قومی و بین الاقوامی ایشوز

مظلوم کشمیری اور اقوامِ متحدہ

یہ ایک حقیقت ہے کہ کشمیر پر جبری قبضہ کرنے کے بعد بھارتی سامراج  نے ظلم و ستم کی تمام حدود کو پار کرلیا ہے۔ دنیا بھر کے سیاسی اور دانشور حلقوں نے کشمیر کی آزادی کی تحریک کے خلاف جاری بھارتی ظلم و تشدد کو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ بھارت اپنی طاقت کے بل بوتے پر نہتے کشمیریوں پر انسانیت سوز مظالم ڈھا رہا ہے۔ وہ ہر روز انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا پہلے سے بھی زیادہ تکلیف دِہ طریقہ استعمال کرتا ہے۔ عالمی تنظیموں کے محتاط اندازے کے مطابق ایک لاکھ سے زیادہ کشمیری شہید ہو چکے ہیں۔ خواتین کی عصمت دری کو باقاعدہ طور پر شہریوں کو سزا اور نفسیاتی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے۔ ہزاروں نوجوانوں کو آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ(اے ایف ایس پی اے)  کے تحت بغیر جرم عائد کئے گرفتار کرکے جیلوں میں ڈال دیا گیا ہے۔ ہزاروں نوجوان سکیورٹی اداروں کی کارروائی کے بعد سے غائب ہیں جن کے بارے میں کوئی معلومات نہیں یا حراستی ادارے ان کی گرفتاری سے منکر ہیں۔٢٠١١ میں انسانی حقوق کمیشن انکوائری نے اس بات کی تصدیق کی کہ جموں کشمیرمیں بے نشان قبروں میں دفن ہزاروں افراد کی لاشیں موجود ہیں۔ پچھلے چند سالوں میں بھارتی سکیورٹی فورسز کا پیلٹ گنز کا بے دریغ استعمال اور بالخصوص نوجوانوں کی آنکھوں کو نشانہ بنانا بھارت کی سفاکی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ان حالات میں اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں غیر جانبدارنہ بین الاقوامی کمیشن کی اشد ضرورت ہے جو ان جنگی جرائم کی روک تھام کرسکے۔



برہان مظفر وانی کو ایک منصوبے کے تحت اتفاق خانہ آپریشن میں ٨جولائی ٢٠١٦ کو دیگر عسکریت پسندوں کے ساتھ شہید کیا گیا۔٩ جولائی کو ایک بڑی تعداد نے اس کے جنازے میں شرکت کی۔ صحافیوں کی طرف سے یہ سب سے بڑا اجتماع بیان کیا گیا تھا۔ کشمیر کے تمام بڑے شہروں میں غائبانہ نمازِ جنازہ پڑھی گئی۔ پاکستان کے پرچم میں لپٹا شہید کا جسم اس کے بھائی خالد کے پاس دفن کیا گیا تھا اس دوران انٹر نیٹ سروس معطل کردی گئی تھی اور قومی ہائی ویز بند کردی گئی تھیں۔ اس کی موت کے ایک دن بعد سابق وزیرِ اعلیٰ عمر عبداﷲ نے کہا کہ اس کی ہلاکت نے اُنہیں کشمیری معاشرے کا نیاآئیکون(icon) بنادیاہے اورمزید یہ بھی خبردار کیا کہ اس کی موت کے بعد مزید کشمیری عسکریت پسندی میں شامل ہو جائیں گے جو میرے خیال میں آزادی کے لئے بڑھتی ہوئی نوجوانوں کی خواہش ہے۔ تاریخ کے پس منظر میں دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ کشمیر ، برطانیہ کی غیر منصفانہ تقسیم کی میراث ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ بعض لوگوں کے مطابق مائونٹ بیٹن نے جون١٩٤٧ کے وسط میں ایک ہفتہ کشمیر میں گزارا۔ان کی روانگی کے دن ان کے اور مہاراجہ کے درمیان طے ہوا کہ کشمیری ریاست کے مستقبل پر بات چیت کی جائے کیونکہ انہوں نے ابھی تک اس پر بات نہیں کی تھی۔ اتوار ٢٢ جون ١٩٤٧ کو مہاراجہ کو پیٹ دردکی شکایت ہوئی اور اجلاس کو منسوخ کردیا اور مائونٹ بیٹن کو مہاراجہ کے ساتھ اس ریاست کے مستقبل پر بات چیت کئے بغیر دہلی کے لئے روانہ ہونا پڑا۔ یہ مہاراجہ کی طرف سے کیاگیا ایک ڈرامہ تھا۔



اب تو بھارتی میڈیا اور تجزیہ نگاروں کو بھی یہ اندازہ ہوگیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر بھارت کے کنٹرول میں نہیں رہا۔ آٹھ لاکھ بھارتی فوج تمام تر طاقت استعمال کرنے کے باوجود کشمیریوں کو غلام بنانے میں ناکام ہوگئی ہے۔ مقبوضہ کشمیرمیں کوئی ایک شخص بھی ایسا نہیں جو بھارت غلامی  کے لئے تیار ہو۔ ہر شخص کی زبان پر آزادی کا نعرہ ہے۔ بانی ٔ پاکستان قائداعظم محمدعلی جناح نے کہا تھا کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔ کوئی اپنی شہ رگ سے کیسے دستبردار ہوسکتا ہے۔ آج مقبوضہ کشمیر میں جگہ جگہ پاکستانی پرچم لہرا ئے جارہے ہیں، کشمیریوں کے دل پاکستان کی محبت سے لبریز ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کے نوجوانوں کا مقبول نعرہ ''پاکستان زندہ باد، کشمیربنے گا پاکستان'' بن چکا ہے۔ محبت کا عالم یہ ہے کہ وہ بھارتی فوجیوں کی گولیوں کی بوچھاڑ میں پاکستانی قومی ترانے کو انتہائی جوش و جذبے کے ساتھ پڑھتے ہیں، سبز ہلالی پرچم اپنے گھروں پر لہراتے ہیں۔ فوج اُن پر تشدد کرتی ہے، گرفتار کرتی ہے لیکن وہ بار بار پاکستان سے اپنی محبت کا اظہار کررہے ہیں۔ ایک کشمیری نوجوان نے الجزیرہ ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں ہماری مائوں بہنوں کی عزتیں محفوظ نہیں، وہ ہمارے مذہب اسلام سے نفرت کرتے ہیں، ہم سے نفرت کرتے ہیں، ہم بھارت کے ساتھ نہیں رہ سکتے۔ کشمیری نوجوان مختلف طریقوں سے اپنی نفرت کا اظہار کررہے ہیں۔ بھارتی وزیرِاعظم جس کشمیری نوجوان کو دہشت گرد کہتے ہیں وہ برہان وانی شہید، کشمیری نوجوانوں کا ہیرو ہے۔ برہان وانی کی شہادت کے بعد سے ہونے والے احتجاج میں اب تک ایک سو سے زیادہ کشمیری شہید اور سولہ ہزار زخمی ہو چکے ہیں۔ پچھلے سال الیکشن کے دن بھارتی فوج  اور دیگر فورسز کشمیریوں کو زبردستی ووٹ ڈالنے کے لئے مجبور کرتی رہیں۔ لیکن کشمیریوں نے انہیں مسترد کردیا۔ کئی جگہ نوجوانوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ غیر ملکی ذرائع ابلاغ  نے اس بات کی تصدیق کی کہ پولنگ سٹیشن سنسان پڑے رہے۔کئی پولنگ بوتھزپر ایک ایک ووٹ بھی نہ ڈالاگیا۔ ٹوٹل ٹرن آئوٹ چھ فیصد سے بھی کم رہا۔ بھارت کا رویہ عجیب و غریب ہے عالمی برادری مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے مصالحت کی پیشکش کرتی ہے تو بھارت کہتا ہے کہ یہ دو طرفہ مسئلہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ہے۔ پاکستان مسئلہ کشمیر کا حل کرنے کا کہتا ہے تو بھارت پینترا بدل کر مؤقف اختیار کرتا ہے کہ یہ کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے اور اس پر بات چیت نہیں کرے گا۔

پوری دنیا کو بہت سنجیدگی کے ساتھ اس بات پر غور کرنا چاہئے کہ پاکستان اور بھارت دو ایٹمی ممالک ہیں اور کشمیر کی وجہ سے ان کے درمیان تنائو موجود ہے۔ بھارت کا جنگی جنون اور خطے میں برتری کی شدید خواہش ڈھکی چھپی بات نہیں۔ اس وقت کشمیر میں جاری مزاحمت اور تحریکِ آزادی کو دبانے کے لئے ہر حربہ آزمایا جارہا ہے۔ مزاحمت کی شدت بھارتی افواج کی جارحیت سے شدید تر ہے جس پر بھارت کو ملک کے اندر اور ملک سے باہر سبکی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بھارت نے مسلسل پاکستان کی سرحدوں اور لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزیوں کو وتیرہ بنایا ہوا ہے تاکہ دنیا کی نظر کشمیر کے نہتے شہریوں پر توڑے جانے والے مظالم سے ہٹا سکے۔
بھارت جدید اسلحے کے انبار اکٹھے کررہا ہے اور علاقے میں چین اور روس سے بھی بڑی فوجی قوت بننے کے خواب دیکھ رہا ہے۔ پاکستان کو مجبور ہو کر اپنے دفاع میں جوابی کارروائی کے لئے اس دوڑ میں شامل ہوناپڑتا ہے۔ اس دوڑ کوتاریخی تناظر میںدیکھیں تو بھارت ہمیشہ ہی نام نہاد جنگ کے جنون میں مبتلا نظر آئے گا۔ وہ پہل کرتا ہے اور پھر منہ کی کھاتا ہے۔ پاکستان کے پاس جوہری صلاحیت تھی لیکن ایٹمی دھماکوں کی نوبت تبھی آئی جب انڈیا نے پوکھران میں ایٹمی  دھماکے کئے۔ بغل میں چھری اور منہ میں رام رام کے مصداق انڈیا نے کبھی بھی پاکستان کی مثبت کوششوں کا مثبت جواب نہیں دیا اور دونوں ممالک  کے تعلقات نارمل سطح پر لانے کے لئے ہر اقدام کو سبوتاژ کیا۔ دس سال پہلے ایک بھارتی قیدی کشمیر سنگھ جسے جاسوس ہونے کی بناء پر پاکستانی عدالت نے موت کی سزا سنائی تھی، اس قیدی کو خالص انسانی بنیادوں پر رہائی دی گئی۔ اس وقت کے صدرِ مملکت نے رعایت دی اور کشمیر سنگھ کو تحفے تحائف اورپھولوں کے گجروں میں لاد کر نیک خواہشات کے ساتھ انڈیا بھیجا گیا یہ شخص جیسے ہی اپنی زمین پر قدم رکھتا ہے تو فوری طور پر پاکستان کے انسانی ہمدردی کے اقدامات پر یہ کہہ کر پانی پھیر دیتا ہے کہ میں تو پاکستان میں جاسوس تھا اور ایک عرصہ تک میں پاکستانیوں سے اپنی معصومیت کا جھوٹ بولتا رہا۔ اسی سلسلے کی تازہ مثال کلبھوشن یادیو کی ہے جو نہ صرف جاسوسی کرتے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا بلکہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کی وارداتیں کرانے کا اعتراف بھی کر لیا۔ اس کے ہاتھ معصوم  پاکستانیوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت نے نہ صرف مقبوضہ کشمیرمیں ظلم و ستم کا بازار بپا کر رکھا ہے۔ بلکہ وہ پاکستان کے اندر تخریبی کارروائیاں کرنے سے بھی گریز نہیں کرتا۔ جو یقینا جنوبی ایشیائی خطے میں انتشار اور بدامنی کا سامان ہے۔ ان حالات میں اقوامِ متحدہ کی ذمہ داری اس حوالے سے بہت بڑھ جاتی ہے کہ اُسے فوری طور پر کشمیر کے دیرینہ مسئلے کو اقوامِ متحدہ کی اپنی پاس کردہ قراردارد کے تحت حل کرنے کے لئے عملی کردار ادا کرنا ہوگا جس سے نہ صرف کشمیریوں کو ان کے حقوق ملیں گے بلکہ خطے میں امن و امان کی عمومی صورت حال بھی بہتر ہوجائے گی۔
 

یہ تحریر 214مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP