ہمارے غازی وشہداء

میری زمین میرا آخری حوالہ ہے

کرنل شجاع خانزادہ (ر)صوبائی وزیرِ داخلہ کے ساتھ ایک خودکش دھماکے میں شہادت کے منصب پر فائز ہونے والے انسپکٹر شوکت شاہ کے حوالے سے منصور الحسن کی ایک تحریر
اکتوبر  2008

یہ اٹک کی تحصیل حسن ابدال کا واقعہ ہے۔ خیبر پختونخوا سے ملحقہ سرحدی چوکی جھاری کس کے علاقے میں دہشت گردوں اورپولیس کے درمیان مقابلے میں ایک نوجوان پولیس انسپکٹرشدید زخمی ہوتاہے۔ تمام ڈاکٹرز متفقہ فیصلہ کرتے ہیں کہ مضروب کے دونوں بازو کاٹ دیئے جائیں لیکن معجزانہ طور پر بازو کٹنے سے تو بچ جاتے ہیں مگر بائیں ہاتھ پرمعذوری کا داغ ہمیشہ کے لیے رہ جاتا ہے۔ لیکن یہ کیا کہ ہسپتال میں پڑے نیم بیہوشی کی حالت میں بھی اس زخمی انسپکٹرکی قوت ارادی اور حوصلہ گویا کہ آسمان کی بلندیوں کو چھو رہا ہوتا ہے۔  میں نے اسے کیا حوصلہ دینا تھا۔ پوچھنے پر کہ کیسے ہو زیر لب مسکراتے   ہوئے دھیمی آواز میں فی البدیہہ اپنا ہی شعر پڑھنے لگ جاتا ہے۔
اپنے    بازو   گنوا     دیئے    لیکن
خود سے  لڑنے  کا  شوق  اب  بھی   ہے
 پولیس انسپکٹر کا یہ جواب ایک لمحہ کے لیے مجھے انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کے کچھا کھچ بھرے آڈیٹوریم میں لے جاتا ہے۔ جہاں اکنامکس ڈیپارٹمنٹ سے ایم ایس سی کے ایک خوبرو اور نفیس طالب علم کی طرف سے پڑھی گئی غزل پر واہ واہ  مکرر مکرراوربار دگر کے شور میں صدر محفل جناب احمد فراز نشست سے اٹھتے ہیں اور اس نوجوان کو گلے لگا لیتے ہیں۔ یونیورسٹی آڈیٹوریم تالیوں سے گونج اٹھتا ہے۔ پھر ایک دن وہی کم گو، الجھا الجھا سا، پل دو پل کا شاعر، اکنامکس اور شاعری کے متضاد امتزاج میں حیرتوں کا مزید اضافہ کرتے ہوئے پولیس کی صفوں میں جا کھڑا ہوتا ہے۔ اسی کشمکش میں کہ لوگ مجھے ایک روایتی پولیس آفیسر ہی نہ سمجھیں کہ میرے دل کو شاید عشق کے نغموں سے نفرت ہے اور مجھے ہنگامہ جنگ و جدل میں کیف ملتا ہے،  میری فطرت کو خونریزی کے افسانوں سے رغبت ہے بلکہ میرے اندر کے انسان کو بھی پہچانیں کہ جو تاروں پہ آنکھیں گاڑھ کر آنسو بہاتا ہے۔ تصور بن کے بھولی وارداتیطں یاد آتی ہیں تو پہروں درد کی شدت سے اکثر تلملاتا ہے۔اسی سوچ کی بنیاد پر اپنی شاعری کی پہلی کتاب ''بغیر تیرے'' شائع کرواتا ہے۔ مگر پھر اک دوسری کشمکش کا پیہم اسیر سوچتا ہے کہ لوگ اسے ایک حساس شاعر سمجھتے ہوئے بطور پولیس آفیسر قبول کرنے سے ہی انکار نہ کر دیں اپنی پیشہ وارانہ اہلیت اور دلیری کی ایسی دھاک بٹھاتا ہے  کہ باانداز غالب فخرو مباہات سے پکار اٹھتا ہے کہ
 سو پشت سے ہے پیشہ آبا سپہ گری
 اک شاعری ہی ذریعہ عزت نہیں مجھے 
یونیورسٹی کے تمام دوستوں کا بالعموم اوراہل قلم حضرات  کی بالخصوص یہ متفقہ رائے تھی کہ پولیس کا محکمہ شوکت شاہ کا غلط انتخاب ہے۔ لیکن پھر قلم کی جگہ بندوق، کتابوں کی جگہ پولیس فائلز اور شاعرانہ تخیلات کی جگہ جرائم کی دنیا سے ٹکراؤ لے لیتی ہے۔ دہشت گردوں کے خلاف کی گئی کارروائیوں میں پاکستان پولیس میڈل کے لیے نامزدگی سے لے کر بین الاقوامی منشیات فروشوں اور اغوا کاروں سے پنجہ آزمائی تک کے سفر میں اس کی صلاحیتوں کے اعتراف کا ایک لمحہ ایسا بھی آ تا ہے کہ اسے برطانیہ کی ایک ایجنسی کی طرف سے مستقل برطانیہ منتقل ہونے، نوکری اوردیگر تمام سہولیات دینے کی باقاعدہ پیشکش کی جاتی ہے لیکن وہ انکار کر دیتا ہے کہ میری شناخت میرے ملک سے ہے اور میرا وجود اس دیس کی مٹی سے کشید کیا گیا ہے اور یہ پاک سر زمین ہی میرا آخری حوالہ ہے۔۔۔۔۔ میں کسی صورت پاکستان نہیں چھوڑ سکتا۔ برٹش آفیسرز ورطۂ حیرت سے اسے دیکھے جا رہے ہوتے ہیں کہ جہاں اس سبزہ زار دھرتی کا ہر فرزند سبز پاسپورٹ سے دست کش ہو کر برٹش پاسپورٹ حاصل کرنے کی دوڑ میں لگاہوا ہے یہ کیسا نیا چہرہ ہے۔ نہ ستائش کی تمنا نہ صلے کی پروا۔ شکوہ ظلمت شب میں چراغ جلانے کا خواہشمند یہ کیسا نیا چہرہ تھا کہ بطورایس ایچ او اپنی پہلی پوسٹنگ پر لوکل بس پر بیٹھ کر تھانے جا پہنچتا ہے اور تھانے میں پینٹ شرٹ میں ملبوس نوجوان سے ایس ایچ او تعیناتی کا سن کر محرر تھانہ اوراس کے پیش رَو ایس ایچ او کا منہ کھلے کا کھلا رہ جاتا ہے کہ نہ ہٹو بچو کی کوئی پکار، نہ کرو فر اور جاہ و جلال کی مصنوعی نمائش۔ شوکت شاہ ایک افسانوی کردارکی طرح جیا اور17 اگست 2015 ضلع اٹک کے گاؤں شادی خیل میں کرنل شجاع خانزادہ صوبائی وزیر داخلہ کے ساتھ ایک خودکش دھماکے میں ہمیشہ کے لیے امرہوگیا ۔              
بنا کردند خوش  رسمے  بخون  و  خاک  غلطیدن
خدا  رحمت کند  ایں  عاشقان  پاک طینت را
آج بھی کبھی کبھی سپہ گری کے دبیز آہنی حصار پولیس کالج سہالہ کے اس پار سردیوں کی خنک شامیں چشم پرنم میں یوں اتر آتی ہیں کہ چشم تصور میں  وہی کم گو،  الجھا الجھا سا حساس شاعر میرا پلاٹون میٹ وردی کی جیب میں تہہ کی چند چڑ مڑپرچیاں نکالے پریڈ گراونڈ میں میرے ساتھ بیٹھا اپنی نئی نئی لکھی نظم سنار ہا  ہے:
 بظاہر میں بہت خوش ہوں
ہر اک سے ہنس کے ملتا ہوں
بہت مصروف میری زندگی ہے
اور
لوگوں کی نظر میں ایک افسر ہوں
میں
عزت، مرتبے دولت میں اور شہرت میں بھی اکثر سے بہتر ہوں
مگر
وہ چند لمحے
جو
تمہاری قربتوں میں چاہتوں کے سنگ گزرے ہیں
کبھی
یونہی
اچانک
اتفاقاً
یاد آجائیں
تو
آنکھوں کے کناروں پر نمی محسوس ہوتی ہے
مجھے پھر زندگی میں کچھ کمی محسوس  ہوتی ہے ||


     [email protected]

یہ تحریر 254مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP