قومی و بین الاقوامی ایشوز

مسئلہ کشمیر۔۔ تقسیمِ برِ صغیر کا نامکمل ایجنڈا

بھارتی حکومت کی جانب سے آئین کے تحت کشمیر کو دی گئی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے اعلان کے بعد 5  اگست سے وادی کشمیر اور جموں ریجن کو  قیدخانہ بنادیا گیا ہے۔ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370 یکسر ختم کرنے کے بعد اب تک کسی نرمی کے بغیرکشمیر میں غیر معمولی لاک ڈاؤن ہے۔ سخت ترین کرفیو میں ایک کروڑ سے زائد لوگوں کو محصور کیا گیا ہے، اخبارات پر پابندی لگادی گئی ہے، موبائل فون اور ٹیلی فون کے رابطے منقطع کردیئے گئے ہیں اور بیرونی دنیا کی کشمیر تک رسائی ناممکن بنادی گئی ہے۔ ان سارے اقدامات کا مقصد دنیا کو کشمیر کے بارے میں تازہ ترین صورتحال اور اصل حقائق سے بے خبر رکھنا ہے۔ اس مدت کے دوران کشمیریوں پر کیا گزری، دنیا اس سے بے خبر ہے۔ کشمیریوں کو اس دوران نماز عید اور قربانی کے فریضے کی بھی اجازت نہیں دی گئی۔



بھارتی آئین کی دفعہ 370کے تحت کشمیر کو دیگر بھارتی ریاستوں کے مقابلے میں الگ حیثیت حاصل تھی۔ قانون کا یہ حصہ مقبوضہ جموں و کشمیر کو بھارت میں خصوصی نیم خودمختار حیثیت دیتا تھا۔ اس کے تحت بھارتی پارلیمان کے بنائے گئے قوانین اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کا دیگر بھارتی ریاستوں کی طرح مقبوضہ جموں و کشمیر پر اطلاق نہیں ہوسکتا تھا۔ ان قوانین اور فیصلوں کے کشمیر میں نفاذ کے لئے مقبوضہ کشمیر اسمبلی کی منظوری لازمی تھی اور یہ شرط اب ختم ہوگئی ہے۔ بی جے پی اور دیگر ہندو فرقہ پرست جماعتیں کشمیر کی جداگانہ حیثیت کی ہمیشہ سے مخالف رہی ہیں۔ اس سال ہونے والے پارلیمانی انتخابات سے قبل بی جے پی نے آئین کے آرٹیکل 370 کو منسوخ کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد مقبوضہ جموں و کشمیر کو اب دو حصوں میںتقسیم کردیا گیا ہے، بھارتیہ جنتا پارٹی کی زیر قیادت بھارتی حکومت کے کشمیر کے بارے میں نئے آئینی اقدام کے بعد31 اکتوبر2019ء سے جموں ریجن اور وادی کشمیر بھارت کی ایک ''یونین ٹریٹری'' بن جائے گی جسے ''یونین ٹریٹری جموں و کشمیر'' کا نام دیا گیا ہے۔ وادی کشمیر میں تقریباً 80 لاکھ اور جموں میں  60لاکھ افراد آباد ہیں۔ وادی کشمیر اور جموں ریجن پر مشتمل دہلی سرکار کے زیر انتظام ''یونین ٹیریٹری''  کا انتظام چلانے کے لئے لیفٹیننٹ گورنر تعینات کیا جائے گا۔
بھارتی آئین میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی شہریت کے حق سے متعلق دفعہ 35A کو بھی ختم کردیا گیا ہے، ریاست کی شہریت سے متعلق یہ معاملہ تنازعہ کشمیر سے پرانی تاریخ رکھتا ہے۔ اس قانون کی رْو سے مقبوضہ جموں وکشمیرکی حدود سے باہر کسی بھی علاقے کا شہری مقبوضہ جموں وکشمیرکا شہری نہیں بن سکتا اور نہ زمین وجائیداد کا مالک  بن سکتا تھا۔ یہ قوانین کشمیر کے ڈوگرہ حکمران ہری سنگھ نے 1927ء میں بنائے تھے اور ان ہی قوانین کو1954ء میں بھارت میں ایک صدارتی حکم نامے کے ذریعہ آئین میں شامل کرلیا گیا تھا۔  
بھارت نے تقسیمِ برصغیر کے وقت جب کشمیر پر جبری قبضہ کیا تو خطے کی متنازعہ حیثیت کو مدنظر رکھتے ہوئے بھارتی آئین میں دفعہ 370 کو شامل کیا گیا جس کے تحت کشمیر کو خصوصی درجہ اور اختیارات دیئے گئے۔ اس وقت کشمیر کے بھارت نواز لیڈروں کی جانب سے خطے کے لئے علیحدہ آئین کا بھی مطالبہ کیا گیا تھا۔ بھارت کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کی سفارش پر آئینِ ہند میں دفعہ 370 کو شامل کیا گیا۔ اس دفعہ کے ذریعے دراصل بھارت اور مقبوضہ کشمیر کے تعلقات کا تعین کیا گیا تھا۔ بھارتی آئین کا یہ آرٹیکل مقبوضہ کشمیر کو بھارت میں خصوصی نیم خودمختار حیثیت دیتا تھا۔ اس وقت بھارتی وزیر اعظم پنڈت جواہرلال نہرو اورکشمیر کے بھارت نواز سیاسی لیڈر شیخ محمد عبداللہ کے درمیان پانچ ماہ کی مشاورت کے بعد اسے آئین ہند میں شامل کیا گیا تھا۔ اس کے تحت کشمیر کو ایک خاص مقام دیا گیا اور بھارتی آئین کی جو دفعات دیگر ریاستوں پر لاگو ہوتی ہیں اس آرٹیکل کے تحت ان کا اطلاق کشمیر پر نہیں ہوسکتا تھا۔ اس کے تحت کشمیر کو اپنا آئین بنانے اور الگ پرچم رکھنے کا حق دیا گیا تھا جبکہ بھارت کے صدر کے پاس مقبوضہ کشمیرکا آئین معطل کرنے کا حق بھی نہیں تھا۔ اس آرٹیکل کے تحت بھارتی حکومت یا پارلیمنٹ دفاع، مواصلات اور خارجہ امور کے علاوہ کسی اور معاملے میں مقبوضہ کشمیر حکومت کی توثیق کے بغیر بھارتی قوانین کا اطلاق نہیں کرسکتی تھی۔  5  اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 کے خاتمے کے ساتھ ہی بھارتی صدارتی حکم کے تحت اس میں شامل کیا جانے والا آرٹیکل35A بھی ختم ہوگیا ہے۔
بھارت کے اس غیرقانونی اقدام کے خلاف نہ صرف وادی کشمیر بلکہ کرگل اور جموں کے مسلم اکثریتی علاقوں میں کرفیو کے باوجود سخت ترین احتجاج کیا گیا۔ کشمیر کے بارے میں نئی قانون سازی سے قبل نیشنل کانفرنس کے صدر اور سابق کٹھ پتلی وزیر اعلی فاروق عبداللہ نے خبردار کیا تھا کہ اگر 35۔اے کو ختم کیا گیا تو نام نہاد الحاق بھی ختم ہوجائے گا۔ سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کا یہ کہنا تھا کہ اگر35A کو چھیڑا گیا تو کشمیر میں بھارتی ترنگا لہرانے والا کوئی کشمیری نہیں ہوگا۔ ادھر جموں کے بیشتر ڈوگرہ باشندوں کا بھی یہ مؤقف رہا ہے کہ دفعہ 35۔اے کو ختم کرنے کے نتیجے میں جموں کے ڈوگروں کی شناخت ختم ہوجائے گی اور یہ کہ ان کی منفرد ثقافت کو بھارت سے آنے والے کروڑوں لوگ نگل لیں گے۔
 مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے بھارت کے حالیہ اقدامات اقوام متحدہ کے لئے چشم کشا ہیں۔ کشمیر ایک بین الاقوامی تسلیم شدہ تنازعہ ہے، اقوام متحدہ نے کشمیرکے بارے میں باضابطہ طور پر متعدد قراردادیں پاس کی ہیں۔      بھارت کے حالیہ یک طرفہ اقدام کے بعد مسئلہ کشمیر16  اگست 2019ء کواقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں زیر بحث آیا۔ سلامتی کونسل کا یہ اجلاس پاکستان کی درخواست پر طلب کیا گیا تھا۔ اجلاس میں تمام 15 مستقل اور غیر مستقل رکن ملکوں نے شرکت کی۔ سلامتی کونسل کے اجلاس نے تنازعہ کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی قراردادوں کی توثیق کی اور بھارت کا یہ دعویٰ مسترد کر دیا کہ کشمیر اس کا اندرونی معاملہ ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا کشمیرکے حوالے سے غیر رسمی اجلاس کا انعقاد ایک بڑی پیش رفت ہے۔سلامتی کونسل کے اجلاس کے بعد اقوام متحدہ میں چین کے مستقل مندوب نے کہا کہ  بھارت نے یک طرفہ طور پر مقبوضہ کشمیر کی حیثیت تبدیل کی ہے، بھارتی اقدام سے خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوگا اور یہ کہ لداخ  سے متعلق بھارتی اقدام سے چین کو شدید تشویش ہے۔ چینی مندوب نے کہا کہ کشمیر  پاکستان اور بھارت کے درمیان تصفیہ طلب مسئلہ ہے، کسی بھی فریق کو اس معاملے میں یکطرفہ اقدامات سے گریز کرنا چاہئے۔ چینی مندوب  نے کہا کہ سلامتی کونسل کے اجلاس میں کشمیر کے معاملے پر تفصیلی بات ہوئی اور تمام ارکان نے کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ چین نے فریقین پر زور دیا کہ وہ کشیدگی میں اضافے کے اقدامات سے گریز کریں۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ دنیا کے سب سے اعلیٰ فورم سلامتی کونسل کی سطح پر مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کی آواز سنی گئی ہے جو کشمیرکے متنازعہ علاقہ  ہونے کا غمازہے، سلامتی کونسل نے اپنے غیر معمولی اجلاس میں بھارتی حکومت کے اکھنڈ بھارت کے دعوئوں کو مسترد کردیا۔ 
اب صورت حال یہ ہے کہ پورا کشمیر سخت ترین کرفیو اور بدترین فوجی محاصرے میں ہے۔ کشمیر کی تاریخ میں پہلی بار لینڈ لائن ٹیلیفون بھی بند کردیئے گئے ہیں لیکن ان تمام تر سختیوں اور پابندیوںکے باوجود کشمیری عوام بھارت کے سامنے سینہ سپر ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں سری نگر اور دیگر علاقوں میں لوگوں نے کرفیو اور دیگر پابندیوں کے باوجود سڑکوں پر نکل کر کشمیر کی خصوصی حیثیت کو تبدیل اور متنازعہ علاقے کو تقسیم کرنے کی بھارتی کارروائی کے خلاف زبردست مظاہرے کئے۔ بے شمار مقامات پر نہتے مظاہرین نے بھارت کے خلاف اور آزادی کے حق میں زبردست احتجاجی مظاہروں میں حصہ لیا۔ انہوں نے ہاتھوں میں پلے کارڑز اٹھا رکھے تھے جن پر '' گو انڈیا گو بیک''  ''کشمیریوں کی نسل کشی بند کرو''، '' دنیا جاگ جائو'' جیسے نعرے درج تھے۔ مظاہرین نے بھارتی کارروائی کے خلاف غم وغصے کے اظہار کے طور پر کالے جھنڈے بھی اٹھا رکھے تھے۔ بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے پیلٹ گنز چلائیں اور آنسو گیس کے گولے داغے جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوگئے۔ 
   مسئلہ کشمیر تقسیم برصغیر کا نامکمل ایجنڈا ہے، تنازعہ کشمیر ایک مسلمہ حقیقت ہے اور یہ کہ جموں کشمیر کا بھارت کے ساتھ الحاق متنازعہ ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ماضی میں کشمیر کے بارے میں بھارت کے یک طرفہ اقدامات کو مسترد کیا اور اس عالمی ادارے کا اب بھی یہی مؤقف ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے 13 اگست 1948ء اور 5 جنوری 1949ء کو اپنی قراردادوں میں کشمیری عوام سے وعدہ کیا تھا کہ انہیں رائے شماری کا موقع دیا جائے گا جس کی راہ میں بھارت نے ہمیشہ روڑے اٹکائے۔ بھارتی حکمران کشمیر کو متنازعہ علاقہ تسلیم کرنے سے انکار کررہے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ کشمیرمیں تعینات 8 لاکھ سے زائد فوج کشمیریوں کو دبانے کے لئے نہیں بلکہ دفاعی مقاصد کے پیش نظر رکھی گئی ہے جو سراسر جھوٹ ہے اور جس کا مقصد عالمی رائے عامہ کو کشمیر سے متعلق اصل زمینی حقائق سے بے خبر رکھنا ہے۔ کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو ''سرحد پار دہشت گردی'' قرار دینے اور دراندازی کے الزامات لگانے سے کشمیریوں کو دہشت گرد ثابت نہیں کیا جاسکتا کیونکہ کشمیر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود سب سے پرانا تنازعہ ہے۔ کشمیری عوام کی حق خود ارادیت کے لئے جدوجہد کسی کے زیر اثر یا تابع نہیں ہے، وہ بھارت کے خلاف سربکف اور اپنی جدوجہد خود چلارہے ہیں۔ بھارتی حکومت اپنے یک طرفہ اور ناقابل قبول اقدامات کے بجائے مسئلہ کشمیرکو حل کرنے کے لئے پاکستان اور کشمیریوں کے حقیقی نمائندوں کے ساتھ مذاکراتی عمل میں شریک ہونے پر آمادہ ہوجائے جو خطے میں امن کے وسیع تر مفاد میں ہے۔


 

یہ تحریر 170مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP