متفرقات

معرکہ شیشہ لدی پاک فوج کی جرأت و کامرانی کی داستان

شیشہ لدی پوسٹ وادیِ لیپہ(آزاد کشمیر)  کے سب سے بڑے گائوں غائی پورہ شرقی کے عین اوپر مغرب کی جانب واقع ہے۔ اس کے بالکل سامنے قدرے بلندی پر بھارتی پوسٹ بتہ راشی واقع ہے۔ بتہ راشی کے شمال مشرق میں اس علاقے کی بلند ترین چوٹی پر بھارتی چوکی''سری'' واقع ہے بتہ راشی اور سری کے درمیان پہاڑی درے میں ایک اور بھارتی پوسٹ ''تارا گڑھ'' واقع ہے۔ شیشہ لدی  کے مشرقی جانب ایک کشادہ خلا ہے جس کے بعد بلند پہاڑیوں پر شیشہ لدی کے بالمقابل ''وانجل'' کی بھارتی پوسٹ ''تارا گڑھ'' واقع ہے جو کہ 1971 کی پاک بھارت جنگ میں بھارت کے قبضہ میں چلی گئی تھی۔ اس وانجل کی پوسٹ کی پشت پناہی کملا پوسٹ سے کی جاتی ہے جو سری پوسٹ کے قدموں میں ہے۔ غربی جانب کونتر کی بلندی پر بھارتی پوسٹ ہے جو مقامی آبادی سدھ پورہ گھانسلہ اور چک مقام کے عین اوپر واقع ہے جو خطرناک حد تک لب گراں، بنہ مولہ، موجی، چھتکڑی، ہوچری، انٹلیاں اور غائی پورہ کو اپنی زد میں لئے ہوئے ہے۔ 6 دسمبر کی یخ بستہ رات تھی۔ جنگ کے آغاز کے ساتھ ہی بھارتی توپوں کی گھن گرج  سے وادی لیپہ کے درو دیوارگونج رہے تھے۔ 5 دسمبر کو تو یوں محسوس ہوتا تھا کہ بھارتی توپ خانے نے اپنا تمام ایمونیشن اسی روز ختم کرنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔ شام کے فوری بعد تاریک شب میں دشمن نے گولہ باری میں اچانک زبردست اضافہ کردیا۔ گولوں کی دھمک اور پہاڑیوں میں ان کی باز گشت سے کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی ہر طرف قیامتِ صغریٰ کا سماں تھا۔ تاریکی کا سینہ چیرتے ہوئے ٹریسر راؤنڈزکی آمد ورفت تیزی سے جاری تھی ان کی روشنی نے چاند کی کمی کماحقہ پوری کردی تھی۔ اندھیرے اور دھویں کی دبیز تہہ اور بھرپور شیلنگ کی آڑ میں بھارتی فوج وادی لیپہ کی آزادی کے راستے میں سینہ سپر آخری پاکستانی چوکی شیشہ لدی کی طرف بڑھ رہی تھی۔ جہاں پر پاک فوج کی یونٹ -

2 FF

رجمنٹ پچاس کے لگ بھگ نفری کے ساتھ میجر عزیزکی قیادت میں ثابت قدمی سے ڈٹی ہوئی تھی جبکہ بھارتی فوج وادی لیپہ کی دیگر پاکستانی پوسٹوں سے موو کرکے تقریباً پون بریگیڈ(2800 افراد) کی نفری کے ساتھ شیشہ لدی کی



اکلوتی پاکستانی پوسٹ کو چہار اطراف سے گھیرے میںلے چکی تھی۔ نصف شب تقریباً  ایک بجے فائرنگ یک لخت بند ہوگئی اور فضا میں ایک گھمبیر اور خوفناک سناٹا چھا گیا۔ پاک فوج کے نڈر اور باہمت جانباز بھارتی فوج کی نقل و حرکت  سے بخوبی باخبر تھے لیکن انہوںنے اعلیٰ ترین دفاعی و حربی مہارت کا ثبوت دیتے ہوئے اس وقت تک ایک گولی بھی فائر نہ کی جب تک کہ دشمن ان کی رینج میں نہ آگیا۔ مہیب سکوت محض کچھ دیر رہا اور پھریک لخت دونوں اطراف سے آتشیں اسلحے کے دہانے کھل گئے ۔ فتح کے نشے میں چُور بارودی سرنگوں کے نزدیک پہنچ کر ایک بھارتی افسر نے لائوڈ سپیکر پر نعرہ لگا کر پاک فوج کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہوئے  بلند آواز میں کہا کہ تمہاری پوسٹ چاروں طرف سے ہمارے جوانوں کے محاصرے میں ہے لہٰذا تمہارے لئے تین راستے تجویز کرتا ہوں ایک یہ کہ ہینڈز اپ ہو جائو اس صورت میں ہم تمہیں بحفاظت نکل جانے کا محفوظ راستہ دیں گے لیکن تم جسم پر موجود کپڑوں میں جائو گے، دوسرا یہ کہ ہتھیار ڈال کر قیدی بن جائو اس صورت میں تمہارے ساتھ جنیوا کنونشن کے تحت سلوک کیا جائے گا۔ تیسری اور آخری صورت یہ ہے کہ مرنے کے لئے تیار ہو جائو ۔ جواب میں پاک فوج کے جانباز میجر عزیز نے نعرئہ تکبیر لگایا اور ساتھ ہی پاکستانی گنوں نے دشمنوں کو بھوننا شروع کردیا۔ شیشہ لدی پوسٹ کے عین سامنے بلندی پر چیڑ کے درخت پر نصب لائوڈ سپیکر کے ذریعے کوئی بھارتی افسر چیخ چیخ کر اپنے سپاہیوں کو گالیاں دے رہا تھا جو کہ ہتھیار پھینک کر بھاگ رہے تھے۔ تقریباً تین گھنٹوں کی گھمسان کی جنگ کے بعد دشمن اپنی سیکڑوں لاشیں چھوڑ کر سرپر پائوں رکھے بھاگ کھڑا ہوا۔ اس جنگ میں تین پاکستانی جوان شہید ہوئے اور حیرت ناک بات یہ ہوئی کہ جنگ میں کوئی پاکستانی فوجی زخمی نہیں ہوا۔

2-FF پاک فوج کی یونٹ-  
رجمنٹ نے اپنے اسلاف کی شاندار روایات کو زندہ رکھتے ہوئے محض پچاس لوگوں کی مختصر تعداد میں ہونے کے باوجود نہ صرف بھارتی فوج کے پون بریگیڈ (تقریباً2800) کی نفری کی بھاری تعداد کا جوانمردی سے مقابلہ کیابلکہ 600 سے زائد بھارتی حملہ آوروں کو ہلاک بھی کیا۔

بھارتی حملہ اتنا بھرپور تھا کہ جب فائرنگ بندہوئی اور سکوت چھا گیا تو اہلیانِ لیپہ یہ سمجھے کہ شیشہ لدی پوسٹ پر خدانخواستہ بھارتی قبضہ ہو چکا ہے۔ جنگ میں مصروف پاک فوج اور وادی کی سول آبادی کا رابطہ منقطع ہو چکا تھا، پوری وادی میں خوف و سراسیمگی کی لہر دوڑ گئی۔ پسپائی کے وقت بدحواسی کے عالم میںشکست خوردہ چھ بھارتی فوجیوں کی ایک ٹکڑی سیشہ لدی کے دامن میں واقع گائوں ''ٹائی پورہ'' کی آبادی کے درمیان شمال میں ایک چھوٹے غار میں چھپ گئی۔ چونکہ یہ سب کے سب پوری طرح مسلح تھے اور سول آبادی کے خیال کے مطابق پاکستانی پوسٹ شیسہ لدی بھارتی قبضے میں جاچکی تھی لہٰذا ان کی آمد سے نہتی سول آبادی سخت خوفزدہ ہوگئی۔ تمام مکانات کے دروازے پہلے ہی مضبوطی سے بند کئے جاچکے تھے گائوں کا سب سے مضبوط اور بڑا مکان غائی پورہ کے ترک عثمانی خاندان کے چشم و چراغ لعل خان کی ملکیت تھا جو کہ 1965 کی جنگ کے زمانے میں مجاہد فورس میں کمپنی کمانڈر اور کوارٹر ماسٹر رہ چکے تھے لہٰذا ان کے پاس ایک بارہ بور بندوق اور چند کارتوس تھے جس کی وجہ سے علاقے کے تقریباً  15 مرد اور30 خواتین و بچوں نے  ان کے گھر پناہ لے رکھی تھی۔ جیسے ہی بھارتی فوجی فرار ہو کر اس طرف آئے تو محمدیعقوب نامی شخص کی نظر ان پر پڑ گئی جس نے فوری طور پر لعل خان کو اطلاع دی کہ دشمن گائوں میں آچکا ہے لہٰذا اپنی حفاظت کا بندوبست کرو۔ تاہم مشورے سے یہ فیصلہ ہوا کہ اس سرد اور تاریک رات میںکہیں جانے کے بجائے اسی مکان میں بند رہا جائے اور بھارتی فوج کی کسی کارروائی سے قبل ہی خواتین والے کمروں کو فوری طور پر آگ لگا دی جائے تاکہ عفت مآب مسلم خواتین کی عصمت و عزت محفوظ رہے اس غرض کے لئے مکان میں پہلے سے موجود خشک گھاس اور لکڑیوں کو مستورات والے کمروںکے پاس خاموشی سے اکٹھا کردیا گیا تاکہ خواتین میں کہرام نہ برپا ہوجائے۔ دریں اثنا مشورے کے مطابق مکان میں موجود اکلوتی بارہ بور بندوق اور دس کارتوس لعل خان کے حوالے کردیئے گئے تاکہ وہ مکان کے چوبی دروازے میںموجود تقریباً ایک انچ چوڑے سوراخ کے ذریعے بھارتی فوج کی متوقع آمد روکنے کی کوشش کرے۔

لعل خان نے بندوق ہاتھ میں لے کر مکان کے گرد ایک چکر لگایا تاکہ باہر کے حالات سے باخبر رہا جاسکے۔ جیسے ہی وہ باہر نکلے ان کی نظر ایک بھارتی سپاہی  پر پڑی فوری طور پر احتیاطی تدبیر کے طور پر انہوںنے اندر آکر دروازہ بند کیا اور چوبی دروازے کے سوراخ سے بندوق نکال کر چوکس ہوگئے۔ اچانک دو فوجی جوان پاک فوج کی وردی میں ملبوس مکان کی طرف آتے دیکھے گئے انہوںنے مذکورہ مکان کے قریب واقع رحمت خاں، حکومت خاں اور مشتاق خاں وغیرہ کے مکان کے بند دروازوں پر دستک دینا شروع کیا وہاں کوئی ہوتا تو جواب دیتا۔ آخر میں انہوںنے لعل خان کے دروازے کو کھٹکھٹایا تو بے ساختہ لعل خان کی انگشت شہادت کا دبائو بارہ بور گن کے ٹریگر پر بڑھ گیااور مکان میں پناہ گزین افراد مرنے مارنے پر تُل گئے چونکہ شیشہ لدی کی پوسٹ ہاتھ سے نکل جانے کا خوف اور خدشہ دلوں میں جاگزیں ہوچکا تھا اور بھارتی فوجیوں کو گائوں میں داخل ہوتے دیکھ لیا گیا تھا لہٰذا سب نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ یہ بھارتی فوجی ہیں جو سول آبادی کو دھوکہ دینے کی غرض سے پاک فوج کے شہید ہوجانے والے کسی جوان کی وردی پہنے ہوئے ہیں لہٰذا شک رفع کرنے کی غرض سے ان سے بآوازِ بلند اپنی شناخت کروانے کو کہا جس پر اسی گائوں کے مجاہد فورس میں بھرتی ہونے والے ایک جوان سید محبوب شاہ نے لعل خان کا نام لے کر پکارا۔ لیکن پھر بھی مکان میںموجود لوگوں کی تسلی نہ ہوئی انہوںنے سمجھا کہ بھارتی فوجیوں نے جبرو تشدد کے ذریعے  گائوںکے کسی شخص سے اس مکان کی بابت معلومات حاصل کرلی ہیں لہٰذا دوبارہ مطالبے پر انہوںنے اپنا نام ، ولدیت، دادا کانام اور معروف لقب وغیرہ بتائے بلکہ انہوںنے لعل خان کا پورا شجرہ نسب بھی بتایا لیکن پھر بھی شک باقی رہا کہ اس کے ہمراہ حوالدار کی وردی میں کوئی بھارتی فوجی جوان ہے جس نے گن پوائنٹ پر ہمارے گائوںکے مجاہد فورس کے جوان محبوب شاہ کو یرغمال بنایا ہوا ہے اور اس طرح ہمیں نقصان پہنچانے کے درپے ہے۔ لیکن محبوب شاہ نے معاملہ سمجھ لیا اور اس نے حوالدار کا تعارف کرایا۔ حوالدار نے خود بلند آواز میںکلمہ طیبہ پڑھا جس پر مکان کا دروازہ کھول دیا گیا اور باہر نکل کر سب سے پہلے شیسہ لدی پوسٹ کی کیفیت  دریافت کی گئی ان کی طرف سے بھارتی فوج کی پسپائی اور بھاری جانی نقصان کا سن کر دل کو اطمینان ہوا ۔ دروازہ کھلتے ہی انہوںنے چائے طلب کی لیکن یہاں سب کو اپنی جانوں کی پڑی ہوئی تھی، چائے کہاں سے آتی لیکن ان سے کہا گیا کہ اگر وہ کچھ دیر ٹھہر جائیں تو چائے کا بندوبست ہو جائے گا۔ لیکن آفرین ہے ان شہبازوں پر کہ شدید سردی اور تمام رات کی گھمسان کی جنگ کی وجہ سے تھکے ہونے کے باوجود مادرِ وطن کے دفاع سے ایک لمحہ بھی غافل ہونا گوارا نہ کیا۔ اب صورت حال یہ تھی کہ جن چند بھارتی فوجیوں کی وجہ سے ڈر کر ہم لوگ اس مکان میں دبکے ہوئے تھے شیشہ لدی پوسٹ پر دشمن کا سن کر ایک نیا جوش اور ولولہ پیدا ہوگیا اور سب محبوب شاہ اور پاک فوج کے حوالدار کے ساتھ ان بھارتی فوجیوں کی تلاش میں ساتھ جانے کی ضد کرنے لگے اسی اثنا میں پاک فوج کے ایک افسر کا دستی پیغام آیا کہ سول آبادی بھارتی فوجیوں سے مڈ بھیڑ سے احتراز کرے کیونکہ وہ پوری طرح مسلح ہیں اور غاروں، جھاڑیوں اور جنگل میںموجود ہیں پاک فوج نے ان کی سرکوبی اور تلاش کی کارروائی شروع کردی۔ لہٰذا جب تک یہ کارروائی مکمل نہیں ہو جاتی سول آبادی غاروں، پہاڑوں اور جنگل میںجانے سے گریز کرے۔لیکن پھر بھی لوگوںکا جوش و جذبہ سرد نہ ہوا۔ مجبور کرنے پر کمانڈنگ آفسر نے چند سول افراد کو تلاش کے کام میں شامل کرلیا۔ کچھ ہی دیر میں شیشہ لدی کی جنوبی ڈھلوان سے تین بھارتی سپاہی اور ایک سکھ افسر گرفتار کرلئے گئے گرفتاری کا سن کر سول آبادی میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور لوگ اپنی جانوں کی پروا کئے بغیر جوق درجوق اپنے جوانوں کی خیریت دریافت کرنے اور ان کے لئے ضروریات زندگی کی اشیاء لے کر دیوانہ وار شیشہ لدی پوسٹ پر پہنچنا شروع ہوگئے۔ ان میںکچھ خواتین نے پانی کی گاگریں سروں پراٹھائی ہوئی تھیں۔ ان کی آنکھوں سے خوشی کے آنسو بہہ رہے تھے۔ اچانک ایک بھارتی فوجی نے جو شیشہ لدی پوسٹ کے عین سامنے بلندی پر چیڑ کے گھنے درختوں میںچھپا ہوا تھا موقع پا کر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں 2-FF رجمنٹ کے کمپنی کمانڈر میجر عزیز موقع پر شہید ہوگئے جو کہ مورچوں کی دیکھ بھال اور جوانوں کی حوصلہ افزائی میںمصروف تھے۔ اس طرح پاک فوج کی یونٹ2-FF رجمنٹ نے اپنے اسلاف کی شاندار روایات کو زندہ رکھتے ہوئے محض پچاس لوگوں کی مختصر تعداد میں ہونے کے باوجود نہ صرف بھارتی فوج کے پون بریگیڈ (تقریباً2800) کی نفری کی بھاری تعداد کا جوانمردی سے مقابلہ کیابلکہ 600 سے زائد بھارتی حملہ آوروں کو ہلاک بھی کیا۔ جس مورچے میں میجر عزیز نے شہادت پائی اس کا نام آج بھی ''عزیزرج'' ہے اس معرکے کے بعد سے آج تک وادی لیپہ پر دشمن کو کبھی حملہ کرنے کی جرأت نہیں ہوئی اور یہ خوبصورت وادی ہمیشہ کے لئے دشمن کی دست برد سے محفوظ ہوگئی۔


سپاہی مقبول حسین ستارہ جرات کے لئے 
خصوصی نغمہ 

زندانوں میں اپنے لہو سے لکھا پاکستان 
خون آلود بدن میں میرے پھر آئی تھی جان 

پاکستان زندہ باد پاکستان زندہ باد 

پاکستان کے زندہ باد کا جب بھی نعرہ لگایا  
دشمن کے چہرے پہ  دیکھا میں نے موت کا سایہ 
میں آیا تھا جان لٹانے کا کر کے سامان 
زندانوں میں اپنے لہو سے لکھا پاکستان 

پاکستان زندہ باد پاکستان زندہ باد 

میں نے زباں ہی کٹوا ڈالی راز اگلتا کیسے 
دل دھڑکن پر وطن کے نغمے ہر دم گونجتے رہتے 
ظالم ظلم بھی کرتا تھا اور ہوتا تھا حیران 
زندانوں میں اپنے لہو سے لکھا پاکستان 

پاکستان زندہ باد پاکستان زندہ باد 

آنکھیں میری بول رہی تھیں اور زباں خاموش 
پاکستان کی خاطر میرے قائم رہے تھے ہوش 
نمبر یاد تھا مجھ کو اپنا یاد رہی پہچان 
زندانوں میں اپنے لہو سے لکھا پاکستان 

پاکستان زندہ باد پاکستان زندہ باد

طاہر پرواز

یہ تحریر 92مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP