قومی و بین الاقوامی ایشوز

مشرقی پاکستان کی علیحدگی میں بھارتی کردار

مشرقی پاکستان کی علٰیحدگی میں بھارت کے کردار کوکسی صورت نظرانداز نہیں کیاجاسکتا۔حقیقت یہ ہے کہ اگربھارت مشرقی پاکستان میں مداخلت نہ کرتاتومشرقی پاکستان کبھی ''بنگلہ دیش ''نہ بنتا۔پاکستان ٹوٹنے کے بعد بہت سے بھارتی دانشوروں اورفوجی افسران نے اپنے بیانات اوراپنی کتابوں اورتحریروں میں اس بات کوتسلیم کیاہے کہ مشرقی پاکستان بھارتی مداخلت کے باعث علیحدہ ہوا۔مشرقی پاکستان کی علیحدگی میں ہماری غلطیوں کی بھی ایک طویل فہرست ہے۔اگرہماری افسرشاہی اورحکمران اپنے رویے کوبہتررکھتے توشاید حالات بھی بہتررہتے۔لیکن غلطیوں پرغلطیاں کی جاتی رہیں ،جس نے بھارت کاکام آسان کردیا۔بھارت نے اپنے  تمام وسائل مشرقی پاکستان کے لوگوں میں احساس محرومی پھیلانے اورانہیں بغاوت پرآمادہ کرنے پر لگا دیئے۔ جس سے حالات خراب سے خراب تر ہوتے چلے گئے ،ہمارے پالیسی ساز بھی درست فیصلے نہ کرسکے۔وہ بنگال کی تاریخ سے بھی ناآشنا تھے۔ اگر طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات اورکوئی سیاسی حل نکالنے کی کوشش کی جاتی توآج حالات مختلف ہوتے۔ 



 عالمی قوانین کسی بھی ملک کواس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ وہ کسی دوسرے ملک پرالزامات لگاکروہاں فوجی مداخلت کرے۔بھارت نے ایسا کیا،پاکستان پرالزامات لگائے اوراپنی فوجیں پاکستان مخالف عناصر کی مدد کے لئے بھیج دیں۔یہ معاملہ کھلم کھلا عالمی قوانین کی خلاف ورزی تھا۔سلامتی کونسل میں اس معاملے پرغورکیاگیا۔اگراس معاملے کومزید کچھ عرصہ لٹکایاجاتا تو ممکن ہے سلامتی کونسل بھارت پرزوردیتی کہ وہ اپنی فوجیں مشرقی پاکستان سے نکال لے۔ لیکن وقت نے کسی سیاسی حل تک پہنچنے کی مہلت نہ دی اور سقوط ڈھاکہ ہوگیا۔
پندرہ سال پہلے اگست 2004 ء میں امریکہ کے شہرسان فرانسسکومیں ایک ریٹائرڈامریکی سفارتکار نے اپنے گھر کھانے کی دعوت کے بعد مجھے بتایاکہ وہ1970ء میں جنوبی ایشیامیں تعینات تھے۔مشرقی پاکستان کے حالات جاننے اورخطے میں جنگ روکنے کے لئے انہوں نے اہم پاکستانی اور بھارتی شخصیات سے ملاقاتیں کیں۔ان کاکہناتھاکہ ان کی بھارتی وزیر اعظم  اندرا گاندھی اوربھارتی اسٹیبلشمنٹ کے کئی لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں ۔بھارتی حکومت طے کرچکی تھی کہ مشرقی پاکستان کوپاکستان کاحصہ نہیں رہنے دینااس کے لئے وہ ہرحد تک جانے کامنصوبہ بناچکے تھے۔پاکستان امریکہ کادوست اوراتحادی تھا،یہ بات امریکہ کے لئے بھی پریشان کن تھی ۔امریکہ چاہتا تھا کہ خطے میں کوئی جنگ شروع نہ ہو۔پاکستان ان دنوں امریکہ اورچین کوقریب لانے میں اہم کردار اداکررہاتھا۔امریکی پالیسی سازبھی بھارتی اقدامات سے پریشان تھے۔  ان کی گفتگو کالب لباب یہ تھاکہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی میں امریکہ کاکوئی کردار نہیں بلکہ یہ سب بھارتی منصوبہ تھا۔انہوں نے ذوالفقارعلی بھٹوسے ہونے والی ملاقاتوں کاحوالہ بھی دیا۔امریکی وزیرخارجہ ہنری کسنجر نے بھی اپنی کتاب میں اس بات کی تصدیق کی کہ امریکہ خطے میں جنگ نہیں چاہتاتھا ،اس نے بھارت پردباؤبھی ڈالا۔لیکن بھارت اس وقت امریکہ سے زیادہ سوویت یونین کے قریب تھا۔
 سینیئرصحافی بدر منیر (مرحوم) بنگلہ دیش کے رہنماء شیخ مجیب الرحمن کی پارٹی عوامی لیگ کے سیکرٹری اطلاعات تھے ۔ان کاتعلق لاہورسے تھا۔مشرقی پاکستان بھی آتے جاتے رہتے تھے ۔وہ سقوط ڈھاکہ کے عینی شاہدین میں سے تھے۔میں جن دنوں روزنامہ نوائے وقت کے ہفت روزہ ندائے ملت کا ایڈیٹر تھا، ان سے کوئی نہ کوئی تحریر لکھواتا۔وہ ہرہفتے آفس ملنے آتے۔ بڑے زندہ دل انسان تھے ۔حافظہ بھی کمال کاتھااورتحریر بھی خوب ۔انہوں نے مشرقی پاکستان کی علیحدگی پرایک کتاب بھی لکھی جس کامسودہ میں نے اشاعت سے قبل پڑھا۔وہ مشرقی پاکستان میں ہونے والے واقعات سناتے ۔شیخ مجیب الرحمن سے ملاقاتوں کاذکرکرتے۔وہ کہتے تھے کہ شیخ مجیب الرحمن اپنی کلین سویپ پرحیران تھے ،پارٹی کے کسی عہدیدار کویقین نہیں تھاکہ عوامی لیگ کواتنی بڑی کامیابی ملے گی۔یہ سب کیسے ہو،امعلوم نہیں۔عوامی لیگ میں بہت سے ایسے لوگ شامل ہوگئے  تھے جن کے بھارت سے رابطے تھے ۔پارٹی کے اندر اور مشرقی پاکستان میں بھارت نے اپنامضبوط نیٹ ورک بنالیاتھا۔بھارت کسی صورت نہیں چاہتا تھاکہ مشرقی پاکستان میں امن ہو۔وہ چنگاری پرتیل ڈال کرآگ لگا رہا تھا۔ بہت زیادہ فاصلے کے باعث مغربی پاکستان کے عوام تک صحیح  خبریں نہیں پہنچ رہی تھیں۔ ڈھاکہ یونیورسٹی علیحدگی کی تحریک کامرکز بن گئی تھی، وہاں کے اکثرپروفیسرزاورطلبہ رہنماؤں کے بھارتی خفیہ ایجنسی سے رابطے تھے۔وہ ان کی ہدایات پرکام کررہے تھے۔بدرمنیر کہتے ہیں وہ آخری دنوں میں جب مشرقی پاکستان گئے وہاں انھیں پارٹی کے اندراجنبیت محسوس ہوئی ۔انھیں خطرے کی بو آئی۔بھارتی پروپیگنڈا پورے مشرقی پاکستان میں کام کر رہا تھا۔ لیکن پاکستانی قیادت وقت ضائع کررہی تھی۔ان کاکہناتھاکہ مغربی پاکستان کے میڈیا کوبھی مشرقی صورتحال کاصحیح ادراک نہیں تھا۔وہ مشرقی پاکستان میں ہونے والی سازشوں سے بے خبرتھے۔


بھارت میں پاکستان کے خلاف انتہا پسندانہ سوچ ہمیشہ موجود رہی ہے۔صرف یہ ہی نہیں بھارتی سینیئرصحافی کلدیپ نیئر،خوشونت سنگھ جب بھی پاکستان آئے انہوں نے اس بات کااعتراف کیاکہ بھارت میں ایک انتہاپسند گروپ موجود ہے جس نے کبھی پاکستان کودل سے قبول نہیں کیا۔یہ گروپ پاکستان کونقصان پہنچانے کاکوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔بدقسمتی سے بھارت میں آج بھی انتہاپسندوں کاراج ہے۔


 بھارت کے مشہورسیاسی رہنما  لالوپرشاد اورملائم سنگھ یادیو پاکستان آئے تو ان سے ملاقات ہوئی۔وہ لاہورمیں نکلسن روڈ پر بزرگ سیاستدان نوابزادہ نصراللہ خان سے ملنے ان کے گھربھی گئے۔غالباً اس وقت نوابزادہ نصراللہ کشمیر کمیٹی کے چیئرمین تھے۔آن دی ریکارڈ اورآف دی ریکارڈ گفتگو ہوئی ۔انہوں نے بھی تسلیم کیاکہ ''مشرقی پاکستان کی علیحدگی میں بھارت کاکردار تھا''۔اس کردار کے باعث ہی پاکستان ٹوٹا۔بھارت میں پاکستان کے خلاف انتہا پسندانہ سوچ ہمیشہ موجود رہی ہے۔صرف یہ ہی نہیں بھارتی سینیئرصحافی کلدیپ نیئر،خوشونت سنگھ جب بھی پاکستان آئے انہوں نے اس بات کااعتراف کیاکہ بھارت میں ایک انتہاپسند گروپ موجود ہے جس نے کبھی پاکستان کودل سے قبول نہیں کیا۔یہ گروپ پاکستان کونقصان پہنچانے کاکوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔بدقسمتی سے بھارت میں آج بھی انتہاپسندوں کاراج ہے۔قارئین کے لئے شاید یہ بات حیرت کاباعث ہو کہ  بھارتی سیاستدان لالوپرشاد اورپاکستانی صحافی بدرمنیر دونوں سکول کے زمانے میں کلاس فیلوتھے۔
    شیخ رفیق مرحوم جوبعد میں بے نظیر بھٹو کے دورمیں پیپلزپارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل بھی رہے ۔ وہ ذوالفقارعلی بھٹوکی ہدایت پرشیخ مجیب الرحمن سے مذاکرات کے لئے ڈھاکہ جانے والوں میں شامل تھے۔انہوں نے ایک مرتبہ اپنے انٹرویو میں بتایا کہ ایک توطرف توانتخابی نتائج تھے شیخ مجیب الرحمن نے مشرقی پاکستان میں اکثریت حاصل کرلی تھی ، دوسری طرف یہ نظرآرہاتھاکہ یہ سب کچھ بھارتی مداخلت اورمنصوبہ بندی کے باعث ہوا۔ اس وقت تک پاکستان میں چونکہ عام انتخابات کے حوالے سے زیادہ سوجھ بوجھ نہیں تھی، یہ پہلے عام اورآزادانہ انتخابات تھے ۔انتخابی عملہ بھی ناتجربہ کارتھا ۔ان انتخابی نتائج سے خود شیخ مجیب الرحمن بھی حیران تھا۔ہمارے یہاں کسی کواس بات کواحساس تک نہیں تھا کہ بھارت انتخابی مہم اورنتائج پراثرانداز ہوا ہے ۔بنگلہ دیش میں لوگ حیران تھے کہ عوامی لیگ کواتنی زیادہ نشستیں کیسے مل گئیں۔
  معروف دانشور اورریٹائرڈ بیوروکریٹ قطب الدین عزیز نے ایک کتاب East Pakistan to Bangladesh Blood & Tears    
میں مشرقی پاکستان میں ہونے والے واقعات اوربھارتی مداخلت کوبڑی تفصیل سے بیان کیاہے۔وہ وزارت خارجہ میں اہم ذمہ داریوں پررہے۔اس کتاب میں انہوں نے فرضی قصے کہانیاں نہیں لکھیں بلکہ عینی شاہدین اوردستاویزات پرانحصارکیاہے۔ انہوں نے فساد زدہ شہروں اور قصبوں میں غیربنگالیوں پرڈھائے جانے والے مظالم بیان کئے ہیں ۔ انہوں نے ایک ٹیم کے ذریعے  مشرقی پاکستان کے  چھوٹے بڑے شہروں سے تعلق رکھنے والے گواہوں اورمتاثرین سے معلومات اکٹھی کیں ۔ان کے مطابق انتہاپسند وں کاایک ہی مشن تھا لوٹو ،جلاؤاورماردو۔ان کے پاس بھارتی ساختہ ہتھیار اور مشین گنیں ہوتی تھیں۔ وہ ایک دکھیاری ماں کی داستان لکھتے ہیں:قوم پرست قصابوں نے میرے خاوند کو ذبح کر دیا۔ میری آنکھوں کے سامنے میری چیختی چلاتی بیٹیوں کو بندوق کی نوک پر جنسی ہوس کا نشانہ بنایا، پھر انہیں قتل کر دیا۔ بظاہریہ حملہ آورخود کوعوامی لیگ کے کارکن کہتے تھے لیکن ان کے حملے کاانداز ایک تربیت یافتہ فورس کاہوتاتھا۔یہ فورس نعرے لگاتی ہوئی غیر بنگالیوں کے گھروں میں دروازے توڑ کرداخل ہوتی ، اس کے ارکان پرتشدد کرتے ہوئے باہر گھسیٹتے، گھر کی تمام اشیاء لوٹ لیتے ،گھروں کو آگ لگادیتے، مردوں کو قتل کرکے اسی آگ میں پھینک دیتے یاانھیں اپنے بنائے ہوئے عقوبت خانوں میں لے جاتے۔جہاں انھیں اذیتیں دے کرماردیاجاتا،ان کی لاشیں بعد میں دریا میں بہادی جاتیں''۔ایک اورجگہ لکھتے ہیں ''قصابوں نے میرے خاوند اور بیٹے کو باہر لے جانے کے لئے گھسیٹا اور دہلیز ہی پر گولی مار کر قتل کرد یا۔ مجھے سنگینیں چبھوتے ہوئے ایک اسکول کی عمارت میں لے گئے جہاں میری طرح کی روتی پیٹتی بیوائیں اور مائیں قید میں تڑپ رہی تھیں۔ زندگی اس جہنم میں ایک عذاب تھی۔ عورتیں آہ و زاری کرتیں اور بچے بھوک سے بلک بلک کر روتے تھے۔ مشکل ہی سے کوئی جوان عورت محفوظ تھی۔ غنڈوں نے تمام نوجوان عورتوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بنانے کے لئے اغوا کر لیا تھا۔'' 
 مشرقی پاکستان کی علیٰحدگی میں کبھی 1970  ء کے انتخابی نتائج پرکھل کربات نہیں ہوئی اورنہ کسی نے اس حوالے سے ریسرچ کی ۔متحدہ پاکستان میں یہ پہلے اورآخری عام انتخابات تھے۔یہ آزادانہ اورغیرجانب دارانہ تھے۔جس میں کسی حکومتی ادارے کی طرف سے کوئی مداخلت نہ تھی۔لیکن اس پہلو پرتحقیق کرنے کی ضرورت تھی کہ ان انتخابات میں بھارتی مداخلت کتنی تھی۔ بھارت انتخابی مہم سے لے کرانتخابی نتائج کے اعلان تک کس طرح اثرانداز ہواجبکہ مشرقی پاکستان میں وہ اپنامضبوط نیٹ ورک بناچکاتھا۔
سقوط ڈھاکہ کے بعد بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی کاوہ بیان اورنجی گفتگوافسوسناک ہے جس میں انہوں نے کہاتھاکہ ''ہم نے مسلمانوں سے ایک ہزارسال کی غلامی کابدلہ لے لیاہے اور دوقومی نظریہ خلیج بنگال میں ڈبودیاہے''۔ بھارت کی دونوں بڑی جماعتیں کانگریس اوربھارتیہ جنتاپارٹی پاکستان کے حوالے سے اچھے جذبات نہیں رکھتیں۔بی جے پی کے وزیراعظم واجپائی جب لاہور کے دورے پرآئے انہوں نے مینارپاکستان جاکرکہاکہ پاکستان ایک حقیقت ہے۔لیکن اسی انتہاپسند پارٹی کے موجودہ وزیراعظم نریندرمودی پاکستان کونقصان پہنچانے کاکوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ پاکستان کے ہراچھے اقدام کامنفی جواب دیاگیاہے۔پاکستان کے خلاف مودی کی زہریلی تقریریں اوربیانات ریکارڈ کاحصہ ہیں۔
   بھارت مشرقی پاکستان کومغربی پاکستان سے علیحدہ کرنے کاجومنصوبہ بناچکاتھا،اس پرکئی سال سے کام جاری تھا۔بھارتی پارلیمنٹ اورکابینہ نے اس بات کی منظوری دی تھی کہ علیحدگی پسندوں کی ہرطرح سے مدد کی جائے۔ بھارت کھل کرعلیحدگی پسندوں کوسپورٹ کررہاتھا ۔مشرقی پاکستان کے جورہنما پاکستان کے ساتھ رہنے کی بات کرتے ان کی کردار کشی کی جاتی اورانھیں غدار قراردیاجاتا۔زیادہ تریہ پروپیگنڈا کیاجاتاتھاکہ مغربی پاکستان ،مشرقی پاکستان کے وسائل کھارہاہے۔بنگالیوں پرمغربی پاکستان کی بیوروکریسی حکمرانی کررہی ہے۔تمام وسائل مغربی پاکستان کے عوام پرخرچ ہورہے ہیں۔بنگالیوں کویہ بتانے والاکوئی نہیں تھاکہ پنجاب ،سندھ سمیت مغربی پاکستان میں رہنے والاعام اورغریب آدمی بھی اتنی ہی محرومیوں کاشکارہے۔اس کے پاس بھی نہ کھانے کوروٹی ہے اورنہ سرچھپانے کے لئے چھت۔اشرافیہ چاہے اس کاتعلق مغربی پاکستان سے تھایامشرقی پاکستان سے اس کاعام آدمی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔بنگال میں یہ سوچ عام کردی گئی تھی کہ انگریزوں کے جانے کے بعد وہ مغربی پاکستان کی اشرافیہ کے غلام بن گئے ہیں۔
1948ء اور1965ء کی جنگ کے بعد بھارت میں یہ احساس بڑھ گیاتھاکہ وہ فوجی محاذ پرپاکستان کوشکست نہیں دے سکتا۔پاکستان کواندرسے کمزورکیاجائے۔جنگ ستمبر1965میں بھارت نے بھاری نقصان کے باعث جنگ بندی قبول کرلی،لیکن سازشوں کوتیز کردیا۔مشرقی پاکستان میں ان پانچ سال میں کھربوں روپے خرچ کئے گئے۔
    مشرقی پاکستان میں  1970ء کے سمندری طوفان کے بعد آنے والی تباہی کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں۔فاصلے زیادہ ہونے کی وجہ سے مغربی پاکستان تک تفصیلات نہیں پہنچ رہی تھیں۔اخبارات کے وسائل بھی محدود تھے۔اورپی ٹی وی بھی موجودہ نیوزچینلز کی طرح تیز نہیں تھا۔اس طوفان میں  تقریبا تین لاکھ پاکستانی جاں بحق ہوگئے۔لاکھوں بے گھرہوئے۔سول ایڈمنسٹریشن اورمقامی انتظامیہ کولوگوں کی بحالی کے لئے جوفوری اقدامات کرنے چاہئیں تھے وہ لوگوں کو مطمئن نہ کرسکے۔ایک طرف انتخابات کااعلان تھا اوردوسری طرف سونامی سے زیادہ خطرناک اس سمندری طوفان کی تباہ کاریاں۔ایک اخباری رپورٹ کے مطابق بچ جانے والوں کے پاس نہ اپنے پیاروں کودفنانے کے لئے کچھ تھا اورنہ اپنے زندہ رہنے کے لئے کچھ۔بھارت نے اس صورتحال سے خوب فائدہ اٹھایااوریہ پروپیگنڈا تیز کیاگیاکہ مغربی پاکستان کوبنگالیوں کی کوئی فکرنہیں۔ بنگالیوں کافائدہ مغربی پاکستان سے علیحدگی میں ہے۔شیخ مجیب الرحمن کی عوامی لیگ نے بھی اس پرخوب سیاست کی ۔
  مشرقی پاکستان میں رہنے والے ہندو ؤں کی ہمدردیاں بھی بھارت کے ساتھ تھیں۔ جوآبادی کاتقریباًپندرہ فیصد تھے۔مشرقی پاکستان کی یونیورسٹیوں اورکالجوں میں زبان کے مسئلے کولے کرعام نوجوانوں کوغیربنگالیوں کے خلاف خوب بھڑکایاگیا۔ان کے ذہنوں میں یہ بات بٹھادی گئی تھی کہ مغربی پاکستان ان کااستحصال کررہاہے۔مغربی پاکستان میں رہنے والے بہت خوشحال ہیں جبکہ بنگالیوں کے پاس کچھ بھی نہیں۔مغربی پاکستان کے نوے فیصد تعلیمی ادارے ہندوؤں کے تھے۔دوقومی نظریہ جوقیام پاکستان کی بنیادبنا آہستہ آہستہ کمزورہوتاگیا۔معروف دانشورگلزاراختراپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں کہ '' مشرقی پاکستان میں اسلامیات پڑھانے والے نوے فیصد اساتذ ہ ہندو تھے۔نجی تعلیمی ادارے ہندوؤں کے کنٹرول میں تھے ،ان کے سلیبس میں حکومت کاکوئی اختیارنہ تھا،سرکاری سکولوں میں بھی ہندواساتذہ زیادہ تھے۔کتابیں بھی کلکتہ سے چھپ کرآتی تھیں''۔افسوس کی بات یہ ہے کہ کسی نے اس پرتوجہ ہی نہیں دی۔


مکتی باہنی اورانتہاپسند وں نے مشرقی پاکستان میں لوٹ مار،سول نافرمانی اورقتل وغارت کاسلسلہ شروع کردیاتھا۔غیربنگالیوں اورمغربی پاکستان سے تعلق رکھنے والوں کونشانہ بنایاجارہاتھا۔شیخ مجیب الرحمن کے بھارتی خفیہ ایجنسی را سے تعلقات تھے ،وہ مشرقی پاکستان اورلندن سمیت کئی جگہوں پران سے خفیہ ملاقاتیں کرچکے تھے۔


 منفی پروپیگنڈہ اس قدر تھا کہ سقوط ڈھاکہ کے بعد دنیا کی بہت سی یونیورسٹیوں اورکالجوں میں اس سانحے پرتحقیقی آرٹیکلز اورکتابیں لکھی گئیں لیکن زیادہ تر میں صرف بھارت اوربنگلہ دیش کامؤقف ہی بیان کیاگیا۔پاکستانی مؤقف کوبالکل نظرانداز کردیاگیا۔یہ علیحدہ بات ہے کہ بھارتی دانشوروں اورریٹائرڈ آرمی آفیسرز کی لکھی ہوئی بعض کتابوں میں پاکستانی فوج کی بہادری کااعتراف کیاگیا۔جنرل مانک شا نے جواس وقت بھارتی فوج کا کمانڈر انچیف  تھا، بعدمیں اس بات کوتسلیم کیا کہ جب مشرقی پاکستان پرحملہ کیا تو دونوں فورسز کے درمیان ایک اورپندرہ کاتناسب تھا۔ایک پاکستانی فوجی تنہا پندرہ بھارتی فوجیوں سے لڑرہاتھا۔پاکستانی فورس کوکہیں سے کچھ مل بھی نہیں رہاتھا۔مغربی پاکستان سے مزید فوج آنے کی امید نہ تھی ۔اندرونی مخالفت اورمزاحمت کابھی سامناتھا۔اس کے باوجود پاکستانی فوج بہادری اوردلیری سے لڑی۔غیرجانب دار ذرائع کے مطابق بھارت کے آٹھ ہزارکے قریب فوجی مارے گئے تھے جبکہ ہزاروں زخمی ہوئے۔
مکتی باہنی اورانتہاپسند وں نے مشرقی پاکستان میں لوٹ مار،سول نافرمانی اورقتل وغارت کاسلسلہ شروع کردیاتھا۔غیربنگالیوں اورمغربی پاکستان سے تعلق رکھنے والوں کونشانہ بنایاجارہاتھا۔شیخ مجیب الرحمن کے بھارتی خفیہ ایجنسی را سے تعلقات تھے ،وہ مشرقی پاکستان اورلندن سمیت کئی جگہوں پران سے خفیہ ملاقاتیں کرچکے تھے۔شیخ مجیب الرحمن نے عام انتخابات سے قبل ہی پاکستان سے علیحدگی کافیصلہ کرلیاتھا۔سابق بنگالی سفیر کرنل شریف الحق اپنی کتاب ''پاکستان سے بنگلہ دیش تک '' میں اس بات کاانکشاف کرچکے ہیںکہ شیخ مجیب الرحمن کے بھارتی خفیہ ایجنسی را سے رابطے تھے۔شیخ مجیب الرحمن نے بی بی سی سے انٹرویومیں بھی اس بات کااعتراف کیاتھاکہ وہ پہلے سے ہی علیحدگی کے منصوبے پرکام کررہے تھے۔
 بھارت نے بڑی ہوشیاری کے ساتھ مکتی باہنی اوردوسرے علیحدگی پسند گروپوں کوپاکستانی فورسز سے لڑنے کے لئے تیارکیا۔انڈین آرمی نے مشرقی پاکستان پربھرپورحملہ کیا۔مشرقی پاکستان کے لوگوں کوپروپیگنڈے کے ذریعے مجبورکیاکہ وہ بھارت ہجرت کرجائیں۔اس وقت کی پاکستانی قیادت سمجھ نہیں سکی بھارت کتنی ہوشیاری کے ساتھ سازشوں کاجال بن رہاہے۔امریکہ اورپاکستان کے دیگر دوست ممالک سے پاکستان کوعملی مدد نہ ملی۔سوویت یونین (موجودہ روس) کی اس وقت ہمدردیاں بھارت کے ساتھ تھیں۔لیکن وہاں بھی جتنے تحقیقی مقالے شائع ہوئے ان میں اس بات کوتسلیم کیا گیاکہ بھارتی فوج کی مشرقی پاکستان میں مداخلت عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی تھی ۔
  یہ حقیقت ہے کہ سیاسی مسائل کاصرف سیاسی حل ہی ممکن ہے،اسے طاقت کے ذریعے حل نہیں کیاجاسکتا۔لیکن سیاسی رہنماؤں نے وقت ضائع کیا۔جس کے باعث حالات کنٹرول سے باہرہوتے رہے۔آپریشن سرچ لائٹ سے حالات مزید بگڑگئے۔بھارت نے باقاعدہ مشرقی پاکستان پرحملہ کردیا۔امریکی دانشور گرے باس نے بھی اپنی کتاب ''دی بلڈ ٹیلی گرام'' میں  اس بات کااعتراف کیاہے کہ ''مشرقی پاکستان میں بھارتی فوجی مداخلت کے باعث حالات مزیدخراب ہوئے۔پاکستانی فوج کے لئے یہ سمجھنامشکل ہو گیا کہ کون اس کاحامی ہے اورکون علیحدگی پسند۔علیحدگی پسند مغربی پاکستان کے حامیوں کونشانہ بنارہے تھے۔۔۔۔''۔کلکتہ میں قائم جلاوطن حکومت بھارت کے کنٹرول میں تھی اوروہاں سے علیحدگی پسندوں کوہدایات دے رہی تھی۔
 بھارتی مداخلت کے ثبوتوں کے باوجود ہمیں  یہ سوچناچاہئے کہ بنگال کے عوام جوتحریک پاکستان میں مسلم لیگ اورقائداعظم محمد علی جناح کے شانہ بشانہ تھے۔بعدمیں ایسے کیاحالات ہوئے کہ وہاں علیحدگی پسندوں کابیانیہ زیادہ مقبول ہوگیا۔ہماری قیادت کی وہ کیاکوتاہیاں اورغلطیاں تھیں کہ مشرقی پاکستان ہم سے علیحدہ ہوگیااوربنگلہ دیش بن گیا۔


  مضمون نگاراخبارات اورٹی وی چینلز سے وابستہ رہے ہیں۔آج کل ایک قومی اخبارمیں کالم لکھ رہے ہیں۔قومی اورعالمی سیاست پرمبنی متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔
[email protected]
 

یہ تحریر 235مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP