متفرقات

مزدور اور معاشی انصاف ۔۔۔ اُردو شعرا ء کی نظر میں 

 اردوادب میں باقاعدہ مزاحمتی ادب جنگ عظیم اول سے شروع ہوتا ہوا ترقی پسند تحریک کے آغاز سے جنگ عظیم دوم پر نقطہ ٔ عروج کو پہنچتا دکھائی دیتا ہے۔ہمارے شعراء نے دنیا میں پیداہونے والی تحریکو ں سے بہت گہرے اثرات لئے۔اسی پس منظر میں دیکھیں تو استعماری طاقتوں کی انسانیت سوز سرمایہ دارانہ پالیسیوں کے تحت دنیا کو منڈیوں اور آڑھتیوں کی صور ت میں تشکیل دینے کا بین الاقوامی عمل سامنے آتا ہے ۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ انسان کی نئی تعریف کی گئی اور اسے آجر اور اجیر کے خانوں میں بانٹ دیا گیا ۔عظمت انسانی، انسانی ہمدردی اور انسانی اخوت کے الفاظ صرف تاریخی، مذہبی اور عمرانی کتب میں باقی رہ گئے ۔جدید سرمایہ دارانہ کروٹ نے انسان کو پیداواری عناصر میں شامل کر لیا ۔چنانچہ Material, Machine & Man   کے طور پر انسان کی اہمیت اتنی ہی رہ گئی کہ وہ سرمایہ دار کے کارخانے کا لازمی جزو بن کر اس کی پیداواری صلاحیتوں میں ایک اہمیت اختیار کرگیا ۔اس پر اردو میں سب سے  زیادہ توانا اقبال کی نظم '' لینن ''  ملتی ہے :



یہ علم  یہ  حکمت یہ  تدبر  یہ  حکومت 
پیتے ہیں لہو دیتے ہیں تعلیمِ مساوات
ہے دل کے لئے موت مشینوں کی حکومت 
احساس مروت کو کچل دیتے ہیں آلات 
تو قادر و عادل ہے مگر تیرے جہاں میں
ہیں تلخ بہت بندۂ مزدور کے اوقات 
 معاشی عدم مساوات ، جس کی طرف اقبال نے اشارہ کیا ہے،ہماری اردو شاعری اسی عدم مساوات کے '' ثمرات '' کے خلاف شدید ردعمل کے اظہار سے مملو و مزین ہے ۔
اقبال کے بعد  پسے ہوئے طبقے کی نمائندگی جن شعرا ء نے کی ان میں فیض احمد فیض کا نام سر فہرست ہے ۔ فیض کی شاعری میں ساحر کی طرح سختی اورکھردرا پن نہیںہے۔ رومانی انداز میں تلخ حقائق کا بیان تو کوئی فیض کے دھیمے انداز سے سیکھے ۔ جب شاعر اپنے ارد گرد پھیلی ہوئی غربت ، افلاس اور انسان کی مجبوری و لاچاری کو دیکھتا ہے تو اسے محبت ، محب اور محبوب ، یہ سب کچھ آسودہ حالی کے احساسات نظر آتے ہیں ۔فیض کے ہاں ان احساسات کا بیان یوں ملتاہے :
جا بجا بِکتے ہوئے کوچہ و بازار میں جِسم 
خاک میں لتھڑے  ہوئے خون میں نہلائے ہوئے 
جسم نکلے ہوئے امراض کے تنوروں سے 
پیپ بہتی ہوئی گلتے ہوئے ناسوروں سے 
اسی طرح ایک مشہور غزل کے ایک شعر میں انھوں نے اس حقیقت کا اعتراف ان الفاظ میں کیاہے :
دنیا نے تیری یاد سے بے گانہ کردیا
 تجھ سے بھی دلفریب ہیں غم روزگار کے
 پھر الجھ کر فریاد کناں ہیں :
  بے دم ہیں مریض ان کو دوا کیوں نہیں دیتے 
تم کیسے مسیحا ہو شفا کیوں نہیں دیتے 
مٹ جائے گی مخلوق تو انصاف کرو گے ؟؟
منصف ہو تو اب حشر اٹھا کیوں نہیں دیتے 
یکممئی 1886 کو شگاگو میں '' بندہ ٔ مزدور ''کے مزدوری کے اوقات ِ کے تعین  کے مطالبے پر جو سانحہ رونما ہوا اس میں سو سے زائد مزدوروں نے اپنے حقوق کے تحفظ کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ۔وہ سانحہ ساری دنیا کے مزدوروں کو ایک نئی سوچ اور غورو فکر کی نوید دے گیا۔اور مزدورو ںنے اپنے حقوق کے لئے ''دنیا بھر کے مزدورو ایک ہوجائو'' کا نعرہ لگایا۔بقول ساحر لدھیانوی :
چلو کہ آج کہیں پائمال روحوں سے
کہ آئو اپنے ہر اک زخم کو زباں کرلیں
  تمھارا راز تمھارا نہیں ،سبھی کا ہے
 چلو کہ سارے زمانے کو رازداں کرلیں
چونکہ برصغیر میں انگریز کی آمد کے بعد کارخانوں اورفیکٹریوں کا کلچر اور مزدور وں کے یونین ازم کی وجہ سے یہاں کے مزدوروں کو بھی عالمی مزدور کے ساتھ ساتھ اپنے ساتھ ہونے والے ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے کا ڈھنگ آگیا،چنانچہ مزدور کے حق میں شاعروں کا مزاحمتی رنگ یہاں کے ادب کا ایک خاص انداز اور اسلوب بن گیا ۔شاعروں نے گل و بلبل اور محبوب کے سراپے کی تصویر کشی کرنے کے بجائے محنت کشوں کے مسائل اور معیشت اور معاشرت میں محنت کش کی بطور فرد اہمیت پر شاعری کی۔ایسے شعراء میں احسان دانش ، حبیب جالب،جوش ملیح آبادی ،تنویر سپرا ،ساحر لدھیانوی،فیض احمد فیض اورضمیر جعفری وغیرہ کے نام لئے جاسکتے ہیںجنھوںنے اپنی شاعری میں فطرت کے مقاصد کی نگہبانی کرنے والے بندہ ٔ صحرائی اور مردکوہستانی کی عظمت کے گن گائے۔ ضمیر جعفری بنیادی طور پر مزاحیہ شاعر تھے لیکن انہوںنے بھی اپنی شاعری کے ذریعے مزدوروںکے حقوق اور معاشی حالات کی نشاندہی کی۔  ان  کے کلام سے چند اشعار بطور نظیر :
قصر پر پرچم تمہارا ہی سہی 

اس کی اینٹوں پر ہمارا نام ہے 
ہاریوں کی فصل کس نے کا ٹ لی

کھیت میں دیکھو وہ کیا کہرام ہے 
سلطنت کا سنگ ِمرمر سے نہیں 

گائوں کی مٹی سے استحکام ہے 
۔۔۔
سنگ نہ جب تک ٹوٹے گا
 چشمہ کیسے پھوٹے گا
سبزہ جتنا کاٹو گے 
 اور زیادہ پھوٹے گا
آندھی میں سب سے پہلے 
 اونچا پیڑ ہی ٹوٹے گا
جذبہ ہو یا روح ضمیر
 قیدی اک دن چھوٹے گا
جب لفظ لبوں پر سل جائیں 
زنجیر بجائو پائوں سے 
سمجھو کوئی طوفاں آئے گا
جب پیاس ملے دریائوں سے
کس سے دل کی بات کہیں
لوگ لگیں درباری سے 
کس نے فصل اٹھانی ہے
کھیت میں کھاد اُدھاری ہے
مجید امجد کی غزل کے شعر میں محرومی کے اس احساس کا،جو فرد ِ بے اختیار کو لاحق ہے ، اظہار کیا ہے ۔شعر دیکھئے :
کٹی ہے عمر بہاروں کے سوگ میں امجد
مری لحد پہ کھلیں جاوداں گلاب کے پھول
جبار واصف نے مزدور کا نوحہ یوں لکھا:
ہاتھ پائوں بھی بتاتے ہیں کہ مزدور ہوں میں 
اور ملبوس بھی کہتا ہے کہ مجبور ہوں میں 
فخر کرتاہوں کہ کھاتا ہوں فقط رزقِ حلال
اپنی اس صفتِ قلندر سے تو مغرور ہوں میں 
سال سارا مرا کٹ جاتاہے گمنامی میں
بس یکم مئی ہی کو لگتاہے کہ مشہور ہوں میں 
بات کرتا نہیں کوئی مری ایوانوں میں 
سب کے منشور میں یوں '' صاحب ِ منشور '' ہوں میں
اپنے بچوں کو بچا سکتا نہیں فاقوں سے 
ان کو تعلیم دلانے سے بھی معذور ہوں میں 
پیٹ بھردیتا ہے حاکم مرا تقریروں سے
اس کی اس طفل تسلی سے تو رنجور ہوں میں 
یوم مزدور ہے چھٹی ہے مرا فاقہ ہے 
پھر بھی یہ دن تو منائوں گا کہ مزدور ہوں میں 
سبط علی صبا نے محنت کش کی زندگی کا المیہ یوں بیان کیا:
اوروں کی چادروں پہ بناتی رہی وہ پھول
پیوند اس نے اپنی قبا پر سجا لئے
دیوار کیا گری مرے خستہ مکان کی
لوگوں نے میرے صحن میں رستے بنالئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاکستان بننے اور خاص طور پر پاکستان کے انیس سو تہتر کے آئین میں مزدوروں کے وجود کو ملکی معیشت کا اہم حصہ قرار دیتے ہوئے مزدور قیادت نے مزدوروں کو سرمایہ دار کے سامنے لا کھڑا کیا تھا۔مگر اس تمام تر پیش رفت کا آغاز برصغیر میں ترقی پسند تحریک بلکہ ادبی سطح پر علی گڑھ تحریک ہی سے ہوگیا تھا۔اردو اور دیگر مقامی زبانوں کے ادب میں اس حقیقت کے سراغ بلکہ ثبوت واضح طور پر ملتے ہیں۔مگر ترقی پسند تحریک کے آغاز کے بعد ادب میں مزاحمتی تحریروں کا باقاعدہ پرچار کیا جانے لگا۔قطع نظر اس کے کہ ادب پروپیگنڈہ نہیں ہے، کے اعتراض سے یہ مزاحمتی ادبی شدید رویہ ہمیشہ ہدف تنقید رہا اور اس پہلو پربہت سے مذاکرے اور مباحثے بھی ہوتے رہے ، مضامین بھی لکھے گئے۔ تنقیدکے باب میں ادب سے عوامی مطالبے کی خبرداری مزاحمتی ادب کی راہ میں رکاوٹ رہی۔لیکن عالمی مزاحمتی تحریکوں کے سامنے یہ ردعمل دم توڑ گیا۔
اگر محنت سے دنیا میں بدل سکتی ہیں تقدیریں 
پریشاں حال پھر مزدور کیوں ہے ہم نہیں سمجھے 
اسے بھی میری معاشی حیثیت کا علم ہے شاید
میرا بچہ بھی اب مہنگے کھلونے چھوڑ جاتا ہے 
مجھ کو تھکنے نہیں دیتا ہے ضرورت کا پہاڑ
 میرے بچے مجھے بوڑھا نہیں ہونے دیتے 
 (ساحرلدھیانوی) 
تنویر سپرا کی شاعری مزدوروں کے حوالے سے ایک نمایاں مقام پر دکھائی دیتی ہے۔ ان کے چند اشعار    
آج بھی سپرا اس کی خوشبو مل مالک لے جاتاہے
میں لوہے کی ناف سے پیدا جو کستوری کرتا ہوں
۔۔۔
اب تک میرے اعصاب پہ محنت ہے مسلط
اب تک میرے کانوں میں مشینوں کی صدا ہے
۔۔۔  
مل مالک کے کتے بھی چربیلے ہیں
لیکن مزدوروں کے چہرے پیلے ہیں
۔۔۔
سوجاتا ہے فٹ پاتھ پہ اخبار بچھا کر
مزدور کبھی نیند کی گولی نہیں لیتا
( تنویر سپرا)
سمندر کا کیا بھروسہ خدا خیر کرے
سپیاں چُننے گئے ہیں میرے سارے بچے
 (بیدل حیدر)
تری زمین پہ کرتا رہا ہوں مزدوری 
ہے سوکھنے کو پسینہ ،معاوضہ ہے کہاں
(عاصم واسطی )        
لوگوں نے آرام کیا اور چھٹی پوری کی 
یکم مئی کو بھی مزدوروں نے مزدوری کی 
 ( افضل خاں )        
اب ان کی خواب گاہوں میں کوئی آواز مت کرنا
بہت تھک ہار کر فٹ پاتھ پر مزدور سوئے ہیں 
 (نقش انبالوی)
لے کے تیشہ اٹھا ہے پھر مزدور
 ڈھل رہے ہیں جبل مشینوں میں
 (وامق جونپوری )
میں نے انور اس لئے باندھی کلائی پر گھڑی
 وقت پوچھیں گے کئی مزدور بھی رستے کے بیچ
 (انور مسعود )
کِس کِس طرح میرا بچہ مجھے آزار دیتا ہے
میرا بچہ مجھے ستر روپے ماہوار دیتا ہے
  (اقبال راہی )
دن بھر کی بھرپور لگن کا حاصل یوسف
ہاتھ پہ چنڈیاں پائوں پہ چھالے دیکھ لئے
 (یوسف عالمگیرین )


مضمون نگار ماہرِ تعلیم و ادیب ہیں۔ ان دنوں بطورِمعاون مدیر صحیفہ ، مجلس ترقی ادب ،لاہور، خدمات سرانجام دے رہے ہیں
 [email protected]
 

یہ تحریر 135مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP