قومی و بین الاقوامی ایشوز

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ماورائے عدالت ہتھکنڈے

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ہاتھوں بے گناہ کشمیریوں کی شہادتوں کی داستان بہت طویل ہے۔ شاید ہی کوئی دن ہوجب بھارتی فوج سرچ آپریشن کے نام پرچادراورچاردیواری کاتقدس پامال نہ کرتی ہو۔کشمیری خواتین کی بے حرمتی اورنوجوانوں کاقتل معمول کی بات بن چکی ہے ۔ ان تمام مظالم اورہتھکنڈوں کے باوجود تحریک آزادی مسلسل زورپکڑرہی ہے۔



 بھارت میں جتنی بھی حکومتیں آئیں خواہ وہ کانگریس کی ہویابی جے پی کی،بھارتی فوج کوکشمیریوں کے قتل عام کافری ہینڈ دیاگیا،قابض فوج کے ہاتھ ہزاروں کشمیریوں کے خون سے آلودہ ہیں۔ظلم کے ان واقعات پربھارتی سپریم کورٹ سمیت تمام اداروں نے آنکھیں بند کررکھی ہیں۔غیرجانب دار عالمی میڈیا اپنی کئی رپورٹس میں اس بات کاذکرکرچکاہے کہ بھارتی فورسزبنیادی انسانی حقوق کوپامال کررہی ہیں، نوجوانوں کوماورائے عدالت قتل کیاجارہاہے اوران واقعات میں مسلسل اضافہ ہورہاہے۔ دنیامیں اگرکوئی سب سے بڑی جیل ہے تووہ مقبوضہ کشمیر ہے۔ کشمیری نوجوان اپنے لہوسے تحریک آزادی کی شمع کوجلائے ہوئے ہیں،نوجوانوں کا پاک لہوایندھن کاکام کررہاہے جس سے یہ تحریک کمزورہونے کے بجائے تقویت پکڑتی جارہی ہے۔
بھارتی فوج کے دوبڑے مقاصد ہیں ایک توکشمیر کی تحریک آزادی کو کچلنا اوردوسرا مقبوضہ کشمیر کی ڈیموگرافی(آبادی کا تناسب) تبدیل کرناکشمیری مسلمانوں کوخوف زدہ کیاجارہاہے اورپورے بھارت سے غیرمسلم آبادی کومقبوضہ کشمیر میں آبادہونے کی ترغیب دی جارہی ہے۔کھلے عام اورخفیہ طورپرمختلف اداروں اورانتہاپسندہندوؤں کوکہاجارہاہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں آباد ہوں حکومت انھیں مراعات دے گی،ہندو کشمیر میں آباد ہوکر آبادی کے تناسب کوبدل دیں۔بی جے پی اوروشواہندو پریشدکے انتہاپسندلیڈراپنی تقریروں میں لوگوں کوبھڑکارہے ہیں۔ 
کشمیریوں کی جدوجہد ایک دودن کی بات نہیں بلکہ سات دہائیوں سے جاری قربانیوں کاتسلسل ہے۔مقبوضہ کشمیرمیں کئی خاندان ایسے ہیں جن کی تین نسلیں آزادی کے لیے قربانیاں دے چکی ہیں اوراب نئی نسل بھی آزادی کے لیے مرمٹنے کے لیے تیارہے۔ کشمیری مائیں اپنی گودکے بچوں کوبھی لوریوں میں آزادی کے نغمے سناتی ہیں، ''کشمیر بنے گاپاکستان'' ہرکشمیری بچے کی زبان پرہے۔چند دن پہلے سوشل میڈیا پرکشمیری بچوں کی بھارتی صحافی سے گفتگو کی ویڈیو وائرل ہوئی جس میں کشمیری بچے اپنے اوپرڈھائے جانیوالے مظالم کاذکر کرتے ہیں،بھارتی صحافی کے پروپیگنڈہ سوالوں کامنہ توڑجواب دیتے ہیں اورپھر مخصوص اندازمیں آزادی کے نعرے لگاکربھارتی صحافی کوحیران کردیتے ہیں۔یہ وہ بچے ہیں جن کی پرورش اُن کی مائیں کررہی ہیں۔
کشمیریوں کادوٹوک فیصلہ ہے جتناچاہے ظلم کرلووہ بھارت سے آزادی لے کرہی رہیں گے۔بھارتی ظلم کانشانہ بننے والوں میں سکول کے وہ بچے بھی شامل ہیں جن کی عمریں بارہ چودہ سال ہیں،بھارتی فوجی دندناتے ہوئے گھروں میں داخل ہوتے ہیں اورماؤں کی فریاد کے باوجود بچوں کو گھروں سے اٹھاکر شہید کردیاجاتاہے۔ دفترخارجہ کے اعدادوشمارکے مطابق صرف ایک سال 2020 میں   بھارتی قابض افواج نے جعلی مقابلوں،نام نہاد گھیراؤ اورتلاشی کے آپریشن کے دوران  300 سے زائد کشمیریوں کو شہید اور750 کوزخمی کردیاجن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے ۔اسی طرح آزادی کانعرہ لگانے اورپاکستان کاسبزہلالی پرچم لہرانے کے جرم میں 2 ہزار 770 کشمیریوں کو جبری طور پرقید کردیاگیا۔صرف ایک سال میں 922 گھروں کو تباہ کیاگیا،ان گھروں کے مکینوں کاجرم یہ تھاکہ وہ آزادی کے حامی ہیں۔ اسی طرح 2019 اوراس سے قبل کے اعدادوشمار کاجائزہ لیں توماورائے عدالت قتل کیے جانے والے کشمیری نوجوانوں کی تعداد ہزاروں میں ہے۔بھارتی فوج اوراس کے ایجنٹوں نے کشمیریوں کوبدنام کرنے کے لیے ایک نیاطریقہ ڈھونڈا ہے، مقبوضہ کشمیر میں رہنے والے مسلم وغیرمسلم شہریوں کی ٹارگٹ کلنگ کی جاتی ہے اوراس کاذمہ دار آزادی کے حامی کسی تنظیم یالیڈرکوقراردے دیاجاتاہے،مقصدیہ ہے کہ آزادی کے متوالوں کوبدنام کیاجائے۔



 افسوسناک اوردل دہلادینے والی بات یہ ہے کہ بھارتی فوجی اوباشوں کی طرح دندناتے ہوئے کسی بھی گھرمیں داخل ہوتے ہیں اورنوجوان لڑکیوں کواغوا کرکے لے جاتے ہیں ۔ خواتین کی بے حرمتی کے سیکڑوں واقعات منظرعام پرآچکے ہیں۔ان تمام مظالم کی نہ کہیں فریاد ہے اورنہ داد رسی۔کشمیری پوچھتے ہیں وہ جائیں توانصاف کے لیے کہاں جائیں؟کس عالمی فورم کا دروازہ کھٹکھٹائیں؟ ان مظالم کے خلاف اراکین یورپی پارلیمنٹ بھی اپنے صدر اور نائب صدر یورپی کمیشن کو خط لکھ چکے ہیں،جو عالمی برادری کی جانب سے بھارت کی مذمت کا کھلا ثبوت ہے۔عالمی میڈیا میں ان مظالم کی کئی رپورٹیں شائع ہوچکی ہیں۔
   اعداد و شمار کا جائزہ لیں تو 1991 میں کنان پوشپورا میں خواتین کی بڑے پیمانے پر عصمت دری کے واقعات، پتھریبل 2000، گندربیل 2007، ماچیل 2010، اور اس طرح کے دیگر سانحات میں کشمیریوں کوانصاف فراہم نہیں کیاگیابلکہ انصاف کاقتل کیا گیا۔
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج  کی تعداد 9 لاکھ سے زیادہ  ہے،اس کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں، اقوامِ متحدہ کے کمیشن برائے انکوائری کی تفتیش کی متقاضی ہیں جیسا کہ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے دفتر کی کشمیر سے متعلق 2018 اور 2019 کی دو رپورٹس میں تجویز کیاگیاہے۔ بھارت کی ہٹ دھرمی اورمیں نہ مانوں والی پالیسی کے باعث اقوام متحدہ جیساادارہ بھی بے بس دکھائی دیتاہے۔
بھارتی وزیراعظم نریندرمودی نے 5اگست 2019 کومقبوضہ کشمیر میں بھارتی تسلط کوبرقراررکھنے کے لیے ظالمانہ اقدام کیا۔بھارت نے آرٹیکل 370 اور 35 اے میں تبدیلی کی،یوں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کوتبدیل کردیاگیا۔ منصوبہ بندی کے تحت مقبوضہ کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کیا جارہا ہے، ان تمام اقدامات کامقصد ایک ہی ہے کہ کشمیری مسلمانوں کواقلیت میں بدل دیاجائے اورمقبوضہ کشمیر کی ڈیموگرافی تبدیل کردی جائے۔پورے مقبوضہ کشمیرکوایک جیل میں بدل دیاگیا جہاں کشمیری قیدیوں کی زندگی گزاررہے ہیں جبکہ دوسرے علاقے سے ہندوؤں کولاکرآباد کیاجارہاہے،انھیں مکانات ،زمین خریدنے اورکاروبارکرنے کے لیے مراعات دی جارہی ہیں۔مودی حکومت غیرقانونی طورپرکشمیریوں کوان کی اپنی ہی سرزمین پر اقلیت میں بدلنے کی سازش کررہی ہے۔ بھارتی حکومت کے یہ تمام اقدامات اقوام متحدہ کی قراردادوں اورمنشورکے خلاف ہیں۔دنیا اس بات سے آگاہ ہے کہ بھارت ڈومیسائل قواعد اوراراضی ملکیت کے قوانین کوتبدیل کرکے دراصل کشمیریوں کوان کی اپنی سرزمین میں غلام بناناچاہتاہے۔ 
مودی حکومت کاخیال تھاکہ ان ظالمانہ قوانین کے نتیجے میں کشمیریوں کی تحریک آزادی دم توڑجائے گی اوربھارتی فوج اپناغاصبانہ قبضہ برقراررکھنے میں کامیاب ہوجائیگی لیکن دنیانے دیکھاکہ کرفیو،نوجوانوں کے ماورائے عدالت قتل کے باوجود آزادی کی تحریک کمزورنہ ہوئی، کشمیری اپنے مطالبے پرآج بھی ڈٹے ہوئے ہیں اوربھارتی فوج کے مظالم کامقابلہ کررہے ہیں۔سچی بات یہ ہے کہ بھارتی فورسز کے مظالم کشمیریوں کوان کی جدوجہدآزادی،حق خودارادیت سے نہیں روک سکتے۔ بھارت جوحربہ استعمال کرسکتاتھا،وہ اس نے کرکے دیکھ لیا۔ کشمیریوں کی زبان پرآج بھی ایک ہی نعرہ ہے'' بھارت سے آزادی۔''
مقبوضہ کشمیر میں عالمی میڈیا کے نمائندوں کوداخلے کی اجازت نہیں،مقامی میڈیابھی سخت ترین سنسرشپ کاشکارہے۔سچ چھاپنے والے اخبارات کو بند کر دیا جاتا ہے اورصحافیوں کوتشدد کانشانہ بنایاجاتاہے،اس کے باوجود بھارتی مظالم کی داستانیں کسی نہ کسی طرح عالمی برادری تک پہنچ رہی ہیں۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز مقبوضہ کشمیر کو زندہ جہنم قرار دے چکاہے۔ اخبار نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا کہ ''سری نگر کی سڑکوں اور گلیوں میں بھارتی فورسز نے جگہ جگہ چیک پوسٹیں بنا رکھی ہیں جہاں اہلکار بندوقیں پکڑے کھڑے ہیں۔کشمیری گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں، کھڑکیوں سے باہر دیکھ رہے ہیں۔'' امریکی میڈیا  دکانوں اور بازاروں کی بندش کی وجہ سے لوگوں کے بھوکے ہونے پر بھی توجہ دلاچکاہے۔اسی طرح برطانوی اخبارات میں بھی بھارتی مظالم کی رپورٹس شائع ہوچکی ہیں۔برطانوی اخباردی گارڈین نے خبردار کرتے ہوئے لکھا کہ مودی نے طاقت کے زور پر کشمیرپر قبضے سے بھارتی جمہوریت کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔بی بی سی اورالجزیرہ جیسے نشریاتی ادارے بھی بھارتی فوج اورمودی حکومت کے مظالم کے خلاف آوازاٹھاچکے ہیں۔
    مودی حکومت نہ صرف مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں پرظلم ڈھارہی ہے بلکہ پورے بھارت میں اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں پرزندگی تنگ کردی گئی ہے۔انتہاپسند بھارتی ہندو رہنما ء ہندوؤں کواُکسارہے ہیں کہ مسلمانوں کوقتل کردیاجائے۔انسانی زندگی سے زیادہ قیمتی گائے کی زندگی قراردی جارہی ہے۔گاؤرکھشہ کے نام پرمسلمانوں کوقتل کیاجارہاہے۔مارنے کے بعد ہندوجنونی ان کی نعشوں کی بے حرمتی کرتے ہیں۔اس طرح کی ایک نہیں درجنوں ویڈیوزسوشل میڈیا پرگردش کررہی ہیں۔
پاکستان مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جنگی جرائم کاڈوزیئربھی عالمی برادری کے سامنے پیش کرچکاہے۔بھارتی حکومت کاعالمی برادری کے سامنے چہرہ کچھ ہے لیکن اصل چہرہ انتہائی گھناؤناہے۔ ڈوزیئر کا پہلا حصہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جنگی جرائم، مقبوضہ وادی میں متحرک تحریک اور دوسرے حصے میں سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزیوں کی تفصیل ہے۔وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی بھی ایک نیوزکانفرنس میں بتاچکے ہیں کہ ''یہ ڈوزیئر محض قیاس پر مبنی نہیں ہے بلکہ اس میں بھارتی مظالم کے 113 حوالہ جات ہیں، ان حوالہ جات میں پاکستان کے ریفرنس انتہائی محدود ہیں۔ 26 حوالہ جات انٹرنیشنل میڈیا، 41 بھارتی اور 32 حوالہ جات بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کے ہیں۔ڈوزیئر میں شامل معلومات میں بتایا گیاہے کہ مقبوضہ کشمیر کے 6 اضلاع کے 89 گاؤں میں 8 ہزار 652 اجتماعی قبریں دریافت ہوئیں جس میں سے 154 قبروں میں 2، 2 افراد جبکہ 23 قبروں میں 17 سے زائد افراد کی لاشیں تھیں۔ بھارتی فوج نے 2017 سے مقبوضہ کشمیر میں کیمیکل ہتھیار استعمال کیے جس سے 37 کشمیری جاں بحق ہوئے جبکہ 2014 سے اب تک بھارتی فورسز کے ہاتھوں 3 ہزار 850 عصمت دری کے واقعات پیش آئے، 650 خواتین کو قتل کردیا گیا۔ڈوزیئر میں دی گارڈین  کا حوالہ دیا گیا کہ 10 ہزار کشمیریوں کولاپتہ کردیا گیا، بھارتی فورسز نے 2014 کے بعد سے اب تک 120 کشمیری بچوں کو فائرنگ کرکے قتل کیا۔فراہم کردہ معلومات کے مطابق بھارتی فورسز کی جانب سے استعمال کی گئی پیلٹ گن سے ایک ہزار 253 نوعمر لڑکے نابینا اور 15 ہزار 438 بدترین زخمی ہوئے۔ بھارتی فورسز نے محاصرہ اور سرچ آپریشن کے نام پر 6 ہزار 479 املاک کو تباہ کیا اور ایسے آپریشن کی تعداد مجموعی طور پر 15 ہزار 495 رہی''۔
    کشمیری اب عالمی برداری کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ وہ اس حوالے سے ان کی کیا مدد کرتی ہے اوربھارت کے خلاف کیااقدامات کیے جاتے ہیں۔عالمی برادری اس بات سے آگاہ ہے کہ جب تک کشمیریوں کوان کاحق خودارادیت نہیں ملے گامسئلہ کشمیر حل نہیں ہوگاجنوبی ایشیامیں امن ایک خواب ہی رہے گا۔خطے میں امن کے قیام کے لیے ضروری ہے کہ بین الاقوامی ادارے اپنامؤثرکردار اداکریں۔انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں اوربے گناہوں کے ماورائے عدالت قتل کے بعدبدمعاش بھارتی فوج پرعالمی پابندیاں عائدکردینی چاہیے۔ ||


مضمون نگاراخبارات اورٹی وی چینلزکے ساتھ وابستہ رہے ہیں۔آج کل ایک قومی اخبارمیں کالم لکھ رہے ہیں۔قومی اورعالمی سیاست پر اُن کی متعدد کُتب شائع ہو چکی ہیں۔
[email protected]

یہ تحریر 41مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP