یوم آزادی

نئی مملکت کی تخلیق اور شہریوں کی ذمہ داریاں

جدو جہد آزادی کی اہمیت۔ قربانیاں اور آزادی کے موجودہ تقاضے
آج سے 72سال پہلے جب پاکستان قائم ہوئے پہلا دن تھا۔ سب آزادی کی بے پناہ خوشیوں سے مہک رہے تھے۔ جذبۂ حریت سے سرشار تھے۔ خواب کی تعبیر سے سرخوش تھے۔ ایک نئی مملکت کے حصول پر بے پایاں مسرت سے ہم کنار تھے۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے پہلے دن ہی پاکستان براڈ کاسٹنگ سروس کی افتتاحی تقریب پر قوم کے نام میں ان عناصر، ان خدشات، کی نشاندہی کردی تھی۔ جن کا گزشتہ 72سال میں ہم قدم قدم ،لمحہ لمحہ سامنا کرتے آرہے ہیں۔ قائد اعظم کی ہدایت پر اگر ہم عملدرآمد کرتے تو آج ہمارے خواب ریزہ ریزہ نہ ہوتے۔ ہم حسرتوں پر آنسو نہ بہارہے ہوتے۔ ہماری راہوں میں قیامتیں نہ گزری ہوتیں۔ ہم میں سے بہت سے تاریک راہوں میں نہ مارے گئے ہوتے۔
میں 15اگست1947کے اس مختصر سے پیغام کو بار بار پڑھتا آیا ہوں۔ اور اپنے عظیم قائد کی بصیرت پر عش عش کرتا رہا ہوں اور ساتھ ساتھ ان کے بعد آنے والے قائدین کی بے بصیرتی پر ماتم کرتا رہا ہوں۔ چاہئے تو یہ تھا کہ اپنے قائد، اپنے محسن اور اپنے رہبر کے پیغامات کی ایک ایک سطر کو ہی رہنما خطوط میں ڈھالا ہوتا۔ اسے ہی اپنا میثاق بنایا ہوتا۔ اسی کی روشنی میں آئین تشکیل دیا ہوتا۔ جن خدشات کا اظہار کیا گیاتھا ان کو دور کرنے کے لئے لائحہ عمل اور آج کی اصطلاح میں 'روڈمیپ' بنایا ہوتا تو آج کا پاکستان کتنا مختلف ہوتا!!!



پورا پیغام ہی پڑھنے کے لائق ہے۔ تصور کیجئے کہ یہ پاک سر زمین کی تاریخ کی دوسری صبح ہے۔ ایک نئے اور طویل سفر کا آغاز ہے۔ ایک راہبر کی ذمہ داری ہی یہ ہے کہ وہ بتائے کہ راہ پر خار ہے یا پر سکون۔ ہم جن عناصر پر مشتمل ہیں ان سے کیا کیا امکانات ہوسکتے ہیں ۔سفر ان کی وجہ سے دُشوار ہوسکتا ہے یا آسان۔ 
ذرا غور کیجئے۔ وہ فرمارہے ہیں:
'' اس عظیم لمحے میں مجھے وہ بہادر یاد آتے ہیں جنہوں نے ہمارے مقاصد کی خاطر داد شجاعت دی۔ پاکستان ان کا ممنون رہے گا اور جو اب موجود نہیں ان کی یاد عزیز جانے گا۔''
یہ تو ان لاکھوں بزرگو ں، مائوں، بہنوں، بیٹیوں اور مسلح افواج کے نوجوانوں کو خراج عقیدت ہے جو اپنے گھر بار چھوڑ کر غلامی سے آزادی کی طرف سفر کرتے ہوئے اپنی جان سے گزر گئے۔ اور وہ جنہوں نے اپنے ہم وطنوں اور ہجرت کرنے والوں کی حفاظت کرتے ہوئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔
اب آتے ہیں اگلی سطور کی طرف۔ بہت ہی اہم اور حساس۔
فرماتے ہیں:'' نئی مملکت کی تخلیق کی وجہ سے پاکستان کے شہریوں پر زبردست ذمہ داری آن پڑی ہے۔ انہیں یہ موقع ملا ہے کہ وہ دنیا کو یہ دکھا سکیں کہ ایک قوم جو بہت سے عناصر پر مشتمل ہے۔ کس طرح امن و آشتی کے ساتھ رہ سکتی ہے۔ اور ذات پات اور عقیدے کی تمیز کے بغیر سارے شہریوں کی بہتری کے کام کرسکتی ہے۔''
ایک ایک لفظ سونے میں تولے جانے کے لائق ہے۔ نئی مملکت کے حصول پر صرف مسرت کا اظہار نہیں ہے۔ صرف جشن منانے کی کیفیت نہیں ہے۔ بلکہ یہ احساس دلایا جارہا ہے کہ نئی مملکت کے قیام کی وجہ سے اس مملکت کے شہریوں پر کتنی زبردست ذمہ داریاں آن پڑی ہیں۔ آنے والے دنوں میں انہیں کتنا محتاط ، فعال اور مستعد رہنا ہوگا۔ وہ پہلے دن ہی یہ احساس دلارہے ہیں کہ یہ قوم بہت سے عناصر پر مشتمل ہے۔ ان کے ذہن میں پاکستان میں شامل ہونے والے سارے علاقوں میں آباد مختلف عناصر کا تاریخی پس منظر ہے۔ انہیں یہ احساس ہے کہ ہر عنصر کا ایک طویل ماضی ہے۔ اپنی اپنی روایات ہیں۔ اپنے اپنے مسائل ہیں۔ ان سب کو امن و آشتی کے ساتھ رہنا ہے۔یقینا یہ ایک بہت ہی مشکل مرحلہ ہوتا ہے کہ وہ عناصر جو پہلے ایک دوسرے سے الگ اپنے اپنے نظم و نسق میں رہتے تھے، اب ایک نظم میں آکر رہیں گے اور امن و آشتی کا مظاہرہ کریں گے۔ یہ بھی ایک دُشوار عمل تھا۔ لیکن قائد اعظم اس طرف احساس دلاتے ہوئے آئندہ کا طرز عمل بتارہے ہیں، امید ظاہر کررہے ہیں، اس کے بعد تو یہ ان علاقوں کے منتظمین اور قائدین کا منصب تھا کہ وہ ان عناصر کے درمیان ہم آہنگی پیدا کریں۔ ایسا سسٹم تشکیل دیں کہ سب اجنبی اور مختلف الخیال ایک دوسرے کے ساتھ پُر امن اور پُرسکون زندگی گزار سکیں۔پھر اس سے آگے دیکھیں کہ انہیں پاکستان میں شامل ہونے والے عناصر میں مختلف ذات پات، مختلف عقائد مختلف مسالک کا بھی ادراک تھاکہ بر صغیر میں ذات پات کے اختلافات کے حوالے سے جو تلخ روایات اور تجربات ہیں ان کے تسلسل سے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔ اس لئے یہ پیغام بھی دیا جارہا ہے کہ ذات پات کی تمیز کے بغیر سارے شہریوں کی بہتری کے لئے کام کیا جائے گا۔
اس عظیم قائد کے ذہن میں یہ بھی واضح تھا کہ مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے عناصر میں شہری ہم آہنگی ضروری ہے۔ بر صغیر میں مختلف مذاہب کے درمیان تصادم کی روایات بھی بہت قدیم رہی ہیں۔ ایک نئی مملکت میں سارے شہری برابر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ چاہے ان کا کوئی مذہب ہو کوئی ذات ہو کوئی زبان بھی بولتے ہوں۔ آج کی پُر سکون، پُر امن، منظّم، با شعور مملکت کی یہی شناخت ہے۔
اس پیغام میں قائد اعظم نے یہ بھی کہا کہ امن اندرون ملک اور امن بیرون ملک ہمارا مقصد ہونا چاہئے۔ ہم پُر امن رہنا چاہتے ہیں اور اپنے نزدیکی ہمسایوں اور ساری دنیا سے مخلصانہ اور دوستانہ تعلقات رکھنا چاہتے ہیں۔ ہم کسی کے خلاف جارحانہ عزائم نہیں رکھتے۔ ہم اقوام متحدہ کے منشور کے حامی ہیںاور امن عالم اور اس کی خوشحالی کے لئے اپنا پورا کردار ادا کریں گے۔''
میں قائد اعظم کے حضور یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ امن عالم کے قیام کے لئے پاکستان کی مسلح افواج کی کوششیں پوری دنیا میں سراہی جارہی ہیں۔ ہماری فوج نے اور پولیس کے دستوں نے دنیا کے مختلف حصّوں میں خانہ جنگی کے دوران اقوام متحدہ کی امن فوج کا حصہ بن کر ایسی لازوال خدمات انجام دی ہیں کہ اقوام متحدہ کے سربراہوں اور کئی مملکتوں کے قائدین نے ان کو لائق تحسین قرار دیا ہے۔ قائد اعظم نے اسی پیغام میں جہاں ان خدشات اور تضادات کی طرف قوم کی توجہ دلائی وہیں انہوں نے پاکستان کے وسائل کی اہمیت کا بھی احساس دلایا۔
ان کے الفاظ ملاحظہ فرمائیں:
'' اے میرے ہم وطنو! آخر میں ، میں آپ سے کہنا چاہتا ہوں کہ پاکستان بیش بہا وسائل کی سر زمین ہے۔ لیکن اس کو ایک مسلم قوم کی شایان شان ملک بنانے کے لئے ہمیں اپنی تمام تر توانائیوں کو بروئے کار لانے کی ضرورت ہوگی۔ مجھے پورا اعتماد ہے کہ یہ سب کی طرف سے اور فراوانی کے ساتھ ملیں گی۔''
آپ اور میں ہم سب اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ کیا ہم نے پاکستان کو بخشے گئے قدرتی وسائل کو پوری طرح دریافت کیا۔ استعمال کیا۔ اور کیا ہم نے اپنی تمام توانائیوں کو ملک کی ترقی اور قوم کی بہتری کے لئے فراوانی کے ساتھ استعمال کیا۔
اے قائد اعظم ہم شرمندہ ہیں کہ ہم آپ کے پیغام کو نہ پوری طرح سمجھ سکے اور نہ ہی ان پر پوری طرح عمل کرسکے۔ اس لئے آج آپ کا پاکستان ہمارے پاس نہیں ہے۔ ہمارا اکثریتی بازو ہم سے الگ ہوچکا ہے۔ اور اب جن علاقوں پر پاکستان مشتمل ہے یہاں وہ عناصر امن و آشتی سے نہیں رہتے ہیں ۔ ان میں تنظیم ہے نہ اتحاد اور نہ یقین محکم۔
ہماری بد قسمتی ہے کہ آپ جیسی بصیرت ۔ ادراک اور تدبر رکھنے والے قائد کے واضح پیغامات، ظاہر کئے گئے امکانات، احساس دلائے گئے خدشات و خطرات کے باوجود ہم بھٹکتے رہے۔
72سال ہوگئے  پاکستان میں ۔ پاکستان کے لئے سفر کرتے ہوئے۔
کچھ نسلیں چلی گئیں ۔ کچھ نسلیں آبلہ پا ہیں۔ کچھ بہت خوشحال ہیں۔ 
مگر سب کو یہ احساس ہے کہ یہ قائد اعظم کا پاکستان نہیں ہے۔ سات دہائیوں کے بعد بھی یہ ملک اس مقام پر نہیں ہے جہاں اس کو ہونا چاہئے تھا۔ ہمارے ساتھ آزاد ہونے والے۔ ہمارے بعد آزاد ہونے والے بہت سے ممالک کہاں سے کہاں پہنچ گئے ہیں۔ یہ قابل قدر امر ہے کہ کارواں کے دل میں احساس زیاں ہے۔ ہم میں سے اکثر دل سے یہ محسوس کرتے ہیں کہ ہم بہت سے شعبوں میںبہت پیچھے رہ گئے ہیں۔ ہم صراطِ مستقیم کو اکثر ترک کرتے رہے ہیں۔ اس لئے منزل دور ہوتی رہی ہے۔
ہمارے بزرگوں نے جن مشکل حالات میں الگ وطن کے قیام کے لئے جدو جہد کی اور ہمارے آباء و اجداد نے جس جوش اور جذبے سے جیلوں میں صعوبتیں برداشت کیں۔ پھر لاکھوں مائوں، بہنوں اور بڑوں نے جانوں کی قربانیاں دیں، ان کے نتیجے میں آج کی نسل کو جو مستحکم اور خوشگوار معاشرہ میسر آنا چاہئے تھا وہ دور دور تک نظر نہیں آتا۔
یہ مقام شکر ہے کہ ہمارے نوجوان ان سب نا مساعد حالات کے باجود مایوس نہیں ہیں۔ وہ پُر عزم ہیں اور وہ اچھی طرح جانتے اور سمجھتے ہیں کہ ایک آزاد اور خود مختار مملکت کی حدود و قیود کیا ہونی چاہئیں۔ اس کے شہریوں کی کیا ذمہ داریاں ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی نے ہمارے نوجوانوں کو بہت زیادہ متحرک اور فعال بھی کردیا ہے۔ معلومات اور اطلاعات کے ذخیرے ان کے ہاتھوں میں ہیں۔ ان کے ذہنوں میں ترقی یافتہ اقوام کی خصوصیات اور اقدامات ہیں۔ ان میں سے اکثر کی خواہش یہ ہے کہ وہ لاس اینجلس، شکاگو، نیویارک، ٹورنٹو، مانٹریال جانے کے بجائے اپنے شہروں کو ہی یہ حسن، ترتیب اور سہولتیں بہم پہنچائیں۔ اپنے شہریوں کو زندگی کی آسانیاں فراہم کریں۔ نئی نسل کے یہ جذبات ہی ہمارے ساری مایوسیاں دور کردیتے ہیں۔ نئی نسل بخوبی جانتی ہے کہ یہ مملکت ہم نے کن مقاصد کے لئے حاصل کی اور کتنی قربانیاں اس کے لئے دی گئیں۔ وہ قائد اعظم کے پیغامات ، تصوّرات کو گزشتہ نسلوں کی نسبت بہتر سمجھ سکتی ہے۔ انہیں یہ ادراک ہے کہ انگریز استعمار کے خلاف آزادی میںبرصغیر کے مسلمانوں نے ہی پہل کی تھی۔ 1857کی جنگ آزادی میں سب سے زیادہ متحرک مسلمان جرنیل ہی تھے۔ اسی طویل جدو جہد کے دوران عام مسلمانوں نے بھی اور ان کے لیڈروں نے بھی یہ محسوس کیا کہ ہندو لیڈر شپ کے جو عزائم ہیں اور وہ ہندوستان پر راج کے جو خواب دیکھ رہے ہیں ان میں مسلمانوں کی حیثیت ثانوی نظر آتی ہے۔ برابری کی نہیں۔ اور صاف صاف یہ دکھائی دے رہا ہے کہ مسلمان انگریز غلامی سے نکل کر ہندو اکثریت کی غلامی میں چلے جائیںگے۔
قائد اعظم محمد علی جناح نے سب سے پہلے اس خدشے کو بھانپا اور ان کی راتیں اس سوچ میں گزرنے لگیں کہ ہندوستان کے مسلمانوں کے لئے ایک الگ مملکت ہی مسئلے کا حل ہوگا۔ جہاں وہ اپنی مرضی سے اپنا نظام حکمرانی چلاسکیں۔ اپنے مذہبی شعائر و فرائض کی انجام دہی آزادی سے کرسکیں۔ علامہ محمد اقبال نے بھی ہندو مسلم کشمکش کا اندازہ کرکے اپنے خطبات میں مسلمانان ہند کے لئے الگ خود مختار ریاستوں کا تصور پیش کیا۔
آج بھارت میں مسلمان جس اقتصادی بد حالی، انتظامی جبر اور سیاسی بے چارگی کا شکار ہیں وہ واضح طور پر قائد اعظم کے فیصلوں اور علامہ اقبال کی فکر کی تصدیق کررہے ہیں ۔ ویسے تو 1947سے ہی بھارت میں مسلمانوں پر عرصۂ حیات تنگ ہورہا تھا۔ لیکن اب جب سے نریندرا مودی بر سر اقتدار آئے ہیں ان کی حکومت نے اقلیتوں اور بالخصوص مسلمانوں کے ساتھ جو ظالمانہ پالیسیاں روا رکھی ہیں کبھی گائے کے ذبیحہ پر انتہا پسند ہندوئوں کے بے قابو ہجوم اکیلے اور نہتے مسلمانوں کو بے رحمانہ تشدد سے موت کے گھاٹ اتار رہے ہیں۔ کبھی اِس بہانے کبھی اُس بہانے،ہندوستان کے کسی نہ کسی حصّے میں کسی نہ کسی مسلمان کا خون بہایا جاتا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں تو ایک منظّم پالیسی کے تحت مسلمانوں پر جان لیوا مظالم کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ آفریں ہے کشمیر کے غیور نوجوانوں پر جو اس ظلم و جبر کے خلاف دلیرانہ جدو جہد کررہے ہیں۔ 72سال ہوگئے، ان کے سر نہیں جھکے ہیں۔ انڈیا کشمیر میں 7 لاکھ فوجی تعینات کرنے کے باوجود کشمیریوں پر فتح حاصل نہیں کرسکا۔
بھارت نے آج تک پاکستان کے وجود کو تسلیم نہیں کیا ہے یقینا پاکستان کا قیام انتہا پسند ہندوئوں کے لئے سماجی اور سیاسی شکست فاش تھی۔ وہ اس صدمے کو آج تک نہیں بھولے ہیں۔ کتابیں لکھی گئی ہیں، سکولوں ، کالجوں، یونیورسٹیوں میں یہی پڑھایا جاتا ہے کہ بھارت ماتا کے جسم کا ایک حصّہ کاٹ کر پاکستان معرض وجود میں لایا گیا۔
بھارت میں اس انتہا پسند سوچ کے مقابلے میںاگرچہ حقیقت پسند فکر پائی جاتی ہے مگر بہت کم۔ اپنی آزادی کی حفاظت کے لئے اور اپنی خود مختاری کے تحفظ کے لئے پاکستان 1947سے مسلسل قربانیاں دیتا آرہا ہے۔ پاکستان کی مسلح افواج نے پہلے دن سے ہی بھارت کی ہر سازش اور ہر وار کو ناکام بنایا ہے۔ 1948میں کشمیر کے غیر قانونی الحاق کے بعد جو یلغارہوئی ۔ پھر 1965میں بین الاقوامی سرحد پار کرکے پاکستان کی آزادی کو سلب کرنے کی جو بزدلانہ کوشش کی گئی ۔ پاکستان کے مقابلے میں بھارت کی عددی طاقت کہیں زیادہ تھی۔ لیکن مسلح افواج نے پاکستانی عوام کی پُر جوش مدد سے اس بہت بڑی یلغار کو روک دیا۔عالمی رائے عامہ نے بھارت کو جارح قرار دیا۔ لیکن بھارت نے اپنی سازشیں جاری رکھیں۔1971میں مشرقی پاکستان میں مکتی باہنی کو جنم دیا۔ علیحدگی پسندوں کی سیاسی، مالی اور عسکری مدد کرکے پاکستان کے اکثریتی حصّے کو الگ ہونے پر مجبور کردیا۔
آج کی نسل کو یہ سارے حادثات، قربانیاں اور جدو جہد کا یقینا احساس ہے۔ پاکستان اس وقت مشکلات میں گھرا ہوا ہے۔ اس کی سرحدوں پر خطرات منڈلارہے ہیں۔ یہ امر باعث تسکین ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج نے اپنی صفوں کو منظّم کیا ہوا ہے۔پیشہ ورانہ تربیت کا سلسلہ کبھی رکا نہیں ہے۔ پھر اللہ کے فضل سے ہم ایٹمی طاقت بننے میں کامیاب ہوچکے ہیں۔ باہر سے ناقابل تسخیر اورایٹمی طاقت ہونے کے بعد اب ضرورت یہ ہے کہ ہم اندر سے بھی اسی طرح طاقت ور ہوں اور ناقابل تسخیر ہوں۔ اس ضمن میں ہم سے کوتاہیاں سر زد ہوئی ہیں۔ ہمیں اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنا چاہئے۔ خامیوں کی نشاندہی کرکے آگے بڑھنا چاہئے۔ ہمارے بزرگوں نے جو قربانیاں دیں۔ سرحدوںکی حفاظت کے لئے ہمارے نوجوانوں نے اپنی جانوں کے نذرانے دیئے۔ ان شہیدوں کی روحیں ہم سے تقاضا کرتی ہیں کہ ہم پاکستان کو معاشی طور پر، تہذیبی اعتبار سے، ٹیکنالوجی کے حوالے سے زندگی کی آسانیوں کی فراہمی کے ضمن میں ایک فعال، مضبوط اور مستحکم مملکت بنائیں۔
اللہ تعالیٰ نے ہمیں انتہائی عظیم سر زمین عطا کی ہے۔ جس کی جغرافیائی حیثیت بہت ہی حساس اہمیت کی حامل ہے۔ دنیا کے ایک ایسے موڑ پر ہم موجود ہیں جہاں مشرق بعید کو یورپ اور مشرق وسطیٰ تک جانے کے لئے ہماری فضائوں اور سر زمین سے گزرنا پڑتا ہے۔
دوسری طرف یورپ اور مشرق وسطیٰ کو چین جاپان اور مشرق بعید جانا ہو تو ہمارا دروازہ کھٹکھٹانا پڑتا ہے۔ اور اب تو خدائے بزرگ و برتر نے مزید مہربانی کی جس  میں ہمیں چین کی مدد حاصل ہوئی۔ ہمارے پاس گوادر کی گہرے پانیوں والی بندرگاہ فعال ہوچکی ہے جہاں سے وسطی ایشیا کی ریاستوں کی نئی بھرپور مارکیٹ تک رسائی ہوسکتی ہے۔
ان تمام امکانات اور حقائق سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جدید دنیا کی ایجادات۔  پالیسیوں اور طریقوں کو اپناتے ہوئے ہم پاکستان کو قائد اعظم کا پاکستان بناسکتے ہیں۔
قائد عظم نے 72سال پہلے ہم سے جو امید وابستہ کی تھی ان کے الفاظ سنئے۔30اکتوبر 1947کو یونیورسٹی سٹیڈیم لاہور میں وہ ہم سے کہہ رہے تھے:
''لمحہ بھر کے لئے بھی اس خیال کو اپنے دل میں نہ لائیے کہ آپ کے دشمن اپنے مذموم ارادوں میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ جس صورتحال سے ہم دوچار ہیں اسے بھی معمولی خیال نہ کیجئے۔ اپنے دلوں میں جھانکئے دیکھئے کہ کیا آپ نے اس نئی اور عظیم مملکت کی تعمیر میں اپنا حق ادا کردیا ہے۔''
72سال پہلے کے یہ الفاظ آج بھی اسی طرح با معنی ہیں۔ قائد اعظم آج بھی دریافت کررہے ہیں۔ ہمارا ضمیر بھی یہ پوچھ رہا ہے ۔ وہ لاکھوں شہید جنہوں نے پاکستان آتے ہوئے اپنی جان کا نذرانہ دیا۔ وہ شہید جنہوں نے سرحدوں کی حفاظت کرتے ہوئے اپنی قیمتی جانیں قربان کردیں۔ وہ شہید جنہوں نے قائد اعظم کا پاکستان بنانے کے لئے ان کی پسندیدہ طرز حکومت جمہوریت کے حصول کے لئے جانیں نثار کردیں۔ وہ سب یہ سوال کررہے ہیں کہ کیا آپ نے اس نئی اور عظیم مملکت کی تعمیر میں اپنا حق ادا کردیا۔
آخر میں پھر قائد اعظم کے اسی خطاب سے چند سطور :
'' کام کی زیادتی سے نہ گھبرائیے۔ نئی اقوام کی تاریخ میں کئی ایک مثالیں ہیں جنہوں نے محض عزم اور کردار کی قوت کے بل پر اپنی تعمیر کی۔ آپ کی تخلیق ایک جوہر آبدار سے ہوئی ہے۔ اور آپ کسی سے کم بھی نہیں۔ اوروں کی طرح اور اپنے آباء و اجداد کی طرح آپ بھی کیوں کامیاب نہیں ہوں گے۔ آپ کو صرف اپنے اندرمجاہدانہ جذبے کو پروان چڑھانا ہوگا۔ آپ ایسی قوم ہیں جس کی تاریخ قابل، صلاحیت کے حامل باکردار اور بلند حوصلہ اشخاص سے بھری ہوئی ہے۔ اپنی روایات پر قائم رہئے۔ اور اس میں عظمت کے ایک اور باب کا اضافہ کردیجئے۔''


مضمون نگارنامورصحافی' تجزیہ نگار' شاعر' ادیب اور متعدد کتب کے مصنف ہیں۔
[email protected]
 

یہ تحریر 60مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP