متفرقات

مسیحا  

پوری وادی میں سوگ کی فضا طاری تھی۔ بچے گھروں میں دبک کر رہ گئے تھے۔ یوں لگ رہا تھا کہ جنت نظیر اس وادی میں کوئی دیو پھر گیا ہے جو سب بچوں کی ہنسی اور معصوم قہقہے چھین کر لے گیا ہے کیونکہ یہ ایک ماہ میں تیسرا واقعہ تھا کہ جو بھی بچہ سکول سے اکیلا گھر کی جانب آتا تھا اس کی لاش کے ٹکڑے دو دن بعد قریبی جنگل سے ملتے تھے۔ وہ دو دن ماں باپ ا ور وادی کے مکینوں پر جو قیامت گزرتی تھی اس کا کوئی بھی مداوا نہ کر سکتا تھا۔ مائوں کے بین اور بہنوں کی سینہ کوبی سنگلاخ چٹانوں کے سینے پگھلانے کے لئے کافی تھی ۔ جب ٹکڑوں میں بٹی لاش مل جاتی تو ایک خوف کی لہر ہر بچے کے جسم میں اس طرح دوڑ جاتی کہ اب شائد اگلی باری اس کی ہے۔ نوجوانوں کا گروہ سر جوڑ کر اپنی جگہ الگ سے بیٹھ گیا تھا جب کہ وادی کے بڑے بوڑھوں نے بھی جرگہ بلا کر اس پریشانی اور قاتل کی تلاش کے لئے اپنی اپنی تجاویز دینا شروع کر دی تھیں لیکن کوششوں کے باوجود ابھی تک کوئی بھی یہ دعویٰ نہ کر سکتا تھا کہ وہ کسی منطقی جواب او ر دلیل تک پہنچ چکا ہے کیونکہ سبھی کے بچے گھروں میں مقید ہو کر رہ گئے تھے۔ سکولوں کی حاضری صفر تھی اساتذہ بھی اس معاملے  سے خوف زدہ تھے پھر ایک دن جرگہ میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ سرکار کے علم میں یہ بات لا کر سکولوں کی سکیورٹی کا بندوبست کیا جائے ۔ 
وادی کے وزیر اعلیٰ نے بات سن کر سب کی طرف باری باری دیکھا اور گلا کھنکھارتے ہوئے رعونت بھرے لہجے میں گویا ہوا '' ایک بات تو بتائو تم سب لوگ.... ؟ '' سبھی اس کی طرف متوجہ ہوئے تو وہ اپنے دانتوں میں ٹوتھ پک سے خلال کرتا ہوا بولا ۔ '' تم لوگ کیوں ریاست سے الجھنے کی کوشش کر رہے ہو ؟ '' اس کا سوال غیر متوقع تو تھاہی لیکن سب کو چونکا بھی گیا تھا کیونکہ ہندوستان کی ریاست نے زبردستی اس وادی پر قبضہ کر کے ستر سالوں سے معصوم شہریو ں کا جینا دوبھر کرکھاتھا۔ نہ ان کو ان کے حقوق دے رہے تھے اور نہ ہی ان کے شہری اور سماجی حقوق کو کسی بھی پلیٹ فارم پر اُجاگر کرنے کی اجازت دے رہے تھے لیکن اس وقت جو کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ ان سب کے سامنے بیٹھا تھا وہ انہی کے ووٹوں سے جیت کر اس کرسی پر براجمان تھا تب تو بڑے بڑے دعوے اور وعدے کئے تھے کہ وہ آزادی کی تحریک میں کشمیریوں کے ساتھ چلے گا اور پوری وادی کو امن اورآشتی کاگہوارہ بنا دے گا لیکن آج پہلی بار وہ اس کے سامنے پیش ہوئے تو وہ ہندوستان کی زبان بول کر ان سب کی زبانوں پر خاموش رہنے کی مہر ثبت کرنے کی کوشش کرنے لگاتھا ۔ 
'' ریاست اور ہماری آزادی کی تحریک میں معصوم بچوں کو کیوں نشانہ بنایا جا رہا ہے ؟''  ڈاکٹر ہاشم نے پہلی بار زبان کھولی تو وزیراعلیٰ نے گھور کر ان کودیکھا اور بولا ۔ '' آج کے بچے ہاتھوں میں پتھر اٹھا کر ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور کل کویہی بچے اسلحہ اٹھا کر ہندوستان کی فوج کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے ہو جائیںگے '' وزیراعلیٰ کی اس بات نے سب کے کان کھول دیئے تھے وہ سب ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ کچھ دیر کے لئے تو آفس میں خاموشی چھا گئی لیکن پھر ڈاکٹر ہاشم کی گونج دار آ وا زنے کمرے کا سکوت توڑا ۔ '' تو پھر ہم وہ سمجھ لیں جو ہمارے ذہنوں میں گردش کر رہا ہے ؟ ''  ڈاکٹر ہاشم کی بات بہت سوں کی سمجھ میں نہ آ سکی تھی لیکن کافی سارے لوگوں نے اثبات میں سر ہلا دیئے تھے کہ ڈاکٹر صاحب جو بھی کہہ رہے ہیں وہ ٹھیک ہی ہوگا۔  
 وزیر اعلیٰ کے ماتھے پر بل پڑ گئے تھے وہ اس بار براہ راست ڈاکٹر کی آنکھوں میں جھانکتا ہوا بولا ۔ ''  تعلیم انسان کو بولنا اور شعور سکھاتی ہے اور ڈاکٹر صاحب جتنا آپ نے بول لیا اسی کو غنیمت جانیں اور جائیں جا کر اپنے بچوں کے ہاتھوں سے کاغذ قلم کے رشتے کو ختم کر کے ان کو ایک ہی بات سکھائیں کہ ریاست کے ساتھ لڑائی ان کے مفاد میں نہیں ہے ۔ ''  وزیر موصوف نے اپنا فیصلہ سنا کر گویا ان سب کوجانے کی اجازت دے دی تھی لیکن ڈاکٹر آگے بڑھ کر اس کے میز کے پاس جا کر کھڑا ہو گیا اور وزیر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر  گرج دار آواز میں بولا ۔ ''  ہندوستان کے ٹکڑوں پر پل کر اس وادی کا میٹھا پانی پی کر ہماری ہی نسلوں کو کھانے آ گئے ہو تو یا د رکھو ایک ایک کو چن چن کر ماریں گے اور بھاگنے بھی نہیں دیں گے۔ اپنے ملک سے اور جتنے کتے منگوانے ہیں منگوالو کیونکہ ہم بھونکنے والے کتوں کو پتھر مار کر اپنی منزل کھوٹی نہیں کرتے۔ ''  ڈاکٹر کا لب و لہجہ اور گرج دار آواز نے وزیر موصو ف کی آنکھیں واضح طور پر کھول دی تھیں اس نے اپنے خشک ہوتے ہوئے گلے کو تر کرنے کے لئے پاس پڑا ہوا پانی کا گلاس ایک ہی گھونٹ میں اپنے حلق میں انڈیل لیا تو وادی کے سبھی لوگ اس وزیر کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے اس کے آفس میں توڑ پھوڑ کرنے لگے تھے۔ وزیر کو تو اپنی جان کے لالے پڑ گئے وہ پچھلے دروازے سے جان بچا کر بھاگ نکلا تھا ۔ اب ساری بات کھل کر سامنے آ گئی تھی دشمن نے اپنے پتے شو کر دیئے تھے کہ وہ نئی نسل کو اس لئے ما ر رہے ہیں کہ یہ آنے والے دنوں میں ہندوستان کے لئے بہت بڑا خطرہ بن رہے ہیں ، لیکن کشمیر کی آزادی کو دبانا ہندوستان کے کسی بھی وزیر، مشیر اور جرنیل کے بس میں نہیں ہے کیونکہ ستر سال سے بغیر اسلحے کے اتنی بڑی جنگ لڑنا یہ طاقت کا نہیں جنون،جوش اورجذبے کے ساتھ ساتھ حوصلوں اور جرأت کا کام ہے جس کو پوری دنیا کی طاقت ور فوجیں بھی مان رہی ہیں اور اقوام متحدہ میں بھی اس آزادی کی آواز کو سنا جانے لگا ہے ۔ 
سب نے یہی فیصلہ کیا کہ اب وہ اپنے بچوں کو خود ہی سکول چھوڑنے اور لینے جایا کریں گے اس فیصلہ پر عمل درآمد بھی شرو ع ہو گیا تھا لیکن شاطر دشمن نے ایک اور چال چلی جو وادی کے مکینوں کو حیران کر گئی تھی۔ پوری وادی میں یہ اعلان ہو گیا تھا کہ ہندوستان کی فوج سکولوں کے گرد پہرہ دیا کرے گی اور کسی بھی بچے کے والدین کو بچے کے ساتھ سکول تک آنے کی اجازت نہیں ہے ، اس اعلان نے پورے کشمیر میں مائوں اور بچوں کے دل دہلا کر رکھ دیئے تھے پھر کئی دنوں تک بچے سکولوں سے غیر حاضر رہے لیکن بزدل دشمن کا ایک وار چل ہی گیا تھا۔ کرم الٰہی کی بیٹی کی گمشدگی نے پورے علاقہ میں کہرام مچا دیا تھا۔ دس سالہ زنیرہ سکول سے واپس گھر آتے ہوئے لا پتہ ہو گئی تھی ہر جگہ تلاش کرنے کے باوجود بھی کوئی خبر نہ مل رہی تھی۔ لوگ بھاگم بھاگ وزیراعلیٰ کے آفس پہنچے لیکن وہاں تالے لگے دیکھ کر ان کو مایوس لوٹنا پڑا ، اب ہاتھ پر ہاتھ دھرے تو بیٹھا نہ جاسکتا تھا، کرم الہٰی کی بیوی نے تو رو رو کر خود کو ہلکا ن کر لیا تھا وہ پاگلوں کی طرح ہر گلی میں ہر دروازے کو کھٹکھٹاتی اور ایک ہی بات پوچھتی میری زنیرہ آپ کے گھر میں تو نہیں ہے ؟ انکا ر میں جواب ملنے پر وہ خودپنجوں کے بل کھڑے ہو کر دروازے کے اندر تک جھانکنے کی کوشش کرتی کہ جیسا کہ گھر والوں نے اس کو انکار کرکے اس کے ساتھ کوئی مذاق کیا ہے ۔وہ پھر اگلے دروازے کی جانب بڑھ جاتی اور پھر زنیرہ کا پتہ نہ معلوم ہونے پر وہ گلی میں بیٹھ کر خاک اپنے سر پر ڈالنے لگتی اور اونچی اونچی آواز میں رونے لگتی تھی۔ اس کا خاوند اس ساری صورت حال کو بڑے حوصلے اور ضبط کے ساتھ برداشت کررہا تھا اور پھر اگلے دن زنیرہ مل گئی حیرت اور اچھنبے کی بات یہ تھی کہ زنیرہ کی لاش کے نہ توٹکڑے ہوئے تھے اور نہ ہی اس کو پہلے بچوں کی طرح بے دردی سے قتل کیا گیا تھا لیکن وہ خاموش اور سہمی ہوئی ہر ایک کی طرف دیکھے جا رہی تھی۔ کرم الہٰی نے اس کو گود میں اٹھایا ہوا تھا وہ اس کے کندھے پر ایک زندہ لاش بن کر گری ہوئی تھی سبھی اس سے پوچھنے کی کوشش کر رہے تھے کہ وہ رات بھر کہاں رہی ہے کیا وہ جنگل میں راستہ بھول گئی تھی کیا اس نے کوئی جنگلی جانور دیکھ لیا ہے وہ کوئی بات کیوں نہیں کر رہی وہ خاموش کیوں ہے وہ اتنی سہمی سہمی اور لرزتی کانپتی کیوں ہے ،؟لیکن کسی کے بھی سوال کا جوا ب نہ تو زنیرہ کے پاس تھا اور نہ ہی اس کی اماں کے پاس کوئی دلیل تھی کہ وہ لوگوں کو مطمین کر سکے ۔زنیرہ کا زندہ مل جانا ہی بڑی بات تھی لیکن زنیرہ کی حالت دیکھ کر سب نے یہی فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ اپنے بچوں کو تعلیم نہیں دلوائیں گے۔ اس فیصلہ نے ڈاکٹر ہاشم کو بھی ہلادیا تھا۔ وہ بھی اس وادی کا حصہ تھے اور اپنا کلینک بڑی ایمانداری سے چلا رہے تھے۔ انہوں نے سب کو پیغام بھیج کر اپنے کلینک کے باہر جمع ہونے کا کہا اور شام کو سب لوگ وہاں جمع ہو گئے تھے۔ 
  '' کیا ہم دشمن کی دہشت اور خوف کے سامنے جھکنے جا رہے ہیں ؟ ''  ڈاکٹر ہاشم کے لہجے کی گھن گرج ختم ہو کر رہ گئی تھی ان کالہجہ بہت دھیما اور شائستہ تھا وہ ان سب کے درمیان کھڑے تھے ۔ '' کیا ہم اپنی نسلوں کو ان پڑھ اور جاہل پکارا کریں گے ۔ ہم دشمن کے سامنے ہار کیوں مانیں، ہم ان کی بات کیوں مانیں ۔ ہم اُن کی بات کیوں سنیں جس کو ہم نے ہی اقتدار کی کرسی پر براجمان کیا ہے ہم اس شخص کی بات کیوں سن رہے ہیں جو ہمار ااور ہماری نسلوں کا دشمن ہے۔ '' 
سبھی لوگوں کو سانپ سونگھا ہوا تھا کوئی بھی ڈاکڑ ہاشم کی بات کا جواب دینے کی ہمت نہ کر رہا تھا لیکن کچھ دیر کی خاموشی کے بعد مجمعے کو چیرتی ہوئی ایک آواز سب کو اپنی جانب متوجہ کرگئی ۔ '' میری معصوم زنیرہ کا کیا قصور ہے ڈاکٹر صاحب  .....؟ '' یہ زنیرہ کی ماں اور کرم الہٰی کی بیوی تھی۔ سب اس کی جانب متوجہ ہو گئے وہ رندھی ہوئی آواز میں بولنے لگی '' میری زنیرہ کے ہونٹوں کی ہنسی کس نے چھینی ہے ؟ میری زنیرہ کی مسکراہٹ کا کون قاتل ہے ؟ میری معصوم کلی کو کس نے مسلا ہے ؟ میری نسل کو تباہ کرکے کس نے جشن منا یا ہے  ؟ کون ہے جو ان قاتلوں کو نکیل ڈالے گا ۔ میں  پوچھتی ہوں کیا ہم کمزور اور نہتے لوگ اپنی نسلوں کو اسی طرح ان کے بارودوں سے چھلنی چھلنی کرواتے رہیں گے؟ کوئی جواب ہے تمہارے پاس تو بتائو میں وعدہ کرتی ہوں کہ تمہارے بیٹے سے پہلے میری زنیرہ گلے میں بستہ لٹکا کر سکول جائے گی۔ ''کرم الہٰی کی بیوی کی بات پر سب خاموش ہوگئے۔ سب ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر نظریں چرانے لگے تھے لیکن پھر خاموشی کا سینہ چاک ہوا اور نوجوانوں کا ایک گروپ لیڈر آگے بڑھا اس نے اپنا نام حاشر بتایا اور بولا : ''میں اسی مٹی کا باسی ہوں اور اس مٹی کی حرمت پر اپنی جان قربان کرنے میں فخر محسوس کروں گا ۔ ہم کچھ دوستوں نے مل کر ایک گروپ بنایا ہے جو ہندوستان کی فوج کو ناکوں چنے چبوانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ آپ لوگ بے فکر ہو کر اپنے اپنے گھروں میں جا کر سو جائیں۔ ہم اللہ کی رحمت اور فضل و کرم کے ساتھ آپ کی حفاظت کے لئے رات بھر جاگا کریں گے ۔ '' حاشر کے اعلان کے بعد کچھ نوجوان مجمع کو چیرتے ہوئے آگے بڑھے اور پورے رعب و دبدبہ کے ساتھ حاشر کے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہوگئے ۔ ڈاکٹر نے آگے بڑھ کر حاشر کو سینے سے لگایا اور مسکرا کر اس کو سلیوٹ کیا اور پھر باری باری سب سے ہاتھ ملایا اور سب لوگوں سے مخاطب ہو کر بولا ۔ ''اللہ کی مدد اور نصرت پہنچ گئی ہے۔''
 تین دنوں تک پوری وادی میں امن اور سکون رہا لیکن پھر ایک دن وہ ہو گیا جس کا خطرہ ہر وقت موجود تھا ۔ ڈاکٹر کا چھوٹا بیٹا جاسم سکول سے گھر نہ پہنچا تھا۔ ڈاکٹر کی بیوی دوسری عورتوں کے ساتھ اپنے تئیں ہر جگہ اس کو ڈھونڈ چکی تھی لیکن انہیںرات کا انتظار نہ کرنا پڑا۔ کیونکہ سینہ چاک اور آنکھوں سے بہتا ہوا خون ڈاکٹر کی بیوی نے اپنے لخت جگر کو پہچان لیا تھا اس کی لاش کو جان بوجھ کر ایک کھلی جگہ پر پھینکا گیا تھا تا کہ ڈاکٹر آسانی سے اپنے جگر کے ٹکڑ ے کو پہچان سکے۔ ماں کے بینوں نے عرش تک کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ ڈاکٹر کی بیوی بار بار جاسم کو سینے سے لگا کر سر اور ماتھے پر چوم رہی تھی وہ فرط جذبات میں ہوش و حواس کھو بیٹھی تھی۔ وہ بے ہوش ہو کر گر گئی تھی ، حاشر کے گروپ نے بھی ماں کی ممتا کوخراج تحسین پیش کرنے کی ٹھان لی تھی۔ اسی رات ایک بہت بڑا حملہ ہندوستان کی فوج کے اسلحہ ڈپو پر کیا گیا جس میں لگ بھگ تیس ہندوستانی جہنم واصل ہوگئے تھے اور مالی نقصان اتنا تھا کہ کروڑوں ڈالر ز میں گننا بھی مشکل ہو رہا تھا لیکن ایک اہم بات اس پورے حملے میں یہ تھی کہ کئی زخمی جو تڑپ رہے تھے اور اپنی موت کو آواز دے دے کر اذیت ناک زندگی سے چھٹکارا پانے کی کوشش میں تھے وہ ٹکڑوں میں بٹے ہوئے اپنے ساتھیوں کو دیکھ کر کچھ بھی نہ کر سکنے کی پوزیشن میں تھے ۔ حاشر کے گروپ کا یہ بہت بڑا وار تھا جس نے ہندوستان کی فوج اور حکومت کو بتا دیا تھا کہ کشمیری اپنی پوری طاقت کے ساتھ جس دن کھڑا ہو گیا اس دن ہندوستان کی کیا اوقات ہے کہ وہ اس وادی پر قبضہ کو قائم رکھ سکے۔ دشمن کے دانت کھٹے ہو چکے تھے لیکن حیرت کی بات تھی کہ اگلے دن ڈاکٹر کو بلایا گیا کہ وزیر اعلیٰ کے آفس میں اس کی طلبی ہے۔ ڈاکٹر نے حاشر سے مشورہ کیا اور حاشر اس کے بھتیجے کے طور پر اس کے ساتھ آفس میں پہنچ گیا لیکن حاشر کو گیٹ پر ہی روک لیا گیا تھا وہ اس اجنبی کو پہلی بار دیکھ رہے تھے لیکن ڈاکٹر نے اصرار کیا کہ کہ یہ بھی ڈاکٹر ہے اور ابھی پچھلے ہی ہفتہ امریکہ سے پڑھ کر آیا ہے ، وزیر کے کہنے پر حاشر اور ڈاکٹر ہاشم کو اندر بلا لیا گیا لیکن اندر داخل ہوتے ہی ڈاکٹر اورحاشر چونک کر رہ گئے کیونکہ وزیر موصو ف کے ساتھ ہندوستانی فوج کا ایک جنرل بھی کرسی پر براجمان تھا جس کے سر اور ماتھے پر سفید پٹیاں بندھی ہوئی تھیں ۔ اور اس کے بازو پر بھی کافی زخم دکھائی دے رہے تھے وہ نقاہت محسوس کر رہا تھا ۔ 
  وزیر نے ڈاکٹر ہاشم سے مخاطب ہوکر کہا ۔ '' کل رات کا تمہاری جانب سے حملہ ہم کبھی نہیں بھولیں گے لیکن ابھی ہمارے پاس ٹھوس ثبوت نہیں ہیں کہ ہم تم پر الزام لگا سکیں ۔ .........''  ابھی اس کی با ت جاری ہی تھی کہ حاشر بول پڑا۔ '' الزام لگانا کون سی نئی بات ہے یہ تو لگتے ہی رہتے ہیں ۔'' جنرل اور وزیر کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں تھیں۔ وہ چونک کر اس نوجوان کو دیکھ رہے تھے جو ڈاکٹر ہاشم کے ساتھ کندھے سے کندھا  ملا کر تو کھڑا تھا لیکن اس کا قد چھ فٹ سے بھی زیادہ نکل رہا تھا۔ جنرل نے کراہ کر وزیر کی طرف دیکھا اور بولا ۔ '' باتیں کم کرو اور میرے علاج کی طرف دھیان دو مجھ سے یہ تکلیف ......... برداشت نن ..... نہیں ہو ...........''  جنرل بے ہوش ہو چکا تھا۔ اس کو صوفے پر لٹایا گیا تھا ڈاکٹر نے آگے بڑھ کر اس کو چیک کیا اور وزیر سے مخاطب ہوا کہ وہ سب لوگ باہر چلے جائیں ۔ چارو ناچار ان لوگوں کو آفس کے دوسرے کمرے میں جانا پڑا ، حاشر اب ڈاکٹر کی طرف دیکھ رہا تھا کہ وہ کیا کرنے جا رہا ہے اس کو سو فیصد یقین تھا کہ اب وہ جنرل کو زہر کا انجکشن لگا کر موت کی وادی میں دھکیل دے گا لیکن ڈاکٹر نے ایک انجکشن لگا کر کچھ دیر کے لئے جنرل کو چھوڑ دیا اور اس کے سامنے اپنے بیٹے کی لاش گھومنے لگی تھی جس کو اس نے کل ہی سپر د خاک کیا تھا۔ وہ اپنے اوزاروں سے روزانہ کئی مریضوں کا آپریشن کرتا تھا سبھی اوزار اس وقت اس کے بیگ میں اس کے پاس موجود تھے وہ ہونٹو ں پر زبان پھیرتا ہوا کبھی حاشر کی طرف اور کبھی سامنے نیم مردہ جنرل کی طرف دیکھنے لگتا تھا ۔ تقریباََ آدھے گھنٹے بعد جنرل کے جسم میں ہلکی سی حرکت ہوئی اس کے ہونٹ متحرک ہوئے وہ کچھ بڑ بڑا رہا تھا۔ ڈاکٹر ہاشم نے حاشر کو اشارہ کیا کہ وہ سننے کی کوشش کرے کہ جنرل کیا کہہ رہا ہے۔ حاشر نے اپنے کان جنرل کے ہونٹوں کے قریب کر دیئے لیکن حاشر کی جو ٹریننگ تھی اس سے استفادہ کرتے ہوئے حاشر نے جو کچھ سنا اس کی روح تک کانپ کر رہ گئی تھی۔ ڈاکٹر ہاشم بھی اس کی اس کیفیت سے حیران تھے۔ حاشر کبھی ڈاکٹر اور کبھی پھر جنرل کی طرف دیکھ کر کچھ سننے کی کوشش کرنے لگتا تھا۔ وہ بہت ہی آہستگی سے بول رہا تھا اس کو ہوش میں آتا دیکھ کر وزیر اور دوسرے لوگ بھی وہاں پہنچ گئے تھے ، ڈاکٹر ہاشم نے ایک اور انجکشن بھر کر جنرل کے بازو میں لگایا اور وزیر سے بولے ، '' ان کو جب تک خود ہوش نہ آ جائے جگانے کی ضرورت نہیں ہے میںنے نیند کا انجکشن لگایا ہے یہ لمبے عرصہ تک اپنا اثر رکھتا ہے۔ '' وزیر نے ہولے سے سر ہلا دیا جیسا کہ اس کو یقین نہ ہو کہ ڈاکٹر سچ کہہ رہا ہے کیونکہ جنرل تو نیم مردہ حالت میں تھا ۔ '' حاشر !...... میرا خیال ہے کہ اب ہمیں چلنا چاہئے ۔ '' حاشر ڈاکٹر ہاشم کا بیگ تھامے وہاں سے باہر نکلا اور پھٹ پڑنے والے انداز میں ڈاکٹر سے گویا ہوا ۔ '' آپ کس مٹی کے بنے ہوئے ہیں ؟ '' ڈاکٹر ہاشم کو حاشر کا یہ انداز شائد پسند نہ آیا تھا وہ ایک جگہ پر رُک گئے۔ '' میں سمجھا نہیں کہ آپ نے میرے ساتھ اس لہجے میں کیوں بات کی ہے ؟'' ڈاکٹر ہاشم نے اپنے لہجے کو کافی حد تک قابو میں رکھتے ہوئے حاشر کو یہ چند الفاظ ہی کہے تھے کہ حاشرپھر تیز لہجے میں بول پڑا۔ '' وہ دشمن فوج کا جنرل ہے ۔ وہ ہمارے سیکڑوں انسانوں کا قاتل ہے، اس نے ہمارے بچوں کو اغوا کرکے ان کے گردے اور دل ہندوستان میں فروخت کے لئے بھیجے ہیں۔ وہ آپ کے بیٹے کابھی قاتل ہے۔ میں نے خود سنا ہے جو کچھ اس نے بڑ بڑایا ہے۔ '' ڈاکٹر ہاشم تھکے تھکے قدموں سے چلتے ہوئے اس کی طرف دیکھ کر بولے۔ '' وہ سب کچھ میں نے تمہیں اسی لئے سننے کو کہاتھا کیونکہ میں یہ سب نہیں سن سکتا تھا کہ وہ میرے بیٹے کے دل گردے بیچ کر کھا گیا ہے ۔ مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ وہ ہماری نسلوں کا قاتل ہے وہ دشمن ہے وہ درندہ صفت انسان میرے سامنے آیا بھی تو اس روپ میں کہ وہ مریض تھا اور میں مسیحا تھا۔ میں ایک مقتول بیٹے کے باپ سے پہلے ایک ڈاکٹر بھی ہوںاور میں اپنے پیشے سے غداری کیسے کر سکتا ہوں۔ ایک زندہ انسان کو موت کے منہ میں دھکیلنا ایک مسیحا کے پیشے پر سیاہ دھبہ بن ساری عمر لگا رہے میں کیسے برداشت کر سکتا ہوں۔ ہم جس نبی کریم ۖ کی امت ہیں، کیا میں ان کی سنتوں کو بھول جائوں، کیا میں ان کے فرمان مبارکہ کو بھول جائوں ؟ کیا میں یہ بھی بھول جائوں کہ وہ ان کو بھی دعائیں دیا کرتے تھے جو ان پر پتھر برسایا کرتے تھے ۔ کیا میں یہ بھی بھول جائوں کہ جو عورت اُن پر گندگی پھینکتی تھی وہ جب بیمار ہوئی تو آپ خود چل کر اس بوڑھی عورت کی تیمار داری کے لئے اس کے گھر تشریف لے گئے تھے۔ ہم ویسے تو نہیں بن سکتے لیکن ان کے بتائے ہوئے اصولوںپر عمل کر کے ان سے اپنی محبت کا اظہار تو کر سکتے ہیں۔ اصل مسیحا تو وہ تھے جو ہماری خاطر راتوں کو اٹھ اٹھ کر رب کریم کی بارگاہ میں رویا کرتے تھے .... ہم تو بس نام کے مسیحا ہیں صرف نام کے مسیحا ......''
حاشر ڈاکٹر ہاشم کو جاتے ہوئے دیکھ رہا تھا اس کا انداز ایسا تھا کہ وہ اس کائنات پر کسی ایسے انسان کو دیکھ رہا ہے جس کو فرشتے کا روپ دے کر بھیجا گیا ہو، بے ساختہ حاشر کا ہاتھ اپنے ماتھے تک جا پہنچا۔ 


 [email protected]
 

یہ تحریر 60مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP