یوم یکجہتی کشمیر

مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں کی روح فرسا داستانیں

 

ہم خاکی ہیں اور اِس خاک سے وابستگی ہماری سرشت میں شامل ہے۔ اِس زمین کا حسن اس خاک سے وابستہ ہے۔  لالہ و گل اور شمس وقمرکی رعنائیاں اسی خاک پر اُترتی اور اُبھرتی ہیں۔ یہ خاک ہمارا مسکن ہے اور اس مٹی میں ہمارے خواب دفن ہیں۔ اسی سرزمین کی خاک پر جہاں ہم خوشگوار اور آزاد فضا میں سانسیں لے رہے ہیں، وہیں پر ہمارے جسم اور ہماری سرزمین کا ایک حصہ خون کی لالی میں ڈوبا ہوا ہے۔ وادیٔ کشمیر جنت نظیر وادی جو ہمیں عزیز تر ہے، جہاں کا ذرہ ذرہ ہمیں جان سے پیارا ہے اس سے پیار ہماری سرشت میں شامل اور اس کو آزاد دیکھنا ہمارے خوابوں میں شامل ہے۔ پچھلے 73 برسوں سے ہمارے کشمیری بھائی بہنیں ظلم و ستم سہتے آرہے ہیں۔ اِن کی جدو جہدِآزادی کی خواہش دبانے کی کوششیں ہمیشہ سے جاری رہی ہیں لیکن یہ سروں پر کفن باندھے آج بھی تیار کھڑے ہیں۔ اس وادی میں کیا کیا ستم نہ ڈھائے گئے ، کیا کیا تکلیفیں نہ دی گئیں لیکن یہ ان کے حوصلوں کو زیر نہ کرسکے۔2018 میں اقوامِ متحدہ نے کشمیر میں ہونے والے تشدد، عصمت دری اور قتل و غارت جیسے اقدامات کی زد میں بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کیاتھا لیکن بھارت نے اس رپورٹ کو '' غلط'' قرار دیتے ہوئے مستر دکردیا۔
اگست2019 کے ہندوستانی حکومت کی طرف سے کئے جانے والے کریک ڈائون کے دوران ڈھائے جانے والے مظالم کی داستانیںہر ذی روح کو تڑپادینے والی تھیں۔ایک رپورٹ کے مطابق 5  اگست 2019 کے بعد سے کم ازکم 3000 نوجوانوں کو گرفتار کرکے بے جرم و خطا اذیتوں کا نشانہ بنایاگیا۔



فیروز احمد۔۔بھارتی تشدد کے نشانے پر
جنوبی کشمیر پلوامہ ڈسٹرکٹ کے گائوں چند گام  کے فیروز احمد غنی جس کی عمر19 سال ہے کو اچانک ہی انڈین آرمی اپنے ساتھ لے گئی۔ اس کی والدہ ہاجرہ بانو نے بتایا کہ فوجی فیروز کو اپنے کیمپ میں لے گئے۔ انہوںنے فیروز کو کرسی سے باندھا اور اس کے ہونٹوں کو کئی بارسوئیوں کے ساتھ زخمی کیا۔ اس کے ہونٹ زخموں کی وجہ سے بدرنگ ہو چکے تھے ، آنکھیں بے رونق  اور زندگی سے خالی تھیں۔



ایسا صرف فیروز کے ساتھ ہی نہیں ہوا بلکہ  چندگام گائوں کے کئی رہائشی پچھلے چند روز سے بھارتی فوج کے نشانے پر تھے۔ جس کی وجہ چند روز پہلے قریبی فوجی کیمپ 'تاہاب' پر گرنیڈ سے حملہ تھا۔ مقامی آبادی نہ تو اس حملے کے بارے میں جانتی تھی اور نہ ہی بھارتی افواج کو کسی طرح کی معلومات دینے کو تیار تھی۔ لیکن جس نے بھی یہ حملہ کیا تھا وہ حملے کے بعد فرار ہو چکا تھا اور اس کے بعد مقامی آبادی مشتبہ بن چکی تھی۔ بھارتی فوجی تقریباً ہرروز چند گام گائوں آتے اور پوچھ گچھ اور تلاشی کے بہانے نوجوانوں کے شناختی کارڈزلے کر چلے جاتے اور ان سے کہاجاتا کہ اگر انہیں اپنے شناختی کاغذات واپس چاہئیں تو اُنہیں تاہاب کیمپ آنا پڑے گا۔
فیروز احمد بھی اُنہی نوجوانوں میں سے ایک تھا جس کے شناختی کاغذات بھارتی فوجی لے کر تاہاب  کیمپ چلے گئے اور ان سب نوجوانوں کو اسی کیمپ میں آنے کا کہا جاتا۔ انہیں کئی کئی روز کوئی جواب نہ دیا جاتا اور سارا دن کھڑا کرکے واپس بھیج دیا جاتا۔ پچاس سالہ ہاجرہ بانو نے بتایا کہ راشٹریہ رائفلزنے اس کے بیٹے فیروز کو بے جا تشدد کا نشانہ بنایا۔
فیروز کی بہن نے بتایا کہ 14 ستمبر کو جب وہ اپنے گھرکے اندر موجود تھی اور اس وقت گھروالوں کے لئے کھانا بنا رہی تھی ، باہر سے فوجی بوٹوں کی آواز آنا شروع ہوئی۔ وہ ان کے دروازے کے باہر کھڑے ہو کر زور زور سے گھروالوں کو باہر بلا رہے تھے جب اس کا بڑا بھائی عرفان احمد غنی باہر گیا تو بھارتی فوجیوں نے اُسے تشدد کا نشانہ بنایا۔ اُس کی قمیض پھاڑ دی اور سینے کے بال بھی اُکھاڑدیئے۔ یہ سب کچھ بتاتے ہوئے اُس نے رونا شروع کردیا۔ بہن فوری طور پر باہر گئی تاکہ اپنے بھائی کو بچا سکے فوجیوںنے اُس کے اوپر بھی اونچی آواز سے چلانا شروع کردیا اور گھر کے اندر داخل ہوگئے۔ پھر انہوں نے فیروز جو کہ گھر کے اندر موجود تھا اُس کے شناختی کاغذات اور موبائل فون چھین لیا اورکہا کہ اگر انہیں یہ سب واپس چاہئے تو تاہاب کیمپ سے آکر لے جائے۔
فیروز نے بتایا کہ گرنیڈ حملے کے بعد بھارتی افواج مسلسل علاقے کا گشت کرتی رہتی ہیں۔ اس دوران وہ جوانوں، بچوں اور بوڑھوں کو پوچھ گچھ اور تشدد کا نشانہ بھی بناتی رہتی ہے۔  جب بھی بھارتی  فوج علاقے میں داخل ہوتی ہے مقامی خواتین انتہائی خوف کی حالت میں اپنے گھروں میں بند ہوجاتی ہیں۔ کئی خواتین نفسیاتی مریض بن چکی ہیں کوئی بھی خاتون رات کو آرام اور سکون کی نیند نہیں سوسکتی۔ اُن سب کو اپنی عزت اور گھر میں موجود لوگوں کی سلامتی کی بہت فکر رہتی ہے اسی لئے خاص طور پر مقامی خواتین ہر وقت نہایت فکر مند رہتی ہیں۔ 

یاور احمد۔۔ذہنی اذیت کا نشانہ
بھارتی افواج کا مقامی آبادی کے نوجوانوں پر بلا وجہ تشدد کا سلسلہ کافی عرصے سے جاری ہے اس کا ایک نشانہ یاوراحمد نامی نوجوان بھی بنا جس نے روز روز کے تشدد سے تنگ آکر خود کشی کرلی۔ فیروز احمد کی طرح یاور کے گھر پر بھی پوچھ گچھ کے بہانے زبردستی حملہ کیاگیا اور یاور کے شناختی دستاویزات تحویل میں لے لئے گئے۔16 ستمبر کو جب یاور اپنی دستاویزات لینے تاہاب کیمپ گیا تو اُسے وہاں پر قید کرلیاگیا اور بدترین تشدد کا نشانہ بنایاگیا۔
ایک آزاد ملک میں رہنے والے آزاد شہری اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ آزادی کتنی بڑی نعمت ہے۔ کشمیر پر چونکہ بھارت کا غاصبانہ قبضہ ہے اور بھارت جبرو تشدد کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے کشمیر کے عوام کو محکوم بنانے کی ناکام کوشش کررہا ہے۔ باقی دنیا کے لوگ اگر ایسے حالات میں رہیں تو اُنہیں کشمیر ی عوام کی مشکلات کا اندازہ ہو۔ اگر ایک عام شہری جو کہ قانون کے مطابق اپنی زندگی گزاررہا ہو اُس کو بغیر کسی وجہ کے اسی کے گھر کے اندر داخل ہو کر بے جا تشدد اور بے عزتی کا نشانہ بنایا جائے، اُس کی زندگی میں بے جا مداخلت کی جائے تو ایک باعزت شہری یقینا اس بات سے نہایت مایوسی کا شکار ہوگا۔



اسی مایوسی کا شکار یاور جو کہ بے قصور تھا لیکن پھر بھی اُسے ناکردہ گناہوں کی سزا دی گئی۔ تاہاب کیمپ کے اندر بدترین تشدد کا نشانہ بنایاگیا۔ عزت نفس کو مجروح کیاگیا۔ مقبوضہ کشمیر کے حالات ویسے ہی مقامی لوگوں کے لئے انتہائی پریشان کن ہیں۔ ایسے حالات میں روز بروز تشدد اور بلا وجہ پوچھ گچھ اور نامعلوم مستقبل کے اندیشے کسی بھی انسان کو توڑ کر رکھ دیتے ہیں۔ اسی ذہنی دبائو میں آکر یاور احمد نے اپنی جان خود ہی لے لی۔
بھارتی فوج گشت کے دوران گھروں پر پتھرائو بھی کرتی ہے اور اپنی گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کے اُونچے اُونچے سائرن کے ساتھ پورے علاقے کو خوف کے ماحول میں دھکیل دیتی ہے جس ماحول میں کوئی مقامی آدمی چاہے مرد ہو یا عورت، بڑا ہو یا بچہ اپنے آپ کو محفوظ نہیں سمجھتا۔ اس خوف کے ماحول کی وجہ سے انسانی صحت اور نفسیات پر پڑنے والے اثرات کے خلاف بولنے والا کون ہے؟ کون ہے جو ان نہتے اور بے کس کشمیریوں کو اس مسلسل اور جاں گسل اذیت سے نجات دلائے۔
 ستمبر کا مہینہ  دُنیا کے مشہور ترین کشمیری سیب کی کاشت کا ہوتا ہے جو  یہاں کے مقامی لوگ اس موسم میں کرتے ہیں لیکن 5 اگست کے بعد سے پیدا ہونے والے حالات میں جب بھارت نے کشمیری کی خصوصی حیثیت ختم کردی اور پوری وادی کو لاک ڈائون میں ڈال دیا اس وقت چندگام گائوں کے رہائشیوں کے لئے سیب کی کاشت اور بھی مشکل ہوچکی تھی اور اب حالیہ گرنیڈ حملے کے بعد تو حالات نہایت ہی کشیدہ ہوچکے تھے۔ سیب کی کاشت تو دور کی بات اب انہیں اپنے ہی گھروں میں قید کردیاگیا تھا اور زندگی اُن کے لئے عذاب بنا دی گئی تھی۔

ربیعہ جان۔۔ بھارتی تسلط کا شکار
 ربیعہ جان اُن سیکڑوں خواتین میں سے ایک تھی جن کے لئے گھر سے باہر نکلنا بہت ہی مشکل تھا۔ یہاں تک کہ بھارتی اکثر اوقات یہ تک پوچھنے آجاتے تھے کہ انہوں نے کس وقت آپس میں کیا بات کی تھی۔ اُن کے لئے ایک دوسرے سے بات کرنا بھی محفوظ نہیں تھا۔ جان بارہویں جماعت کی طالبہ تھی لیکن ان حالات کی وجہ سے وہ اپنی پڑھائی جاری نہ رکھ سکی۔ یہاں تک کہ امتحانات میں حصہ لینے کے لئے کاغذات جمع کروانے بھی نہ جاسکی اور مقررہ وقت گزر گیا۔ اگر وہ اپنے بھائی یا والد کو اپنے ساتھ لے کر باہر جائے تو وہ بھی محفوظ نہیں کیونکہ بھارتی فوجی اُنہیں دیکھتے ہی گرفتار کرلیتے وہ اپنی پڑھائی کی وجہ سے اپنے خاندان والوں کو خطرے میں نہیں ڈال سکتی۔
کشمیر میں ایسی لاتعداد خواتین کی کہانیاں ہیں جنہیں بھارتی افواج سے جسمانی اور ذہنی تشدد کا سامنا ہے نہ تو کشمیری خواتین کی جان محفوظ ہے اور نہ ہی اُن کی عزتیں۔ کئی خواتین ڈر کے مارے ایسے واقعات کسی کو بتاتی بھی نہیں۔ ایک ایسا علاقہ جہاں انسانی جان و مال کی کسی کو پروا نہیں اسلحہ اور فوج کے زور پر زبردستی اُس علاقے پر قبضہ و تسلط قائم کیا جائے۔ اُس علاقے میں انسانی جان ،مال اور عزت کی حفاظت کرنا ناممکن ہوجاتا ہے۔

فہمیدہ وار۔۔ انسانیت کی بے حُرمتی
انہی خواتین میں سے ایک فہمیدہ وار بھی ہے جسے 14 ستمبر کو 9 گھنٹے سے زیادہ جیل میں بغیر کسی وجہ کے بند رکھا گیا۔ فہمیدہ کا قصور صرف اتنا تھا کہ وہ اپنی دو ماہ کی بچی کے لئے دوائی خریدنے گئی تھی۔ ظلم کی انتہا یہ تھی کہ ڈسٹرکٹ کے اندر موجود واحد ہسپتال بھی ان ظالمانہ کارروائیوں کے نتیجے میں بند تھا۔ فہمیدہ اور اس کی ساتھی رشتہ دار دوائی لینے کے لئے کسی اور دکان کی تلاش میں تھیں کہ اچانک وہاں موجود دکچھ دیگر  خواتین نے ایک مقامی دوکاندار سے لڑائی شروع کردی۔ کیونکہ وہ حالیہ واقعات کے تناظر میں کی گئی ہڑتال میں شامل نہ ہوا تھا۔



کچھ خواتین نے وہاں پر موجود پولیس کی گاڑی پر کچھ سیب پھینکے، کچھ دیربعد پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور وہاں پر موجود خواتین کو بُری طرح تشددکا نشانہ بنایا اور انہوں نے خواتین کو مارا اور بالوں سے پکڑ کر زمین پر گھسیٹا اور اُس کے بعد اُن کو پولیس سٹیشن لے جاکر حوالات میں بند کردیا۔ فہمیدہ وارکو حوالات میں دیگر مرد حضرات کے ساتھ بند کیاگیا۔ جس کی وجہ سے اُسے انتہائی ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ سب بنیادی انسانی حقوق کی انتہائی خلاف ورزی تھی۔یہاں تک کہ فہمیدہ کی چھوٹی دوماہ کی بچی کو بھی اُس سے جدا کردیاگیا۔ پہلے اُس نے اُن سے درخواست کی کہ بچی کو اُسے دے دیا جائے لیکن اُس کی بات نہ سنی گئی اور اُسے بچی کو دیکھنے تک کی بھی اجازت نہ دی گئی اور کہا گیا کہ جب بچی زندہ نہ رہی تو تمہیں دے دی جائے گی۔


 


بشیر احمد ڈار۔۔بھارتی بربریت کا عروج
متنازع ہمالیائی خطے کو اپنی خود مختاری سے دستبردار کرنے کے کچھ دن بعد ہی بھارتی حکومت نے اپنی کارروائیاں شروع کردیں۔ 10 اگست کو بھارتی فوجی جنوبی کشمیرمیں بشیر احمد ڈارکے گھر داخل ہوئی جو کہ ایک پلمبر تھا، اُس کویقین دلایا گیا کہ اُس کو اپنا چھوٹابھائی واپس مل جائے گا (جو کہ بھارتیوں کی مخالفت کرنے والے باغی گروہ میں شامل تھا) لیکن اُس کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیاگیا اور اگلے 48 گھنٹوں میں دو مرتبہ رائونڈ لگا کر نہ صرف زور دیاگیا بلکہ باقاعدہ دھمکی دی گئی کہ اگر ایسا نہ کیاگیا توسخت نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا اور صرف اتنا ہی نہیں اُس کو ایک فوجی کیمپ میں لے جا کر مار پیٹ کا نشانہ بنایاگیااور تب تک مارا جاتا رہتا جب تک وہ بے ہوش نہ ہو جاتا اور جب وہ ہوش میں آتا تواس کے اعضاء اُس کاساتھ نہ دیتے اور خود کو خون میں لت پت پاتا ۔ یہ ظلم او رستم صرف یہیں پر ختم نہیں ہوا۔ 14 اگست 2019کو فوجی پھر سے اُس کے گھر دندناتے ہوئے آئے اور اس کے گھر میںموجوداشیائے خورو نوش کو ضائع کرنا شروع کردیا اور گھر میں دیگر راشن چاول دالیں وغیرہ میں مٹی کا تیل ملادیاگیا تاکہ یہ خاندان کھانے پینے کی اشیاء سے بھی محروم رہے۔ ہندوستانی فوج کی جانب سے بشیر احمد ڈار پر کیا جانے والا یہ ظلم کوئی معمولی نوعیت کا نہ تھا بلکہ انسان کو جیتے جی مار دینے والا تھا۔
ثناء اﷲ صوفی۔۔ بے جا ظلم وستم
ہری گام گائوں کا ایک بیکری والا ثناء اﷲ صوفی جب اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ سو رہا تھا تو بھارتی فوج دندناتی ہوئی اس کے گھر میں گھُس آئی اور اس کے دوبیٹوں کو گلی میں لے جا کر ڈنڈوں اورزنجیروں سے مارا گیا۔ثناء اﷲ اپنے بیٹوں کی درد بھری آہیں اور چیخیں سُنتا رہا مگر بے بس اور لاچار رہا۔ ثناء اﷲ کے 20 سالہ بیٹے مظفر احمد نے بتایا کہ جلد ہی وہ گائوں کے مزید 10 جوان گلی کے چوراہے پر لے آئے اور بھارت کے خلاف مظاہرہ کرنے والے جوانوں میں ہمیں تلاش کرنے لگے۔تین گھنٹے تک مسلسل ان جوانوں کو مارتے رہے ،الیکٹرک شاکس دیئے گئے۔ احمد نے اپنے جسم پر ہونے والی زیادتیوں کے نشانات والی چند تصاویر بھی دکھائیں۔صرف یہی نہیں ان جوانوں کو دھول مٹی کھانے اور گندے نالے سے پانی پینے پر بھی مجبور کیا گیا۔جب یہ لوگ تکلیف کے مارے رو کر التجا کرتے تو اُن پر  مظالم مزیدبڑھا دیئے جاتے۔ بالآخر فوجی صبح سویرے جب واپس چلے جاتے تو ان مظلوموں کو سری نگر کے ہسپتال علاج کے لئے لے جایاجاتا۔



عبدالغنی ڈار۔۔ بے ضمیر بھارتی ریاست کی کارروائیاں
ساٹھ سالہ عبدالغنی ڈار کے گھر پر بھارتی فوجیوں نے اگست کے شروع سے ہی چھاپے مارنے شروع کردیئے تھا۔ عبدالغنی ڈار نے اپنی بیٹی کو اپنے گھر سے دور رشتہ داروں کے گھر بھیج دیا تھا کیوں کہ وہ جانتا تھا کہ وہ کیا چاہتے تھے۔ ڈار کا کہنا تھا کہ فوجی بظاہر یہ کہہ کر آئے تھے کہ اُس کے بیٹے کو دیکھنے آئے ہیں۔لیکن وہ جانتا تھا کہ وہ در حقیقت کس غرض سے آئے ہیں۔ اردگرد کے مزید لوگوں نے بھی اسی طرح کی مصیبت کا سامنا کیا یہاںتک کہ بھارتی فوجی اہلِ خانہ کو یہ دھمکی دیتے رہے کہ وہ ان کی بیٹیوں کو یہاں سے دُور شادی کے لئے اٹھا کر لے جائیں گے۔ ڈرے سہمے ماں باپ نے اِسی ڈر سے اپنی گھر کی عزتوں کو اپنے سے میلوں دُور روانہ کردیا ہے اور بھارتی فوجی ان کو اس کی سزا میں اپنی بربریت کا نشانہ بناتے ہیں۔ ظلم و ستم کی یہ کارروائیاں نہتے کشمیریوں پر مسلسل کی جاتی ہیں، اِن کے گھروں کی عصمتوں کو یونہی رسوا کیاجاتا ہے۔ والدین کے صبر کا امتحان ہر موڑ پر سخت سے سخت تر لیا جاتا ہے۔
ریاض احمدمیر۔۔ جسمانی اذیت کا شکار
گاگرن گائوں کے ایک مزدور ریاض احمد میر کوبلا وجہ اٹھا کر آرمی کیمپ لے جایاگیا۔ اس سے پوچھ گچھ کی گئی کہ اس کے بھائی (جو کہ2018میں بھارتی فوج کی طرف سے اس الزام کے تحت مارا گیا کہ اُس نے گھر میں'' انتہا پسند'' کو پناہ دی تھی) کے جنازے کی رسومات میں کون کون لوگ شامل ہوئے اور جب ریاض احمد میر نے بتایا کہ وہ نہیں جانتا تو اس سے مار پیٹ کی گئی اور گلے میں پانی ڈالا گیا۔ اس کے علاوہ جسم کے مختلف حصوں میں شدید الیکٹرک شاکس دے کر شدید اذیت پہنچائی گئی اور صرف یہی نہیں انتہا یہ تھی کہ ایک ٹی شکل کے پول ساتھ اُس کو الٹا لٹکادیا گیا۔ وہ چیختا اور روتارہا لیکن کوئی اس کی اذیت کا داد رس نہ تھا۔ بھارتی فوج نے کشمیریوں پر دل دہلا دینے والے مظالم کی وہ داستانیں رقم کی ہیں جس سے کسی کے بھی حوصلے پست پڑ جاتے لیکن یہ ان سخت جان کشمیریوں کے حوصلے ہیں جو ہر اذیت کو آج تک برداشت کرتے آرہے ہیں۔

جعلی اِن کائونٹر 
30 دسمبر 2020 کو جعلی انکائونٹر میں شہید کئے گئے کشمیری نوجوانوں کے لواحقین اب تک انصاف تو درکنار ۔۔۔۔ اپنے پیاروں کی میتوں کے منتظر ہیں ۔ اس انسانیت سوز واقعے میں تین نوجوان طلبا اطہر مشتاق وانی، زبیر احمد لون اور اعجاز مقبول کو سری نگر کے مضافاتی علاقے لاوے پورا میں  بے دردی سے قتل کر دیا گیا تھا۔
*   الجزیرہ ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے مقتول اطہر مشتاق وانی کے والد مشتاق احمد وانی نے کہا کہ انھوں نے اپنے آبائی گائوں میں ایک خالی قبر کھود رکھی ہے اور وہ اب ساری عمر اپنے بچے کی میت کا انتظار کریں گے۔ انھوں نے مزید کہا کہ میرے معصوم بیٹے کو قتل سے پہلے بد ترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا اور ایسا سلوک کیا گیا جو جانوروں سے بھی روا نہیں رکھا جاتا۔
*   زبیر شہید کے والد غلام محمد لون کا کہنا تھا کہ ان کے بیٹے کو کبھی بھی پولیس نے طلب نہیں کیا تھا اور وہ تو بس اپنے کام میں ہی مصروف رہتا تھا۔ زبیر شہید کی والدہ نے کہا کہ میں اپنے لال کی قبر تک نہیں دیکھ سکتی کہ اسے دور کہیں دفنا دیا گیا ہے۔۔۔۔ میرا بیٹا میرے لیے سب کچھ تھا۔۔۔۔۔
*   تیسرا مقتول اعجاز شہید تو ریڑھ کی ہڈی کے درد میں مبتلا تھا۔ اس کے چچا طارق احمد نے بتایا کہ اعجاز یونیورسٹی میں اپنے امتحان کی تیاری کرنے گیا تھا کہ اسے مار دیا گیا۔
دوسری طرف پولیس کے ڈائریکٹر جنرل دلباغ سنگھ نے کمال ڈھٹائی سے کہا کہ کوئی وجہ نہیں کہ بھارتی فوج کی کارروائی کو شک کی نگاہ سے دیکھا جائے۔
قابض بھارتی فوج نے مقتولین کی نعشیں ان کے لواحقین کے حوالے کرنے سے اس لیے انکار کر دیا تھا کہ ایسا کرنے سے شہدا کے جنازوں کے ساتھ عوامی مظاہروں کا ڈر ہے۔ 

مقبوضہ کشمیر میں اب تک ہزاروں ماورائے عدالت ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔ اور بے شمار بے نام اجتماعی قبروں کا انکشاف ہو چکا ہے۔
اس اندوہ ناک واقعے سے پہلے جولائی 2020 میں بھی بھارتی فوج نے تین بے گناہ کشمیری مزدوروں کو اپنی سفاکی کا نشانہ بنایا تھا۔
کشمیری مسلمانوں کے ساتھ سات عشروں سے غیر انسانی سلوک کرنے والے بھارت کا مکروہ اور بھیانک چہرہ دنیا کے سامنے بالکل عیاں ہو چکا ہے۔۔۔۔اور مظلوم کشمیریوں کی آہیں دنیا بھر میں سنی جا رہی ہیں۔ ایک ہفتہ پہلے برطانوی پارلیمنٹ میں بھی مقبوضہ کشمیر پر زبردست بحث کی گئی جس میں برطانوی پارلیمان کے ممبران نے کھل کر بھارتی ریاستی دہشت گردی اور کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی بھرپور مذمت کی۔ برطانوی قانون سازوں نے انڈیا کے کھوکھلے  دعوؤں کو مسترد کر دیا کہ بھارتی کشمیر اور پنجاب میں مسلمانوں اور سکھوں کے ساتھ ریاستی ظلم و جبر اور قتل و غارتگری اس کا اندورنی معاملہ ہے۔ 
ان کا کہنا تھا کہ چھ لاکھ بھارتی فوجی ستر لاکھ کشمیریوں پر ستر سال سے زیادہ عرصے سے قابض ہیں کہ جہاں عورتوں کی عصمت دری، لوگوں کی بے جا حراست اور ماورائے عدالت ہلاکتیں عام ہیں۔ انھوں نے کہا کہ صرف گزشتہ تیس برسوں میں 95000 سے زائد بے گناہ لوگ مارے جا چکے ہیں۔ اب تک سینکڑوں سیاسی رہنما جموں و کشمیر پبلک سیفٹی ایکٹ 1978 کے کالے قانون کے تحت جیل میں ہیں۔ 400 معصوم بچے بھی زیر حراست ہیں۔
 اس کے علاوہ آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد ہزاروں غیر کشمیری ہندوؤں کو کشمیر کا ڈومیسائل دیا جا چکا ہے اور یہ سلسلہ تیزی سے جاری ہے کہ جس کا مقصد مقبوضہ کشمیر میں مسلم اکثریت کا خاتمہ ہے۔ ایک اور برطانوی قانون ساز کا کہنا تھا کہ حق خودارادیت تو درکنار اب کشمیری مسلمانوں کا اپنا وجود بھی خطرے میں پڑ گیا ہے۔ ستر سالوں سے کشمیری ایک جہنم میں رہ رہے ہیں۔ 
بحث کے شرکاء کا کہنا تھا کہ دو جوہری طاقتوں کے درمیان یہ خطرناک تنازع پوری دنیا کے لیے باعث تشویش ہے۔
بظاہر تو بھارت دنیا کی نظر میں ایک عالمی جمہوری ملک ہے جہاں پر نام نہاد جمہوریت کو فروغ حاصل ہے۔ لیکن دراصل اس ملک کا مکروہ چہرہ کشمیر اور اس کے عوام پر جاری ظلم و ستم کی ایک ایسی داستان ہے جسے سُن کر ماضی کی جہالت بھری ریاستیں بھی،جہاں انسان اور انسانی جان کی کوئی قدر نہ تھی ، شرم سار ہوجاتیں۔ آج ہم جس دور میں رہ رہے ہیں وہاں عالمی ادارے اور بڑے بڑے ملک انسانی زندگی اور حقوق کا پرچار کرتے نظر آتے ہیں لیکن نہ جانے کیوں جب بات کشمیر کی آتی ہے تو یہ سارے بے بسی کی تصویر بنے نظرآتے ہیں۔ انہیں کشمیریوں پر ہونے والا کوئی ظلم نظر نہیں آتا۔خاص طور پرکشمیری خواتین اور بچوں پر بے انتہا جسمانی اور ذہنی مظالم ڈھائے جاچکے ہیں۔ خواتین اور بچے معاشرے کا ایک ایسا حصہ ہوتے ہیں جنہیں بہت زیادہ توجہ اور حفاظت کی ضرورت ہوتی ہے۔ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک خصوصی طور پر خواتین اور بچوں کی صحت اور ذہنی نشو ونما اور حفاظت کے لئے خود ریاست کے تحت کئی ادارے قائم کرتے ہیں جو اُن کا خصوصی خیال رکھتے ہیں۔ لیکن کشمیر کے اندر کے تمام عالمی قوانین اور معیاروں کے برعکس اس طبقے کو انتہائی مشکلات کا سامناہے۔
||

یہ تحریر 118مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP