متفرقات

مہمان پنچھیوں کی گم گشتہ جنت۔۔۔ہالیجی جھیل!

ہم بنائیں گے یہاں ساغر نئی تصویرِ شوق
ہم تخیل کے مجدد____ہم تصور کے امام
خدا جانے یہ سندھ ساگر کے پانیوں کا اثر ہے یا شاہ عبداللطیف بھٹائی کی شاعری کا نشہ۔۔۔سندھ دھرتی کی زرخیزی کسی سِم سِم کی مانند کھلتی ہی چلی جاتی ہے۔۔۔ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتی۔۔۔آپ شہرِ قائد سے نکلنے والے پانچ راستوں میں سے کسی پر بھی چل پڑیں، قدرت نے آپ کے لیے ایک سے بڑھ کر ایک شاہکار رکھا ہو گا۔۔۔اب فقط قومی شاہراہ این ۔ پانچ (N-5) کو ہی دیکھ لیں۔۔۔جھیلیں۔۔۔دریا۔۔ قلعے۔۔۔ مٹ چکی۔ تہذیبیں۔۔۔ عجائبات عالم۔۔۔غرض اک کائنات آپ کی منتظر ہوتی ہے۔



روشنیوں کے شہر کراچی سے قریباً چھیانوے کلومیٹر اور سسی کے شہربھنبور سے کم و بیش چھتیس کلومیٹر جبکہ گھارو سے محض چند کلومیٹرکی مسافت پہ۔۔۔ بائیں ہاتھ 685 مربع میل پہ پھیلی اوسطاً سترہ فٹ گہری ایشیا کی تیسری بڑی جھیل ہالیجی جھیل واقع ہے۔۔۔جسے ستر کی دہائی میں بین الاقوامی ادارے کے سروے کے بعد پرندوں کی جنت کا خطاب دیا گیا تھا۔۔۔
ستر کی دہائی کا دور ہالیجی جھیل کا سنہرا دور تھا۔۔۔جب اس کے سر پر سندھ سرکار کا حقیقتاً دست شفقت تھا اور یہ جھیل محکمہ جنگلی حیات سندھ کے زیر انتظام تھی۔۔۔تب یہاں سائبیریا سے نقل مکانی کر کے آنے والے مہمان پرندوں کی تعداد لاکھوں میں ہوا کرتی تھی۔۔۔اور اس جھیل کو مہمان پرندوں کی پسندیدہ آماجگاہ کہا جاتا تھا۔۔۔ 1972 میں اس جھیل کو جنگلی حیات کی سینکچوری کا درجہ دیا گیا۔۔۔اور ایک بین الاقوامی ادارے کے سروے کے مطابق یہاں پرندوں کی 255 اقسام دریافت ہوئیں۔۔۔اور اس سروے کے بعد اس جھیل کو پرندوں کی جنت کا خطاب دیا گیا۔۔۔تب جھیل کے شفاف پانیوں میں مگرمچھوں کی افزائش نسل بھی ہوتی تھی۔
ابتدائی طور پر یہ جھیل برساتی پانی کی چھوٹی سی خوبصورت سی قدرتی جھیل تھی۔۔۔لیکن پھر دوسری جنگ عظیم کی ابتدا ہو گئی۔۔۔ویسے تو جنگیں کبھی خوبصورت نہیں ہوتیں لیکن اس جھیل کو جنگ راس آ گئی۔۔۔دوسری جنگ عظیم میں جب روشنیوں کے شہر کراچی کو فوجی چھائونی میں بدلا گیا تو پانی کی شدید قلت پیدا ہو گئی۔۔۔اوراس قلت کو دور کرنے کے لیے انگریز سرکار کی نظر انتخاب اس ننھی سی برساتی جھیل ہالیجی پہ جا ٹھہری اور یک لخت اس جھیل کا مقدر چمک اٹھا۔۔۔جھیل کی کھدائی کر کے اسے مزید وسعت دی گئی۔۔۔پشتے پکے کروائے گئے۔۔۔اور کینجھر جھیل ٹھٹھہ سے تازہ پانی یہاں چھوڑا گیا جو بعد ازاں کراچی شہر کو سپلائی کیا جاتا۔۔۔جھیل کے گرد پودے لگائے گئے۔۔۔ اور دریائے سندھ کے پانی سے آئی مچھلیوں نے یہاں خوب نشوو نما پائی۔۔۔جب اس جھیل کو سینکچوری بنایا گیا تب سے اس میں ماہی گیری ممنوع ہے۔۔۔جب تک اس پر عمل ہوتا رہا مچھلیاں خوب نشوونماپاتی رہیں۔۔۔جھیل کی دیکھ بھال پر مامور عملے کی رہائش کے لیے ہالیجی کیمپ نامی بستی بسائی گئی۔۔۔انگریز سرکار نے یہاں تک پہنچنے کے لیے ایک چھوٹا ہوائی اڈہ بھی تعمیر کروایا جس پہ چھوٹے جہاز اترتے تھے۔۔۔جھیل کے مغربی حصے میں اس کی باقیات آج بھی موجود ہیں جہاں گوٹھ کے بچے کرکٹ کھیلتے ہیں۔۔۔یہاں محکمہ جنگلی حیات کا دفتر اور ڈسپلے سینٹر بھی ہے جس میں علاقائی جنگلی حیات کے بھس بھرے نمونے رکھے گئے ہیں۔۔۔اور سیاحوں کے لیے ریسٹ ہائوس بھی موجود ہیں۔۔۔پی ٹی ڈی سی کا موٹل بھی موجود ہے۔۔۔جھیل کے اطراف میں چوڑا اور پختہ بند ہے جس پہ درخت بھی ہیں اور اس بند پر چہل قدمی کرتے ہوئے جھیل کے جانور بھی اکثر جھلک دکھلا جاتے ہیں۔۔۔
ایک وقت تھا جب یہ جھیل سرمائی موسم میں ایشیا سے ہجرت کر کے آنے والے مہمان پرندوں کی سب سے بڑی پناہ گاہ مانی جاتی تھی۔۔۔ایک محتاط اندازے کے مطابق پرندوں کی اڑھائی سو اقسام یہاں پائی جاتی تھیں۔۔۔ یہاں کا صاف پانی اور قدرتی ماحول پرندوں کا محبوب تھا، اسی لیے وہ لاکھوں کی تعداد میں غول در غول اس جھیل پہ اترتے اور ہالیجی کے حسن کو چار چاند لگا دیتے۔۔۔اور یکلخت بہار پہ بھی بہار آ جاتی اور بہار آتے ہی سرمائی پرندوں کی ہجرت کا انتظار کرنے کو جھیل کنارے پرندوں کے دیوانے ڈیرے ڈال لیتے۔۔۔وائلڈ لائف فوٹو گرافرز آج بھی اپنے ذوقِ تسکین کی خاطر ہالیجی کے کناروں پہ مہمان پرندوں کی آمد کے منتظر رہتے ہیں۔۔۔لیکن صاف پانی کی عدم دستیابی اور مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث نہ صرف اس جھیل کا قدرتی حسن تباہ ہوا بلکہ سائبیریا سے ہزاروں میل ہجرت کا سفر طے کر کے آنے والے مہمان پرندوں میں بھی شدید کمی واقع ہوئی ہے۔۔۔
ایک وقت تھا کہ پیپل کے درختوں کی چھائوں میں پرندوں کی دلکش چہچہاہٹ کے سنگ جھیل کنارے چلتے ہوئے لوگ جب کشتی رانی کے لیے جاتے۔۔۔تو کشتی کی سیر کے دوران ہالیجی کے شفاف پانیوں کی تہہ پہ اطراف کے درختوں کے سرسرانے سے ارتعاش پیدا ہوتا۔۔۔اور اس شفاف پانی میں کشتی کے مسافروں کا عکس ڈولنے لگتا۔۔۔اورایسا مسحور کن منظر بنتا کہ دیکھنے والے مبہوت ہو جاتے۔۔۔
پھر ایک وقت آیا جب ہالیجی جھیل کے گرد جھاڑ جھنکاڑ کا قد اتنا اونچا ہونے لگا کہ جھیل کا پانی پردہ نشین ہونے لگا۔۔۔جھیل میں مچھلیوں کے بجائے مگرمچھوں کی اس قدر فراوانی ہونے لگی کہ مجبوراً جھیل میں کشتی رانی پر پابندی عائد کرنی پڑی۔۔۔ایک اندازے کے مطابق اس جھیل میں سنہ 2014 تک مگرمچھوں کی تعداد سو کے قریب تھی۔۔۔جو اب محض دو کے قریب رہ گئی ہے۔۔۔اور یہی حالات رہے تو یہ دو مگرمچھ بھی نہ جانے کب داغِ مفارقت دے جائیں۔۔۔!
جھیل کنارے لوہے کے پنجرے لگا کر ایک چڑیا گھر بھی بنایا گیا ہے جس میں کسی زمانے میں سیاحوں کے لیے مور اور دوسرے پرندوں سمیت مگر مچھ بھی رکھے گئے تھے۔۔۔لیکن مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کے سبب یہ پنجرے بھی ویران ہوتے چلے گئے۔۔۔
اور اب یہ حال ہے کہ کچھ عرصہ قبل اس جھیل کی نام نہاد صفائی و بحالی مہم شروع کی گئی ہے۔۔۔لیکن فرصت سے بگاڑی گئی چیزیں بے دلی سے کہاں سنورتی ہیں۔۔۔جھیل کے گرد نئے درخت لگانے کا کام جاری ہے۔۔۔ پرانے درخت عدم توجہی اور سیاحوں کی کم علمی کے سبب بے موت مر گئے۔۔۔حکومت سندھ کو چاہئے کہ بحالی کے اس عمل میں جھیل کے اطراف میں ایک حصہ کھانے پکانے کے لیے مختص کر کے اس میں سیمینٹ یا کنکریٹ کے چولہے بنا دیئے جائیں جیسے راول جھیل اسلام آباد میں بنے ہوئے ہیں تا کہ سیاح حضرات جگہ جگہ آگ جلا کر درختوں اور قدرتی ماحول کو تباہ نہ کر سکیں۔۔۔اور سیاحوں پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ قدرتی ماحول کو تباہ کرنے سے گریز کریں بصورت دیگر اس کا خمیازہ آنے والی نسلوں کو نہ جانے کب تک بھگتنا پڑے گا۔۔۔
تھوڑی سی محنت اور لگن سے یہ جھیل دوبارہ سے مہمان پرندوں اور ملکی و غیر ملکی سیاحوں کی جنت بن سکتی ہے۔۔۔چند سہولیات مہیا کر کے حکومت اس جھیل سے کثیر زرِ مبادلہ اکٹھا کر سکتی ہے۔۔۔جھیل کی صفائی اور جھیل کو صاف پانی کی فراہمی کے علاوہ جھیل پہ آنے والوں کو سکیورٹی اور مناسب قیام و طعام جیسی بنیادی سہولیات کی فراہمی اس جھیل کو سونے کی چڑیا بنا سکتی ہے۔۔۔اور اگر اطراف میں سندھ کی لوک مصنوعات کا مرکز بنا دیا جائے تو سندھی کلچر کی ترویج کے ساتھ ساتھ زر مبادلہ کاذریعہ بھی بنے گا۔
اس جھیل کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ سیاح جھیل پہ پہنچ کر بھی اس کے پانیوں کے لمس سے محروم رہتے ہیں۔۔۔حکومت کو اس بارے میں بھی توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔۔۔جھیل میں نہانے کا نہ سہی کم سے کم پائوں بھگونے کا تو بندوبست ہونا چاہیے۔۔۔کوئی جہاں گرد اتنی لمبی مسافت طے کر کے جھیل پہ آئے تو کم سے کم گرد آلود قدموں سے طویل مسافتوں کی قاتل تھکن اتارنے کو جھیل کے پانیوں کا محبت بھرا لمس تو ہو۔۔۔جھیل پہ پہنچ کر بھی اگر مسافر کی تشنگی نہ بجھے تو سیاح کے دل میں ایک کسک سی رہ جاتی ہے۔
ستر کی دہائی میں رام سر کنونشن کے تحت جن 19 آب گاہوں کو محفوظ آب گاہ کا درجہ دے کر پاکستان نے جن کے یقینی تحفظ کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔  ان میں ہالیجی جھیل بھی شامل ہے۔۔۔اور اب روشنیوں کے شہر کراچی کو صاف پانی مہیا کیے جانے کے منصوبے' کے فور' میں بھی ہالیجی جھیل کوذخیرے کی حیثیت حاصل ہو گی۔۔۔ایک اہم سیاسی رہنما کے حالیہ دورے نے اس جھیل کی قسمت کافی حد تک سنوار دی ہے۔۔۔قریباً چھبیس سال بعد اس جھیل کو صاف پانی کی بحالی کی ابتدا کر دی گئی ہے اور اس سلسلے میں کچھ عرصہ پہلے طویل عرصے بعد تازہ پانی جھیل میں چھوڑا گیا ہے۔۔۔لیکن افسوس اس سب کے باوجود بھی اس سال مہمان پنچھی اس جھیل کنارے نہیں اترے۔۔۔اور ایسا شاید پہلی بار ہوا ہے کہ یہ جھیل مہاجر پرندوں سے اس حد تک محروم ہوئی ہے۔۔۔بہرحال جھیل کنارے سندھ ٹورازم ڈیویلپمینٹ بورڈ کی جانب سے ایک ریسٹ ہائوس بھی تعمیر کیا گیا ہے۔۔۔نئے درخت لگانے اور جھیل کی صفائی کا کام بھی جاری ہے لیکن ابھی اور بہت سے کام کرنا باقی ہیں۔ ||


مضمون نگار کی حال ہی میں کوسٹل ہائی وے پہ 'ہوا کا دروازہ' نامی کتاب شائع ہوئی ہے۔ اس سے قبل ان کی دو کتب دیوسائی اور وطن، فرض اور محبت مارکیٹ میں دستیاب ہیں۔
[email protected]
 

یہ تحریر 21مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP