متفرقات

نوجوان انسانی وسائل سے مالامال خوش قسمت پاکستانی قوم

اقوام متحدہ کے جاری کردہ حالیہ جائزے کے مطابق پاکستانی قوم کا شمار دنیا کی فہرست میں چوٹی کی ان اقوام میں ہوتا ہے جس کی آبادی کا بہت بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ یو این ڈی پی کی نیشنل ہیومن ڈیویلپمنٹ رپورٹ کے مطابق پاکستان کی کل آبادی کا چونسٹھ فیصد تیس سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے جو چند افریقی ممالک کو چھوڑ کر دنیا بھر میں افغانستان کے بعد نوجوان آبادی کا سب سے بڑا تناسب قرار دیا گیاہے۔
بلاشبہ انسانی وسائل اقوام عالم کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ایسے ممالک جہاں نوجوان آبادی کا تناسب نسبتاً زیادہ ہوتا ہے۔ وہ قدرتی طور پر انسانی وسائل کے میدان میں زیادہ استعداد کے حامل قرار پاتے ہیں۔ یو این ڈی پی کی مذکورہ رپورٹ، جو گزشتہ سال مئی میں جاری کی گئی ہے، میں بہت دلچسپ اعداد و شمار سامنے آئے ہیں، جس کا جائزہ اس اظہاریہ میں شامل کیا جارہا ہے۔



رپورٹ کے مطابق پاکستان کے نوجوانوں میں پچاس فیصد مرد اور پچاس فیصد خواتین ہیں جبکہ نوجوانوں کی ایک تہائی، یعنی تینتیس فیصد شادی شدہ جبکہ سڑسٹھ فیصد، غیر شادی شدہ ہے۔ نوجوانوں کی پچپن فیصد آبادی پنجاب، تیئس فیصد سندھ، چودہ فیصد خیبر پختونخوا، چار فیصد بلوچستان جبکہ چار فیصد آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور سابقہ فاٹا کے علاقوں میں ہے۔
پاکستان کی چونسٹھ فیصد آبادی شہری علاقوں جبکہ چھتیس فیصد دیہی علاقوں میں رہتی ہے۔ پاکستان کے نوجوانوں کی سینتیس فیصد آبادی کی مادری زبان پنجابی، پندرہ فیصد کی اردو، تیرہ فیصد کی پشتو، تیرہ فیصد کی سرائیکی، دس فیصد کی سندھی، چار فیصد کی بلوچی جبکہ آٹھ فیصد کی دیگر متفرق ہیں۔
 تعلیم و خواندگی کے اعتبار سے تقریباً ستر فیصد نوجوان خواندہ جبکہ تیس فیصد ناخواندہ ہیں، سولہ فیصد نوجوانوں کی تعلیم ایک سے پانچ جماعت تک ہے، چالیس فیصد نے چھ سے دس جماعت تک تعلیم حاصل کی ہوئی ہے، نو فیصد کی تعلیم گیارہویں سے بارہویں جماعت تک کی ہے جبکہ چھ فیصد نوجوان بارہویں جماعت سے زائد تعلیم کے حامل ہیں جس میں گریجویشن اور اس سے زائد تعلیمی قابلیت بھی شامل ہے۔ ملک کے چھ فیصد نوجوانوں کو کتب خانوں تک رسائی حاصل ہے جبکہ ٩٤ فیصد کو یہ سہولت حاصل نہیں۔


پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے جس کی ترقی کی رفتار اس کے نوجوانوں کی درست سمت میں رہنمائی اور پیشرفت سے ہی مشروط ہے۔ دیکھا گیا ہے کہ ہمارے ملک کے نوجوانوں میں شعور اور نظم و ضبط کا معیار بہتر بنانے کی اشد ضرورت ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے تعلیمی نصاب اور تعلیمی اداروں میں اس نوعیت کی تربیت پر بہت زیادہ توجہ نہیں دی جاسکی۔ اس حوالے سے فوری حکومتی اقدامات نہایت ضروری ہیں۔


پاکستان کے نوجوانوں کی چالیس فیصد تعداد برسر روزگار ہے جس میں بتیس فیصد مرد اور آٹھ فیصد خواتین شامل ہیں، چار فیصد نوجوان بیروزگار اور روزگار کی تلاش میں ہیں جبکہ چھپن فیصد جس میں چالیس فیصد خواتین اور سولہ فیصد مرد شامل ہیں روزگار کے متلاشی نہیں ہیں۔ برسر روزگار نہ ہونے والے باقی ماندہ ساٹھ فیصد نوجوانوں میں سے چودہ فیصد بلا معاوضہ کارکن ہیں جبکہ دس فیصد گاہے بگاہے یا جزوقتی طور پر کام کرتے ہیں جبکہ آٹھ فیصد نوجوان اپنے طور پر کاروبار سے منسلک ہیں۔
ملک کے صرف سات فیصد نوجوانوں کو کھیلوں کی سہولیات میسر ہیں جبکہ ٩٣ فیصد کے پاس یہ سہولت موجود نہیں، ملک کے پندرہ فیصد نوجوانوں کو تیز رفتار انٹرنیٹ تک رسائی حاصل ہے جبکہ پچاسی فیصد کو یہ سہولت میسر نہیں ہے، حالانکہ باون فیصد نوجوانوں کے پاس موبائل فون کی ملکیت موجود ہے، ملک کے ایک فیصد نوجوانوں کے پاس کار، بارہ فیصد کے پاس موٹرسائیکل، دس فیصد کے پاس سائیکل جبکہ ستتر فیصد کے پاس ذاتی سواری موجود نہیں ہے۔
اس جائزہ رپورٹ کے مطابق سیاسی اور سماجی اعتبار سے پاکستانی نوجوان بہت پُرعزم نظر آتے ہیں۔ ملک کے اَسّی فیصد نوجوان انتخابات میں ووٹ کاسٹ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جبکہ بیس فیصد کی اس میں دلچسپی نہیں۔ پاکستان کے ستر فیصد نوجوان اپنے آپ کو محفوظ سمجھتے ہیں، پندرہ فیصد خود کو غیر محفوظ جبکہ باقی پندرہ فیصد کی اس بارے میں کوئی حتمی رائے نہیں۔ ایک نہایت خوش آئندبات یہ سامنے آئی کہ ملک کے نواسی فیصد نوجوان اپنے حالاتِ زندگی سے خوش ہیں، صرف تین فیصد نوجوان ناخوش جبکہ آٹھ فیصد کی اس بارے میں کوئی واضح رائے نہیں پائی گئی۔
ملک کے اڑتیس فیصد نوجوان کھیلوں میں باقاعدگی سے حصہ لیتے ہیں، تین فیصد کبھی کبھی جبکہ انسٹھ فیصد نوجوان اکثر کھیلوں میں حصہ نہیں لیتے۔ ملک کے دو تہائی سے زائد یعنی سڑسٹھ فیصد نوجوانوں کا خیال ہے کہ ان کا معیار زندگی ان کے والدین سے بہتر ہے۔ اٹھارہ فیصد کا خیال ہے کہ ان کے والدین جیسا ہی ہے جبکہ پندرہ فیصد کا ماننا ہے کہ ان کا معیارِ زندگی ان کے والدین سے کمتر ہے۔ نوجوانوں کی تقریباً نصف تعداد یعنی اڑتالیس فیصد کا ماننا ہے کہ پاکستان کا مستقبل تابناک ہے، سولہ فیصد سمجھتے ہیں کہ اس میں زیادہ تبدیلی نہیں آئے گی جبکہ چھتیس فیصد نوجوان بہتر مستقبل کے بارے میں زیادہ پُر امید نہیں۔
اقوام متحدہ کے ادارے یو این ڈی پی کی مرتب کردہ اس نہایت اہم و دلچسپ حالیہ جائزہ رپورٹ کو دیکھ کر ہم بآسانی ملک کے لئے مستقبل کی منصوبہ بندی کو بہتر بنا سکتے ہیں، جہاں ایک طرف ہم قدرتی طور پر نوجوان آبادی پر مبنی کارآمد انسانی وسائل کی دولت سے مالامال ہیں تو دوسری جانب سب سے زیادہ خوش آئند امر یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ملک کے معروضی حالات سے متعلق، جس میں ہمیں اقتصادی چیلنجز کا پہلے سے کہیں زیادہ شدت سے سامنا ہے، ہمارے نوجوان پُر امید وپُر جوش اور اپنی زندگی سے بہت خوش ہیں اور ان کے یہ مثبت فکری اوصاف ملک کے استحکام کے ساتھ ساتھ اس کی تعمیر وترقی کے لئے بہت فرحت انگیز احساس فراہم کرتے ہیں۔
ملک میں انتخابات کے بعد قائم ہونے والی نئی حکومت کی اولین ترجیحات میں جہاں ایک جانب گردشی قرضوں کے گرداب پر مبنی معاشی مشکلات سے باہر نکلنا شامل ہے وہاں اصلاحات پر مبنی مستقبل کی بہتر منصوبہ بندی بھی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ حکومت کو  نوجوانوں کو پہلے سے بہتر اور معیاری تعلیمی مواقع فراہم کرنا ہوںگے اور پہلے سے بہتر صحت عامہ کی سہولیات عوام کی دسترس میں لانی ہوںگی۔
ملک میں موبائل فون اوربالخصوص انٹرنیٹ سروس کا تیزی سے پھیلاؤ بیک وقت ایک بہت بڑا موقع فراہم کرچکا ہے جس کے تعمیری استعمال سے ہم تعلیم اور سماجی شعور کی ترویج کو یقینی بنا کر اپنے موجودہ روائتی تعلیمی نظام کی کمزوریوں کو دور کرسکتے ہیں، لیکن دوسری جانب عمومی طور پر یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ انٹرنیٹ کے تیز رفتار پھیلا ئواور ایک ایسی نسل کے نوجوانوں تک اس کی بلا روک ٹوک رسائی کہ جن کے والدین کی اکثریت رموزِ انٹرنیٹ سے نابلد اور اس پر آسانی سے دستیاب ہر قسم کے مواد اور مواقع سے جڑے ممکنہ نقصانات سے بہت زیادہ آگاہ نہیں تو اس سے یہ خدشہ بھی ہمارے سروں پر منڈلاتا رہتا ہے کہ کہیں ہمارے نوجوانوں کا وقت اور توانائی کسی ایسی سمت میں نہ ضائع ہو جو ان کے اخلاق اور کردار سازی کے لئے مضر ہو۔
پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے جس کی ترقی کی رفتار اس کے نوجوانوں کی درست سمت میں رہنمائی اور پیشرفت سے ہی مشروط ہے۔ دیکھا گیا ہے کہ ہمارے ملک کے نوجوانوں میں شعور اور نظم و ضبط کا معیار بہتر بنانے کی اشد ضرورت ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے تعلیمی نصاب اور تعلیمی اداروں میں اس نوعیت کی تربیت پر بہت زیادہ توجہ نہیں دی جاسکی۔ اس حوالے سے فوری حکومتی اقدامات نہایت ضروری ہیں۔ بنیادی تعلیمی نصاب میں شہریت، ابتدائی طبی امداد اور شہری دفاع جیسے مضامین کو لازمی شامل کیا جانا چاہئے اور جو نوجوان اس تربیت سے محروم ہیں ان کو انٹرنیٹ اور موبائل فون کی مدد سے مناسب آگاہی فراہم کی جاسکتی ہے۔ ایک ایسا ملک جہاںہسپتال اور میڈیکل ایمرجنسی میں ایمبولینس کی سہولیات بہت مؤثر طور پر دستیاب نہیں، وہاں ہر نوجوان کو ابتدائی طبی امداد اور حادثات کی صورت میں ذمہ دار اور کارآمد شہری کے طور پر ہنگامی اقدامات میں تعاون سمیت بنیادی احتیاطی تدابیر کی لازمی آگاہی ضرور فراہم ہونی چاہئے جس کے نتیجے میں ایسی کسی صورتحال میں قیمتی انسانی جانوں کو بچایا جاسکے گا اور اس کے لئے بھی انٹرنیٹ ایک نہایت مؤثر کردار ادا کرسکتا ہے۔
بلاشبہ علامہ اقبال کا یہ شعر ہر دور کے لئے مشعل راہ ہے کہ:
فرد قائم ربطِ ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں
موج ہے دریا میں اور بیرونِ دریا کچھ نہیں
پاکستان کو اپنے مخصوص جغرافیائی محل وقوع کے باعث بین الاقوامی چیلنجز کا سامنا بھی رہتا ہے اور دنیا میں انٹرنیٹ کے پھیلائو کے بعد اب انتہائی متحرک سوشل میڈیا کے دور کا سامنا ہے۔ آج دنیا سمٹ کر ہمارے ہاتھوں میں آچکی ہے، ہمیں نہایت سنجیدگی سے سوچنا ہوگا کہ جدید ٹیکنالوجی کے اس سیلاب میں معلومات کا جو ٹھاٹھیں مارتا ہوا طوفان ہر جانب موجود ہے، اس کے درمیان کیا ہم نے ایسا قابل بھروسہ بندوبست کرلیا ہے کہ ہمارا نوجوان ہماری بنیادی نظریاتی اساس یعنی نظریہ پاکستان کی حفاظت کرنے کے لئے علمی اور عقلی طور پر دنیا کا سامنا کرنے کے لئے مؤثر طور پر تیارر ہے۔۔۔اس موضوع پر بہت کچھ لکھنا اور عملی طور پر کرنا باقی ہے۔ اور اس حوالے سے فوری اقدامات کی ضرورتِ وقت کی پکار ہے۔


مضمون نگار  ذرائع ابلاغ و تعلقات عامہ کے پیشہ ور عامل، محقق اورتجزیہ کار ہونے کے ساتھ نجی نیوز ٹی وی چینل پر حالات حاضرہ پر پروگرام کے اینکر پرسن بھی ہیں۔
 [email protected]


 

یہ تحریر 211مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP