اداریہ

نگہ بلند، سخن دلنواز، جاں پرسوز

قوموں کی زندگی میں قیادت بہت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ قیادت اپنی فکر اوربصیرت کے ذریعے قوم کی راہیں متعین کرتی ہے اور ایسے اصول و قوانین وضع کردیتی ہے کہ جن پر چل کر قومیں مستحکم ہوتی چلی جاتی ہیں۔ قائداعظم محمدعلی جناح نے 1942 میں اپنے ایک خطاب میں فرمایا: ''میں آپ کو مصروف ہونے کی تاکید کرتا ہوں، کام، کام اور بس کام۔ صبرو برداشت اور انکساری کے ساتھ اپنی قوم کی سچی خدمت کرتے جائیں۔'' قیادت کا قول و فعل اور عملی زندگی یقینا قوم کے لیے رول ماڈل ہوتی ہے اور ان کے دیئے گئے زریں اصولوں پر عمل پیرا ہو کرقومیں مضبوطی، خوشحالی اور ترقی کا سفر طے کرتی ہیں۔
قیامِ پاکستان کے بعد سے ہی اس نوزائیدہ مملکت کو مختلف جارحیتوں اور سازشوں کا سامنا رہا ہے جس کاہمیشہ باہمی یکجہتی اور اتحاد سے منہ توڑ جواب دیاگیا۔ 1965 میں جب دشمن ملک نے پاکستان پر حملہ کیا تو اس وقت کے صدرِ مملکت جنرل محمدایوب خان نے اپنی تقریر میں کہا ''ہندوستانی حکمران شاید ابھی نہیں جانتے کہ انہوں نے کس قوم کو للکارا ہے۔'' پھر تاریخ نے ثابت کیا کہ کس طرح ہماری مسلح افواج اور قوم دشمن پر پِل پڑیں اور اُسے عبرت ناک انجام سے دوچار کیا۔ اسی طرح ہر کٹھن گھڑی اور چیلنج کے دوران قوم اور قیادت نے بھرپور عزم اور حوصلے کے ساتھ اس پر قابو پایا۔ 
قوم کو دہشت گردی کے عفریت کا سامنا ہوا تو ہماری مسلح افواج نے اس وقت کی عسکری قیادت چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی کی قیادت میں سوات  سمیت ملک کے دیگر حصوں میں کیے گئے آپریشنز کے ذریعے دہشت گردی کے خاتمے میں کردار ادا کیا۔ ان کے بعد جنرل راحیل شریف چیف آف آرمی سٹاف بنے تو انہوں نے دہشت گردی کے خاتمے کے عزم کو برقرار رکھتے ہوئے آپریشن ضربِ عضب شروع کرکے ملک کے باقی ماندہ حصوں سے دہشت گردی کا خاتمہ کیااور ملک کا وقار بلند کیا۔29 نومبر2016 کو موجودہ سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ چیف آف آرمی سٹاف کے عہدے پر فائز ہوئے تو انہوں نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے آپریشن کو نہ صرف پوری شدت سے جاری رکھا بلکہ فروری2017 میں آپریشن ردا لفسادکا آغاز کیا جس کی ان حالات میں شدید ضرورت تھی کہ دہشت گرد عام علاقوں اور رہائش گاہوں میں پناہ لیے ہوئے تھے۔ آپریشن ردا لفسادکے ذریعے نہ صرف شہری اور دیہی علاقوں میں چھپے ہوئے دہشت گردوں کو تلاش کرکے انہیں ٹھکانے لگایاگیا بلکہ ان کے سہولت کاروں کو بھی کیفرِکردار تک پہنچایا گیا۔ اس طرح پاکستان کی مغربی سرحد کو محفوظ بنانے کے لیے پاک افغان بارڈر مینجمنٹ کے منصوبے پر تیزی سے کام شروع کروایا گیا جو تقریباً مکمل ہوچکا ہے۔یوں پاک فوج ملک کی مشرقی اور دیگر سرحدوں کے ساتھ ساتھ مغربی سرحدکو بھی کافی حدتک محفوظ بنانے میں سرخرو ٹھہری ہے۔ پاک افغان بارڈر مینجمنٹ منصوبہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمرجاویدباجوہ کی براہِ راست نگرانی اور ہدایات کی روشنی میں پایۂ تکمیل تک پہنچا۔ 
پاک فوج دنیا کی اُن بہترین افواج میں شامل ہے جس میں سپاہ اور سپہ سالار کا باہمی رشتہ محبت، احترام اور فرائض کی بروقت اور مستعد انداز میں ادائیگی پر منحصر ہوتا ہے۔ سپہ سالار بھی اپنی سپاہ کو اپنے دل کے بہت قریب رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عیدین اوردیگر قومی تہواروں پر چیف آف آرمی سٹاف اگلے مورچوں پر اپنے جوانوں کے ساتھ موجود ہوتے ہیں۔ چیف آف آرمی سٹاف ان مواقع پر شہداء کے لواحقین سے ملنے ان کے گھر بھی جاتے ہیں اور انہیں باور کراتے ہیں کہ وہ تنہا نہیں ہیں۔ فوج ایک خاندان ہے جو اپنے وطن پر جانیں نچھاور کرنے والوں کو ہمیشہ یاد رکھتی ہے اور اُن کے اہلِ خانہ کو زندگی بھر احترام اور محبت دی جاتی ہے۔بقول اقبال
نگہ بلند ، سخن دلنواز ، جاں پُر سوز
یہی ہے رختِ سفر میرِ کارواں کے لیے ||


 

یہ تحریر 194مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP