صحت

موبائل فون ٹاورزکے منفی اثرات

موبائل فون دورِ جدید کی اہم ایجادات میں سے ایک ایسی ایجاد ہے جس نے انسانی زندگی کا رخ یکسر تبدیل کر کے رکھ دیا ہے ۔ اطلاعات ، معلومات اور پیغام رسانی میں ایک ایسا انقلاب بپا کیا ہے جس نے دنیا بھر کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اور دنیا میں جس رفتار سے موبائل فون کا استعمال بڑھ رہا ہے  اس سے منسلک خدشات اور خطرات بھی بہت واضح ہو رہے ہیں ۔
جب ہم اپنے موبائل فون سے کوئی کال ملاتے ہیں تو ریڈیو فریکوئنسی کے ذریعے ہمارا فون اس کال کا سگنل موبائل فون کے قریبی ٹاور تک پہنچا دیتا ہے ۔ جہاں سے وہ دوسرے ٹاور کو منتقل ہوتا ہے اور پھر اس سے اگلے ٹاور پر۔ اس طرح کال سفر کرتی ہوئی ہمارے مطلوبہ فون تک پہنچتی ہے ۔ 
ماہرین کے مطابق موبائل فون سے خارج ہونے والی برقی لہروں سے کینسر سمیت مختلف موذی امراض میں مبتلا ہونے کے امکانات بڑھ رہے ہیں۔ یہ برقی لہریں جتنی طاقتور ہوںگی اور جتنی دیر تک انسان ان  لہروں کی حدود میں رہے گا، صحت پر اس کے منفی اثرات مرتب ہونے کے امکانات بھی بڑھتے جائیں گے ۔تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ انسانی دماغ موبائل فون سے خارج ہونے والی لہروں کے بارے میں بہت حساس ہوتا ہے ۔اور یہ لہریں بچوں ، بزرگوں ، حاملہ خواتین اور پہلے سے کسی بیماری میں مبتلا شخص پر، ان کے جسم کا مدافعتی نظام کمزور ہونے کی وجہ سے زیادہ اثرانداز ہوتی ہے ۔ تحقیق کے مطابق موبائل فون سے جو شعاعیں نکلتی ہیں ، انہیں ہمارا دماغ برداشت نہیں کرسکتا ہے ان برقی لہروں کے اثرات پورے انسانی جسم اور جسمانی خلیات پر ہوتے ہیں ۔
ماہرین کے مطابق زیادہ تراسمارٹ فونز میں ریڈیو فریکوئنسی ، بلیو ٹوتھ اور وائی فائی ٹرانسمیٹر نصب ہوتے ہیں اور جب یہ تینوں ایک جگہ اور ایک ساتھ کام کر رہے ہوتے ہیں تو ان سے خارج ہونے والی برقی لہریں مقرر کردہ حدود سے کئی گنا بڑھ جاتی ہیں ۔
 سائنسدانوں کے مطا بق موبائل فون ٹاور ز کے سامنے سو میٹر تک کوئی جاندار نہیں ہونا چاہئے ۔ مگر ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کے صوبہ پنجاب میں تقریباََ بیس ہزار موبائل فون ٹاورز میں سے سولہ ہزار ٹاورز محکمہ ماحولیات اور انتظامیہ کی اجازت کے بغیر نصب کئے گئے جبکہ پنجاب لینڈ رولز 2009 ء کے تحت موبائل کمپنیاں صرف کمرشل مقام پر ٹاور نصب کر سکتی ہیں ۔ اسی طرح وفاقی حکومت کے ماحولیات ایکٹ کے مطابق دن کے وقت فون ٹاورز کے جنریٹرز کا شور65 ڈیسیبل اور رات کے وقت 50 ڈیسیبل سے زیادہ نہیں ہونا چاہئے جبکہ موبائل کمپنیوں کے جنریٹرز کم از کم 70 ڈیسیبل شور پیدا کرتے ہیں ، جو بے حد خطرناک صورتحال ہے اور انسانوں کے اعصاب پر بے حد برے اثرات مرتب کر رہی ہے ۔
 اس کے علا وہ ٹیلیفون کمپنیوں کے ٹاورز کی تعداد میں اضافے سے لوگوں میں مختلف بیماریاں لاحق ہورہی ہیں ۔ شہری علاقوں میں اونچی عمارتوں پر نصب یہ ٹاورز تابکاری اثرات خارج کر تے ہیں جس سے شہریوں کو مختلف جسمانی مسائل کے ساتھ اعصابی اور نفسیاتی مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑرہا ہے ۔ ایک تحقیق کے مطابق ان تابکاری شعاعوں سے  بینائی کے متاثر ہونے کا خدشہ بھی رہتا ہے ۔ ایک سائنسی رپورٹ کے مطابق ان مقناطیسی لہروں سے خواتین میں حمل کے ضائع ہونے کے امکانات میں بھی اضافہ دیکھا گیاہے ۔
موبائل فون ٹاور کی مضر صحت شعاعوں کی وجہ سے نزدیک رہنے والے لوگوں میں بے خوابی ، سردرد، سرچکرانے ، جوڑوں کے درد، دل کے پیچیدہ امراض ، یادداشت میں کمی اور سرطان جیسے امراض پیدا ہو جا تے ہیں ۔ 
خطرناک بات تو یہ ہے کہ موبائل فون کے مقابلے میں موبائل فون ٹاور ز زیادہ تابکاری خارج کر رہے ہیں جو موبائل فون کی شعاعوں سے زیادہ مسلسل اور طاقتور ہیں جس کی وجہ سے ان سے براہ راست متاثر ہونے والوں کی تعداد میں آئے دن اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے کیونکہ جو افراد موبائل فون استعمال نہیں کرتے ہیں وہ بھی ان تابکاری شعاعوں کی زد میں آجاتے ہیں ۔
موبائل فون کے ٹاورز نصب کرنے کے لئے کچھ قوانین وضع کئے ہوئے ہیں جن کے مطا بق موبائل فون کے ٹاورز شہری علاقوں سے دور نصب کئے جانے چاہئیں تا کہ انسان اس کے مضر اثرات سے محفوظ رہ سکیں۔ مگر اس قانون کے برعکس آج کل ہر گلی اور گھروں کی چھتوں ، خالی پلاٹوں ، حتیٰ کہ کھیتوں تک میں موبائل فون کے ٹاورز نصب کئے جارہے ہیں جو کہ اب ایک کاروبار اور پیسے کمانے کا ذریعہ بن چکا ہے ۔ 
صحت کے لئے خطرے کے امکانات کے باوجود موبائل فون آج کل سب کی بنیادی ضرورت بن چکا ہے اور آج کے ترقی کرتے ہوئے عہد کی ایک اہم ضرورت بھی ہے اورآنے والے دنوں میں اس کے استعمال میں مزید اضافہ ہی ہو گا تو اس کے لئے ہم چند احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہو ئے صحت کے لئے نقصان دہ اس خطرناک عفریت کو نمایاں طور پر کم کر سکتے ہیں ۔
ہمیں اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ملک بھر میں تمام متعلقہ اداروں کوموبائل فون کے ٹاورز سے خارج ہونے والی مقناطیسی لہروں کی سنگینی کو مد نظر رکھتے ہوئے ایسے ضا بطے بنانے چاہئیں جس میں اولین طور پر شہریوں کی صحت کو مدنظر رکھا جائے اور محلوں ، گھروں کی چھتوں اور تمام شہری علاقوں میں فون کمپنیوں کے ٹاورز سے ہونے والے ممکنہ نقصانات کے بارے میں عوام الناس کو آگاہی فرا ہم کی جانی چاہئے اور ان ٹاورز کو شہری آبادی سے دور منتقل کیا جائے۔ 


مضمون نگار دادا بھائی انسٹیٹوٹ آف ہا ئر ایجوکیشن کے ساتھ وابستہ ہیں اورمختلف اخبارات کے لئے لکھتی ہیں۔
 [email protected]

یہ تحریر 360مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP