ٹیکنالوجی

نیورا لنک چِپ ایک سائنسی انقلاب 

ہم ایک ایسے دور میں زندہ ہیں جس دور کی حیرت انگیز ایجادات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی دنیا کوآئے روز تبدیل کر رہی ہے۔ سائنس کے میدان میں ایسا کچھ ہو رہا ہے جو کبھی سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا۔ اس دور میں ایک ایسا شخص بھی رہتا ہے جس نے ٹیکنالوجی کے میدان میں انقلاب برپا کر کے انسان کی تقدیر ہی بدل ڈالی ہے۔ اس شخص نے خوابوں اورافسانوی قصے کہانیوں کو حقیقت کا روپ دے ڈالا ہے۔ اس شخص کی ایجادات کے بارے میں جب آپ پڑھیں گے تو آ پ کو اندازہ ہو گا کہ دنیا کیا سے کیا ہونے جا رہی ہے۔ اس حیرت انگیز شخص کا نام ہے ''ایلون مسک ''   (Elon Musk)
ایلون مسک کی عمر تو ابھی صرف انچاس سال ہے لیکن دنیا کے امیر ترین افراد کی رینکنگ میں یہ دوسرے نمبرپر آ چکے ہیں یعنی جیف بزوز کے بعد دوسرا نمبر ان کا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ابھی کچھ عرصہ قبل ایلون کی مالی حالت کا یہ حال تھا کہ وہ سڑک پر آنے والے تھے کیونکہ انھوں نے اپنا تمام سرمایہ اپنی کمپنی سپیس ایکس کے تحت راکٹ بنانے اور اور اس کو کامیابی سے لانچ کرنے پر لگا دیا تھا اور وہ اس تجربے میں ناکام ہو گئے تھے کیونکہ ان کا راکٹ کامیاب پرواز نہ کر پایا تھا۔ کوئی اور شخص ہوتا تو ہمت ہار دیتا لیکن یہ عجیب شخص ہے کہ اس نے بچی کھچی رقم بھی لگا دی اور دوبارہ وہی تجربہ کیا اور اس بار یہ تجربہ کامیاب رہا۔ اسی لئے کہتے ہیں کہ ناکامی پر ہمت نہیں ہارنا چاہئے بلکہ اس وقت زیادہ تندہی سے آگے بڑھنا چاہئے کیونکہ یہی وہ وقت ہوتا ہے جب کامیابی چند قدم کے فاصلے پر آپ کا انتظار کر رہی ہوتی ہے۔ اب ایلون کے مالی اثاثوں کی مالیت نوےّ بلین ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔ 
ایلون مسک جنوبی افریقہ میں پیدا ہوئے عمر کا کچھ حصہ کینیڈا میں بھی گزرا لیکن 2002 میں ایلون نے امریکہ کی شہریت اختیار کر لی۔ ایلون مسک کمپنی سپیس ایکس کے سی ای او ہیں۔ اسی کمپنی کے تحت ان کا ارادہ ہے کہ وہ انسان کو 2024 تک سرخ سیارے مریخ پر بسا دیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ انھوں نے ٹیسلا کمپنی بنا کر دنیا کو الیکٹرک کار بھی دے ڈالی۔ 
یہی نہیں وہ فضا میں سیاروں کا ایک نیٹ ورک بنانا چاہتے ہیں یعنی اس زمین جیسی کئی زمینیں۔ سیاروں کے اس نئے نیٹ میں انسا ن کو زمین کی طرح بسایا جائے گا۔ 
ایلون مسک نے اٹھائیس اگست 2020 کو انسانی دماغ کو کمپیوٹر کی چِپ سے جوڑنے کا ایک ایسا مظاہرہ کر ڈالا ہے جو کرۂ ارض کے انسان کا مستقبل یکسر بدل ڈالے گا۔ اس چِپ نے انسانی ذہن کی حدوں کو پار کرتے ہوئے اسے پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ اس چِپ کی بدولت آپ اپنی زندگی کے خوابوں، یادوں اور ماضی کے وقت کو سامنے لگی اسکرین پر ایک فلم کی طرح چلتے ہوئے دیکھ سکیں گے۔ صرف یہی نہیں بلکہ یہ چپ میڈیکل کی دنیا میں بھی انقلاب برپا کر دے گی۔ یہ چپ 28اگست کو دنیا کے سامنے لائی گئی تو اس نے سوچنے والے ذہنوں میں ہنگامہ برپا کر دیا۔ یہ ہے'' نیورا لنک چپ''  (neuralink)نیورا لنک کو انسانی دماغ میں نصب کیا جائے گا اس کے بعد یہ چپ انسانی جسم کی تمام بیماریوں کو ڈیٹیکٹ کر لے گی بلکہ اس کے ذریعے انسانی جسم میں ہر طرح کی بیماری کو ختم کیا جا سکے گا۔ 
اس چپ میں انسانی دماغ سے کئی گنا زیادہ باریک دھاگے ہیں جن کو ایک امپلانٹ انسانی دماغ سے منسلک کیا سکے گا۔ جب اس چپ کی دماغ کے اندر پیوند کاری کر دی جائے گی تو اس کے سنسر دماغ کو پڑھنا شروع کر دیں گے۔ اسی چپ کے ذریعے انسان اپنا سمارٹ ٹی وی، سمارٹ فون اور چند دیگر ڈیوائسزکو اپنی سوچ کے اشارے سے اپنا ہاتھ ہلائے بنا استعمال کرے گا۔ یعنی آپ اپنے کمرے میں بیٹھے ہیں آپ کے ہاتھ میں موبائل فون نہیں ہے، آپ کے سامنے ٹی وی آن نہیں ہے تو آپ صرف سوچیں گے اس نیورا لنک چپ پر آپ کی سوچ اثر انداز ہوگی اور چپ کو پتہ چلے گا کہ آپ سامنے رکھا سمارٹ ٹی وی آن کرنے کا سوچ رہے ہیں تو وہ چپ آپ کا ٹی وی آن کر دے گی۔ اسی طرح دوسری ڈیوائسز کو بھی چپ کنٹرول کرے گی۔ یہ ایک آرٹی فیشل انٹیلیجنس کی طرح کا کام کرے گی لیکن اے آئی میں پروگرام پہلے سے ترتیب دیا ہوتا ہے جبکہ نیورا لنک چپ براہ راست آپ کی سوچ کو پڑھ کر آپ کے کام انجام دے گی۔
نیورا لنک چپ فالج ، دماغی بیماریوں ، اندھے پن ، قوت سماعت، قوت گویائی، جوڑوں کا درد ر یڑھ کی ہڈی کے امراض کا علاج بھی کرسکے گی۔ یعنی آپ کے جسم میں جتنی بھی بیماریاں ہیں ان کو اس چپ کے ذریعے ڈیٹیکٹ کر کے علاج کیاجا سکے گا۔ یہ چپ خود بخود بیماریوں کا پتہ دے گی۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ کیایہ صرف بیماری کا پتہ دے گی ، علاج نہیں کرے گی؟ تو اس جواب یہ ہے کہ گھبرانے کی بات نہیں ہے یہ نیورا لنک چپ بیماریوں کا نہ صرف علاج کرے گی بلکہ اب وہ لوگ جن کو علاج کی غرض سے ماہر طبیعات نہ مل پاتے تھے یا ادویات کی عدم دستیابی کی وجہ سے علاج نہ ہو پاتا تھا اب اس چپ  کی بدولت ان کو اپنے علاج کے لئے کسی دوسرے ملک نہیں جانا پڑے گا۔ کیونکہ نیورا لنک چپ کمپیوٹر سے بھی منسلک ہو سکتی ہے لہٰذا کسی دوسرے ملک میں بیٹھا ڈاکٹر اس چپ کے ذریعے آپ کے دماغ کا علاج کر پائے گا۔ اس طرح آپ کو ہزاروں میل دور سمندر پار علاج کی غرض سے نہیں جانا پڑے گا۔ اس چپ کی ایک اور خصوصیت یہ بھی ہے کہ اگر آپ ڈپریشن کی جانب مائل ہیں لیکن آپ اس ڈپریشن سے نکلنا چاہتے ہیں تو یہ چپ اس میں آپ کی مدد کرے گی۔ نیورا لنک چپ آپ کو ڈپریشن سے نکال لے گی۔ ان تمام خصوصیات کی بنا پر اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ مذکورہ چپ تمام انسانی بیماریاں ڈیٹیکٹ کرنے اور ان کا علاج کر پانے پر قدرت رکھنے کی بدولت انسانی عمر کو بہت بڑھا دے گی۔ انسان کی اوسط عمر سو دو سال سے بڑھ جائے۔ اگلے پچاس برس میں انسان کچھ سے کچھ ہو چکا ہو گا۔ 
دلچسپ پہلو یہ ہے کہ اس نیورا لنک کے ذریعے آپ اپنے ماضی کی جس یادداشت کو رکھنا چاہیں گے اس کو محفوظ کر لیں گے اور ناگوار یادوں کو یکسر اپنے شعور سے مٹا ڈالنے پر قادر ہو جائیں گے۔ یعنی آپ کی زندگی کا کوئی خوبصورت لمحہ گزرا ہو ، اس لمحے کو آپ ہمیشہ کے لئے ایک فلم کی طرح اپنے دماغ کے کسی خانے میں قید کر لیں گے۔ آپ اپنی مرضی کے خواب دیکھیں گے جیسے آپ اپنی مرضی کی فلم دیکھتے ہیں۔ اگر آپ خوفناک خوابوں سے پریشان رہتے ہیں تو اپنے دماغ میں یہ چپ لگوا لینے کے بعد آپ کو خوفزدہ کرنے والے خوابوں سے نجات مل جائے گی۔ اس چپ کاایک اور کارنامہ یہ ہے کہ اس کے ذریعے آپ تمام زبانیں بول اور سمجھ سکیں گے۔ یعنی اگر آپ کے سامنے کھڑا شخص لاطینی زبان بول رہا ہے تو آپ اپنی چپ کو اپنے خیال کے ذریعے آرڈر کریں گے اور چپ آپ کو لاطینی زبان کا مفہوم سمجھا دے گی اور آپ اسی زبان میں جواب بھی دیں پائیں گے۔ یعنی آپ بنا سیکھے دنیا کی تمام زبانیں بولنے اور سمجھنے کے قابل ہوں گے۔ 
اب آتے ہیں نیورا لنک چپ کے چند متنازع یا نقصان دہ پہلوؤں کی جانب۔ کیونکہ یہ چپ انسانی دماغ میں نصب کی جائے گی لہٰذا آپ کے ٹوئٹر، فیس بک، یو ٹیوب یا دیگر سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی طرح آپ کا دماغ بھی ہیک ہو سکے گا۔ ہیکرز آپ کے دماغ میں لگی اس چپ کے ذریعے آپ کے دماغ کو آسانی سے ہیک کر سکیں گے۔ اس طرح بہت اہم قومی رازوں کے چوری ہو جانے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے کیونکہ جس دماغ کو ہیکرز ہیک کریں گے اگر وہ دنیا کی کسی اہم شخصیت کا دماغ ہے تو اس میں موجود انتہائی اہم راز بھی ہیکرز کے ہاتھ چلے جائیں گے۔ کسی صدر یا وزیراعظم یا کسی اہم دفاعی شخصیت کا دماغ ہیک ہو نے کی صورت میں ایسے راز اور معلومات ہیکرز کے ہاتھ لگیں گی جن کو استعمال کر کے دنیا کو تباہی کے دہانے پر لے جایا جا سکتا ہے۔ ہیکر اس شخصیت کو اپنے اشاروں پر چلا ئے گا۔ ایسی صورت میں وہ شخص ایک روبوٹ بن جائے گا کیونکہ ہیکرز اس دماغ میں لگی چپ میں جو پروگرامنگ اور احکامات ترتیب دیں گے وہ شخص آرٹی فیشل انٹیلی جنس کی طرح ہیکر کے تمام احکامات ماننے پر مجبور ہو گا۔ اس ایک خدشے کی بنا پر اس چپ کے بانی ایلون مسک کو خطرہ ہے کہ شاید حکومتیں اس چپ کے بڑے پیمانے پر استعمال کی اجازت نہ دیں گی۔ بیماریوں کے علاج اور میڈیکل سائنس کی حد تک اس چپ سے انسانیت بھر پور فائدہ اٹھائے گی۔ 
نیورا لنک چپ کا مستقبل ہے تو بہت روشن لیکن اس کو پابندیوں کا سامنا بھی رہے گا ۔ ہو سکتا ہے کہ آغاز میں اس کا استعمال صرف میڈیکل سائنس تک ہی محدود کر دیا جائے۔ لیکن یاد رکھیئے کہ ہر ایجاد یا دریافت کا کوئی نہ کوئی منفی پہلو ہوتا ہے لیکن اس منفی پہلو کی وجہ سے سائنسی معلومات کے دریا کے آگے بند نہیں باندھا جا سکتا۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کا انقلاب جاری رہے گا۔ آج سے پچاس، سو سال بعد کی دنیا وہ ہو گی جس کا آج تصور بھی نہیں کیا جا سکتا، جیسا کہ آج سے پچاس برس پہلے آج کی دنیا کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ ||


مضمون نگار معروف صحافی و تجزیہ کار ہیں
 [email protected]

یہ تحریر 136مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP