ہمارے غازی وشہداء

میں نے سیکھا ہی نہیں رَن میں کبھی پسپا ہونا

نائیک محمد نعیم (تمغۂ بسالت) شہید کے حوالے سے محبوب حیدر سحاب کی تحریر

میدانِ جنگ اور حربی مشقوں کے دوران پاک فوج کے افسروں اورسپاہیوں کو اپنی خوبیاں ، صلاحیتیں اور شجاعت منوانے کے لئے یکساں مواقع فراہم کئے جاتے ہیں اور اس حقیقت کی گواہی وہ عسکری اعزازات ہیں جو سال میں دو مرتبہ 23 مارچ، یومِ پاکستان اور 14 اگست یومِ آزادی کے تہواروں پر بلاتفریق افسروں اور جوانوں میں اُن کی خدمات کے اعتراف میں تقسیم کئے جاتے ہیں اس مضمون میں تذکرہ کیا جارہا ہے نائیک محمدنعیم شہید کا، جنہیں بے مثال شجاعت کا مظاہرہ کرنے پر 23 مارچ یومِ پاکستان کے پُر مسرت موقع پر 2018 میں تمغہ ٔبسالت سے نوازا گیا۔
محمد نعیم سرزمینِ پاک کے وہ جانباز سپاہی ہیں جنہیں اُن کے ماں باپ اور تمام عزیز و اقارب چوتھی جماعت ہی سے نائیک کے خطاب  سے پُکارا کرتے تھے اور وہ یہ لفظ 'نائیک' سُن کر سینہ کشادہ کئے اپنے سر کو فخر سے بلند کرکے مارچ کرتے ہوئے ایسے قدم اٹھاتے جیسے کوئی جنرل بہادری کا بڑا اعزاز حاصل کرنے کے لئے جنابِ صدر کی جانب بڑھ رہا ہو۔ ۔
پاک سرزمین کو اپنے لہو کے تابناک قطروں سے،مشکبار بنانے والے شہید نوجوان محمدنعیم 6ستمبر1991 کو گوجر خان کے ایک گائوں ٹھاکرہ موڑ، میں پیدا ہوئے۔ محمد نعیم اپنے بڑے بھائی محمدوسیم سے عمر میں دو سال چھوٹے تھے جو اس وقت بھی سپاہی کی حیثیت سے پنجاب رجمنٹ میں خدمات انجام دے رہا ہے۔ محمد نعیم کو یہ شرف بھی حاصل ہے کہ آپ کے والدِ محترم امیر حسین آرمی سروس کور سے1992 میں  لانس نائیک کے طور پر ریٹائرڈ ہوئے،وہ انتہائی مطمئن اور اﷲ تعالیٰ کے شکر گزارتھے کہ اب وہ اپنے بیٹوں کو بھی پال پوس کر پاک آرمی میں بھرتی کرائیں گے اور شہادت کا وہ مقام جس سے وہ محروم رہے ان کے دونوں بیٹوں کو مل جائے گا۔ ''ٹھاکرہ موڑ'' گائوں کی آبادی تقریباً ایک ہزار نفوس پر مشتمل ہے جس میں سے اڑھائی سو افراد کا تعلق محمدنعیم کے آرائیں خاندان سے ہے۔ شہید نے پہلی جماعت سے لے کر آٹھویں جماعت تک کی تعلیم (2005-1997) گورنمنٹ ہائی سکول موہڑہ نوری سے حاصل کی، جو آپ گھر سے تقریباً ڈیڑھ کلو میٹر کے فاصلے پر تھا دونوں بھائی ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر گائوں کے خوبصورت مناظر دیکھتے ہوئے خوشی خوشی صبح سویرے سکول پہنچ جاتے۔ محمد نعیم ذرا کچھ بڑے ہوئے تو پھر سکول آنے جانے کے ساتھ ساتھ شام کے وقت گائوں کے دیگر بچوں کے ہمراہ والی بال بھی کھیلنا شروع کردیا۔ آپ نے میٹرک گورنمنٹ ہائی سکول کالس، تحصیل و ضلع چکوال سے کی، جو آپ کے گھر سے تین کلو میٹر کے فاصلے پر تھا۔ ماں باپ نے اپنے لاڈلے بچوں کی ناز برداریاں کرتے ہوئے ایک سائیکل کا انتظام کردیا تاکہ دونوں بچوں کو سکول آنے جانے میں آسانی ہوجائے۔ کبھی محمدوسیم سائیکل چلاتا تو کبھی محمد نعیم سائیکل چلانے کا لطف حاصل کرتے اور دوسرا بھائی کیریئر پر بیٹھ کر سفر کرتا میٹر ک کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد2008 میں دونوں بھائیوں نے پاک آرمی میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا تاکہ ماں باپ کی دلی تمنا  پوری ہوسکے اور دونوں کی دلی مراد بھی برآسکے۔
محمد نعیم کے ماموں محمدافسراپنی بہن خدیجہ بیگم سے بہت پیار کرتے  اور آپس میں ایک دوسرے کا بہت خیال رکھتے۔ اُن کے بیٹے سپاہی اﷲ دِتہ نے بتایا کہ آرمی میں بھرتی کا عمل شروع ہوگیا ہے۔ لہٰذا دونوں بھائیوں نے آرمی ریکروٹمنٹ آفس راولپنڈی میں جاکر بھرتی کے لئے رجسٹریشن کروا دی۔ رجسٹریشن کے بعد تحریری امتحان ہوا۔ دوڑ کے مقابلے ہوئے، میڈیکل ٹیسٹ لیاگیا۔ جب یہ تمام سرگرمیاں مکمل ہو چکیں تو تقریباً تین ماہ بعد ماں باپ کی دعائوں سے دونوں بھائیوں کی محنت رنگ لائی اور کال لیٹرز موصول ہوگئے۔ گھروالے اِس کامیابی پر بہت خوش تھے۔ عزیز و اقرباء بھی گھر والوں کو مبارک باد دے رہے تھے۔
محمدنعیم نے ٹریننگ کے لئے 18 اگست 2008کو سندھ رجمنٹل سنٹر   حیدر آباد رپورٹ کردی اور بڑے بھائی محمد وسیم نے ایک دن بعد19 اگست 2008  کوپنجاب رجمنٹ مردان میں رپورٹ کردی ۔شروع ہی سے والدین کو ایسے محسوس ہورہا تھا کہ چھوٹا بیٹا محمد نعیم اپنے بڑے بھائی سے ہر موقع پر سبقت حاصل کرتے ہوئے  ایک قدم آگے جارہاہے مجموعی طور پر پورا خاندان  پاک فوج سے وابستگی پر بہت خوش تھا۔ ٹریننگ چھ ماہ تک جاری رہی جس میں آپ کو بتایا گیاکہ کس طرح جی تھری رائفل کے مختلف حصے الگ کئے جاتے ہیں، پھر دوبارہ جوڑ کر رائفل کیسے مکمل کی جاتی ہے  اور پھراُسے دوبارہ فائرنگ کے قابل کیسے بنایا جاتا ہے۔ تجربہ کار اساتذہ میں میجر، کیپٹن ،صوبیدار ، نائب صوبیدار اور حوالدار وغیرہ شامل تھے۔پاک فوج میں طے شدہ نصاب کے مطابق اسباق پڑھائے جاتے ہیں۔ زیرِ تربیت جوان بھی بڑی محنت، لگن سے کلاسز اٹینڈ کرتے اور فوج سے متعلق نئی نئی چیزیں سیکھتے۔اب نعیم جان چکے تھے کہ نقشہ کیسے پڑھاجاتا ہے۔کمپاس (Compass)کس طرح استعمال کیاجاتا ہے اورکس طرح سے علاقے میں موجود دشمن کی فوجوں کی نشاندہی کی جاتی ہے۔ ساتھ ساتھ اب اُنہیں علم تھاکہ دن یا رات میں اور خراب موسم میں کس طرح نیوی گیشن کی جاتی ہے۔ شام کے وقت تمام زیرِ تربیت جوانوں کو اپنی اپنی پسند کے کھیل مثلاً والی بال، فٹ بال یا باکسنگ وغیرہ کھیلنے کا موقع ملتا ہے۔ اس طرح سخت محنت مشقت ،جو راحت کا احساس بھی لئے ہوئے ہوتی، کے بعد سب جوان مستقبل کے بارے میں سہانے سہانے خواب دیکھتے ۔ ایسے لگ رہا تھا جیسے وقت کو پَر لگ گئے اور وہ بڑی تیزی سے خوبصورت باغوں اور جزیروں کے اوپر سے اُڑتا ہوا گزررہا ہو۔ خدا کے فضل و کرم سے محمدنعیم کی ٹریننگ  اپریل 2009 میں مکمل ہوگئی اور اُنہیں 11 سندھ رجمنٹ کے ساتھ وانا بھیج دیاگیا۔ اُس زمانے میں وانا میں امن وامان کے حالات انتہائی مخدوش تھے۔ قدم قدم پر سفاک دہشت گرد وں سے پاک فوج کا سامنا تھا اور دہشت گردی کا ناسور آہستہ آہستہ پورے ملک میں پھیلتا جارہا تھا۔ فوج کے پاس سوائے اس کے کوئی آپشن نہ بچا تھا کہ فوی طور پر آپریشن کے ذریعے اس کی روک تھام کی جائے۔ لہٰذا آرمی میں ٹاپ لیول پر بڑی باریک بینی اور خفیہ انداز میں اس آپریشن کی منصوبہ بندی کرکے عمل شروع کردیاگیا۔ ان تمام سرگرمیوں میں پوری فوج اس قدر مصروف ہوگئی کہ نعیم کئی ماہ تک گھر والوں سے رابطہ نہ کرسکے جس کی وجہ سے سب اہلِ خانہ سخت پریشان تھے۔ ہروقت مختلف ٹی وی چینلز، ملک کے مختلف حصوں میں دہشت گردوں کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں کی خبریں دے رہے تھے جس سے وطن کی اکثریت تشویش میں مبتلا تھی۔ محمد نعیم کے والدین بھی  جا ئے  نماز بچھائے اﷲ تعالیٰ سے نعیم کی خیر و عافیت کی دعامانگتے رہتے مگر گزشتہ کئی ماہ سے کسی بھی قسم کا رابطہ نہ ہونے کی وجہ سے سخت پریشان تھے۔ ماں باپ ایک دوسرے سے آنسوئوں کی زبان میں بات کرتے اور جب ضبط کا بندھن ٹوٹنے لگتا تو خود ہی ایک دوسرے کو تسلیاں دے کر پھرخاموش ہو جاتے لہٰذا جب کافی عرصے بعد سپاہی محمدنعیم کا بڑا بھائی محمد وسیم ڈیرہ بگٹی بلوچستان سے چھٹی لے کر گھر آیا تووالدہ صاحبہ اس سے گلے مل کر بے ساختہ رونے لگیں اور کہا کہ تقریباً کئی ماہ کا تکلیف دِہ عرصہ گزرچکا ہے مگر بیٹے نعیم کی کوئی خبر نہیں آرہی لہٰذا تم فوری طور پرمعلوم کرو کہ وہ کہاں ہے اور کِن حالات میں ہے۔ لہٰذا وسیم اپنے چھوٹے بھائی کا پتہ کرنے کے لئے سیالکوٹ روانہ ہوگیا جو اس وقت11 سندھ رجمنٹ کا ریئر ہیڈکوارٹر تھا۔ وہاں سرکاری نمبر سے کمپنی کمانڈر سے رابطہ کیاجو ایک میجر صاحب تھے۔ انہوں نے بتایا کہ محمدنعیم اس وقت بڑے اہم مشن میں مصروف ہیں اور خیریت سے ہیں میری طرف سے والدین کو سلام پہنچانا اور کہنا کہ پریشان نہ ہوں اُن کی اور ملک کی خیریت کی دعا کریں وہ بہت جلد چھٹی لے کر آپ سے ملنے کے لئے آئیں گے اور پھر ایسا ہی ہوا۔ پانچ چھ دن بعد محمد نعیم چھٹی لے کر گھرآگئے۔ اِن کو 20 دن کی چھٹی ملی تھی والدہ نے محمدنعیم کو دیکھتے ہی بے قراری سے بوسے لینے شروع کردیئے۔ صدقہ اُتارا اور رب کا شکر ادا کیا۔نعیم نے ماں کی محبتوں میں بھی دھرتی ماں کو یاد رکھا اور بڑے اعتماد سے کہا'' والدۂگرامی مادرِ وطن پر بے شمار بیٹے اپنی جانیں قربان کررہے ہیں آپ میرے لئے اور وطن کے لئے دعا کریں ان شاء اﷲ ملک کے حالات ٹھیک ہو جائیں گے۔'' ماں باپ کو اپنے بیٹے کے منہ سے حب الوطنی کے جملے سن کرنہایت خوشی اور اطمینان ہوا۔
محمدنعیم کو کسی کے منہ سے بھی پاک فوج کے خلاف ایک لفظ سُننا گوارا نہ تھا۔ چھٹی کاٹ کر جب وہ واپس یونٹ پہنچے تو اُنہیں اُس قافلے کا حصہ بنادیاگیاجس میں تقریباً70 افراد شامل تھے اور اُنہیں چار گاڑیوں میں سڑک کے ذریعے ڈیرہ اسماعیل خان سے وانا جانا تھا۔ کسی غدارِ وطن نے مخبری کردی۔ دہشت گرد گھات لگا کر بیٹھ گئے پہلے ایک بارودی سرنگ پھٹی اور پھر چھپے ہوئے دہشت گردوں نے فوجی قافلے کو چاروں طرف سے گھیر کر گولیوں کی اتنی شدید بوچھاڑ کی کہ ہر طرف جوانوں کی لاشیں گر رہی تھیں مگر ایسے خراب حالات میں بھی محمدنعیم نے نہ صرف اپنے ساتھیوں کی جانیں بچائیں بلکہ اُس کے ساتھ ساتھ وہ دشمنوں پر بھی حملہ آور ہوتے رہے۔ اس حملے میں 16 جوانوں نے جامِ شہادت نوش کیا اور 25 کے قریب شدید زخمی ہوئے۔
ابھی تک محمد نعیم بحیثیت انفنٹری سولجر کے خدمات دے رہے تھے۔ 2011 کے درمیان11 سندھ رجمنٹ وانا سے واپس سیالکوٹ آئی اور 2012 کے شروع میں کوئٹہ کے لئے روانہ ہوگئی۔ یونٹ سڑک کے ذریعے کوئٹہ کینٹ پہنچی۔ یہاں رجمنٹ کی ذمہ داریوں میں یہ شامل تھا کہ وہ گیس لائنز، ریلوے لائنز اور سڑکوں کی تنصیبات کی حفاظت کرے ۔ یہاں سپاہی محمدنعیم کو بی سی سی یعنی بیسک کمبٹ کورس مکمل کرنے کا موقع  ملا۔ اب تک آپ رائفل جی تھری، ایس ایم جی اور ایل ایم جی کی ٹریننگ مکمل کر چکے تھے مگر اب آپ کو ایڈوانس ٹریننگ دی جارہی تھی اور مزید بہتر ہتھیاروں کی مہارت سکھائی جارہی تھی جس میں مارٹر ، آرپی جی  7 ، آر آر کی ٹریننگ شامل تھی جس میں دشمن کی پوزیشن کا پتہ لگانا بھی شامل تھا۔اس بیسک کمبٹ کورس میںمیں محمد نعیم نے بہت محنت کی اور ''اے''گریڈ حاصل کیا۔ اس اعلیٰ کارکردگی کی بنیاد پر محمدنعیم کو فوی طور پر'' نائیک''بنا دیا گیا۔ یعنی وہ حسین خواب جسے نعیم بچپنے سے دیکھا کرتے تھے۔  لوگوں کے منہ سے لفظ 'نائیک' سن کر خوش ہوجاتے آج اُنہیں اُس خواب کی عملی تعبیر مل چکی تھی۔ اُنہوں نے فون کرکے گھروالوں کو اپنی ترقی کی اطلاع دی اور شکرانے کے نوافل ادا کئے۔ یونٹ اور محلے میں مٹھائیاں تقسیم کی گئیں۔
کوئٹہ میں 2012۔2014 کے درمیان نعیم (شہید )نے یونٹ پلاٹون کی ''ایم ٹی'' میں مختلف فوجی گاڑیاں چلانے کی ٹریننگ حاصل کی۔ اس طرح آپ2013 سے لے کر2015 کے درمیان ایم ٹی میں رہے۔ نعیم(شہید) کی 2015 کے شروع میں کوئٹہ کینٹ سے ڈیرہ نواب ، بہاولپور کینٹ میں پوسنٹنگ ہوگئی وہاں ابھی چھ سات ماہ ہی گزرے تھے کہ 2015 کے تقریباً آخر میں آپ کو حکم ملا کہ آپریشن ایریا میرعلی میں رپورٹ کریں ۔وہاں رپورٹ کرنے کے بعد آپ نے کمپنی کمانڈر سے درخواست کی کہ آپ کو دوبار انفنٹری  پلاٹون میں واپس بھیج دیاجائے تاکہ دشمن  سے براہِ راست مقابلے کا لطف حاصل کرسکیں۔ آپ کے کمپنی کمانڈر نے آپ کے جذبے کو سراہتے ہوئے آپ کی درخواست منظور کرلی۔ اس طرح آپ ایک مرتبہ پھر انفنٹری کمپنی کی' سی' پلاٹون میں پوسٹ کردیئے گئے اور فرنٹ مورچوں پر آکر مختلف معرکوں میں دہشت گردوں سے برسرِ پیکار ہوگئے۔
2017 کے شروع میں بریگیڈ ہیڈکوارٹرزنے ایک ایسا ذہین جوان مانگا جو ڈرائیونگ بھی جانتا ہو اور ساتھ ساتھ انٹیلی جینس ڈیوٹی کرنے کی مہارت بھی رکھتا ہو۔ اس موقع پر نعیم(شہید) نے رضاکارانہ طور پر اپنی خدمات پیش کیں اور آپ کی گزشتہ شاندار کارکردگی دیکھتے ہوئے آپ کو منتخب کرلیاگیا۔ محمدنعیم کو بھی اب یقین ہوچکا تھا کہ وہ اپنے مقصد کے بالکل قریب پہنچ چکا ہے اور اُس کی عمر بھر کی دعائیں قبول ہونے والی ہیں ۔ وہ رتبہ ٔ اعلیٰ جسے وہ اپنے رب سے نماز میں رحمتِ عالم ۖ  کا واسطہ دے کر طلب کیا کرتا تھا۔ محمدنعیم کے خدّو خال اور عادات و اطوار افسران کو بتا رہے تھے یہی جوان ہے جس کی اُنہیں تلاش تھی۔
عزمِ راسخ سے پہاڑوں کو ہلا دیتا ہوں 
اور ناممکن کو ممکن میں بنا دیتا ہوں
میں ہوں ناچیز سپاہی پَہ ہوں خودداربہت
ہر اِک کم ظرف کو نظروں سے گِرا دیتا ہوں
میںنے سیکھا ہی نہیں رَن میں کبھی پسپا ہونا
جان کی بازی سَرِ دار لگا دیتا ہوں
کَثرتِ فوج پَہ دشمن نہ کبھی ناز کرے
کئی لشکر میں اکیلا ہی بھگا دیتا ہوں
میں ہوں ناچیز سپاہی پہ ہوںخود دار بہت


ماں بھی اب اپنے آپ کو شہید کی ماں کہلوانے میں خوشی محسوس کرتی ہے اوروالد لانس نائیک محمد امیر (ریٹائرڈ) ہر روز صبح سویرے قبرستان جاکر سب سے پہلے اپنے بیٹے کو فوجی انداز میں سلیوٹ کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ بچوں کی پہچان ماں باپ سے ہوتی ہے مگر میرا بیٹا شہید نائیک محمدنعیم اپنے باپ کی پہچان ہے اور اس نے چوتھی کلاس سے نائیک کا لقب استعمال کرنے کی لاج رکھ لی۔


لہٰذا محمدنعیم (شہید)بجا طور پر اپنے دیگر ساتھیوں کے سامنے سینہ پھُلا کر اور فخر سے سربلند کرکے چلا کرتے۔ اُنہیں انٹیلی جینس سیل (Cell) میں خدمات کے لئے منتخب کرلیاگیا جو شمالی وزیرستان میں آپریشن ردّ الفساد کی کارروائیوں میں مصروف ِ عمل تھا۔5 فروری2018کو15ناردرن لائٹ انفنٹری  رجمنٹ نے ایک کامیاب خفیہ کارروائی کے ذریعے ایک نہایت مطلوب دہشت گردکو ''وانا'' ایریا سے گرفتار کرلیا۔ مشتبہ شخص کی اہمیت کی چھان بین کے لئے اُسے فوراً انٹیلی جینس حکام کے حوالے کرنا اشد ضروری تھا۔ اس لئے انٹیلی جینس سیل کے ایک دستے کو مشتبہ شخص کے ساتھ روانہ کیاگیا۔ نائیک محمد نعیم اس دستے کا حصہ تھے۔ اس کارروائی کو حتی الامکان پوشیدہ رکھنے کی خاطر سول گاڑی کو سواری کے طور پر استعمال کیاگیا اور رات کاوقت رکھاگیا تاکہ فوجی گاڑیوں کی نقل و حرکت دہشت گردوں کو متوجہ نہ کرسکے۔ نائیک نعیم کو ڈرائیونگ میں مہارت کی بنا پر گاڑی چلانے کی ذمہ دری سونپی گئی بریگیڈانٹیلی جینس سیل کے دستے نے کامیابی سے مشتبہ شخص کو 15 نادرن لائٹ انفنٹری سے وصول کیا اور واپسی کے لئے رات کو تقریباً دس بجے سفر کا آغاز کردیا۔ یہ ایک سول گاڑی تھی جس میں  آرمی کے چھہ جوان اسلحے سے لیس تھے ایک نائب صوبیدار، ایک لانس نائیک اور تین سپاہی تھے اور نائیک محمد نعیم اپنی جان خطرے میں ڈال کر ڈرائیونگ کررہا تھا۔ مکار دشمن بھی گھات لگائے ناپاک عزائم لئے تیار بیٹھا تھا کہ اپنے دہشت گرد ساتھی کو ہر قیمت پر رہائی دلوائے گا ، ورنہ پورے قافلے کو ختم کردے گا۔ اس دوران راستے میں بریگیڈ انٹیلی جینس سیل کا دستہ باقاعدہ منصوبہ بندی سے لگائی گئی گھات کا شکار ہوگیا۔ نائیک محمدنعیم  نے اس مشکل صورت حال میں نہایت حاضر دماغی سے کام لیا اور ڈرائیونگ میں اپنی مہارت کو بروئے کار لاتے ہوئے نہایت تیزی سے گاڑی کو متاثرہ علاقے سے نکالا۔ آپ اپنے تجربے کی بنا پر اس بات سے بخوبی آگاہ تھے کہ گھات کے ساتھ ساتھ آئی ا ی ڈی کی موجودگی بھی لازمی ہے آپ کی اس بروقت اور جرأت مندانہ اقدام کی بدولت گاڑی آئی ای ڈی کے دھماکے کی زد میں آنے سے بچ گئی۔ اس تمام صورت حال کو دیکھتے ہوئے دہشت گردوں کی جانب سے اندھا دھند فائرنگ کی گئی تاہم نائیک محمدنعیم نے انتہائی دلیری کا مظاہرہ کرتے ہوئے گولیوں کی بوچھاڑ میں گاڑی کو متاثر علاقے سے دور پہنچادیا۔ اسی اثناء میں بہت سی گولیاں نعیم کے جسم میں پیوست ہوگئیں لیکن آپ نے شدید خطرے میں گھِرے ہونے کے باوجود انتہائی جاںفشانی اور دلیری سے اپنے ساتھیوں کو گھات کے مقام سے دور پہنچادیا۔ اس دوران ہمارے جوانوں کو بھی جوابی فائرنگ کرنے کا موقع ملا اور محمدنعیم کی دلیرانہ کوشش کی بدولت دہشت گرد اپنے ساتھی کو بچانے میں ناکام رہے مگر اس دوران نائیک محمد نعیم زخموں سے بے تحاشاخون بہہ جانے کی وجہ سے جامِ شہادت نوش فرما گئے اور اپنے خالقِ حقیقی سے جاملے۔ آپ کو مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ ٹھاکرہ گائوں میں سپردِ خاک کردیاگیا۔ ٹھاکرہ گائوں میں دفن ہونے والا یہ پاک فوج کا پہلا شہید ہے اس سے پہلے قبرستان کا کوئی نام نہ تھا مگر اب اُسے ''نائیک محمدنعیم شہید قبرستان '' کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔ نوماہ پہلے ہی آپ کی شادی خالہ کی بیٹی سدرہ شبیر سے ہوئی تھی۔ جو اب شہید کی اہلیہ کہلوانے پر فخر محسوس کرتی ہے۔ شہادت کا اعزاز حاصل کرنے میں نائیک محمد نعیم شہید اس مرتبہ اپنے بڑے بھائی سپاہی محمد وسیم سے آگے نکل گیاتھا۔محمدنعیم کی جب شہادت ہوئی بڑا بھائی سیاچن کے محاذ پر دفاعِ وطن کا مقدس فریضہ سرانجام دے رہا تھا۔ ماں بھی اب اپنے آپ کو شہید کی ماں کہلوانے میں خوشی محسوس کرتی ہے اوروالد لانس نائیک محمد امیر (ریٹائرڈ) ہر روز صبح سویرے قبرستان جاکر سب سے پہلے اپنے بیٹے کو فوجی انداز میں سلیوٹ کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ بچوں کی پہچان ماں باپ سے ہوتی ہے مگر میرا بیٹا شہید نائیک محمدنعیم اپنے باپ کی پہچان ہے اور اس نے چوتھی کلاس سے نائیک کا لقب استعمال کرنے کی لاج رکھ لی۔
 آپ کے میٹرک کے استاد قاضی مشتاق جن کا تعلق گائوں میانہ مستال تحصیل گوجر خان سے ہے جو موہڑہ سے پانچ کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔ نعیم جب بھی چھٹی پر گھر آتے اُن سے ملنے کے لئے ضرور جاتے۔ جب انہیں نعیم کی شہادت کی اطلاع ملی تو 80 سال کی ضعیفی  کے ساتھ 5 کلومیٹر کا طویل فاصلہ خود طے کرکے نائیک محمد نعیم شہید کے گھر اہلِ خانہ سے تعزیت کرنے کے لئے آئے اور کہا کہ یہ میرا وہ قابل اور تابع فرمان شاگرد ہے جس پر میں نے ہمیشہ فخرکیا اور تاحیات کرتا رہوں گا۔ محمد نعیمکی 11 سندھ رجمنٹ کے محمد نقاش سے بڑی گہری دوستی تھی اور مختلف کورسز میں دونوں کے درمیان سخت مقابلہ رہتا۔ اس نے بھی فرطِ جذبات سے آنسو بہاتے ہوئے کہا کہ نائیک محمدنعیم شہید ، شہادت کے مقابلے میں مجھ سے آگے نکل گیا۔ قوم کے سپوت نائیک محمدنعیم شہید کو23 مارچ2018 کو شاندار دلیرانہ  خدمات کے اعتراف میں تمغۂ بسالت سے نوازا گیا۔ جب تک افواجِ پاکستان میں ایسے جری سپاہی موجود ہیں۔ دشمن سرزمینِ پاک پر میلی آنکھ ڈالنے کی جرأت نہیں کرسکتا۔ نعیم شہید ہو کر زندہ و جاوید ہوگیا اور دوسرا بھائی سپاہی محمد وسیم ایسا غازی ہے کہ جب نائیک نعیم شہید، تمغۂ بسالت کی تدفین ہو رہی تھی تو وہ اُس وقت سیاچن کے محاذ پر دشمن کے مقابل اپنے حوصلے  اور ولولے کا مظاہرہ کررہا تھا۔
مہر و مَہ و نجوم یہ افواجِ پاک کے
اِن کے نقوشِ پا سے ہے یہ کہکشاں بنی
غازی چلے تو جھک کر سلامی فلک نے دی
یہ جو ہوئے شہید، زمیں آسماں بنی
 
 

یہ تحریر 150مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP