر آنچ نہیں آنے دوں گا اور وطن کے دشمنوں کو چُن چُن کر ٹھکانے لگائوں گا۔ 
ایسی قوم جہاں شہداء کے والدین، بھائیوں، بہنوں اور شریکِ حیات کے عزم و حوصلے کا یہ عالم ہو وہ ہمیشہ ہر میدان میں فاتح و کامران رہے گی۔ ان شاء اﷲ !!
شاہد عدیل تیری شہادت پہ فخر ہے
ملت کو تیرے خوں کی حرارت پہ فخر ہے
قربان ہو کے ملک پہ، تو سرخرو ہوا
تیرا لہو وطن کی مرے آبرو ہوا
ہر روز بیٹیوں کو تِرا انتظار ہے
گلشن میں اب تو صورتِ فصلِ بہار ہے

یہ تحریر 359مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP