قومی و بین الاقوامی ایشوز

مسئلہ ٔکشمیر، ہندوستان کے جھوٹ اور بین الاقوامی برادری کی ذمہ داریاں

میرا کشمیر آج بھی لہُو لہان ہے۔چہار سو دھوئیں کے بادل ، ہر طرف دہشت گردی اور قتل و غارت کا راج ، وادیِٔ کشمیر جنت نظیر، سراپا احتجاج ۔۔۔۔بھارت نے انسانی حقو ق کی خلاف ورزی کی تمام حدود پامال کر دیں۔ وادیِٔ کشمیر کے بزرگ ، بچے ، نوجوان ، مائیں ، بہنیں اور بیٹیاں اپنی آزادی کے لئے سر بکف ہیں۔73سال کے عرصے میں لاکھوں کشمیریوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ مائوں نے اپنے لختِ جگر پیش کئے ان کے پایۂِ استقلال میں لغزش نہیں آئی ۔بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے ذریعے دنیا بھر میں جو دلخراش واقعات کی خبریں پہنچ رہی ہیں وہ انتہائی لرزہ خیز ہیں لیکن دوسری طرف حیرت ہے کہ عالمی برادری کا ضمیر سویا ہوا ہے اور کسی کے کان پر جُوں تک نہیں رینگتی۔کسی عالمی تنظیم یا انسانی حقوق کے ادارے کو یہ توفیق نہیں ہوتی کہ کم از کم کشمیر میں ہونے والے مظالم پر بھارت کی مذمت کر دیں۔عراق اور افغانستان پر حملہ آور ہو کر اپنے سیاسی مقاصد کے حصول اور عالمی تسلّط کی خواہش مند بین الاقوامی قوتیں کشمیر میں بھارتی مظالم کو یکسر نظر انداز کئے ہوئے ہیں۔وادیِٔ کشمیر کے مظلوم شہری مہذب اور ترقی یافتہ اقوام سے یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ ان کے بنیادی حقوق کب  تسلیم کئے جائیں گے۔انہیں بھارتی مظالم سے کب نجات ملے گی اور بارود کی بد بو سے کب چھٹکارا ملے گا۔
سری نگر سے موصول تازہ ترین اطلاعات کے مطابق بھارتی افواج نے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نیا سلسلہ شروع کر دیا ہے اور یہ سلسلہ پوری وادی میں پھیل چکا ہے۔ نہ صرف کشمیر کے مسلمان مظالم  برداشت کر رہے ہیں بلکہ دوسرے مذاہب کے پیر وکار بھی محفوظ نہیں۔ پوری وادیِٔ کشمیر اس وقت بھارتی فوجیوں کے قبضے میں ہے اور جہاں بھی پُر امن لوگ اپنے حق کے لئے آواز اٹھاتے ہیں وہاں پر آنسو گیس پھینک کر لوگوں کو بھاگنے پر مجبور کر دیا جاتا ہے ۔ شہید ہونے والوں کے جنازے بھی محفوظ نہیں کیونکہ شہداء کے جنازے بھی ظالموں کے لئے خطرہ سمجھے جاتے ہیں ۔ حیرت اس بات پر ہے کہ مغربی دنیا کشمیریوں پر جاری بھارتی مظالم پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے اور دنیا کے 200ممالک میں سے سوائے پاکستان کے کوئی ملک ان کے حق میں آواز بلند کرنے والا نہیں۔ ان حالات میں ترکی کے صدر طیب اردگان نے کئی مواقع پر کشمیر پر پاکستان کے مؤقف کی حمایت کی اور بھارتی مظالم کی شدید مذمت کی ہے۔ لیکن حیرت اور افسوس کی بات ہے کہ اقوام متحدہ جیسا ادارہ بھی مسئلہ کشمیر پر خاموش بیٹھا ہے اور یہاں پر ہونے والے عالمی سربراہوں کے اجلاسوں میں بھارت کی مذمت تک نہیں کی جاتی ۔
پاکستان کی حکومت ، افواج اور عوام مکمل طور پر کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی حمایت کرتے ہیں ۔ پاکستان نے ہر عالمی فورم پر کشمیر پر بھارت کے غاصبانہ قبضے کی بھر پور مخالفت کی اور وادی ٔکشمیر میں جاری بھارتی مظالم کی مذمت کی۔ پاکستان کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور اس کا مؤقف ہے کہ اہل کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصواب رائے کا حق دیا جائے۔ پاکستان کشمیریوں کی مکمل اخلاقی اور سفارتی حمایت کرتا ہے لیکن بھارت نے پاکستان اور افواج پاکستان کے خلاف کشمیر میں مداخلت کا پروپیگنڈہ شروع کر رکھا ہے ۔ بھارت نے کمال ہوشیاری اور چالاکی سے عالمی ذرائع ابلاغ کو وادیِٔ کشمیر میں جاری مظالم دنیا کو دکھانے سے روک رکھا ہے۔ 
5 اگست 2019 کشمیر کی تاریخ میں ایک سیاہ دن کی حیثیت سے یاد کیا جائے گا کیونکہ اس دن بھارتی حکومت نے ایک صدارتی آرڈیننس کے ذریعے آئین کے آرٹیکل 370 اور35Aکو ختم کر دیا جس سے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم ہو گئی اور کشمیر کو مکمل طور پر بھارت کا قانونی حصہ قراد دے دیا گیا۔ بھارتی حکومت کے اس اقدام کی نہ صرف پوری وادیِٔ کشمیر میں، بلکہ پاکستان میں بھی، مخالفت کی گئی لیکن عالمی برادری اس پر بھی خاموش رہی  اور ہمیشہ کی طرح اس معاملے کو بھی بھارت کا اندرونی معاملہ قرار دے دیا گیا۔ آرٹیکل 370کو ختم کرنے کے بعد بھارت کے ہندو شہریوں کو منصوبے کے تحت کشمیر میں آباد کیا جا رہا ہے جس سے ہندوئوں کی تعداد میں اضافہ ہو جائے گا۔ عالمی برادری اس مصنوعی تسلط پر بھی خاموش ہے۔ 
اطلاعات کے مطابق پلوامہ ڈرامہ اور بالا کوٹ کارروائی کی سچائی دنیا کے سامنے آگئی ہے۔ بھارت کی دو اہم شخصیات کی گفتگو میں اس بات کا انکشاف ہوا کہ بھارت نے پلوامہ میں خود اپنے فوجیوں کو مروایا اور اس کا الزام پاکستان پر تھوپ دیا اور بھارتی وزیر اعظم نے اس پر مگر مچھ کے آنسو بہائے ۔ پلوامہ ڈرامہ بے نقاب ہو گیا ۔پاکستان پلوامہ حملے کو سازش قرار دے چکا ہے۔پلوامہ حملے کے شواہد سامنے آچکے ہیں ۔بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی 40بھارتی فوجیوں کی لاشوں پر مگر مچھ کے آنسو بہاتا رہا۔ بھارتی اینکر ارناب گوسوامی (Arnab Goswami)اور بھارتی براڈ کاسٹ ریسر چ کونسل کے سر براہ پر اتھوداس گپتا کے درمیان واٹس ایپ چیٹ ہوئی تھی جس نے بھارتی حکومت کے اقدامات کا بھانڈا پھوڑ دیا۔ چیٹ کے مطابق ارناب گوسوامی کو بھارت میں اعلیٰ ترین سطح پر ہونے والے فیصلوں کا علم تھا ، گوسوامی کے کرتوتوں نے بھارت میں اعلیٰ ترین سطح پر عسکری فیصلوں کا پول بھی کھول دیا ۔ اس چیٹ(CHAT) نے بھارت میں قومی سلامتی کے ادارے اور فیصلہ سازی میں انتہائی غیر سنجیدگی بے نقاب کر دی ہے۔ ارناب گوسوامی نہ صرف بالاکوٹ پر حملے بلکہ آرٹیکل 370کے خاتمے سے بھی آگاہ تھا، گوسوامی ریٹنگ ایجنسی بی اے آر سی کے سربراہ کے ساتھ اپنے چینل کی ریٹنگ بڑھانے پر کام کرتا رہا ، 23فروری 2019کو ارناب نے بی اے آر سی کے سر براہ کو پاکستان سے متعلق بڑی خبرکی پیشگی اطلاع دی ، گوسوامی نے بتایا کہ پاکستان کے خلاف معمول سے بڑی کارروائی ہو گی۔ گوسوامی کو پتا تھا کہ کشمیر میں معمول سے ہٹ کر کچھ بڑا ہونے والا ہے ، گوسوامی کے مطابق مودی حکومت پاکستان مخالف کارروائی سے عوام کو خوش کرنا چاہتی تھی ، بالا کوٹ حملے کے بعد گوسوامی نے بی اے آر سی سربراہ کو بتایا مزید کارروائی ہوگی ۔پی ایم آفس سے لیک معلومات پر گوسوامی اپنے چینل پر سی این این کی عراق کوریج فالو کرنا چاہتا تھا ، ارناب گوسوامی کی بھارتی قوم پرستی بھی در حقیقت صرف ٹی آر پیز حاصل کرنے کا بہانہ نکلی۔
اس پس منظر میں بھارتی میڈیا سے بریک ہونے والی نیوز نے ثابت کر دیا کہ بھارت کے سہانے سراب ''سیکولر جمہوریہ'' کے عالمی امیج کو ٹھکانے لگانے والی ہندو بنیاد پرست مودی سرکار اپنی دوسری انتخابی فتح کے لئے آپے سے باہر، اور کچھ بھی کرنے کے لئے کسی بھی حد تک تیار تھی۔ یہاں تک کہ اس نے مقبوضہ کشمیر کے خلاف اقتدار میں آکر ا س کی آئینی حیثیت کو ختم کرنے، پاکستان کے خلاف جنگی فضا پیدا کرنے اور یہ ثابت کرنے کے لئے کہ''پاکستان عملاً بھارت کی سلامتی کے در پے ہو گیا ہے''مقبوضہ جموں کشمیرہاتھوں سے نکلتا نظر آرہا ہے۔ ازخود مودی سرکار نے پلوامہ کا ڈرامہ رچایا اور رچاتے ہی پوری شدت سے پاکستان پر اس کا الزام لگا کر انتقام لینے اور بھارت کے دفاع میں پاکستان کو سبق سکھانے کا وعدہ انتخابی مہم کا محور بنا دیا ۔ پلوامہ کے فوراً بعد انتخاب کے نتیجے میں بننے والی مودی ہی کی امکانی سرکار سے معطل مذاکرات بحال کرنے پر کمیٹڈ نومولود پاکستانی حکومت نے بھارتی فوجی قافلے پر حملے اور 40سے زائد سپاہیوں کی ہلاکت کے واقعہ کی تحقیقات میں تعاون کا یقین دلایا تھا۔
صحافتی حلقوں اور تجزیہ نگاروں میں پلوامہ واقع پر دو بیانیے عام ہوئے تھے یہ کہ '' بھارتی فوجی قافلے پر حملہ کشمیری مجاہدین نے کیا ہے'' دوسرا یہ کہ '' خود مودی سر کار نے ڈرامہ رچایا اور مقصد پاکستان کے خلاف جنگی ماحول پیدا کر کے بھارتی ووٹر کو گرمانا اور اپنا حامی بنانا ہے ۔'' اب گودی میڈیا کے سرخیل اینکر پرسن ارناب گوسوامی کی واٹس ایپ پر چینل ریٹنگ کمپنی کے ایگزیکٹو سے چیٹنگ کا جو ڈیٹا بھارتی میڈیا سے بے نقاب ہوا ہے اس نے ناقابل تردید حد تک بھارت میں مودی سر کار پر لگے الزامات کو درست ثابت کر دیا ہے ۔ اقتدار کی ہوس میں بھارتی وزیر اعظم اور اس کا قابل مذمت سراپا دروغ گوئی اور مکمل پروپیگنڈے کا حامل میڈیا اقتدارکے حصول اور اسے یقینی بنانے میں اس حد تک جا سکتا ہے کہ اپنی ہی فوج کے''اچھوت'' فوجیوں کی جانوں پر انتخاب جیتنے کا ہولناک ڈرامہ رچایا جائے۔ پاکستانی وزارت خارجہ محض عالمی برادری سے ہی یہ توقع کیوں کر رہی ہے کہ وہ اس چونکا دینے والے انکشاف پر خطے کے امن کو بڑے اور مسلسل خطرے سے دوچار کرنے پر بھارتی حکومت کو جواب دہ بنائے گی۔اس کے لئے تو پاکستان کو خود محنت کرنی اور سفارتی پاپڑ بیلنے ہیں۔ اسی طرح اور کچھ ایسے ہی معاملات بھی ہیں جیسے بھارت نے پاکستان مخالف دروغ گوئی اور خطر ناک حربوں کو سچ ثابت کر کے پاکستان کو دہشت گردی کی حوصلہ افزائی کرنے والا ملک ''ثابت''کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔
بھارتی حکمرانو ں کی کھلم کھلا جارحیت اور دروغ گوئی پوری دنیا پر آشکار ہو چکی ہے۔ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال انتہائی دگر گوں ہے اور ہر آنے والا دن اہل کشمیر پر پہلے سے زیادہ مشکل دکھائی دیتا ہے۔ بھارت نے تمام کشمیری قیادت کو نظر بند کر رکھا ہے ۔یہاں تک کہ سیدعلی گیلانی جیسا بزرگ بھی اپنی پیرانہ سالی کے باوجود نظر بند ہے۔ اہلِ کشمیر سلام ہو تم پر، بے شک فتح ہمیشہ حق کی ہوتی ہے اور انشاء اللہ تعالیٰ وہ دن ضرور آئے گا جب آزادی کا سورج طلوع ہوگااور مقبوضہ کشمیر بھارت کے غاصبانہ قبضے سے آزاد ہوگا۔ مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے بھارتی مظالم اقوامِ عالم کے ضمیر پر ایک طمانچہ ہے ۔ امید ہے عالمی برادری کا سویا ہوا ضمیر بیدار ہوگا اور کشمیر میں جاری بھارت کے مظالم کا سلسلہ جلد ختم ہوگا۔ اب جب کہ امریکہ کے نئے صدر جوبائیڈن اپنی صدارت کا حلف اٹھا چکے ہیں اور انہوں نے عالمی امن کے حوالے سے بہت سے بیانات بھی دئیے ہیں ۔ کشمیری عوام کی نظریں بھی امریکی صدر کی طرف لگی ہیں اور وہ ان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔ عالمی امن اس وقت تک قائم نہیں ہو سکتا جب تک مسئلہ کشمیر اہلِ کشمیر کی خواہشات اور اُمنگوں کے مطابق حل نہیں ہوتا۔امریکی صدر ہی وہ شخصیت ہے جو عالمی طاقت کے سربراہ ہونے کی حیثیت سے بھارتی سرکار کو مجبور کر سکتی ہے کہ وہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ ختم کرے۔


مضمون نگار ایک قومی یونیورسٹی میں شعبہ ابلاغیات کے چیئرمین ہیں۔
[email protected]

یہ تحریر 113مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP