اداریہ

وطن ہی سب کچھ ہے

دفاعِ وطن کو اس کی غیور قوم اور بہادر مسلح افواج یقینی بناتی ہیں۔ پاکستان کو اپنے آغاز ہی سے دشمن کی جارحیت اور کٹھن چیلنجز کا سامنا رہا جن کا افواج اور قوم باہم مل کر مقابلہ کرتی چلی آرہی ہیں۔ وطن کے دفاع کو یقینی بنانے کے لیے ہر سال بجٹ میں دفاع کے لیے بھی بجٹ مختص کیاجاتا ہے جس کے بارے میں ایک عرصے سے پراپیگنڈہ کیا جارہا ہے کہ دفاعی بجٹ ملکی بجٹ کا اسی فیصد ہوتا ہے جو کہ سراسرغلط بیانیہ ہے اور پاکستان دشمن عناصر کا پھیلا یا ہوا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ملکی دفاع کا بجٹ ایک عرصہ تک 18 فیصد رہا ہے جس میں سے9 فیصد ، حجم بڑا ہونے کی وجہ سے، پاک فوج کو دیا جاتا رہا جبکہ باقی کا 9 فیصد پاکستان نیوی اور پاکستان ایئر فورس میں مساوی تقسیم کیا جاتا رہا ہے۔رواں برس ملک کا دفاعی بجٹ مزید کم کرکے صرف16 فیصد رکھاگیا ہے۔ 
سپری (SIPRI) کی 2021 کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے کل دفاعی بجٹ 8.8 ارب ڈالر کے مقابلے میں بھارت کا دفاعی بجٹ 78 ارب ڈالر ہے۔ اسی طرح چین کا دفاعی بجٹ 230 ارب ڈالرجبکہ امریکہ کا سالانہ بجٹ 801 ارب ڈالر بنتا ہے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو کم بجٹ ہونے کے باوجودافواجِ پاکستان کا شمار دنیا کی بہترین افواج میں کیا جاتا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہی کی مثال لی جائے تو افغانستان میں جہاں 40 سے زائد اتحادی ممالک کی افواج موجود تھیں، خطے میں دہشت گردی پر اُس طرح سے قابو نہیں پاسکیں جس انداز سے پاکستانی افواج نے اپنی مغربی سرحد کے قریب اور دیگر علاقوں میں موجود شدت پسندوں کا قلع قمع کرکے علاقائی امن کے قیام میں کردار ادا کیا ہے۔ اگرچہ پاکستان دنیا بھر میں آرمی کے حوالے سے ساتویں نمبر پر آتا ہے تاہم اس کے دفاعی اخراجات دنیا کی دیگرافواج کے مقابلے میں کم ترین ہیں۔ امریکہ اپنے ایک سپاہی پر سالانہ تین لاکھ 92 ہزار ڈالر خرچ کرتا ہے تو بھارت 42ہزارڈالر خرچ کرتاہے۔ جبکہ پاکستان میں ایک سپاہی پر آنے والے سالانہ اخراجات صرف12 ہزار 5 سو ڈالر ہیں۔
دفاعی بجٹ کو کم سے کم رکھنے کے ساتھ ساتھ پاک فوج نے 2019 میں دفاع کے لیے مختص ہونے والے بجٹ کو منجمد کرنے کا ایک بے مثال قدم اُٹھایا۔ یوں دنیا کی بیشتر افواج کے مقابلے میں کم دفاعی بجٹ رکھنے کے باوجود افواجِ پاکستان نے پیشہ ورانہ معیارپر کبھی کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔ علاوہ ازیں ملکی ترقی و خوشحالی میںبھی پاک فوج کا کردارہمیشہ شاندار رہا ہے۔ پاک فوج نے مالی سال 2021-22 میںٹیکسوں کی مدمیں 28 بلین روپے حکومت کے خزانے میں شامل کرائے۔
اسی طرح چیف آف آرمی سٹاف کی ہدایات کی روشنی میں پاک فوج کی کوششوں سے ریکوڈک کیس میں پاکستان11 بلین ڈالر کے نقصان سے بچ گیا جس کے بعد اس منصوبے کو نئی شکل دے کر بلوچستان میںموجود سونے اور کاپر کے ذخائر پر کام شروع کیاگیاہے۔ حال ہی میں ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کو اب تک جو کامیابی نصیب ہوئی ہے، اس کے پیچھے بھی ملک کے دیگر اداروں کے ساتھ ساتھ پاک فوج کی کاوشوں کا عمل دخل ہے۔جنرل ہیڈکوارٹر ز میں ایک میجر جنرل کی سربراہی میں ٹیم تشکیل دی گئی جس نے شبانہ روز محنت کرکے پاکستان پر عائدکردہ تمام اعتراضات مدلل انداز میںدُور کیے۔ ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے اب تک کے معاملات خوش اسلوبی سے سرانجام دیے جا چکے ہیں جس سے اکتوبر میں بہتر فیصلے کی توقع کی جارہی ہے۔
الغرض پاک فوج ملک کو صرف بیرونی اور اندرونی محاذوں پر درپیش چیلنجز سے ہی نبرد آزمانہیں ہوتی بلکہ ملک کو کسی بھی شعبے میںمشکلات سے نمٹنے کے لیے اپنی خدمات بہم پہنچائی جاتی ہیں کہ وطن ہی سب کچھ ہے، وطن ہے تو ہم ہیں۔پاکستان ہمیشہ سلامت رہے۔



 

یہ تحریر 71مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP