قومی و بین الاقوامی ایشوز

مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ۔۔۔ عالمی میڈیا میں طوفان

5اگست کو بھارت کی نریندر مودی حکومت نے آئین کی شق 370 کے خاتمے کا اعلان کرکے مقبوضہ جموں وکشمیر کی نیم خودمختار حیثیت ختم کردی اور اس طرح ریاست جموں و کشمیرکو دو ٹکڑے کردیا گیا جس میں ایک کا نام جموں و کشمیر اور دوسرے کا لداخ ہوگااور یہ دونوں علاقے براہ راست مرکزی حکومت کے زیرکنٹرول آجائیں گے۔ اسی طرح آرٹیکل 35-Aکے خاتمے کے ساتھ کشمیریوں کو تعلیم، ملازمتوںا ور جائیدادوں کی مد میں حاصل خصوصی حقوق بھی منسوخ کردئیے گئے۔ سخت کرفیو کے دوران زبردستی نافذ کئے گئے بھارتی حکومت کے اس فیصلے پر نہ صرف مقبوضہ کشمیر بلکہ پاکستان، پوری دنیا اور خود بھارت میں بھی شدید تنقید ہورہی ہے ۔ عالمی میڈیا، ماہرین اورخود بھارتی سیاستدان اور صحافی اس فیصلے کو مودی حکومت کی تاریخی غلطی اور سنگین جرم قرار دے رہے ہیں جنہوں نے اپنی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی مدرتنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کی بنیادپرست ہندو قوم پرستانہ اہداف کے تعاقب میں اپنے ملکی آئین سے کھلواڑ کرکے نہرو کے نام نہاد سیکولر بھارت کے تابوت میں تقریباً آخری کیل ٹھونک دی۔ 



بھارتی حکومت کے اس ظالمانہ فیصلے پر پوری دنیا کے میڈیا نے افسوس کا اظہار کیا ہے اور تنقیدی اداریے اور مضامین چھاپ کر مقبوضہ کشمیر میں روا رکھے جانے والے بھارتی مظالم کا پردہ ایک بار پھر چاک کردیا ہے۔
 معروف امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنے اداریے میں لکھا ہے کہ سخت کریک ڈاؤن کے ساتھ کشمیر کی نیم خودمختار حیثیت کے خاتمے کا بھارتی حکومت کا فیصلہ غلط اور خطرناک ہے ۔اس کے بعد خونریزی یقینی ہے اور پاکستان کے ساتھ تنائو میںبھی اضافہ ہوگا۔بھارتی حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس نے یہ قدم دہشت گرد حملوں سے بچنے کے لئے اٹھایا ہے۔ لیکن وزیراعظم نریندر مودی اور ان کی برسراقتدار جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی، جس کی جڑیں ہندوقوم پرست نظریے میں پیوست ہیں، بھارتی آئین میں مسلم اکثریتی کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والی شقوں کے خاتمے کے اپنے ارادے کو طویل عرصے سے ظاہر کررہے تھے۔ بھارتی حکومت کو معلوم ہے کہ اس کا فیصلہ کتنا اشتعال انگیز ہے ، اس لئے اس نے اعلان کرنے سے قبل دسیوں ہزار مزید فوجی کشمیر بھیجے ، بڑی سیاسی شخصیات کو گھروں میں نظربند کیااورسکول اور انٹرنیٹ سروسز بند کردیں۔
 ایک اور سرکردہ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے بھارتی حکومت کے اس فیصلے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ''سوموار کا دن کشمیر پر بھارت کے طویل قبضے میں ایک تباہ کن ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا''۔اخبار نے مزید لکھا کہ جیسا کہ کئی بھارتی تاریخ دانوں اور ماہرین آئین نے واضح کیا ہے، یہ فیصلہ غیرآئینی ہے۔فیصلے سے چار روز قبل کشمیری عوام خوف اوراپنے مستقبل کے بارے میں غیریقینی صورتحال سے دوچار تھے،یہاں تک کہ جب یہ اعلان کیا گیا توموبائل اور انٹرنیٹ سروسز معطل کرکے کشمیریوں کو مکمل اندھیرے میں رکھا گیا۔ اخبار نے سوال اٹھایا کہ کیا دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اس طرح چلتی ہے؟اخبار کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے ظاہر ہوا کہ بھارت تیزی سے ایک آمریت پسند ملک بنتا جارہا ہے جسے صرف اپنی توسیع اور طاقت حاصل کرنے میں دلچسپی ہے۔
معروف خبررساں ادارے 'الجزیرہ' نے اس بھارتی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ بھارت میں ہر کشمیری کے تحفظ کے بارے میں خوفزدہ ہونے کی وجہ موجود ہے ۔ بھارتی حکومت کا یہ فیصلہ نہ صرف ہندو اکثریتی ملک کی جانب ایک قدم ہے بلکہ اس نے پاکستان اور باقی دنیا کے سامنے بھی آستینیں چڑھالی ہیں۔
معروف اخبار دی گارجین نے بھارتی فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ بھارت کا کشمیریوں کے ساتھ حالیہ برتاؤاس راستے کی واضح عکاسی کرتا ہے جس پر ایک ہندو قوم پرست رہنما نریندر مودی چلنا چاہتے ہیں ۔ وہ ایک ایسا ملک چاہتے ہیں جہاں ہندوؤں کو برتری حاصل ہو گی اور ہرقسم کے مباحثے، اختلاف رائے اور مخالف الرائے شخص کو کچلا جائے گااورمسلمانوں کو خصوصی طور پر محکوم بنایا جائے گا ۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے بھی اس صورتحال پر تبصرہ کیا اور اپنی رپورٹ میں کہا کہ مودی حکومت نے بھارت کے کمزور وفاقی ڈھانچے پر کاری ضرب لگا دی ہے ۔ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے لئے مقامی آبادی اور سیاستدانوں سے مشورہ نہیں کیا گیا، کشمیر جیسا اقدام بھارت کے وفاقی نظام پر بدنما داغ ہے۔امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے بھی مقبوضہ کشمیر میں طویل کرفیو پر تنقید کرتے ہوئے امریکی حکومت سے مطالبہ کیاہے کہ وہ بھارت سے مقبوضہ کشمیر میں آزادی اظہار پر لگی پابندیاں ہٹوائے۔مقبوضہ کشمیر میں ہر جگہ فوج تعینات ہے، لوگوں کو گھروں سے نکلنے کی اجازت نہیں ہے اور کشمیری میڈیا بند ہونے کی وجہ سے لوگوں کو صحیح معلومات نہیں پہنچ رہیں۔
 ممتاز اخبار لاس اینجلس ٹائمز نے بھی بھارت کو آڑے ہاتھوں لیا اوراپنے ایک مضمون میں لکھا کہ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرکے بھارت نے نازک خطے کو تنائو اور تشدد کے خطرے سے دوچار کردیا ہے۔ وادی میں اجنبیوں کو جائیدادیں خریدنے کی اجازت دینا اسرائیلی حکومت کی جنگ میں قبضہ کئے گئے علاقوں میں یہودی آبادکاروں کی حوصلہ افزائی کرنے کی یاد دلاتا ہے۔
 اس کے علاوہ معروف جریدے فارن پالیسی نے بھی خبردار کردیا ہے کہ نئی دہلی کا کریک ڈاؤن خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرسکتا ہے۔پاکستان کے معتبر روزنامے ڈان نے اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ بی جے پی کے بھارتی آئین میں دئیے گئے کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے عاقبت نااندیش اور خطرناک فیصلے نے برصغیر میں کشمکش میں بہت اضافہ کیا ہے۔ درحقیقت، بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے گرد جمع سخت گیر اورکٹر ہندوساتھیوں نے انہیں عالمی رائے عامہ مسترد کرنے پر مائل کیا ،جو کشمیر کو مکمل طور پر ایک متنازعہ علاقہ سمجھتا ہے، اور انھوں نے مودی کو مقبوضہ علاقے کو انڈین یونین میں ضم کرنے کے اس تباہ کن راستے پر ڈال دیا ۔طاقت اور جاہ طلبی کے نشے میں چور بھارتی اسٹیبلشمنٹ نے معمولی سیاسی فائدوں کے لئے آگ سے کھیلنے کا خطرہ مول لینے کافیصلہ کرلیاہے۔
بھارتی فیصلے کی نوعیت پر خود بھارت میں بھی تنقید ہورہی ہے۔فیصلے سے قبل کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے بھارتی ریسرچ تھنک ٹینک Observer Research Foundation (ORF)نے لکھا کہ مودی حکومت جموں و کشمیر ریاست کے معاملے میں نہایت تیزی سے کام لے رہی ہے ، جو کسی کو، حتی کہ اپنے اتحادیوں کو، بھی اعتماد میں نہیں لے رہی۔ اپوزیشن کو حساس ریاست میں جاری کارروائیوں کے بارے میں اندھیرے میں رکھا گیا ہے ،حتی کہ این ڈی اے میں برسراقتدار جماعت کے اتحادیوں کو بھی کچھ علم نہیں ہے کہ کیا ہورہا ہے۔تھنک ٹینک نے خبردار کردیا کہ مقبول رائے عامہ کو وقتی طور پر دبادینا ممکن ہے ،لیکن اس بارے میں صرف قیاس ہی کیا جاسکتا ہے کہ اس سے ریاست میں طویل المعیاد امن قائم ہوجائے گا۔
واضح ہورہا ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر کے جبری الحاق کے لئے ہر قسم کے ظالمانہ ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے۔ فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کی خاطر وادی میں نافذ کئے گئے کرفیو کے صرف پہلے دو ہفتوں میں  4ہزار کشمیریوں کو گرفتار کیا گیا ،بیش تر کشمیریوں کو مقبوضہ وادی سے باہر قید کیا گیا ۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے مقبوضہ وادی میں کرفیو کے نام پرعائد ہونے والی پابندیوں کے بھارتی مظالم کا پردہ چاک کرتے ہوئے 6 1اگست کو رپورٹ دی کہ وادی میں کرفیو کی وجہ سے ادویات کی قلت ہوگئی جس کے بعد میڈیکل اسٹورزکے مالکان نے شہریوں کو صاف کہہ دیا کہ اب بیمار مت ہوں کیونکہ ادویات ختم ہوگئی ہیں۔رپورٹ کے مطابق ایک طرف میڈیکل سٹور مالکان ادویات لانے کے لئے باہر نہیں نکل سکتے تو دوسری طرف انٹرنیٹ کی بندش کی وجہ سے دوسرے علاقوں سے ادویات آن لائن منگوانے کا سلسلہ بھی منقطع ہوگیاہے جس کی وجہ سے ادویات کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے۔
 ڈاکٹرزکے مریضوں سے رابطے کٹ چکے ہیں،بینک بند ہونے کی وجہ سے اے ٹی ایم بندہوئے اور شہریوں کے پاس موجودپیسے ختم ہوگئے  ۔ذیابیطس کے مریض بھی انسولین نہ ملنے کی وجہ سے شدید اذیت میں مبتلا ہوچکے ہیں۔ علاوہ ازیں 8 1اگست کو معروف آسٹریلوی صحافی سی جے وارلیمن نے مقبوضہ کشمیر کی کشیدہ صورتحال پر اپنے تحقیقی کالم میں انسانیت سوز مظالم اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے ہولناک اعدادوشمار پیش کئے۔ انھوں نے تحریر کیا کہ اس وقت مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں کی تعداد 8لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے یعنی ہر دس کشمیریوں پر ایک بھارتی فوجی اہلکار مسلط ہے، اتنی تعداد میں تو فوجی جنگ زدہ عراق، افغانستان اور غزہ میں بھی تعینات نہیں ۔ فوجی افسران اور اہلکاروں کی جانب سے عصمت دری کے واقعات میں اضافہ ہوگیا ہے،23فروری 1993کی رات 80خواتین کی عصمت دری کی گئی تھی۔آسٹریلوی صحافی نے مزید لکھا کہ مقبوضہ کشمیر کے مختلف علاقوں سے چھ ہزار سے زائد قبریں برآمد ہوئی ہیں جن میں اجتماعی قبریں بھی شامل ہیں ، یہ قبریں زیادہ تر ماورائے عدالت قتل کئے گئے نوجوانوں کی ہیں ۔7ہزار سے زائد نوجوانوں کو زیرحراست شہید کیا جاچکا ہے۔ بھارتی فوج کے مظالم اور گھٹن زدہ ماحول کی وجہ سے 49فیصد کشمیری بزرگ ذہنی امراض میں مبتلا ہوگئے ہیں،جبکہ بیواؤں کی تعداد بھی ہزاروں میں ہے۔ 80ہزار سے زائد بچے یتیم ہوچکے ہیں۔ 
واضح رہے کہ بھارتی حکومت کے اس فیصلے کے خلاف بھارت کے اندر سے بھی شدید آوازیں اٹھ رہی ہیں اور اسے تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ ممتاز بھارتی مصنفہ ارون دھتی رائے نے کشمیر میں عائد ظالمانہ کرفیو کے بارے میں کہا ہے کہ کشمیر پر چھائی موت کی خاموشی تمام آوازوں سے بلند ہے ، کرفیو کے خاتمے کے بعد مقبوضہ کشمیر میں بہت کچھ ہوگا، ردعمل میں بھارتی مسلمانوں کو خطرہ ہوسکتا ہے۔ بھارتی حکومت بدمعاش ہوچکی ہے، کشمیر پر فیصلے کا جشن چھچھورے انداز میں منایا جارہا ہے۔ وزیراعلیٰ ہریانہ کے کشمیری خواتین سے متعلق ریمارکس گھٹیا ہیں،اب مودی کے ظالمانہ اقدامات کے خلاف بھارت میں بھی آوازیں اٹھنے لگی ہیں۔ کشمیریوں کو پنجرے میں بند کردیا گیا ہے ، لوگوں کو بے عزت کیا جارہا ہے، کمیونی کیشن بلیک آؤٹ ہے۔ انتہا پسند آرایس ایس کے چھ لاکھ اہلکار مودی سمیت تربیت یافتہ ملیشیا ہیں۔
 بھارت میں اپوزیشن جماعتوں نے بھی اس فیصلے پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ بھارت کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت کانگریس نے اس فیصلے کو ایک تباہ کن قدم قرار دے دیا ہے۔ واضح طور پر نظر آرہا ہے کہ مودی حکومت کی مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کرنے کا فیصلہ ہر لحاظ سے غلط، خطرناک اور ظالمانہ ہے جس پر ہر طرف سے سخت تنقید ہورہی ہے۔ وقت آگیا ہے کہ عالمی برادری اور اقوام متحدہ کا ادارہ سلامتی کونسل اس معاملے پر سخت ایکشن لیں اور مسئلہ کشمیر کا تصفیہ کرنے کی سنجیدہ کوشش کرکے اس خطے اور پوری دنیا کو بڑی تباہی سے بچالیں ۔پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ کے منڈلاتے بادل کسی کے مفاد میں نہیں ہیں۔


مضمون نگار ایک معروف صحافتی ادارے کے ساتھ وابستہ ہیں۔
 [email protected]

یہ تحریر 118مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP