متفرقات

موبائل فون کا استعمال ۔ احتیاط کے ساتھ

موبائل فون بلاشبہ دور حاضر کی اہم ترین ٹیکنالوجی قرار دی جا سکتی ہے۔ موبائل فون نے انسانی زندگی کا رخ ہی بدل دیا ہے۔ تقریبا 4دہائیوں قبل جب موبائل فون ایجاد ہوا تو یہ اتنا بھاری تھا کہ اس کو بیگ میں رکھنا پڑتا تھا اور قیمت بھی اتنی کہ صرف اُمراء کے پاس ہی ہوتا تھا۔

اوائل 90 کی دہائی تک موبائل فون ہر کسی کی دسترس میں نہ تھا۔پھر دیکھتے ہی دیکھتے موبائل فون انسانی زندگی پر یوں راج کرنے لگا کہ ہر چھوٹے بڑے کے پاس موبائل فون موجود ہے اور ہم اس کے بغیر خود کو ادھورا محسوس کرتے ہیں۔



تاجر سے مزدور تک سب کے پاس مختلف قیمتوں، رنگوں اور کمپنیوں کے فرق کے ساتھ موبائل فون موجود ہے۔ کاروباری سرگرمیاں ہوں یا عزیزو اقارب سے رابطے، موبائل فون کے بغیر روزمرہ زندگی کا جیسے کوئی تصور ہی نہیں ہے۔ موبائل کے استعمال کا رجحان اس قدر زور پکڑ چکا ہے کہ دنیا میں اب انسانوں کی تعدادکم اور موبائل کی تعداد بڑھ رہی ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں تقریبا 13 کروڑ 50 لاکھ شہری موبائل استعمال کرنے والے ہیں۔پاکستان میں درآمد کئے جانے والے موبائل فونز کی مالیت لگ بھگ 21ارب روپے سے زائد ہے۔ پاکستان میں ماہانہ لاکھوں نئی سمیں ایکٹیویٹ کی جارہی ہیں۔ ان اعداد و شمار کی روشنی میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ہمارے لئے روٹی کم اور موبائل فون زیادہ اہمیت اختیار کر گیا ہے۔

یہ ایک مسلّمہ حقیقت ہے کہ کوئی بھی چیز اچھی یا بُری نہیں ہوتی بلکہ اس کا استعمال اسے اچھا یا برا بناتا ہے۔ یہی حال موبائل فون کا بھی ہے جس کی ایجاد نے عام آدمی کی زندگی کو تو آسان بنا دیا لیکن ضرورت کی اس چیز کے غیر ضروری استعمال نے آج ہمیں اخلاقی اور سماجی پستیوں میں دھکیل دیا ہے۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ موبائل فون کی وجہ سے اخلاقی اور سماجی جرائم میں آئے روز  اضافہ ہو رہا ہے۔ معمولی چوری سے لے کر دہشت گردی تک موبائل فون کا استعمال عام ہو چکا ہے۔ موبائل فون کا غلط اور مجرمانہ استعمال ہمارے معاشرے میں بہت سی اخلاق سوز برائیوں اورگھمبیر مسائل کو جنم دے رہا ہے۔

موبائل فون کی فراوانی سے دہشت گردی، اغوا برائے تاوان، راہزنی، ڈکیتی اور چوری جیسے جرائم روز بہ روز بڑھ رہے ہیں۔ موبائل نے ہر شہری کو قیمتی بنا دیا ہے۔ پہلے ایک عام آدمی رات کو جہاں مرضی گھوم پھر سکتا تھا، لیکن آج صورتحال یہ ہے کہ ڈکیتی کرنے والے یہ ضرور جانتے ہیں کہ اس شخص کے پاس اور کچھ ہو یا نہ ہو موبائل فون ضرور ہوگا۔ موبائل چھیننے کے واقعات اس قدر بڑھ چکے ہیں کہ ان کی تعداد گننے میں نہیں ہے۔ اس کے علاوہ دہشت گردی کا ناسور جو پہلے ہی ہمارے ملک کی جڑیں کھوکھلی کرنے کے درپَے ہے، اس موبائل فون کی وجہ سے اس میں بھی شدت اور جدت آگئی ہے۔ ہمارے سکیورٹی ادارے بھی اس بات کی متعدد بار تصدیق کرچکے ہیں کہ موبائل فون دہشت گرد کا ہتھیار بن چکا ہے۔

دہشت گرد موبائل فون کے ذریعے بڑے بڑے دھماکے کرتے رہے ہیں جن میں ان کا تو کوئی نقصان نہیں ہوتا البتہ ایک ہی واقعے میں ہمارے  لوگوں کی درجنوں قیمتی جانیں ضائع ہو جاتی ہیں۔نیز موبائل فون کے ذریعے دہشت گرد اپنے سہولت کاروں کے ساتھ لمحہ بہ لمحہ رابطے میں بھی رہتے ہیں، جیسا کہ ہم نے سانحہ اے پی ایس پشاور اور دہشت گردی کے دیگر کئی واقعات میں دیکھا کہ وہ موبائل فون کے ذریعے افغانستان سے براہِ راست ہدایات وصول کر رہے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ دہشت گردی کے خطرے کی صورت میں موبائل فون سروس بند کردی جاتی ہے۔

موبائل فون کا استعمال ضرورت سے زیادہ فیشن کے طور پر کیا جارہا ہے اور فیشن کے معاملے پر کوئی بھی سمجھوتا کرنے کو تیار نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ ہر شخص دوسرے سے کہیں اچھا اور مہنگا موبائل رکھنے کی کوشش کرتا ہے اور فیشن کی یہ دوڑ معاشی نقصان کا باعث بن رہی ہے۔

موبائل کے استعمال سے جسمانی بیماریوں میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ماہرین کے مطابق موبائل فون کے بلا ضرورت استعمال کی زیادتی کے سبب ذہنی دبائو، نیند میں کمی، دل اور سردرد سمیت کئی دوسری بیماریاں سر اٹھا رہی ہیں۔

موبائل فون کا بے جا استعمال کرنے والے نوجوان ہیں، جو تعلیم سے منسلک ہوتے ہیں۔ موبائل فونز کے مختلف پیکیجز کی وجہ سے رات رات بھر بات کرنے والے نہ صبح وقت پر سکول، کالج پہنچ پاتے ہیں نہ کلاس میں دل جمعی سے پڑھ پاتے ہیں۔ پھر تعلیمی اداروں میں جہاں پر موبائل کے استعمال پر کوئی روک ٹوک یا پابندی نہیں ہے، وہاں طلبہ دوران لیکچر موبائل پر ایس ایم ایس کرنے یا گیمز کھیلنے میں مصروف ہوتے ہیں۔ جس تعلیمی ادارے میں موبائل فون لے کر آنے پر پابندی ہو وہاں طلبہ پڑھائی کے بجائے موبائل کو چھپا کر ایس ایم ایس یا گیم وغیرہ پر اپنا وقت ضائع کر تے رہتے ہیں۔

موبائل فون کے غیر ضروری استعمال سے معاشرے میں فحاشی اور عریانی میں بھی غیرمعمولی حد تک اضافہ ہوا ہے۔ موبائل فونز میں ایک سے زائد سموں کے ساتھ کیمرے، ایم پی تھری اور فور، انٹرنیٹ سمیت کئی دوسری ایسی چیزیں شامل ہوتی ہیں کہ جن کا موبائل سے دور تک کا بھی واسطہ نہیں، لیکن یہ نوجوان نسل کی اخلاقی تباہی کا باعث ضرور بن رہی ہیں۔ مثال کے طور پر ایسے موبائل جن میں کیمرے، آڈیو، ویڈیو اور انٹرنیٹ کی سہولت موجود ہے، اس سے غیر اخلاقی ویڈیوز اور کالز ریکارڈنگ کر کے مطلوبہ افراد کو بلیک میل کرکے ناجائز مطالبات منوائے جاتے ہیں۔ فون پر اپنی شناخت چھپا کر بات کرنے سے ایسے ایسے اخلاق سوز واقعات پیش آتے ہیں کہ راز افشا ہونے پر لوگ خودکشی تک چلے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ فحش قسم کی تصویریں اور ویڈیو کلپس سے بھی معاشرے پر برے اثرات مرتب ہورہے ہیں۔

موبائل فون کے غلط استعمال کی اور بھی بہت سی خرابیاں ہیں، ان نقصانات سے بچنے کے لئے کچھ ایسی تدبیریں اختیار کرنا ضروری ہیں جن کی بناء پر ہم اپنی ضرورت کی اس اہم ایجاد کو استعمال تو کریں مگر اس کے معاشرے پر پڑنے والے برے اثرات سے بھی بچا جاسکے۔ اس مقصد کے لئے ہمیں عوامی، حکومتی اور موبائل کمپنیوں کی سطح پرکام کرنا پڑے گا، کیونکہ اصلاح احوال کی ضرورت کو پس پشت ڈالنے والے معاشرے کبھی پائندہ اور تابندہ نہیں رہتے۔ عوامی سطح پر والدین کی ذمے داری بنتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو موبائل فون دینے سے پہلے اس بات کا ضرور خیال رکھیں کہ آیا ان کے بچوں کو واقعی موبائل کی ضرورت ہے۔

والدین اور اساتذہ کو نوجوان نسل کو سیل فون اور دیگر ٹیکنالوجیز کے مثبت اور منفی استعمال سے بھی آگاہ کرنا چاہئے۔ اس کے علاوہ نوجوان اپنے وقت کو موبائل کی فضول کالوں اور غیر اخلاقی حرکات سے ضائع نہ کریں۔ بلکہ اپنی مکمل توجہ اپنی تعلیم یا ادارے کے امور پر مرکوز رکھیں تاکہ مہنگائی اور کرپشن کے اس دور میں کم از کم اپنے بڑھتے اخراجات پر قابو پایا جاسکے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ منفی سر گرمیوں سے دور رکھنے کے لئے نوجوانوں کو مثبت اور تعمیری مشاغل میں مصروف رکھنا انتہائی ضروری ہے۔دوسری جانب حکومتی سطح پر سکیورٹی اداروں کو موبائل فون کے غلط استعمال کو ختم کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ موبائل سم کے اجرا کیلئے بائیو میٹرک کی طرح کچھ سخت شرائط عائد کی گئیں ہیں۔ اس ضمن میں وزارت داخلہ اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن نے کچھ اقدامات کئے ہیں، جو خوش آئندہ ہیں۔پی ٹی اے کی ہدایت پر ملک بھر میں دکانوں پر سموں کی فروخت بند کر دی گئی ہے جس کے باعث پاکستان کی موبائل کمپنیوں کی سموں کی فروخت میں کمی آئی ہے۔

روزانہ کی بنیاد پر پہلے جتنی سمیں فروخت ہوتی تھیں، وہاں اب ان کی فروخت تقریبا نصف ہوگئی ہے۔ کمپنیوں کی طرف سے مختلف اقسام کے پیکیجزکے ذریعے لوگوں کو موبائل فون کے زیادہ استعمال کی ترغیب کے رجحان کو بھی مانیٹر کرنے کی اشد ضرورت ہے اس کے ساتھ ساتھ ایس ایم ایس بنڈلز جیسے پیکیجز بھی موبائل فون کے استعمال میں زیادتی کو فروغ دے رہے ہیں۔ آج بھی دنیا بھر میں پاکستان کے علاوہ تقریبا سبھی ترقی یافتہ ممالک میں ٹیلی فون کی ان کمنگ کال اور ایس ایم ایس پر کوئی سبسڈی نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک عام صارف کسی انجانے نمبر سے آئے ہوئے ایس ایم ایس کو کھولنے سے پہلے سوچتا ضرور ہے۔ پاکستان میں بھی موبائل کمپنیوں کو اس معاشرے کے امن اور سکون کے لئے اپنا بھر پور کردار ادا کرنا ہوگا۔

یہ تحریر 199مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP