قومی و بین الاقوامی ایشوز

مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے حالیہ اقدامات اور چین کے تحفظات

5  اگست کو بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی کی حکومت نے مقبوضہ ریاست جموں و کشمیرمیں بھارتی آئین کے تحت ریاست کو حاصل محدود خود مختاری سے محروم اور اسے دو حصوں میں تقسیم کرکے اس کی حیثیت تبدیل کرنے کا جو اقدام کیا ہے، اس پر دُنیا بھر میں تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے۔لیکن اس فیصلے پر چین کی طرف سے جو ردِعمل سامنے آیا ہے اُس کی نوعیت اور معنویت الگ ہے۔ پہلی بات یہ ہے کہ چین نے اپنا ردِ عمل ظاہر کرنے میں دیر نہیں لگائی۔5 اگست کو بھارتی اقدام کے چند گھنٹوں کے اندر چینی وزارتِ خارجہ کی طرف سے ایک سخت بیان جاری کیاگیا جس میں کہا گیا کہ ریاست جموں و کشمیرکی حیثیت تبدیل کرنے کا بھارتی اقدام نہ صرف یک طرفہ ہے بلکہ اس سے چین کی علاقائی خود مختاری کی بھی خلاف ورزی ہوئی ہے۔9اگست کو وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کی بیجنگ میں اپنے چینی ہم منصب وانگ ژی کے ساتھ طویل ملاقات کے بعد بھی چین کا مؤقف کم وبیش پہلے جیسا ہی تھا۔ ملاقات کو پاکستانی وزیرخارجہ نے اطمینان بخش قرار دیاتھا اور کہا کہ چین نے ہر قدم پر پاکستان کا ساتھ دینے کا وعدہ کیا ہے۔ اس پر بھارتی وزیرِ خارجہ جے شنکر بھاگم بھاگ بیجنگ پہنچے اور15اگست کواپنے چینی ہم منصب سے ملاقات کرکے بھارتی مؤقف کی وضاحت کی۔ اس ملاقات کے بعد جو مشترکہ بیان جاری کیاگیا، اس میںاگرچہ چین کی طرف سے دونوں ملکوں کو ایسے اقدامات سے باز رہنے کی تلقین کی گئی تھی جن سے حالات مزید خراب ہونے کا اندیشہ ہو۔ تاہم جے شنکر کی چین سے وطن واپسی پر بھارتی میڈیا میں جو تبصرے شائع ہوئے ان کے مطابق چین بھارت کی وضاحت سے مطمئن نہیں ہوا تھا۔ بلکہ اُس نے اپنا مؤقف دہراتے ہوئے  بھارتی وزیرِ خارجہ پر واضح کیا کہ چین کے نزدیک بھارت کے اقدام سے جنوبی ایشیا میںنہ صرف کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے بلکہ چینی مفادات کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
چین کی طرف سے جموں و کشمیر میں بھارتی حکومت کے اقدام پر سنگین تحفظات ظاہر کئے گئے ہیں، اُن کی دو وجوہات ہیں۔ ایک یہ کہ چین کو خدشہ ہے کہ اقصائے چِن (Aksai Chin) پر چین اور بھارت کے درمیان جو تنازعہ چلا آرہا ہے، بھارتی حکومت نے اُسے کشمیر اور لداخ کو دویونین ٹیرٹریز قرار دے کر اپنے حق میں متاثر کرنے کی کوشش کی ہے۔ اقصائے چن، ریاست جموں وکشمیر کے شمال مشرقی علاقے میں ایک خطہ ہے۔ جس کارقبہ ریاست جموں و کشمیر کے کل رقبے (86000مربع میل) کے 20 فیصد حصے پر مشتمل ہے۔ چین نے1962 کی چین بھارت جنگ کے دوران اس پر قبضہ کیا تھا۔ لیکن بھارت اسے مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر کا حصہ قرار دے کر اس کی ملکیت کا اب بھی دعوے دار ہے۔ اس علاقے میں چین اور بھارت کے درمیان عارضی سرحد جسے دونوںملک لائن آف 'ایکچوئل' کنٹرول کہتے ہیں، کی خلاف ورزیوں کے الزامات کا تبادلہ ہوتا رہتا ہے اور بعض اوقات آمنے سامنے بلکہ تصادم کے خطرے کی بھی صورتِ حال پیدا ہوجاتی ہے۔ اسی قسم کی صورتِ حال اپریل 2015 میں پیدا ہوگئی تھی۔ جب بھارتی دعووں کے مطابق چینی فوج کا ایک دستہ مبینہ طور پر لداخ میں گھُس آیا تھا۔ لیکن  پیشتر اس کے کہ دونوں ملکوں کے فوجی دستوں میں کوئی جھڑپ ہوتی۔ چینی فوجیوں نے وہ علاقہ خالی کردیا۔ یاد رہے کہ اُسی برس پاکستان اور چین نے پاک چین اکنامک کاریڈور، سی پیک پر دستخط کئے تھے۔ مقبوضہ کشمیر میں حالیہ بھارتی اقدام پر چین کی طرف سے شدید تحفظات کی دوسری وجہ سی پیک کو لاحق خطرہ ہے۔کیونکہ یہ کاریڈور گلگت بلتستان سے گزرتا ہے۔ جسے بھارت ریاست جموں و کشمیر کا حصہ قرار دے کر اپنا علاقہ سمجھتا ہے۔ جب پاکستان اور بھارت کے درمیان2015 میں سی پیک پر ستخط ہوئے تھے تو بھارت نے اس پر اسی وجہ سے اعتراض کیا تھا اور اب تک بھارت نے چین کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے(BRI) میں اس لئے شرکت نہیںکی کیونکہ بھارت اسے چین کی طرف سے اس کے گرد گھیرا ڈالنے کی کوشش کے مترادف سمجھتا ہے۔ جبکہ سی پیک جس میں چین کی طرف سے گوادر سے چینی صوبے سنکیانگ تک ریل روڈ کی تعمیر اور توانائی  کے منصوبوں کے  قیام پر 60ارب ڈالر سے زیادہ سرمایہ کاری کی گئی ہے۔ چین کی طرف سے قدیم شاہراہِ ریشم کو دوبارہ بحال کرنا بھی اس منصوبے کا حصہ ہے۔ اور چین اس کے تحفظ اور مکمل تعمیر کو بہت زیادہ اہمیت دیتا ہے۔ اس لئے چین کی کوشش ہے کہ مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر میں بھارتی اقدام کو نہ صرف یک طرفہ ثابت کیا جائے جس کے تحت بھارت نے دیگر فریقین یعنی چین اور پاکستان کے مفادات کو نظر انداز کیا ہے بلکہ یہ بھی ثابت کیا جائے کہ کشمیر بدستور  ایک متنازعہ مسئلہ ہے جس میں پاکستان ایک اہم فریق ہے ،اور ریاست میں بھارت کا حالیہ اقدام اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورت حال بھارت کا اندرونی مسئلہ نہیں ہے۔ اسی بناء پر چین نے پاکستان کی طرف سے بھارت کے موجودہ اقدام کو اقوامِ متحدہ میں اٹھانے کے اقدام کی حمایت کی ہے اور اس مقصد کے لئے سلامتی کونسل بلانے کی تجویز چین ہی کی طرف سے پیش کی گئی تھی۔ اگرچہ سلامتی کونسل کا یہ اجلاس غیر رسمی تھااور اس میں ممبر ممالک نے آپس میں صرف مشاورت کی، مگر چین کی طرف سے سلامتی کونسل کے اجلاس کے بعد ایک باقاعدہ بیان جاری کرنے پر اصرار ظاہر کرتا ہے کہ چین مقبوضہ جموں وکشمیر کی صورت حال پر سلامتی کونسل کے اجلاس کو محض رسمی صلاح مشورے تک محدود نہیں رکھنا چاہتا۔ بلکہ اس پر کونسل کی طرف سے کسی ٹھوس اقدام کا خواہش مند ہے تاکہ بھارت مسئلہ کشمیر کو پُرامن طریقے سے اور پاکستان کے ساتھ بات چیت کے ذریعے اقوامِ متحدہ کی متعلقہ قرار دادوں اور دوطرفہ معاہدات کے مطابق حل کرنے پر مجبور ہوجائے۔ جنوبی ایشیا میں چین کے معاشی اورسٹریٹجک مفادات صرف سی پیک تک محدود نہیں ہیں۔ ان میں خود بھارت کے ساتھ دوطرفہ تجارت کا بھاری حجم اور پاکستان کے علاوہ خطے کے دیگر چھوٹے بڑے ممالک مثلاً نیپال،بنگلہ دیش اور سری لنکا انفراسٹرکچر اور معیشت کے دیگر اہم شعبوں میں چین کی بھاری سرمایہ کاری بھی شامل ہے۔ سال2016-17 کے اعداد و شمار کے مطابق چین اور بھارت کی دوطرفہ تجارت اول الذکرکی مؤخر الذکر کو61.3 بلین ڈالر کی برآمدات اور مؤخر الذکر کی اول الذکر کو10.2 بلین ڈالر کی برآمدات پر مشتمل  ہے۔ ظاہر ہے کہ چین خطے میں کسی بڑے تصادم کی اجازت دے کر اپنے اہم معاشی تجارتی مفادات کو خطرے میں نہیںڈال سکتا۔ اس لئے جنوبی ایشیا کے بارے میں اُس کی پہلی ترجیح امن ہے۔ اس کا اشارہ ہمیں نہ صرف چین کی پالیسی بیانات بلکہ عملی اقدامات کی صورت میں بھی ملتا ہے۔ مثلاً2017 کے موسمِ گرما میںبھوٹان ، سِکّم اور چین کی سرحدوں کے ایک مرکزی اتصالی مقام ڈولکم پر چین اور بھارت کی مسلح افواج کے درمیان ایک تنگ پٹی میں چین کی طرف سے سٹرک کی تعمیر پر جو آمنا سامنا ہوا تھا، چین نے اپنے رویے میںلچک دکھا کر اُسے روک دیا تھا۔ اس طرح 18 جون سے9 ہفتے تک جاری یہ خطرناک سٹینڈ آف پُرامن طور پر ختم ہوا۔ اسی طرح مئی2018 میں چین کے ایک تفریحی مقام ووہان (Wuhan) پر چینی صدر ژی اور بھارتی وزیرِاعظم مودی کے درمیان ایک غیر رسمی سربراہی کانفرنس کے دوران بھی چین نے نرم اور مصالحتی رویہ اختیار کرکے دونوں ملکوں کے مشترکہ مگر متنازعہ علاقوں میں امن اور سکون پیدا کرنے کے لئے مختلف اقدامات جن میں دونوں ملکوں کے فوجی دستوں کے درمیان رابطہ بھی شامل تھا، پر اتفاق کیا ۔ بھارت کے ساتھ پُرامن تعلقات کے قیام کی خاطر چین نے دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کارروائیاں کرنے کی بھی پیش کش کی۔ بلکہ افغانستان میںمشترکہ سرمایہ کاری کی بنیاد پر مختلف منصوبے شروع کرنے کی بھی تجویز پیش کی۔ شنگھائی تعاون تنظیم  میں پاکستان اور بھارت کی شمولیت پر چین کی طرف سے رضا مندی کا مقصد بھی یہی تھا کہ بھارت کو محاذ آرائی کے بجائے تعاون پر آمادہ کرکے جنوبی ایشیا میں امن کی فضا قائم کی جاسکے۔ جو خطے کے سب ملکوں کے مفاد میں ہے۔ مگر چین میں یہ احساس بڑھتاجا رہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ دوطرفہ بنیادوں پر دفاعی تعلقات کے فروغ اور بحرِ ہند اور بحرالکاہل کی علاقائی سلامتی کے منصوبوں میں امریکہ اور جاپان کے ساتھ شمولیت سے بھارت کا چین کے بارے میں رویہ سخت ہوتا جارہا ہے۔ اس کی سب سے اہم مثال ڈولکم کے مقام پر دونوں ملکوں کی فوجوں کا آمنا سامنا تھا۔ چین کا حصہ ہونے کے باوجود بھارت نے چینیوں کو وہاں سڑک تعمیر کرنے کی اجازت نہیں دی اور دھمکی دی کہ اگر اس دفعہ دونوں ملکوں میں جنگ ہوئی تو اُس کا دائرہ  ہمالیہ کے علاقوں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ بحرِ ہند تک پھیل سکتا ہے اور اس صورت میںبھارت نے آبنائے ملاکا جہاں سے مشرقِ وسطیٰ اور خلیج فارس سے چین کی توانائی کی تقریباً 80 فیصد ضروریات کو پورا کرنے والا تیل گزرتا ہے، کو بلاک کرنے کی طرف اشارہ کیا تھا۔
 چین کے نزدیک یہ جانتے ہوئے بھی کہ لداخ میں بھارت کے کسی بھی یک طرفہ اقدام پر چینی تشویش کا اظہار کریں گے۔ نریندر مودی کی طرف سے ریاست جموں وکشمیر کی سابقہ حیثیت کو ختم کرکے اُسے براہِ راست مرکزی حکومت کے انتظام وانصرام میںلانے کا فیصلہ گزشتہ سلسلے کی ایک کڑی ہے اور اس کا مقصدبھارت کی طرف سے چین کو یہ پیغام پہنچانا ہے کہ پاکستان کی طرح چین کے ساتھ تنازعات میں بھی بھارت اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ مگر چین کی طرف سے جہاں ایک طرف دونوں ملکوں پہ حالات مزید خراب کرنے سے روکنے پر زور دیاجارہا ہے، وہاں اُس نے یہ بھی واضح کردیا ہے کہ قومی خود مختاری، علاقائی سلامتی اور اہم قومی مفادات کے تحفظ میں وہ پاکستان کا پہلے کی طرح پورا پورا ساتھ دے گا۔ کشمیر کو ایک بین الاقوامی مسئلے کی حیثیت میں زندہ رکھنے اور بھارت کو پاکستان کے ساتھ مل کر اسے مذاکرات کے ذریعے پُرامن طور پر حل کرنے پر آمادہ کرنے کا چین کا دوٹوک مؤقف چین کی موجودہ حکمتِ عملی اور تحفظات واضح کرتا ہے۔


مضمون نگار معروف ماہر تعلیم اور کالم نویس ہیں۔
  [email protected]
 

یہ تحریر 96مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP