انٹرویو

میری زمین میراآخری  حوالہ ہے

اُردو ادب کی ممتاز شخصیت اور منفرد لب و لہجے کے شاعرجناب افتخار عارف سے ایک ملاقات
میری زمین میرا آخری حوالہ ہے
سو میں رہوں نہ رہوں اس کو باروَر کر دے
اہلِ زمین کو اپنی زمیں سے محبت فطری امر ہے۔ایسے میں مٹی، زمین، خاک، گھر اور خانہ بدوشی، دربدری، ہجرت ، اور بے گھری جیسے موضوعات  سے انسان کا کیا رشتہ ہوتا ہے،خاص طور پرایک مہاجر؟ سوال کرتے ہیں افتخار عارف سے جو مہاجر بھی ہیں اور شاعر بھی۔



سوال: آپ ایک مہاجر شاعر ہیں؟ ہجرت سے قبل کی زندگی کے بارے میں کچھ بتائیں؟

جواب: میں اپنی تعلیم ختم ہونے کے فوراً بعد اکیلا ٹرین کے ذریعے پاکستان آگیا تھا۔ میرے والدین ان دنوں ہندوستان میں تھے۔ میرے نانا جو میرے کفیل تھے وہ میرے اس فیصلے پر اتفاق کرتے تھے کہ میں ہندوستان میں نہیں رہوں گا۔ میں نے دہلی کے پاکستانی ہائی کمشنر میں پاکستان کی شہریت کے ضمن میں ابتدائی کاغذات داخل کر دیئے تھے۔ کراچی پہنچا تو شروع کے دن بہت مشکل اور بہت دشوار گزرے۔ اب سوچتا ہوں تو یقین نہیں آتا کہ مجھے کِن کِن اذیت ناک مرحلوں سے گزرنا پڑا تھا مگر میں نے ہمت نہیں ہاری اور اللہ تعالیٰ کے کرم سے ، اس کی مہربانی سے مواقع ملتے ہی چلے گئے اور میں نے ریڈیو پاکستان میں ہندی اردو کی خبریں پڑھیں تو علمی و ادبی حلقوں میں میری عبیداللہ بیگ، یاور مہدی اور سب سے بڑھ کر سلیم گیلانی صاحب سے ملاقات ہوئی، جنھوں نے میرے ساتھ ایسا مشفقانہ سلوک کیا کہ میں ساری تکلیفوں کو بھول کر ریڈیو پاکستان کا ہو رہا۔ سلیم گیلانی صاحب مجھے کراچی ٹیلی وژن میں اسلم اظہر صاحب کے پاس لے گئے اور کسوٹی ذہنی آزمائش کا پروگرام شروع ہوا۔ عبیداللہ بیگ اور قریش پور مجھ سے کہیں زیادہ وسعت علمی اور قابل رشک مطالعے کے حامل تھے مگر میں ٹیم کا حصہ ہونے کے سبب ان دونوں کے ساتھ نمایاں ہوتا گیا اور متحدہ پاکستان میں کسوٹی میرے تعارف کا ایک معتبر حوالہ بنا۔ ریڈیو پاکستان کے زمانے میں ہندوستان سے کئی بار مجھے واپس آنے کو کہا گیا مگر اس وقت تک میں پاکستان کا ہو چکا تھا۔
سوال: پیمبروں سے زمینیں وفا نہیں کرتیں
ہم ایسے کون خدا تھے کہ اپنے گھر رہتے
کیا آپ کی زمین نے آپ سے بے وفائی کی؟اپنی ہوش میں آپ نے  ہندوستان سے پاکستان  ہجرت کی، کیوں؟

جواب : گھر درودیوار اور سقف و بام کا نام نہیں ہوتا ۔ گھر عبارت ہوتا ہے احساس تحفظ سے جس کی چھت کے نیچے آ کر آپ اپنے آپ کو محفوظ محسوس کریں۔ دنیا اورزمانے کے مسائل جس میں داخل ہونے کے بعد یکسر غنانیت و آسودگی میں بدل جائیں۔ وطن بھی گھر ہی کی ایک شکل ہوتی ہے۔ میں نے بار بار یہ دعا مانگی تھی:
مرے خدا مجھے اتنا تو معتبر کر دے
میں جس مکان میں رہتا ہوں اس کو گھر کر دے
یہ شعر اس غزل کا مطلع ہے جو میں نے پاکستان ٹیلی وژن کے زیراہتمام یوم آزادی پر ہونے والے ایک مشاعرے میں پڑھی تھی۔ میں جس زمانے میں پاکستان سے باہر تھا تو متعدد بار میں نے اس نوعیت کے شعر لکھے:
عذاب یہ بھی کسی اور پر نہیں آیا
تمام عمر چلے اور گھر نہیں آیا
اور
خاک میں دولت پندار و انا ملتی ہے 
اپنی مٹی سے بچھڑنے کی سزا ملتی ہے 
ہر وہ سفرجو اجنبی سرزمینوں کی طرف کیا جاتا ہے، ہجرت نہیں ہوتی۔ ہجرت کسی آدرش کی طرف سفر کرنے کو کہتے ہیں۔ظُلمت سے نُور کی طرف سفر، شر سے خیر کی طرف سفر، حق سے باطل کی طرف سفر، ہجرت چراگاہوں کی تلاش میں ، آسودگی کی تلاش میں مارے مارے پھرتے رہنے سے عبارت نہیں ہوتی:
شکم کی آگ لئے پھر رہی ہے شہر بہ شہر 
سگِ زمانہ ہیں ہم کیا ہماری ہجرت کیا
سوال: آپ نے اپنی ماں کو بھی چھوڑ دیا اور دھرتی ماں کو بھی؟
گھر سے نکلے ہوئے بیٹوں کا مقدر معلوم
ماں کے قدموں میںبھی جنت نہیں ملنے والی
کیا پالنے والی ماں پیدا کرنے والی ماں سے اور  پالنے والی زمین،جائے  پیدائش سے بڑھ کر ہوتی ہے؟

جواب:  ماں کی جگہ کوئی نہیں لے سکتا۔ آپ ملاحظہ کرتی ہوں گی، ہر دوسری گاڑی پر لکھا  ہوتا ہے کہ''یہ میری ماں کی دعا ہے''۔مجھے بھی یقین ہے کہ مجھ پر بھی جو خدا کا کرم ہے اس میں میری ماں کی دعائیں بھی شامل حال ہیں۔دراصل میری ماں نے ایک مشکل زندگی گزاری ۔ یہ درست ہے کہ جب میں نے ہجرت کی تو میں ان کو بھی چھوڑ آیا تھا کیونکہ اپنے شوہر کے تمام تر نامناسب رویےّ کے باوجود میری ماں نے ان سے مستقل علیحدگی اختیار نہیں کی تھی۔مجھے میرے نانا نے ماں بن کرپالا۔ میرے لئے بس وہی اہم تھے۔ ۔ میں نے اپنی ماں کے لئے کبھی دعا بھی نہیں کی تھی ۔لیکن جب وہ اس دنیا میں نہیں رہیں تو میں ان کے لئے دعا کرتا ہوں۔ اولاد کا فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے والدین کے لئے دعا کریں۔
دعا کو ہاتھ اٹھاتے ہوئے لرزتا ہوں
کبھی دعا نہیں مانگی تھی ماں کے ہوتے ہوئے
ایسا نہیں کہ میرے، میری ماں سے اختلافات تھے،میں کسی اور کے لئے بھی کم ہی دعا کرتا تھا۔ بس عمر کے اس حصے میں لگتا تھا کہ خدا تو سب دیکھتا ہے، سب جانتا ہے تو اس کو ہمارے حالات معلوم ہیں پھر دعا کیوں کی جائے۔لیکن پھر میں نے وقت کے ساتھ سیکھا کہ خدا کو پسند ہے کہ اس کا بندہ اس سے رجوع کرے اور پھر میں نے بہت تواتر اورلگائو سے دعائیں مانگیں۔اور خدا نے میری دعائوں کو مستجاب بھی فرمایا۔ مجھ گنہگار پر اس کا بہت کرم ہے۔ اس نے مجھے بہت نوازا۔شاید ہی کچھ ایسا ہو جو میں نے اس کی بارگاہ سے طلب کیاہو اور خدا نے مجھے بخشا نہ ہو۔ اور ہاں زندگی میں جو نہیں ملا وہ شاید میں نے چاہا تو تھا مگر طلب نہیں کیا تھا۔کئی خواہشات تھیں لیکن میں نے ان کا پیچھا نہیں کیا۔
ہاں لیکن پاکستان نے مجھے پالا ہے اور یہ دھرتی ماں مجھے پیدا کرنے والی دھرتی سے بڑھ کر عزیز ہے۔اور اس کے لئے میری یہی آرزو ہے کہ اے خدا:
'میں رہوں نہ رہوں سو اس کو باروَر کر دے۔'
سوال:آپ نے زندگی میں کتنی بار ہجرت کی کہ آپ کو یہ کہنا پڑا:
صاحبو! اب کوئی اور ہجرت نہ ہوگی ہم سے

جواب: ایک بار ہجرت ہندوستان سے کی تھی ،اپنی مرضی سے کی۔ وہ میری مجبوری نہ تھی، میرا انتخاب تھا۔ اور ایک باراپنی مجبوری سے۔ ایک موقع آیا کہ میں پاکستان چھوڑ کر برطانیہ چلا گیا۔ دوسری ہجرت میرے لئے بہت تکلیف دہ تھی۔بلکہ وہ ہجرت نہیں تھی وہ ترک سکونت تھی، میری اصل دربدری اور بے گھری تھی۔آغا حسن عابدی، الطاف گوہر، مشتاق احمد یوسفی اور صالح نقوی کی قیادت میں قائم ہونے والے اردومرکز نے مجھے پوری دنیا میں اردو زبان و ادب کی ترویج و فروغ کے مواقع فراہم کیے۔ اچانک بی سی سی آئی پر سازشی حملے کے نتیجے میں اردو مرکز بند ہوگیا تو مجھے بعض بین الاقوامی اداروں جن میں بی بی سی اور لوٹس بھی شامل تھے، ملازمت کی پیش کش ہوئی مگر میں یورپ میں قیام کے بجائے پاکستان واپس آگیا۔ اس قصے میں مجھے ایک جذباتی دھچکے سے بھی دوچار ہونا پڑا۔ میری بیٹی جس کی شادی لاہور کے ایک خاندان میں ہوئی تھی، اپنے شوہر کامران محمود کے ساتھ لندن میں مقیم تھی اور میرا بیٹا علی والدہ کے ساتھ لندن میں زیرتعلیم تھا۔ انھوں نے لندن میں رہنے کا فیصلہ کیا مگر میں کسی بھی صورت لندن میں قیام پر آمادہ نہیں تھا۔ 
بس ایک خوف کہیں دل یہ بات مان نہ جائے
یہ خاک غیر ہمیں آشیاں سے اچھی ہے
ہجرت صرف مکانی نہیں ہوتی۔یہ  ایک  phenomenon  ہے۔  بس اب میں سکون چاہتا ہوں۔کسی نوعیت کی ہجرت نہیں چاہتا۔
میں نے اسلام آباد میں تنہا زندگی گزاری مگر یہیں مقیم رہنے کو ترجیح دی۔ جب مجھے مقتدرہ قومی زبان سے استعفی دینے پر مجبور کیا گیا تب بھی میں نے پاکستان ہی میں قیام کیا۔ استعفیٰ دینے کے بعد مجھے لاہور سے محسن و مشفق جناب سید بابر علی شاہ نے یاد فرمایا اور لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (LUMS) میں ایک اچھی ملازمت کی پیش کش کی۔ اسی زمانے میں مجھے نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز (NUML) میں وزیٹنگ پروفیسر کے طور پر دعوت دی گئی جہاں مجھے بہت عزت اور پذیرائی کے ساتھ رکھا گیا۔ نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجزمیں گزارے گئے دن میری زندگی کے یادگار دنوں میں ہیں۔ نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز کے زمانے ہی میں مجھے وفاقی اردو یونیورسٹی کراچی میں ملازمت کی پیش کش ہوئی جس پرمیں نے کراچی جانے سے معذرت کی۔ اسلام آباد میرے وجود کا ایک لازمی حصہ بن چکا ہے۔ 
سوال: آپ تہران میں بھی رہے۔ کچھ اس تجربے کے بارے میں بتائیں؟
جواب: اسی زمانے میں ایوان صدر میں جناب سلمان فاروقی نے ازراہِ کرم  مجھے صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان جناب آصف علی زرداری کی طرف سے ای سی او میں صدر کے عہدے پر تقرری کا مژدہ سنایا۔ تہران میں میرے قیام کے سال میری علمی شخصیت کی تہذیب و ترتیب میں بہت اہم ثابت ہوئے۔ ایران کی تہذیبی اور علمی زندگی سے تاریخ ، تہذیب ، ادب اور زبان کے علاوہ میں نے او آئی سی کے دس ملکوں کی بساط بھر خدمت کی، اس پر مجھے ہمیشہ فخر رہے گا۔ ایران میں مجھے فرہنگستان زبان و ادب فارسی ، ایران کی ہیئت حاکمہ کا واحد غیرملکی رکن اعزازی مقرر کیا گیا جو میرے لئے بھی اور میرے وطن کے لئے بھی عزت کی بات ہے۔ مدت ملازمت کے بعد بھی میرے ایرانی کرم فرما جن میں صدر فرہنگستان زبان و ادب فارسی ، ایران جناب ڈاکٹر غلام علی حداد عادل سمیت مجھ سے بہت لطف و مہر کا رویہ رکھا۔ یہ بھی پیش کش کی کہ میں ایران سے نہ جائوں مگر یہ کیسے ممکن تھا۔ میں نے ان سے کہہ دیا کہ اک زبان ہے جس میں ، میں شعر کہتا ہوں۔ وہ اِس ملک میں بولی جاتی ہے ۔ میں اِس ملک کو کیسے چھوڑ سکتا ہوں؟ میرے لئے سب سے پہلے پاکستان ہے ۔اور سب سے آخر میں بھی پاکستان ہی ہے۔ اِس  ملک کے لئے میں نے اپنے بچوں کو چھوڑ دیا۔ میں اِس کو نہیں چھوڑسکتا۔اِس ملک نے مجھے بہت کچھ دیا ہے۔ میں اس کو نہیں چھوڑ سکتا۔۔
سوال:لوگ تو بڑے شوق سے ترک وطن کرکے ، باہر جانا چاہتے ہیں، آپ کے نزدیک دربدری کیا بلا ہے کہ آپ نے یہ کہا:
اجنبی شہر میں خاک بر سر ہوئی زندگی
کیسی بے گھر ہوئی زندگی

جواب: بعض اوقات افراد پر زمینیں اتنی تنگ کر دی جاتی ہیں کہ ان کو زندگی گزارنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ناانصاف معاشروں میں جہاں معاش اور حصول رزق مشکل بنا دیا جاتا ہے۔ بعض اوقات لوگ اپنا وطن چھوڑنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔زندگی میں روزی روٹی کے لئے ، بچوں کے مستقبل کے لئے، کبھی کبھی وطن چھوڑنا پڑ جاتاہے مگر یہ بڑی اذیت کا تجربہ ہے۔ میں نے یورپ میں انتہائی آسودہ حال چودہ برس گزارے ہیں۔ زندگی کی تمام آسائشوں کے باوجود ایک مضطرب دور ہر گھڑی، ہر لمحہ وطن واپسی کی خواہش زور مارتی رہتی تھی۔ برطانیہ میں لاکھوں پاکستانی جن کی اکثریت حصول معاش کے لئے نقل مکانی کر کے وہاں زندگی گزار رہی ہے ان کی اکثریت ایسی ہے جو دو زمینوں میں بیک وقت زندگی گزار رہی ہوتی ہے۔ وہ یہ کہتے ہیں کہ ذرا سی دیر، تھوڑے سے پیسے جمع کر لیں پھر وطن واپس جائیں گے۔ بچے تعلیم حاصل کر لیتے ہیں اور روزگار حاصل کر لیتے ہیں پھر وہیں کے ہو رہتے ہیں۔Myth of Return واپسی کی آرزو اور تمنا میں زندگی گزر جاتی ہے مگر واپسی ممکن نہیں ہوپاتی۔ بہت کم لوگ ایسے ہیں جو پندرہ بیس برس مغرب میں آسودہ حال زندگی گزارنے کے بعد شاید ہی وطن واپس آتے ہوں۔ آدرش کے مارے ہوئے بعض گھرانے واپس آتے ہیں تو ملکی حالات سے بددل ہو کر پھر لوٹ جاتے ہیں۔ میں کراچی میں بعض ایسے گھرانوں کو جانتا ہوں جو امریکہ اور یورپ سے واپس آئے مگر پھر یہاں انھیں چین سے بسنا نصیب نہیں ہوا۔ میرا ایمان ہے کہ ہم پاکستانی کبھی بھی اپنا گھر، اپنا وطن چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہوتے۔ یورپ اور امریکہ میں بسنے والا ہر پاکستانی ہر لمحہ پاکستان میں زندہ ہوتا ہے۔ اس کے صبح و شام پاکستان کو یاد کرتے گزرتے ہیں۔ بہت سے افریقی، چینی اور بھارتی گھرانے مغرب میں بس گئے ہیں تو اپنی شناخت سے یکسر بے نیاز ہو کر وہیں کے ہورہے ہیں۔ پاکستانیوں پر یہ الزام لگتا رہتا ہے کہ برس ہا برس باہر رہنے بسنے کے باوجود یہ اپنی پاکستانی شناخت پر آخری سانس تک اصرار کرتے رہتے ہیں۔ یہ مرحلہ طمانیت کا بھی ہے اور اذیت کا بھی۔ اس کو لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں ہے۔ یہ تکلیف وہی جانتا ہے جو اس سے گزراہو۔ 
سوال: اپنی مٹی سے پیمان استوار رکھنا اتنا ہی اہم کیوں ہے؟
جوہری کو کیا معلوم کس طرح کی مٹی میں کیسے پھول ہوتے ہیں
کس طرح کے پھولوں میں
کیسی باس ہوتی ہے
جوہری کو کیا معلوم
جوہری تو ساری عمر پتھروں میں رہتا ہے
زر گروں میں رہتا ہے
جوہری کو کیا معلوم
یہ تو بس وہی جانے
جس نے اپنی مٹی سے
اپنا ایک اک پیماں
استوار رکھا ہو
جس نے حرفِ پیماں کا اعتبار رکھا ہو
جوہری کو کیا معلوم کس طرح کی مٹی میں کیسے پھول ہوتے ہیں
کس طرح کے پھولوں میں کیسی باس ہوتی ہے

جواب: ہماری زمین ہماری شناخت کا حوالہ ہوتی ہے۔پاکستان نے مجھے شناخت بخشی ہے۔اور یہ شناخت مجھے ہر چیز سے بڑھ کر عزیز ہے۔ اور پاکستان کیا ہی خوب وطن ہے۔ اس لئے نہیں کہ میں پاکستانی ہوں بلکہ ایک عام انسان کی طرح بھی پاکستان ایک بہت مہر و محبت والا ملک ہے۔ قدرت کی بے شمار نعمتوں سے مالا مال سمندر، کوہسار، صحرا، دریا، سبزہ زار، عظیم تہذیبی روایتوں کی زندہ اور ثروت مند نشانیاں قدم قدم پر رنگا رنگ تہذیبی آثار متنوع معاشرتیں ، ثقافتیں ، لوک وسیب، داستانیں اور موسیقی اللہ تعالیٰ نے کن کن نعمتوں سے نوازا ہے۔ مہرگڑھ، موہنجو داڑو ، ہڑپہ ،گندھارا اور ٹیکسلا کی عظیم تہذیبی روایت عرب، ایران اور ماوراء لنہر کے کمپوزٹ کلچر سے نمود پانے والی مسلم تہذیبی روایت اپنے جلو میں کیا کچھ نہیں رکھتی۔ اس کا اندازہ انھی لوگوں کو ہو سکتا ہے پاکستان جن کے ایمان کا اور جن کی زندگی کا حصہ ہے اور یہی وہ سبب ہے کہ ہر پاکستانی چاہے وہ کوہساروں کے قبیلوں میں رہ رہا ہو یا تھرپارکر کے ریگستانوں میں، سمندر کے کناروں پر بس رہا ہو یا سندھ کے ساحلوں پر سب پاکستان کے لئے اپنا تن، من، دھن لٹانے کو ہمہ وقت آمادہ رہتا ہے۔
سوال:اہلِ قلم تو زمین کی نظریاتی سرحدوں کے محافظ ہوتے ہیں اور اہلِ سیف زمیں کی جغرافیائی سرحدوں کے  رکھوالے۔ پاکستان کے جنگی ہیروز کو شعرا نے اپنے کلام میں خوب خوب سراہا۔٦٥کی جنگ کے ہیرو میجر عزیز بھٹی شہید کو آپ نے اپنے کلام میں یاد بھی کیا ہے۔وہ کیا احساس تھا جس کو  آپ پابند قلم کئے بغیر نہ رہ سکے ؟
جواب:
ہمیں میں رہتے ہیں وہ لوگ بھی کہ جن کے سبب
زمیں بلند ہوئی آسماں کے ہوتے ہوئے
١٩٦٥ میں ہندوستان سے پاکستان  ہجرت کی اور اسی برس  جب میں نے میجر عزیز بھٹی شہید کی بہادری اور شجاعت کی داستان سنی تو I was so moved اور میں نے  ان کو خراج عقیدت پیش کیا:
''سلامی''
(چند مصرعے شہید عزیز بھٹی کے لئے)
سیاہیِ شبِ ظلمت میں اک لہو کی لکیر
کھنچی اور ایسی کہ اب تک ہے روشنی ہر سمت
قلم کہ جس نے قصیدوں سے انحراف کیا
یہ چاہتا ہے کہ اس خون کو سلامی دے
(جزائے خیرو خراجِ بلند نامی دے)
جو خاکِ پاک کی نسبت سے ارجمند ہوا
مثالِ پرچمِ سرسبز سَربلند ہوا
کمال ہے یعنی۔ ایسی بہادری۔ بلاشبہ قبل صد تحسین، صد رشک۔
سوال: آپ کی تاریخ پیدائش کہیں٢١مارچ درج ہے اور کہیں٢٣ مارچ۔ ویسے تو دونوں ہی کی مناسبتیں اچھی ہیں ایک کو یوم پاکستان سے اور دوسری کو فصل بہار سے۔مارچ کا مہینہ ہے جشن پاکستان بھی ہے اور جشن بہاراں بھی لیکن دشمن فضا میں بارود کی بُو گھولنا چاہتا ہے، اس مناسبت سے مجلہ ہلال کے توسط سے ایک شاعرکا دنیا کے لئے کیا پیغام ہے:
جواب:٢٣مارچ۔یوم پاکستان،یوم تجدید عہد،یوم قرارداد پاکستان۔آج کا دن ہماری تاریخ کا وہ درخشاں باب ہے جب تحریک پاکستان کے بنیادگزاروں نے مسلمانان برصغیر کے لئے ایک علیحدہ وطن کی قرار داد منظور کی تھی۔قائداعظم محمد علی جناح کی فقید المثال قیادت  میں مسلمانوں نے پاکستان کی طرف سفر کی رفتار تیز کردی تھی۔ آخر کار ١٩٤٧ میں اپنی قرار داد کے مطابق ملت مسلمہ ایک بڑی منزل کے حصول میں کامیاب ہوئی اور پاکستان کا وجود عمل میں آیا۔
مارچ کا مہینہ بہار کے موسم کا آغاز بھی ہے اور یہ دن ایک ایسے مرحلے میں آیا جب وطن عزیز کے عوام، پارلیمان اور مسلح افواجِ پاکستان نے ہم قدم و ہم زبان ہو کر ایک بڑے امتحان میں کامیابی حاصل کی ہے۔ ہمسایہ ملک کی جارحیت کے خلاف ہماری بہادر مسلح افواج نے جس پیشہ ورانہ مہارت کا ثبوت دیا ہے، ساری دنیا اس کا اعتراف کر رہی ہے۔ ایک مدت کے بعد دیکھنے میں آیا ہے کہ ملک کے تمام مقتدر ادارے اور زندگی کے اہم ترجمان یک دل اور یک جان ہو کر سرخرُو ہوئے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس مثبت تعمیری فضا کو برقرار رکھا جائے اور ان قوتوں کی پذیرائی کی جائے جن کے سبب ہمیں سرفرازی کی یہ منزل حاصل ہوئی ہے۔ ہمارے نوجوان، ہماری نسل، ہمارا اثاثہ ہیں۔ انہیں اللہ تعالیٰ کے اس بڑے انعام، اس عظیم نعمت''پاکستان''کی حفاظت کرنی ہے۔ اس کے مستقبل کو خوب سے خوب تر کی طرف لے جانا ہے تاکہ قوموں کی برادری میں پاکستان سربلند و سُرخرو رہے۔اللہ کریم پاکستان کی خوشحالی اور ترقی کے لئے، استحکام اور سربلندی کے لئے جدوجہد کی توفیق عطا فرمائے۔


مضمون نگار نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز کے شعبہ فارسی سے وابستہ ہیں۔
[email protected]
 

یہ تحریر 36مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP