ہمارے غازی وشہداء

معرکہ برخنا  ۔ جرأت اور حب الوطنی کی ایک داستان

ہماری سکیورٹی فورسز نے وطن دشمنوں اور دہشت گردوں کے خلاف ایک طویل جنگ لڑی ہے اور اس جنگ سے جڑی ایک ایک داستان ہمارے باہمت اورپرعزم خاکی جوانوں کی جرأت او ر بسالت کی گواہی دیتی ہے تاہم ان سطور میں '' آپریشن  برخنا''کے تحت ہونے والی چند اہم فوجی کارروائیوںکوسپردقلم کیاجارہا ہے۔'' برخنا ''  پشتو زبان میں آسمانی بجلی اور بادلوں کی گرج چمک کو کہا جاتا ہے(پشتو میں 'برشنا' بھی کہاگیا ہے)۔ اس عنوان سے مہمند ایجنسی میں دہشت گردوں کے خلاف ہونے والی کارروائیوں میں ہمارے جوان دشمن پر واقعی بجلی بن کر گرے اور اس کا بھرپور طورپر قلع قمع کرکے قوم کو ایک روشن اور محفوظ مستقبل کی نوید دی ۔ایک فوجی افسر کہتے ہیں کہ پہلی کارروائیوں کے بعدہمارے  جوانوں نے دشمن سے وعدہ کیا تھا کہ ہم ایک بار پھر آئیں گے اور صحیح معنوں میں تم پر'' برخنا'' بن کر ٹوٹ پڑیں گے اورپھر جوانوں نے اپنے اس عہد کو پورا بھی کیا۔یاد رہے کہ مہمند کی ان خطرناک اور پرپیچ پہاڑیوں پر فوج نے مسلسل چار بار چڑھائی کی اور آخری بار اسے بھرپور کامیابی نصیب ہوئی ۔



 آپریشن برخنامیںپاک فوج کی ٣٥ اے کے رجمنٹ کی بلال اور علی کمپنیوں ، ایس ایس جی کی ٹیپو اور غازی کمپنیوں، ٢١فرنٹیر فورس کی ایک کمپنی کے علاوہ آرمی ایوی ایشن،آرٹلری ، آرمرڈ اور دیگر فوجی گروپوں نے بھی بھرپور حصہ لیا۔  کامیاب فوجی کارروائی کے بعد مہمند ایجنسی میں شرپسندوں کے اہم مراکز سوران ویلی ،مٹئی ویلی اور ولی داد ویلی تک ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو رسائی دی گئی تھی اور اس کی رُوداد سینیئر ٹی وی رپورٹرز اور صحافی منظرعام پرلاتے رہے۔بلاشبہ عزم و استقلال کی یہ داستانیں ہمارے محافظوں کے دل ودماغ میں موجزن حب ا لوطنی کے جذبوں کو آشکار کرتی ہیںاور اس سے قوم کا سربھی فخر سے بلند ہو جاتا ہے کہ اس کے محافظ اپنے فرض سے ہرگز غافل نہیں ۔ 
 قبائلی علاقوں میں دہشت گردوں کے اہم مراکز میں مہمند ایجنسی بھی سرفہرست تھی۔ مہمند ایجنسی افغان سرحد پر واقع ہے اورسرحدکے اُس پار افغانستان کاصوبہ کنڑ ہے جو پاکستان دشمن عناصر کا گڑھ کہلاتاہے ۔ مہمندایجنسی کے کئی علاقوں میں دہشت گردوںکے سرغنہ عبد الولی عرف عمر خالد اورقاری شکیل جیسے تربیت یافتہ دہشت گردوںکاکنٹرول تھااوران شرپسندوں سے یہ علاقے واگزار کروانا کسی بڑے چیلنج سے کم نہ تھا۔ یہاں موجود دہشت گردوں کو ہمسایہ ملک سے بھرپورسپورٹ میسرتھی ۔یہ باجوڑ کے مختلف علاقوں تک مسلسل نقل و حرکت کرتے اور وطن عزیز کے دیگر شہروںمیں دہشت گردی کی منصوبہ بندی بھی کرتے۔مہمند کی یہ وادیاں دہشت گردوںکے بیس کیمپ کادرجہ رکھتی تھیں ۔ان پہاڑی چوٹیوں پرپہنچنے اوران میں چھپے دہشت گردوں کے خاتمے کے لئے وہاں براہ راست رسائی حاصل کرنا ممکن نہ تھا۔ دہشت گردوں کے ٹھکانوں تک پہنچنے کے لئے فوج کو شدید مشکلات پیش آئیں اور جگہ جگہ دشوار گزار گھاٹیوں میں خون ریز جھڑپیں ہوئیں۔
اس علاقے کی دفاعی اہمیت کے پیش نظردہشت گردوں کا خیال تھا کہ اس دشوار علاقے پر فوج کبھی کنٹرول حاصل نہیںکر سکے گی۔فورسزکے نزدیک ان پہاڑیوں اور وادیوں کی اہمیت اس لئے بھی زیادہ تھی کہ یہاں دہشت گرد منظم طورپر مورچہ زن تھے۔دوسری بڑی اہمیت یہ تھی کہ دہشت گردوں کا ہمسایہ ملک افغانستان میںآنا جانا یہیں سے کنٹرول ہوتا تھا اور یہ دہشت گردوں کی آمد کے لئے محفوظ راستہ تھا۔مہمند ایجنسی سے دہشت گردوں کے ہمسایہ ملک میں آمدو رفت کے دواہم راستوں پر قبضہ کر کے دہشت گردوں کی مداخلت بند کی گئی ۔
 مہمندکی ولی دادچوٹی اور اس سے ملحقہ علاقوں کی لڑائی اس قدرخوفناک تھی کہ سوران ویلی میں موجو د ٹینکوں کی گولہ باری اور آرٹلری فائر کی مدد سے جوانوںنے آگے بڑھنا شروع کیاتھا ۔ان بلندو بالا پہاڑوں سے پورے علاقے پر نظررکھی جاسکتی تھی۔ دہشت گردوںنے پہاڑی چوٹیوں پر ہیوی گنیں، آرپی جی سیون اور دیگر مہلک ہتھیار نصب کررکھے تھے۔ان کی باقاعدہ آبزرویشن پوسٹیں تھیں جہاںسے و ہ فورسزپرنظررکھتے ۔ولی داد کے معرکے میں پہلی جھڑپ ہی بہت خونی تھی جس میں  ٣٥ اے کے رجمنٹ  کے ١٢جوان اور دوسرے دن مزید پانچ جوان شہید ہوئے اورچالیس کے قریب دہشت گرد انجام کو پہنچے۔مہمند ایجنسی کی ایک پہاڑی چوٹی پر دہشت گردوں سے چھینے گئے کمپائونڈز، سرنگوں اور مورچوںپرسبز ہلالی پرچم لہرا رہے تھے۔ ایک جوان سے جب پوچھاگیا کہ یہ جھنڈے کب لگائے گئے تھے تواس نے جواب دیا کہ یہ جھنڈے ہم اپنے ساتھ اس نیت سے لے کرآئے کہ فتح کے بعدیہ جھنڈے یہاںپر لہرا دیئے جائیں گے یاپھر ہم مر جائیں گے اوران پرچموں میںلپیٹ دیے جائیں گے۔ جوانوں کے ان بلند عزائم اورمصمم ارادوں سے اندازہ لگایاجاسکتاہے کہ یہ کس قدرمشکل ٹارگٹ تھا۔یہاں پرفوجی جوانوںنے اس عزم کا اظہار کیاتھاکہ جب تک مہمند ایجنسی میں مکمل امن قائم نہیں ہوجاتا ہم واپس نہیں جائیں گے۔ 
میجر خرم احسان اور میجر فہد حسن کہتے ہیں کہ جب فیصلہ کن آپریشن کی منصوبہ بندی کی گئی تو ہم اس عزم کے ساتھ یہاں آئے تھے کہ یاتوہمیں اوپرچڑھنا ہے اور دہشت گردو ںکی گردنوں تک پہنچناہے یا پھر یہیںختم ہوجانا ہے'اس کے علاوہ ہمارے پاس کوئی آپشن نہیں۔ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کودکھایاگیا کہ یہاں پر ایسی ناقابل عبور چڑھائیاںتھیں کہ جوانوں کودونوں ہاتھوںسے پتھروں کومضبوطی سے پکڑکر اوپرچڑھنا پڑا، اپنا جنگی سازو سامان انہوں نے پیٹھ پرباندھ رکھا تھا اور دوسری طرف سے شدید فائرنگ بھی ہو رہی تھی۔اس مرحلے پر بھی بہت سے جوان زخمی ہوئے اور اک جہد مسلسل کے بعد اوپر تک پہنچے میں کامیاب ہوئے۔ ایک پہاڑی چوٹی پر رات گیارہ سے صبح چار بجے تک زبردست لڑائی ہوئی۔ دہشت گردوں کے مورچوں کی تباہی اور پتھروںپر نشانات سے بخوبی پتہ چلتاتھا کہ یہاں کتنی ہیوی فائٹ ہوئی ہے۔ اس مشکل ٹارگٹ کو حاصل کرنے کے لئے متعدد گروپس تشکیل دیئے گئے جوفرنٹ سے اوردائیں بائیں سے، جہاں سے بھی انہیں موقع ملتا، آگے بڑھتے ہوئے دہشت گردوںکے گرد گھیراتنگ کرتے جاتے۔یوں دہشت گردوں کو ایک جنگی مہارت کے ساتھ گھیر کر ہلاک کیا گیا۔
 دہشت گردوں کے ٹھکانوں سے ملنے والی چند دستاویزات میں وہ فہرستیں بھی تھیںجو وہ روزانہ کی سنتری ڈیوٹیاںلگایاکرتے تھے ۔ ان فہرستوں سے اندازہ ہوتاتھاکہ ایک بڑے مورچے یابنکر پرتیس چالیس لوگ ڈیوٹیوں پرمامورتھے۔ فضا سے لی گئی ایک فوٹیج میں دیکھاجاسکتا ہے کہ ایک مورچے پر کتنے دہشت گرد موجودتھے۔ میجر خرم نے بتایا کہ دہشت گردوں کاایک اہم مرکز ولی دادکے تنگ و تاریک پہاڑوں میں واقع تھا،یہاں پر گھمسان کی لڑائی ہوئی اوردہشت گردوں نے پاک فوج کے خلاف مارٹر گن، آر پی جی سیون راکٹ لانچر ،اے کے فورٹی سیون، ٹویلو پوائنٹ سیون اور بارودی سرنگوں جیسے مہلک ہتھیاروں کا بے دریغ استعمال کیا ۔
ولی داد پہاڑی کی چوٹی پر ایک بنکربھی دکھایا گیا جسے دیکھ کراس کی مضبوطی اوردہشت گردوں کی جنگی مہارت کا انداز ہ ہوتاتھا۔صرف اس بنکر کے قریب فوج کی دہشت گردوں کے ساتھ مسلسل دو گھنٹے لڑائی ہوتی رہی ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ جگہ ایڈمنسٹریٹوتھی اوریہاں پربہت زیادہ ایمونیشن تھا۔دہشت گردوں نے یہاں پر لمبی لڑائی کی منصوبہ بندی کی تھی۔ 
یہ بنکرپہاڑکو کاٹ کراس کے بالکل بیچ بڑی مہارت کے ساتھ بنایاگیاتھااور اس بنکر کی سپورٹ کے لئے دیگر بنکرز اس کے اردگردبنائے گئے تھے۔ ولی دادٹاپ پر واقع یہ بنکرز نیچے وادیوں سوران اور مٹئی کے گرائونڈلیول سے کئی ہزار فٹ کی بلندی پر تھے۔ یہ بنکرز فطری طور پر آبزرویشن پوسٹوں کاکام بھی دیتے تھے اوریہاں سے سوران اورمٹئی وادیوں اور علاقہ چناری کے ساتھ ساتھ مکمل مہمندایجنسی پر نظررکھی جاسکتی تھی۔ ان پر کسی قسم کی فضائی بمباری یافورسز کی گولہ باری کااثرنہیں ہوتاتھا۔اسی طرح ان بنکرز سے مہمندایجنسی سے وادی مٹئی میں داخل ہونے والی مین سڑک بھی دہشت گردوںکی نظروں میںتھی۔ پہاڑوں کے درمیان سے زگ زیگ کرتی یہ سڑک مکمل طور پر دہشت گردوں کے قبضے میںتھی۔اس سڑک پرجوبھی گاڑی حرکت کرتی دہشت گرداسے آسانی سے نشانہ بنا ڈالتے۔ اس قدر دشوارگزار اور خطرناک علاقوںمیں موجود دہشت گردوں کا صفایا کرنے کے لئے صرف ایک ہی حل تھا کہ ہمارے جوان کسی طرح ان بنکر ز تک پہنچیں اور دُوبدُ و ان سے لڑتے ہوئے انہیں انجام تک پہنچادیں۔چنانچہ ہمار ے جوانوں نے ایسا ہی کیا۔یہاں پہلی رات کی کارروائی میں فورسز نے آگے بڑھتے ہوئے کئی دہشت گردوںکو پسپاکیااورکئی مورچوں پر قبضہ کر کے وہاں سبز ہلالی پرچم لہرا دیئے۔ 
آپریشن میں بھرپور حصہ لینے والے ایک جوا ن سے جب پوچھا گیا کہ وہ آسان الفاظ میں اس لڑائی کوکس طرح بیان کرے گا تو اس کا کہناتھا کہ سب سے پہلے تومیں کہوںگا کہ ہمارا سامنا ایک انتہائی چالاک اور تربیت یافتہ دشمن سے تھا ۔اس جگہ کو دہشت گردوں نے بڑے زبردست انداز میں ڈیفینڈ کیا۔ ایک پوسٹ سے دوسر ی پوسٹ تک ان کامواصلاتی اور ایمونیشن سسٹم بہت مستحکم تھا ۔جہاں پر معمولی سی موومنٹ ہوتی وہ چوکنا ہوجاتے اور ایک دوسرے کو فوری اطلاع دیتے۔دوسری طرف ہمارے سامنے ایک بڑا مسئلہ یہ بھی تھا کہ دہشت گردوں کے جوسہولت کار نیچے وادیوںمیں موجود تھے وہ فورسز کی نقل و حرکت کی خبر فوری طورپر ان تک پہنچاتے جس سے ہمارے لئے مزید مشکلات پید ا ہوتیں۔بہرحال ہم اللہ پر کامل بھروسے کے سبب آگے ہی بڑھتے رہے۔
 مہمند ایجنسی کی مٹئی وادی میں موجود کرنل راشدسعید نے بتایاکہ دہشت گرد دوران آپریشن بنکر ٹو بنکر مووکرتے اور پھر دوسرا بڑا اور مشکل ترین مرحلہ یہ تھا کہ بعض گھروںسے بھی مزاحمت ہوتی تھی جسے کنٹرول کرنا آسان نہ تھا۔اس وادی میں ایسے بہت سے گھر دکھائے گئے جن میںدہشت گردوں کی تعدادبہت زیادہ تھی ۔ان گھروں میں دہشت گردوں کی موجودگی کی وجہ سے فورسز کوآگے بڑھنے میں بہت مشکلات پیش آئیںکیونکہ جگہ جگہ سے شدید مزاحمت ہوئی۔ یہ گھر ان لوگوں کے تھے جو آپریشن کی وجہ سے یہاں سے نقل مکانی کرگئے تھے اوراب ان میں دہشت گردوں نے پناہ لے لی تھی۔یاد رہے کہ اس علاقے سے نقل مکانی کرنے والوںکو فوج کی جانب سے آئی ڈی پیز کیمپوںمیں بحفاظت شفٹ کیا گیاتھا۔ یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ مہمند کی مقامی آبادی بہت امن پسندہے اوراس نے ہر موقع پر پاک فوج کا بھرپور ساتھ دیا۔ مہمندایجنسی میں دہشت گرد کمانڈرعمر خالد نے اپنے مختلف بیانات اور پمفلٹس کے ذریعے نوجوانوں اور خواتین کو بہت ابھاراتھا کہ وہ فورسز پر حملے کریں لیکن اسے مقامی آبادی کی طرف سے کوئی پذیرائی نہ ملی۔
ایک فوجی افسرنے سامنے اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ مٹئی وادی میں کھڑے ہوں تو سامنے ''زری سر'' کی ایک پرپیچ پہاڑی ہے جو دووادیوں کے درمیان ہے ۔ اس کے دائیں طرف گنونوںوادی اوراس کے بائیں طرف سوران وادی ہے۔جب فورسز نے ان وادیوں سے دہشت گردوں کے خاتمے کاعہدکیاتوایک جنگی حکمت عملی کے تحت فیصلہ کیاگیا کہ ''زری سر''پہاڑ ی پر سب سے پہلے قبضہ کیاجائے۔ اس علاقے میں یہ فوج کا پہلا ہدف تھا اوردہشت گردوں کوبھی اس حوالے سے امید نہیں تھی کہ فوج سب سے پہلے یہاںچڑھائی کرے گی۔اس وقت تک سوران وادی اور ولی دادکی پہاڑیوںتک دہشت گردوں کی گرفت بہت مضبوط تھی۔یہاںفوج کامنصوبہ دہشت گردوں کی کمک بندکرنا اورسوران وادی کے تمام راستوںپرقبضہ کرناتھا۔یہاںپرمسلسل تین دن تک لڑائی جاری رہی۔اس میں دہشت گردوںکومفلوج کردیاگیا۔فوج کے لوکل ذرائع سے بھی معلوم ہوتاتھا کہ دہشت گرد بھاری نقصان اٹھارہے ہیں۔یہاں پر تقریبا ً ساٹھ دہشت گرد مارے گئے اور ٨٠ کے قریب زخمی ہوئے۔ فوجی اہلکاروں کاکہنا تھا کہ اس وادی میں فوج کو دیگر وادیوں اور ایجنسیوں کی نسبت پہلی بار یہ تجربہ ہوا کہ یہاں دہشت گرد د ن کے وقت بھی اپنی نقل وحرکت جاری رکھتے ہیں جبکہ دیگروادیوں میں وہ صرف رات کو پوسٹ ٹو پوسٹ سفرکرتے۔اسی وادی میںجب فوج کی کارروائی میں شدت آگئی تو یہاں پر یہ دیکھا گیا کہ دہشت گردوںکی بھاری جمعیت پہاڑوں کی جانب چڑھتی اور پوزیشنیں سنبھالتی ہوئی نظر آئی ۔اس موقع پر فوج نے ان پر ہلہ بولا اور بیسیوں دہشت گرد مارے گئے۔
''زری سر''کی لڑائی کے بعد جب فوج پہاڑی چوٹیوں پر پہنچی تو اسے بہت سختیاں برداشت کرناپڑیں۔ان چوٹیوںکو مقامی لوگ''  منحو س ''پہاڑیاں کہتے ہیں کہ ان پر چڑھنا موت کے منہ میں جانے کے مترادف ہے۔یہاں پر موجود ایک کرنل صاحب نے بتایاکہ ان پہاڑیوں پربالکل سیدھا چڑھناپڑتاہے اور ایک پائوں یاصرف ایک پائوں کاپنجہ رکھنے کی جگہ ہوتی ہے ۔ ان پہاڑیوں پر خطرناک اتارچڑھائو ہے ۔ یہاں سے آگے'' گورا پرائے ''نامی جگہ تک فوج مسلسل ڈیڑھ ماہ تک لڑتی رہی۔ جب فوج ان دشوارگزار پہاڑیوں پر لڑتی ہوئی ''گورا پرائے '' پہاڑیوں سے دوسری طرف سے نیچے اتری تو پسپا ہوتے دہشت گردفوجی جوانوں کے قدم روکنے کے لئے راستوں پر کثیر تعدادمیں بارودی سرنگیں(آئی ای ڈیز) بچھاتے گئے۔ یہاں پر فورسز نے دوسوکے قریب بارودی سرنگیں ناکارہ بنائیں۔اس چوٹی پر پوری ایک رات شدید لڑائی جاری رہی اور صبح تک اس کو کلیئر کرلیا گیا لیکن جونہی صبح ہوئی دائیں اور بائیں طرف سے دہشت گردوں کی بیس بیس اورپچیس پچیس کے قریب تین ٹولیوںنے فوج پر حملہ کر دیا۔یہ اس علاقے میں دہشت گردوںکی آخری مزاحمت تھی جوناکام بنا دی گئی ،اس جھڑپ میں بہت سے شرپسند مارے گئے اورکچھ فرار ہو ئے۔اس کے بعد فوج نے آہستہ آہستہ پیش قدمی کی اور افغانستان سرحد کے قریب'' گورا پرائے'' راستہ بھی مکمل طور پراپنے قبضے میں لے لیا۔
اس علاقے میں ایک ٹنل بھی دکھائی گئی ،جب فوج پہنچی تو دہشت گرد یہاں سے بھاگ چکے تھے۔ بمباری اورہیوی ہتھیاروں سے بچنے کے لئے دہشت گرد یہ ٹنل استعمال کرتے اور ان کاکوئی اہم کمانڈر آتاتھاتووہ اسے ٹنل میں ٹھہراتے ۔اس ٹنل میں جنریٹر کے ذریعے بجلی کا نظام بھی تھا۔اس پرقبضے کے لئے فوج کو بہت سخت جنگ لڑنا پڑی ۔یہ ٹنل کافی عرصہ سے فوج کی نظروںمیںتھی۔فوج نے اپنی جنگی حکمت عملی کے ذریعے اس پر آرٹلری اور مارٹرز سے بمباری کی اوراس کے بعد انفنٹری اپنے ٹارگٹ کی طرف بڑھی۔ جب فوج کی طرف سے شدید شیلنگ ہوتی تو مورچوںمیں موجود دہشت گرد اس ٹنل میں گھس جاتے تھے اورجب شیلنگ بند ہوتی وہ پھر سے نکل کر اپنی پوزیشنوں پر پہنچ جاتے۔یہ ٹنل مکمل طورپرپہاڑکھودکربنائی گئی تھی۔یہاں پردہشت گردوںکاکمیونیکیشن سسٹم اچھا تھا ۔ میجر راشدنے بتایا کہ کہ یہ صرف  ایک سرنگ ہے جوںجوں ہم ولی داد کی دیگر وادیو ں میں جائیں گے ایسی بہت سی ٹنلز اوربنکرز ملیں گے۔
  مہمند ایجنسی کے ان خونی معرکوں میں پاک فوج کے آفیسرز،جے سی اوز، این سی اوز اور سپاہی تک ہر رینک کی شہادتیںہوئیں۔یہاں پر افسروں اورجوانوںنے ایک سخت جان دشمن کو عبرت ناک شکست دے کر اپنی جوانمردی اور بسالت کا لوہامنوایا اور اپنا آج قوم کے کل پر قربان کیا ۔یہ سربکف سپاہی جس نظم و نسق اور اعتماد کے ساتھ اپنے ہد ف کی جانب بڑھے وہ بلاشبہ ہماری عسکری تاریخ کا ایک روشن باب اور ہماراسرمایہ افتخارہے۔ 
مہمند ایجنسی کی ولی دادوادی اوراس سے ملحق دیگر وادیوں کودہشت گردوں کے چنگل سے آزادکرانے کی کوشش میں کیپٹن خضر ستی اور کیپٹن عابد سمیت ٢٥کے قریب فوجی جوانوںنے جام شہادت نوش کیا۔ ایک سوال کے جواب میںایک جوان کا کہنا تھا کہ میںنے آپریشن میںحصہ لے کر کسی پرکوئی احسان نہیںکیابلکہ اپنا وہ فرض منصبی ادا کیا جو قوم کی طرف سے مجھے سونپا گیا تھا۔میں نے اب تک١١٠آئی ای ڈیزناکار ہ بنائی ہیں۔ہر آ ئی ای ڈی میں پندرہ سے بیس کلو تک بارودی مواد استعمال کیا گیاتھا۔اس کارروائی میں میرے تین دوست شہیدہوچکے ہیں۔میرے یہ جانبا ز ساتھی مجھے بہت یاد آتے ہیں لیکن کیا کریںکہ قربانیوں کے بعد ہی کچھ حاصل ہوتا ہے اوراس آپریشن میں بہت سی قربانیوں کے بعدہی ہمیں کامیابی اورکامرانی نصیب ہوئی ہے ۔   


مضمون نگار ایک قومی اخبار کے لئے کالم لکھتے ہیں
[email protected]

یہ تحریر 126مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP