متفرقات

نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ 

 آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد کے مضافات میں نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ تعمیر کیا گیا ہے جو ملک کا پہلا زیر زمین بجلی کا پراجیکٹ ہے ۔منصوبے کی مجموعی پیداواری صلاحیت 969میگاواٹ ہے۔ اس کے چار پیداواری یونٹ ہیں ، جن میں سے ہر ایک کی پیداواری صلاحیت242.25میگاواٹ ہے۔ نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ انجینئرنگ کاایک زبردست شاہکار ہے۔ اس کا 90فیصد حصہ بلند و بالا پہاڑوں کے نیچے زیر زمین تعمیر کیا گیا ہے اور ایک دریا کو دوسرے دریا کے نیچے سے گزارا گیا ہے۔ منصوبہ ہر سال نیشنل گرڈ کو تقریباً پانچ ارب یونٹ سستی پن بجلی مہیا کرے گا ۔ اس منصوبے سے سالانہ تقریباً ٥٥ارب روپے کی آمدنی ہوگی۔آزاد کشمیر میں دریائے نیلم پر تعمیر کئے گئے اِس منصوبے کے اہم حصوں میں نوسیری کے مقام پر تعمیر کیا گیا ڈیم، ٥٢کلو میٹر طویل سرنگوں پر مشتمل زیر زمین واٹر وے سسٹم اور چھتر کلاس کے مقام پر زیر زمین تعمیر کیا گیا پاور ہاؤس شامل ہیں ۔ پاور ہاؤس میں چار پیداواری یونٹ نصب کئے گئے ہیں۔ دوسری جانب بھارت نے بھی دریائے نیلم پر کشن گنگا پراجیکٹ تعمیر کر رکھا ہے۔ کشن کنگا کو آزاد کشمیر میں دریائے نیلم کہا جاتا ہے  بھارت  نے 2005میں اس پر لائن آف کنٹرول کے بہت قریب وادی گریز میں ایک بجلی گھر بنانے کا اعلان کیا تھا اسے کشن گنگا ہائیڈرو الیکٹرک پراجیکٹ کہتے ہیں۔ کشن گنگا، جہلم کا معاون دریا ہے اور سندھ طاس معاہدے کے مطابق اس کے پانی پر پاکستان کا حق ہے۔کشن گنگا منصوبے کی تعمیر پر بھارت نے تقریباً چھ ہزار کروڑ روپے خرچ کئے ہیں۔اس اعتبار سے یہ منصوبہ انتہائی مہنگا ہے۔ کم پیدوار کا حامل ہونے کی وجہ سے بجلی بھی مہنگی پیدا کرے گا۔یہ منصوبہ مقبوضہ کشمیر کی گریز وادی سے وادی کشمیر میں بانڈی پورہ تک پھیلا ہوا ہے۔ اس میں کشن گنگا کا پانی استعمال کیا جاتا ہے اور پھر اسے ایک مختلف راستہ استعمال کرتے ہوئے، جس کے لئے بانڈی پورہ تک تقریباً ٢٤کلومیٹر لمبی سرنگ بنائی گئی ہے، وولر جھیل میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔پاکستان کا مؤقف ہے کہ اس پراجیکٹ سے دونوں ہی شرائط کی خلاف ورزی ہوتی ہے، نیلم میں پانی بھی کم ہوگا اور کشن گنگا کا راستہ بھی بدلا جائے گا۔ پاکستان  خود اسی دریا پر ایک بجلی گھر نیلم جہلم ہائیڈرو الیکٹرک پراجیکٹ بنا چکا ہے پاکستان کا مؤقف ہے کہ اسے جتنا پانی ملنا چاہئے، اس سے بہت کم مل رہا ہے۔ اس خطے میں پانی کی قلت سنگین شکل اختیار کر چکی ہے۔آزاد کشمیر میں وادی گریز کے مقام پر یہ دریا اب محض چھوٹا سا نالہ بن کر رہ گیا ہے سارا پانی بھارت نے اس پراجیکٹ کے ذریعے روک لیا ہے ۔
330 میگاواٹ کے کشن گنگا پراجیکٹ کے اعلان کے فوراً بعد ہی پاکستان نے عالمی بینک کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا۔ پاکستان کے اعتراض کے بعد بھارت نے بجلی گھر کے لئے 97میٹر اونچا بند تعمیر کرنے کا ارادہ ترک کر دیا تھا۔ اب اس کی اونچائی 37میٹر ہے۔لیکن 2010میں یہ تنازعہ دی ہیگ (نیدر لینڈز)میں مصالحت کی عدالت میں پہنچا جس نے پراجیکٹ پر کام روکنے کا حکم دیا۔ تین سال بعد عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ بھارت یہ بجلی گھر بنا تو سکتا ہے لیکن اسے کشن گنگا میں تعین شدہ مقدار میں پانی کے بہاؤ کو یقینی بنانا ہو گا۔
پاکستان نے 2016میں پھر عالمی بینک سے رجوع کیا، اس مرتبہ کشن گنگا پراجیکٹ کے ڈیزائن پر اپنی تشویش کے سلسلے میں آبی وسائل کے ماہر ہمانشو ٹھاکر کے مطابق بینک نے اس مسئلے کے تصفیے کے لئے دو سطح پر کارروائی شروع کی تھی لیکن فریقین کی اس دلیل پر کہ دونوں متضاد فیصلے سنا سکتے ہیں، اس کارروائی کو روک دیا گیا۔ جب کشن گنگا میں بجلی بننا شروع ہوئی تو پاکستان نے پھر عالمی بینک سے کہا کہ وہ سندھ طاس معاہدے کی پاسداری کو یقینی بنائے۔ اب اس پراجیکٹ کا باضابطہ افتتاح کر دیا گیا ہے۔ کشن گنگا پر ماہرین کی رائے کے مطابق یہ بہت چھوٹا پراجیکٹ ہے جہاں صرف 330 میگاواٹ بجلی بنے گی۔ آبی وسائل کے ماہرین کے مطابق اس کی سٹرٹیجک اہمیت زیادہ ہے کیونکہ گریز سیکٹر میں لائن آف کنٹرول کے بہت قریب واقع ہے۔ چونکہ یہ انتہائی دشوار گزار علاقہ ہے اس لئے کشن گنگا پر لاگت معمول سے بہت زیادہ آئی جس کے نتیجے میں یہاں بننے والی بجلی بھی بہت مہنگی ہوگی۔اس لئے اس پراجیکٹ کو بنانے کا کوئی اقتصادی جواز نہیں ہے اور اس کا مقامی معاشرے، ماحولیات، دریا اور وہاں کی بائیو ڈائیورسٹی سب کو نقصان پہنچے گا۔ بھارت  میں جب سے بی جے پی کی حکومت آئی ہے، اکثر یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ وہ سندھ طاس معاہدے کو ختم کردے۔ خود بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی بھی کہہ چکے ہیں کہ کشمیر میں خون اور پانی ایک ساتھ نہیں بہہ سکتا۔ایک طرف تو بھارت نے اقتصادی جواز نہ ہونے کے باوجود محض پاکستان کا پانی روکنے کے لئے اپنی دفاعی ضرورت کے پیش نظر کشن گنگا بنا لیا دوسری جانب آزاد کشمیر میں نیلم جہلم پراجیکٹ کی تکمیل کے بعد بھارت کافی پریشان نظر آرہا ہے۔ ١٣اپریل 2018کو سابق وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی اس منصوبے کا باضابطہ افتتاح کر چکے ہیں جبکہ واپڈا نے ملک میں بجلی کی خطرناک حد تک کمی اور آزاد کشمیر کی مقامی آبادی کی علاقائی اور ماحولیاتی ضروریات کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس منصوبے کی بنیاد رکھی تھی۔ 1997میں ہونے والی یورپی کمپنی کی سٹڈی رپورٹ کے مطابق مظفرآباد میں تین کیومک پانی کی ضرورت ہے لیکن2011 میں واپڈا نے آزاد کشمیر حکومت کی تجویز پر دوبارہ سٹڈی کروائی تو مظفرآباد کے لئے تین سے بڑھا کرنو کیومک پانی کا بہائو کر دیا گیا۔ دریائے نیلم میں موسم گرما میں پانی کا بہاؤ چھ سو سے سات سو کیومک جبکہ موسم سرما میں یہ بہاؤ گھٹ کر محض اسی سے نوے کیومک ہی رہ جاتا ہے اور نیلم جہلم واٹر ٹنل میں پانی کی حد گنجائش محض 280کیومک ہی ہے۔ اس طرح سے گرمیوں میں مظفرآباد میں واٹر ٹنل میں پورا280کیومک پانی بھی چھوڑا جائے تو مظفرآباد میں پانی کا بہاؤ زیادہ کم نہیں ہوگا چار ستمبر2018کو جب نیلم جہلم کے چاروں پیداواری یونٹ متحرک ہوئے تو طے شدہ معاہدے اور ماحولیاتی این او سی کی شرائط کے عین مطابق نوسیری سے نو کیومک پانی مظفرآباد کے لئے چھوڑا گیا جس پر شور ہوا کہ اس پانی سے ماکڑی واٹر سپلائی بھی بند ہو جائے گی لیکن وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان خود انتظامیہ کے ساتھ ماکڑی آئے جہاں واٹر سپلائی معمول کے مطابق رواں دواں تھی اس وقت نوسیری پاور گھر سے بہاؤ نو کیومک جبکہ مظفرآباد میں پانی کا بہاؤ28کیومک تھا جس پر ہر دو جانب سے اطمینان کا اظہار کیا گیا بعد ازاں واپڈا پر اعتراض اٹھایا گیا کہ واپڈا ظاہر تو نو کیومک بہاؤ کر رہی ہے لیکن مظفرآباد میں پانی کا بہاؤ اس سے بھی کم ہے جس سے ماحولیاتی مسائل پیدا ہو رہے ہیں جبکہ واپڈا کا کہنا تھا کہ وہ تحفظ ماحولیات معاہدے کے عین مطابق نو کیومک پانی ہی چھوڑ رہی ہے چناچہ18ستمبر کو تحفظِ ماحولیات ایجنسی، واٹر سپلائی، واپڈا اور ضلعی انتظامیہ نے دوبارہ پانی کے بہاؤ کی پیمائش کا واپڈا سے عملی مظاہرہ کروایا جو پورا نکلا جس پر آزاد کشمیر حکومت نے کہا کہ واپڈا پانی کا بہائو مظفرآباد کے لئے اور بڑھائے۔ واپڈا کا کہنا ہے کہ گو کہ این او سی اور معاہدہ میں نو کیومک ہے لیکن حکومت آزاد کشمیر کے مزید کہنے پر بہاؤ بڑھا دیا۔ تین دن بہائو نو کیومک رکھا گیا اس کے بعد سے مسلسل نوسیری سے بیس کیومک پانی چھوڑا جا رہا ہے جو مظفرآباد میں چالیس کیومک تک جاپہنچتا ہے۔ اس کے عوض بجلی کم پیدا کی جا رہی ہے جس کے روزانہ نقصان کی شرح ایک کروڑ ہے۔ دوسری طرف واپڈا پراجیکٹ کے لئے حاصل شدہ زمینوں کے معاوضے حکومت آزاد کشمیر کی جانب سے جو بھی طے کئے گئے، ادا کر چکی ہے۔ اسی پراجیکٹ کے این او سی میں چوبیس سکیمیں واپڈا کے فنڈز سے بنانے کی آزاد کشمیر حکومت کی جانب سے شرط رکھی گئی جو واپڈا نے تسلیم کرتے ہوئے چوبیس سکیموں کے لئے 5237ملین یعنی 5.2ارب روپے آزاد کشمیر کے لئے فنڈز مختص کر دئیے جن میں سے بائیس سکیموں کی رقم آزاد کشمیر حکومت کو دے دی گئی ہے جبکہ دو سکیموں کی رقم ابھی واپڈا کے ذمے بقایا ہے جس میں1448 ملین روپے کی جھیلوں کا  بھی منصوبہ شامل ہے جوں ہی آزاد کشمیر حکومت اس کی فزیبلٹی رپورٹ مکمل کر کے واپڈا کو دے گی باقی رقم آزاد کشمیر حکومت کو ادا کر دی جائے گی۔ نیلم جہلم پر2012-13میں آزاد کشمیر حکومت اور وفاقی وزارت پاور اینڈ ڈویلپمنٹ کے درمیان صدر آزاد کشمیر اور وزیر اعظم آزاد کشمیر کے دستخط کے ساتھ معاہدہ وفاقی وزارت میں جا چکا ہے جس پر واٹر یوز ر چارج پر وفاقی وزارت نے آزاد کشمیر حکومت سے رائے مانگی تھی آزاد کشمیر کا صوبہ نہ ہونے اور متنازعہ حیثیت کی وجہ سے اس معاملہ میں کافی تکنیکی رکاوٹیں آرہی تھیں لیکن اب یہ معاملہ بھی تقریباً طے ہو چکا ہے آزاد کشمیر کے لئے اچھی خبر یہ ہے کہ ان کے لئے ایک روپے دس پیسے فی یونٹ واٹر یوز سرچارج طے کر لئے گئے ہیں۔ 
نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ پاکستان کی خوشحالی اور آزاد کشمیر کی ترقی کا ایک اہم سنگ میل ہے جو ہم نے الحمدللہ طے کر لیا ہے ۔اسے واپڈا اور آزاد کشمیر حکومت نے چیلنج سمجھ کر قبول کیا تھا جو کبھی ایک خواب تھا۔ 


مضمون نگار  مظفرآباد(آزاد کشمیر) یونین آف جرنلسٹس کے صدر ہیں اور تعلیم اور میڈیا کے ذریعے کام کرنے والی غیر سرکاری جرنلسٹ تنظیم کے بانی ہیں۔

یہ تحریر 403مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP